برف پوش مری

0 1,333

تعلیمی عمل اگر مشینی عمل بنا دیا جائے تو طالبِ علم کی شخصیت گہنا جاتی ہے۔ کتابی کیڑا پن شخصیت کو چاٹتا رہتا ہے۔ طوطا سازی کا عمل یا تو نمو کے امکانات ختم کر دیتا ہے یا گھٹن پیدا کرتا ہے۔ تعلیم کا تفریح سے وہی تعلق ہے جو پانی کا پھلواری سے ہے۔ اس لیے تعلیمی ادارے ہر سیشن میں طلبہ و طالبات کے لیے تفریحی دوروں کا اہتمام کرتے ہیں۔ کہوٹہ کے ایک تعلیمی ادارے نے مری کا پروگرام بنایا تو میرے شوقِ دید کو دیکھتے ہوئے مجھے بھی ہمراہ کر لیا اور ہم ایک سہانی صبح کہوٹہ سے مری کے لیے روانہ ہو گئے۔

1

کوسٹرز نے جب فیض آباد اوورہیڈ برج کراس کیا تو مری 60 اور سری نگر 360 کلومیٹر لکھا نظر آیا۔ کبھی اس مری روڈ پر ٹانگے چلا کرتے تھے۔ جو پانچ گھنٹے میں مری اور تین دن میں سری نگر پہنچاتے تھے۔ ہر بارہ میل کے بعد تازہ دم گھوڑے بدلتے تھے۔ کوسٹرز بھارہ کاہو اور چھتر سے ہوتیں سترہ میل پہنچ گئیں جہاں سے مری کے پرخم اور پرفریب سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ میل کا لفظ بھی کتنا مختصر، میٹھا، ملائم اور ملنسار ہے۔ یہ بات کلومیٹر میں کہاں۔۔ کلہوڑا اور روکھا۔

2

سترہ میل سے ہماری کوسٹرز ایکسپریس وے پر روانہ ہو گئیں اور میں چشمِ تصور میں  قدیم سڑک  پر چل نکلا۔ ٹم ٹم، تانگے، یکے اور بیل گاڑیاں ساملی سینیٹوریم، مری بروری اور لارنس کالج سے ہوتی سنی بنک جا نکلتیں۔ یہ علاقہ کسی دور میں مسیاڑی کہلاتا تھا۔ حرف ڑ کی رڑک گوری سماعتوں  پر گراں گزری تو اسے مری کر دیا گیا۔

3

4

مری کے نام کی طرح اس کی فضاؤں میں بھی نسوانیت ہے۔ نسوانی حسن کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس کی جلوہ گری یہاں نہ ہو۔ برف، دھند، بجلی کی کڑک چمک، برسات، کاٹتی ہوائیں، اڑتی بدلیاں، تیرتے پنچھی، بلند قامت چیڑ، آتشیں سنبل اور رنگ برنگی چھتریوں نے اس کی فضاؤں کو رومان پرور بنا دیا ہے۔ اسے ہمالیہ کی بیٹی، کہساروں کی ملکہ اور پربتوں کی شہزادی بھی کہتے ہیں۔ شہروں کی عمروں کے تناسب سے مری کے لیے دوشیزہ کا لفظ زیادہ مناسب ہو گا۔ سیزن میں اس کی دوشیزگی اپنے جوبن پر ہوتی ہے ۔۔۔ الہڑ ! دلکش اور دلربا!

05

مری کئی حوالوں سے انفرادیت کی حامل ہے۔ یہ پنجاب کا سرِ آغاز ہے۔ کشمیر، پنجاب اور پختون خواہ  کے ساتھ ساتھ  یہ جدت اور قدامت کا سنگم ہے۔ ایک طرف ٹوپے، چوٹیاں اور گلیاں ہیں اور دوسری طرف پوائنٹس، واکنگ ٹریکس، چیئر لفٹس، ریسٹورنٹس اور پارکس ہیں۔ اس کے دامن میں چشمے، جھرنے، آبشاریں، نالے اور دریا رواں ہیں۔ اسے سبزے نے شادابی، پیڑوں نے دلکشی اور جنگلی حیات نے زندگی عطا کی ہوئی ہے۔

