اینکر اور صحافی کا فرق

6 3,781

میڈیا انڈسٹری کے لیے سابق آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کا دورہ حکومت اور جمہوری دور بڑا زبردست ثابت ہوا کیونکہ انہی دنوں میڈیا کو آزادی نصیب ہوئی جس کے بعد ملک میں ایک بڑا انقلاب نمودار ہوا۔

پہلے کے ادوار میں جب صرف دو چیلنز آتے تھے یا پھر لوگ ریڈیو پر خبریں سنتے تھے تو محلے کے بزرگ نماز مغرب کے بعد کسی چبوترے یا چارپائی پر جمع ہوتے اور ادھر اُدھر کی ہینکا پھینکی کرتے تھے، اُن میں سے جو پڑھے لکھے تھے وہ اخبار پڑھ کر خبر بھی سنا دیتے تھے۔

میڈیا کی آزادی کے بعد آہستہ آہستہ یہ روایت ختم ہوگئی کیونکہ اب مغرب کے بعد سے رات 12 بجے تک وہی کام مختلف ٹی وی چیلنز پر ٹاک شوز کے نام سے ہونے لگا، ابتدائی ایام میں تو ان پروگرامز کے لیے باقاعدہ صحافی رکھے گئے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اچھے صحافی پیچھے رہ گئے اور پھر ڈاکٹر ، انجیئنر یا دوسرے شعبے کے لوگ جنہیں صحافت کا علم نہیں وہ اپنی اونچی آواز، خوبصورت اندازِ بیان، کرسی پر بیٹھ کر اچھلنے جیسے کام کر کے صف اول کے صحافی بن بیٹھے۔

کوئی بھی صحافی ثبوتوں اور شواہد کی بنا پر بات کرتے ہوئے عوام کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے مستقبل پر تبصرہ کرتا ہے جسے صحافتی زبان میں (تجزیہ) کہا جاتا ہے مگر اس کے برعکس اینکر پرسن خواہش کو  خبر اور انکشاف کر کے پیش کرتا ہے۔

صحافی کی کوشش اصل خبر قارئین یا ناظرین تک پہنچانا ہے۔ اس کے برعکس وہ لوگ جو پرچی سسٹم، کسی مقتدر حلقے کی سفارش پر کرنٹ افیئرز کے پروگرام کر رہے ہیں، ایک خاص ایجنڈے اور املاء کو لے کر آپ کی اسکرین پر نظر آتے ہیں اور اُن کی باتیں بے سر و پیر ہوتی ہیں مگر بھلا ہو ہماری معصوم عوام کا جو صرف سنسنی سننے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

ماضی میں بھی متعدد بار صحافی بن کر بیٹھے اینکرز نے بارہا انکشافات کیے اب یہ ہوجائے گا، چند منٹ کی بات ہے، فلاں تاریخ کو تو حکومت ختم ہی ہوجائے گی، نوازشریف سعودی عرب سے واپس نہیں آئیں گے۔ انہوں نے نیب سے راہ فرار اختیار کرلی ہے۔ ایسے اور اس سے بڑے سنگین اور مضحکہ خیز انکشافات ماضی میں بھی کیے گئے جو جھوٹ کا پلندا ثابت ہوئے مگر مجال ہے جو کسی اینکر نے غلط خبر پر معافی مانگی ہو۔

اینکر کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہش کو خبر بنا کر اس طرح پیش کرے کہ بس وہی حرف آخر یا پتھر پر لکیر ہے اور آئندہ وہی ہوگا جیسا مذکورہ شخص کیمرے کے سامنے بیٹھ کر بول رہا ہے۔

قصور میں ننھی زینب کا قتل اور مبینہ مرکزی ملزم کی گرفتاری جیسے افسوسناک واقعے پر کئی اینکرز نے پروگرام کی ٹی آر پی بڑھانے کے چکر میں ماضی میں متاثر ہونے والے افراد کے اہلِ خانہ کو بلایا اور ان سے عجیب و غریب سوالات پوچھے، بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ یہاں تک بھی ہوا کہ کسی نے یہ تک دعویٰ کردیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا شخص ڈی پی او قصور ہے۔

ابھی پرسوں کی بات ہے کہ ملک کے نامور اور جانے مانے اینکر نے اپنے ٹاک شو میں ایک گھنٹے تک تہلکہ خیز انکشافات اور بڑے بڑے دعویٰ کیے۔ انہوں نے بتایا کہ زینب قتل کیس صرف ذیادتی اور قتل کا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے ایک مافیہ سرگرم ہے جو کہ بچوں کی پورنوگرافک ویڈیوز بنا کر باہر بیچ رہا ہے اور اس کام میں ایک وفاقی وزیر بھی ان کی مدد کر رہا ہے۔

بھلا ہو چیف جسٹس کا جنہوں نے پروگرام دیکھا اور ازخود نوٹس لیتے ہوئے اینکر کو سپریم کورٹ طلب کیا اور پروگرام سے متعلق سوالات پوچھے، رسٹروم پر کھڑے ڈاکٹر شاہد مسعود جو بات خبر بنا کر اپنے پروگرام میں پیش کررہے تھے وہ کمرہ عدالت میں چیف جسٹس سے یہ کہتے نظر آئے کہ میری باتوں کی تحقیقات کی جاسکتیں ہیں۔

