چائے پانی

3,194

ایک مڈل کلاس نوکری پیشہ ور انسان جو ایماندار بھی ہو، وہ چاہے جتنا بھی زور لگا لے مگر بہت سے ایسے مرحلے اور مشکلات کراچی کی جڑوں میں موجود ہیں جن کا اسے لازمی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان میں سے ایک مسئلہ پولیس سے نمٹنا بھی ہے۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں عوام جب پولیس کی طرف دیکھتی ہے تو انہیں اپنا محافظ سمجھ کر اپنے آپ کو مزید محفوظ تصور کرتی ہے، مگر کراچی کے شہری پولیس کے سامنے اپنے آپ کے بے بس اور لاچار تصور کرتے ہیں۔

چند سال پہلے جب میرا جامعہ کراچی میں داخلہ ہوا تب میں نے اگلے ہی مہینے اپنے آنے اور جانے کے لیے اپنے والد سے فرمائش کر کے موٹر سائیکل لے لی تھی۔ اس سے پہلے میں یونیورسٹی آنے جانے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کیا کرتا تھا۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں کیا حال ہوتا تھا یہ پھر کبھی سہی فی الحال تو یہ جان لیں کہ  گھر سے بس سٹاپ تک جاتے جاتے دو مرتبہ میرے موبائل فون چوری ہوئے۔ کراچی کے مشہور نامعلوم افراد موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آتے، اپنی شرٹ اْٹھا کر پستول دکھاتے اور دو ماں بہن کی گالیاں دے کر موبائل فون لے جاتے۔

میں نے یہ سوچ کر موٹرسائیکل لے لی کہ شاید اب مجھے ان وارداتوں سے نجات مل جائے گی۔ کوئی موٹرسائیکل سوار، نامعلوم ڈکیت یا کوئی بھی شخص مجھے رکنے کا اشارہ کرے گا تو میں ہر گز نہیں رکوں گا، موٹر سائیکل بھگا لے جائوں گا۔

یہ موٹر سائیکل ملنے کے اگلے دن کا واقعہ ہے۔ مجھے جامعہ کراچی جانا تھا۔ بیچ راستے میں پولیس والوں نے مجھے دیکھ کر رکنے کا اشارہ دیا۔ میں ڈر کے مارے رُک گیا، اب میرے اور اس کے درمیان جو مکالمہ ہوا، وہ آپ کے گوشِ گزار ہے۔

پولیس والا: ہاں بیٹا کدھر جارہے ہو؟

میں نے بہت گھبراتے ہوئے جواب دیا، سر یونیورسٹی جارہا ہوں،

پولیس والا غصہ میں بولا، موٹرسائیکل کے کاغذات دکھاؤ،

میں پھر گھبراتے ہوئے، کاغذات تو نہیں ہیں سر،

پولیس والا مزید غصہ میں، کاغذات نہیں تیرے پاس! موٹرسائیکل کس کی ہے پھر؟ چل تھانے،

میں مزید گھبراتے ہوئے بولا ، سر ایسا تو نہیں کریں، معاف کردیں، میں آئیندہ سے کاغذات رکھا کروں گا،

پولیس والا،اچھا چلو دوسو روپے نکالو،

پھر میں پریشان ہوگیا کہ دوسو روپے اگر پولیس کو دے دیے تو میں کیا کروں گا، میں نے اسے سو روپے پر آمادہ کرنا چاہا تو پولیس والا غصے سے دیکھتے ہوئے بولا، چلو پھر تھانے بیٹا، وہاں ہزاروں روپے سے کم بات نہیں ہوگی۔ میں کیا کرتا، فوراً جیب میں موجود دو سو روپے نکالے اور اسے پکڑا دیے۔

تب سے ارادہ کرلیا کہ آئیندہ سے موٹر سائیکل کے کاغذات اپنے والٹ میں ہی رکھا کروں گا۔ کچھ ہی دن گزرے تھے کہ یونیورسٹی سے آتے ہوئے شام کے اوقات میں پولیس والوں نے اشارہ دے کر ہاتھ دیا۔ میں رُک گیا۔ اس بار میں پہلے کی نسبت کم گھبرایا ہوا تھا کیونکہ میرے پاس موٹر سائیکل کے کاغذات موجود تھے۔ پولیس والے نے میری تلاشی لیتے ہوئے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ گھر جارہا ہوں۔

پولیس والے بھائی: اپنا والٹ چیک کرواؤ،

میں نے اپنا والٹ پکڑادیا، جس میں کاغذات وغیرہ اور ایک پانچ سو کا بھی نوٹ تھا جو کہ پولیس والے نے اچھے سے دیکھ لیا تھا اور پھر مجھ سے پوچھا کہ موٹرسائیکل کس کے نام پر ہے۔ میں نے بتا دیا کہ والد صاحب کے نام ہے۔