مری تاریخ میں ناقابلِ ذکر رہی ہے۔ اس کا مقدر اس وقت جاگا جب اسے سنی بنک کے علاقے کو پچاس روپے میں انگریزوں نے خریدا۔ ہندوستان کی گرمی سے جھلسے انگریز جائے پناہ کی تلاش میں تھے۔ انہیں جو جگہیں پسند آئیں ان میں مسوری، ڈلہوزی، شملہ اور مری شامل تھے۔ کشمیر کی اطراف میں واقع آخری دو نے بہت شہرت حاصل کی۔ مری رائل آرمی کی ناردرن کمانڈ کا گرمائی مرکز بنایا گیا لیکن  بعد میں اسے شملہ منتقل کر دیا گیا۔

11

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی میں بہت سے انگریز مری میں کام آئے۔ جواباً مقامی بازوں کو ”سپر کاٹیج” کے قریب توپ سے اڑا دیا گیا۔ نفرت کا یہ سلسلہ انگریزوں کی رخصت تک جاری رہا۔ مال روڈ اور کینٹ ایریا مقامی لوگوں کے لیے سن سنتالیس تک ممنوعہ علاقہ رہا۔ اب تو اس پر پورا پاکستان دیکھا جا سکتا ہے۔ اردو کا تہذیبی رچاؤ، سندھی اور سرائیکی کی شیرینی، پنجابی کی بے تکلفی اور پشتو کی کھڑک آپ کو مال روڈ پر صاف سنائی دیتی ہے۔

طلبہ و اساتذہ سات ہزار فٹ بلند برف پوش چوٹیوں کے ناز اور  گہری کھائیوں اور ترائیوں کی دلآویزی سے لطف اندوز ہونے لگے۔ سرکش جہلم اور دلکش مشکپوری کے درمیان چھتوں کی چادروں اور برف کی چاندنی کی چمک دیکھنے سے تعلق رکھتی ھی۔ قدم قدم دلفریب نظارے ٹھہرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔

07

برف فطرت کے پاکیزہ ترین مظاہر میں سے ایک ہے۔ فطرت کو جو رنگ زیادہ پسند ہیں ان میں نیلے اور سبز رنگ کے بعد سفید رنگ ہے۔ برف آلائش کو آرئش عطا کرتی ہے۔ یہ فطرت کا پُرسکوت سحر ہے۔ جھرنوں کی جل ترنگ جم جاتی ہے۔ پرندوں کے نغمے تھم جاتے ہیں۔ فطرت خاموش ہو جاتی ہے۔ برف جب آسمان سے اترتی تو یوں محسوس ہوتا جیسے فطرت شاعری کر رہی ہے۔ کالج کے اردو کے استاد اور سرشار شاعر حسن ظہیر راجہ برف کے کنوارے اور مخملیں گالوں کو مصرعوں میں محفوظ کر رہے تھے۔

کچھ طالب علم نطارے کا بھرپور لطف اٹھانے کے لیے کشمیر پوائنٹ چلے گئے۔ پتریاٹہ ٹاپ اور مشکپوری کے درمیان گھنا جنگل سفیدی کی چادر اوڑھے ہوئے تھا۔ بلندی اور موسم کی مستانگی نے سٹوڈنٹس کی طبیعتیں اور لطیف کر دیں تھیں اور وہ بادلوں کے سنگ اڑان کی خواہش ان کے من میں جاگ اٹھی تھی۔

08

مری کے موسم کا بدلاؤ دیکھنے کی چیز ہے۔ اسی بے اعتباری نے مری کو اعتبار بخشا ہے۔ اُدھر مال روڈ پر سورج اپنی کرنیں بکھیر رہا تھا۔ اِدھر جھیکا گلی کو بادل اپنے حصار میں لیے ہوئے تھے۔ اس رنگا رنگی نے سٹوڈنٹس تو کیا اساتذہ کے قدم لڑکھڑا دیے۔ آوارہ بدلیوں، مست ہواؤں اور پھوار کی بوچھاڑ نے فضا کو خمار آلود کر دیا تھا۔ سٹوڈنٹس کی ٹولیاں بھیگے ہوئے موسم کا مزہ لوٹنے کے لیے اپنے اپنے مداروں میں چکر کاٹنے لگیں۔ مختلف چینلز کی گاڑیاں لائیو کوریج کے لیے موجود تھیں۔ سلفیوں کے علاوہ سٹوڈنٹس کے موبائل کیمروں کے فلیش مال روڈ کی چمک کیچ کر رہے تھے۔ اگر لیک ویو، اسلام آباد کی رومان پرور چیخیں تعاقب نہ کر رہی ہوتیں تو مری سے ان کی واپسی آسان نہیں تھی.

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.