ہاں مگر ایک دلچسپ بات یہ کہ ڈاکٹر صاحب جن دو وزیروں کو ان گھناؤنے یعنی پورن انڈسٹری کے دھندے میں ملوث قرار دے رہے تھے وہ کمرہ عدالت میں گھٹ کر ایک ہوگیا تھا مگر اپنی عادت سے مجبور سماعت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے میڈیا کے سامنے پھر سے بڑے بڑے دعویٰ کیے جس کے بعد انہیں تقریبا ہر چینل نے اپنے پروگرام میں مدعو کیا۔

وسیم بادامی کے پروگرام میں کاشف عباسی نے ڈاکٹر شاہد مسعود سے سوال کر کے پوچھا کہ کیا یہ باتیں تجزیہ ہیں یا پھر خبر۔ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب اپنی مخصوص دھبڑ دھس گھن گھرج میں بولے، “دیکھیں رانا ثنا اللہ دھمکیاں دینے لگے، حکومت نے میرے خلاف خبریں تیار کرلیں”۔ اتنی چیخ بکار کے درمیان وہ اینکر المعروف سینئر صحافی عرف تجزیہ نگار کاشف عباسی کے سوال کا واضح جواب نہ دے سکے۔

آج سٹیٹ بنک آف پاکستان نے اعلان کر دیا ہے کہ زینب قتل کیس کے ملزم عمران کا کوئی بھی بنک اکائونٹ نہیں ہے، اس کے بعد ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ جو دعویٰ کل تک ڈاکٹر شاہد مسعود چیخ چلا کر کر رہے تھے آج اسی کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ تحقیقات کروانا حکومت کا کام ہے۔

اس واقعے سے تو بس ایسے لگتا ہے کہ صحافت کا جنازہ بس اٹھنے ہی والا ہے۔

مصنف نجی ادارے میں صحافتی امور سرانجام دے رہے ہیں۔ حق سننے اور لکھنے کے شوق نے کالم نگاری ، تجزیہ نگاری اور خبروں کے علاوہ موسیقی اور شاعری میں بہت دلچسپی بڑھا دی۔

Twitter @UmairDabeer

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. qazi کہتے ہیں

    ڈاکٹرشاہد مسعود نے زینب قتل کیس کے ملزم عمران علی کے بارے میں، اپنے پروگرام میں جو تجزیہ پیش کیا اور دعوی کیا کہ یہ عمران
    کسی بین الاقوامی گروہ کا کارندہ ہے اور اس کچھ بنک اکاؤنٹ کی تفصیلات پیش کیں ، اور تحقیق ، تفتیش کروانے کا مطا لبہ کیا ، ابھی تک کی اطلاع کے مطابق ملزم کا کوئ بنک اکاؤنٹ نہیں ملا ، اس کے
    نتیجے میں میڈیا کے معدودے چند افراد کے علاوہ تمام میڈیا نے شاہد مسعود، کو جھوٹا ثا بت کرنے کی کوشش شروع کر دی ،اور ایسا تاثر دیا کہ عمران علی بیگناہ ہے ، اور شاہد مسعود جھوٹا ہے،
    سلیم بخاری، اور مبشر لقمان کا لب و لہجہ اور زبان ، ان کے بغض و عناد کا پتہ چلتا ہے، ڈاکٹرشاہد مسعود غلطی کر سکتا ھے ، اگر ایسا ھے تو سب کو چاہےٗ کہ ان کو غلط ثابت کریں نہ کہ جھوٹا ، جو لوگ ڈاکٹرشاہد مسعود کو جھوٹا کہ رہے ہیں وہ حاسد ہیں اور خد جھوٹے ہیں ،،، اور زینب کے قاتل کی پشت پناہی کر رہے ہیں، ڈاکٹرشاہد مسعود کے تجزے کے خلاف جو رد عمل ہوا ہے اس سے تو یہ ظا ہر ہو تا ھے کہ دال میں کچھ کالا ھے

    1. عبدالحسیب کہتے ہیں

      جی جناب.! دال میں ‘کچھ’ کال نہیں. بلکہ ‘پوری دال ھی کالی ھے. ظاہر ھے جنھیں لفافے ملے ھیں اب انھوں نے حلال بھی تو کرنے ھیں نا.؟ اگر اب حلال نہیں کرینگے تو اگلی دفعہ دوبارہ لفافے کون دیگا ان کو.؟؟؟؟؟ کسی `مجرم کو بےگناہ اور بےگناہ کو مجرم بنانا ھے تو لفافہ ضروری` ھے میرے بھائی.

  2. BushraMujeeb کہتے ہیں

    Many news channels are doing great work like dunya news,92News,24News,AryNews, DawnNews…Dr Shahid Massod intention is good to reveal truth…He is a human being not angel.Sometimes we do this mistake in our daily life.So giving a correct news is our social responsibility and its authenticity should be preferred.. No doubt he is a brave and courageous man..His purpose is to reveal an evil force group and to show infront of nation..This is a failure of our system that now Dr.Shahid Masood feels secured and safe only inside Supreme court.Now this is a duty of Supreme court to reveal truth..and build nation trust on all institutions to bring urgent reforms in all state affairs.. Culprit is brutal,criminal,fraud and a Shaitan in the shape of a human…
    Nation want justice and the implementation of rules and regulations…
    When institutions are not performing their duty honestly, any nation can face this traumatic disaster..

  3. عبدالحسیب کہتے ہیں

    او چل اوئے. اتنا تو چق کہنے اور سننے والا. (لفافہ صحافی)

  4. M.Amin Roy کہتے ہیں

    Bat thek hy laken,pehaly police harkat m ni ai it means approach howe hy mulzaman ke tarf se,ghar waly ghaib hen un se pocha jy …..imran ke kartoot…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.