پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا کامیاب سفر

1 493

2009ء میں سری لنکلن ٹیم پر ہونے والا حملہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین اور بدترین دن تھا۔جس نے پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے بند کر دیئے ۔اس حملے کی  وجہ سے دیگر ممالک پاکستان میں دہشتگردی کے خوف سے کبھی کرکٹ کھیلنے کیلئےآمادہ نہ ہوئے ۔ دہشتگردی نے پاکستان کرکٹ کی ساکھ کو قدرے کمزور کردیا۔اس سانحہ کی وجہ سے کو ئی بھی ملک ا پنی کرکٹ ٹیم پاکستان بھیجنے کیلئے راضی نہ تھا۔یہ دکھ شائقین کرکٹ کو اندر ہی اندر سے کھایا جا رہاتھا۔پاکستان کرکٹ کے میدان ویران ہوگئے اور وہاں کی رونقیں ماند پڑ گئیں۔ متبادل کے طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے بین الاقوامی کرکٹ یو نائیٹد عرب امارات کے میدانوں کا رخ کیا ۔ ایک کھلاڑی کا خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہوم گراؤنڈ میں کھیلے لیکن یہ پچھلے چھے سال سے شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

Pakistan Cricket Zimbabwe

لیکن ہماری  افواج پاکستان اور  دیگر سکیورٹی اداروں اور ایجنسیوں کی قربانیوں اور کاوشوں سے ہمارے ملک میں کافی حد تک دہشتگردی کا خاتمہ ہوا ہے  جس کے بعد کرکٹ کی بحالی میں پی سی بی نے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے۔  اس حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین نجم سیٹھی کی بھی  بھر پور کوششیں شامل ہیں ۔ان کی کوششوں کی بدولت ہی پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی ممکن ہو سکی۔ پاکستان کرکٹ کا پہلا کامیاب ترین دورہ تب تھا جب 2015ء  میں زمبابوے کی ٹیم نے قذافی سٹیڈیم میں تین ٹی ٹونٹی میچیز پاکستان کیخلاف کھیلے جس کے بعد پاکستان میں ایک نئی امید کی کرن جاگی اور ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے لگے۔

578455f563ce8

اس کے بعد پی ایس ایل 2 کا فائنل بھی لاہور میں کھیلا گیا جس سے پوری دنیا کو ایک پر امن پاکستان کا پیغام ملا۔ ورلڈ الیون کا دورہ کون بھول سکتا ہے؟ یہ کرکٹ میچ بھی پوری کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے۔

Pakistan Cricket PSL Final

یہ تمام کامیاب دورے اس بات کی دلیل ہے ۔ پاکستان پر امن ،محفوظ اور دہشتگردی سے پاک ملک ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام اور افواج پاکستان ،سیکیورٹی فورسز نے پاکستان میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کیلئے مر کزی کردار اداکیا۔امید ہے کہ دیگر ممالک پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کیلئے آ مادگی ظاہر کریں گے اور اپنی ٹیمیں پاکستان بھیجیں گے۔انشاء اﷲ۔

خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فضل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

سعدیہ سرور لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی سے ماس کمیونیکیشن میں ایم ایس سی کر رہی ہیں۔ حالاتِ حاضرہ پر یہ گہری نظر رکھتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Nida Qureshi کہتے ہیں

    nice✌

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.