پولیس والے بھائی ایک بار پھر غصہ میں آگئے،

موٹرسائیکل تمہارے نام پر نہیں ہے، تھانے چلو ہمارے ساتھ،

میں ایک بار پھر گھبراتے ہوئے ،سر، ایسا نہیں کریں، میں اپنے نام پر کروالوں گا جلد ہی، بس اس بار معاف کردیں آپ،

پولیس والے بھائی مجھے گھورتے ہوئے، پیسے نکالو،

میرے پاس ایک پانچ سو کا نوٹ تھا، میں نے پولیس والے سے کہا کے سر مجھے تین سو روپے واپس دے دیں اور یہ پانچ سو کا نوٹ رکھلیں،

پولیس والے بھائی نے سخت ہاتھوں سے دو سو روپے واپس کر کے بولے، یہ بھی دے رہا ہوں بہت ہیں، چل اب بھاگتا بن ورنہ تھانے لے جائیں گے،

میں ایک بار پھر شکر کرتا ہوا موٹرسائیکل سٹارٹ کر کے بھاگتا بنا۔

ایک بار پھر میں نے ارادہ کرلیا کہ اب میں نے سب کام چھوڑ کر سب سے پہلے موٹرسائیکل کو اپنے نام پر کروانا ہے، اور میں نے اگلے ہی دن یہ کام کرنے چلا گیا،

لہٰذا اب میں نے اپنے والٹ میں کاغذات کی کاپی، اپنے شناختی کارڈ کی کاپی اور ڈرائیونگ لائسنس رکھنا شروع کردیا، اب کم از کم میرے مطابق کوئی ایسی چیز نہیں تھی جس کی غیر موجودگی کی بناء پر پولیس والے مجھے روکتے یا مجھ سے میری پاکٹ منی چھینتے لیکن میں غلط تھا۔

چند دنوں کے بعد یونیورسٹی سے آتے ہوئے رات کے پھر سے پولیس والوں نے مجھے روک لیا۔ تلاشی لی گئی، کوئی اعتراض نہ ملا تو صاف صاف کہ دیا گیا کہ چائے پانی کے پیسے نکالو۔ میں نے رات کا سنّاٹا اور پولیس والے کے کندھے پر لٹکی ہوئی اے کے 47 دیکھتے ہوئے فوراً سے پہلے پیسے دے کر ہمیشہ کی طرح اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے اپنی جان بچائی۔

بہت غور کرنے کے بعد اور بار بار ٹھوکریں کھانے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ حقیقت تو یہ ہے کہ چائے پانی کے بغیر تو آپکا گلی کا چوکیدار بھی آپ کی گاڑی کی دل سے حفاظت نہیں کرتا۔ مولوی صاحب بھی میّت یا نکاح کے موقع پر اتنے ہی دل سے دعا کرتے ہیں جتنے آپ انہیں چائے پانی کے پیسے دیتے ہیں۔ اِس لیے غصہ کرنے یا افسرده ہونے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ الٹا اپنا ہی نقصان ہے کیونکہ ہمارے اس پیارے ملک میں بہت سے ایسے اصول ہیں جو شائد مکمل طور پر کبھی ختم نہیں ہوسکتے اور اُنہیں قبول کر لینا ہی اصل عقلمندی ہے۔ اگر پھر بھی غصہ ختم نہیں ہورہا تو یہ سمجھ لیں کہ آپ یہ ایک قسم کا روڈ ٹیکس بھر رہے ہیں۔

یورپ میں ہر ٹرانسپورٹ رکھنے والا شہری حکومت کو روڈ ٹیکس ادا کرتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ لاگو نہیں ہے پر آپ سمجھ لیں کہ یہ خرچہ پانی ہی روڈ ٹیکس ہے۔ آج کل فیس بک پر کراچی کے نوجوان ایسے پولیس والے بھائیوں کی ویڈیو بنا کر ڈال دیتے ہیں۔ امید ہے اسی سے کچھ بہتری آ جائے گی اور ہمیں یہ روڈ ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔

عدنان احمد نے کامرس میں بیچیلرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. Akram کہتے ہیں

    excellent blog on ground reality of Karachi.

  2. muhammad saad کہتے ہیں

    Very well said.
    Its our society major problem .
    The force which duty is to prevent our self from prolem is himself a problem for us.
    May ALLAH safe us from these obstacle as well.
    Thanks alot for enlightening this topic.
    Waiting for ur future blog.

  3. Saad ali کہتے ہیں

    Wonderful blog adnan ahmed

  4. asad کہتے ہیں

    Like this blog.

  5. علی رضا کہتے ہیں

    انتہائی عمدہ کاوش ہے جناب آپ کی ۔۔۔۔۔۔
    ہماری سوسائٹی میں اوئیرنیس کے لئے اسی طرح کے معیاری مواد کی ضرورت ہے جس سے عوام کی رہنمائی ہو سکے۔۔۔
    جزاک اللہ

    1. عدنان کہتے ہیں

      بہت شکریہ جناب۔

تبصرے بند ہیں.