پنجاب میں ایجوکیٹرز بھرتی کے دوران امیدواران کی مشکلات

1,430

حکومت پنجاب کی طرف سے پنجاب بھر  میں ایجوکیٹرز کی بھرتیوں کا عمل جاری ہے۔ جس میں این ٹی ایس کا امتحان پاس کرنے والے امیدواران اپنے اپنے متعلقہ اضلاع میں درخواستیں جمع کروا رہے ہیں۔درخواستیں جمع کروانے کی آخری تاریخ 21 جنوری ہے جس کے بعد امیدواران کی میرٹ لسٹیں بنانے کا عمل شروع کیا جائے گا۔

ہر بار کی طرح اس بار بھی امیدواران کو کئی ایک مشکلات کا سامنا ہے جن کا ایک مختصر جائزہ پیش خدمت ہے تاکہ متعلقہ ادارے امیدواران کی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے بھرتیوں کے عمل کو مزید سہل اور شفاف بنا سکیں۔

1۔حکومت پنجاب ایجوکیٹرز کی ہر بھرتی کے بعد اپنی پالیسی تبدیل کرتی ہے۔ نئی پالیسی سے نہ تو امیدواران کو آگاہ کیا جاتا ہےاور نہ ہی اس پالیسی سے پیدا ہونے والی مشکلات کا حکومت کو اندازہ ہوتا ہے۔ 2017 ء میں ایجوکیٹرز کی بھرتیوں کے دوران متعلقہ یونین کونسل اور گاؤں  میں سکول ہونے پر امیدواران کو 12 اضافی نمبرات دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس پالیسی سے میرٹ میں پہلےآنے والے امیدواران کی حق تلفی ہوئی اور کم تعلیم یافتہ امیدواران کی موجیں لگ گئیں۔نیز 12 نمبر حاصل کرنے کے لیے جعلی ڈومیسائل اور شناختی کارڈ پر پتہ تبدیل کرانے کا دھندہ بھی زور پکڑ گیا۔

2۔سپریم کورٹ کے اردو زبان کے نفاذ سے متعلق فیصلے کے باوجود ابھی تک حکومت پنجاب تعلیمی پالیسی انگریزی میں جاری کرتی ہے جس میں آئینی و قانونی زبان کی تشریح پر امیدواران تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔ موجودہ تعلیمی پالیسی کو ہی دیکھ لیں۔ اس میں کہیں لکھا ہے کہ امیدواران کامیرٹ ضلع وائز بنے گا  اور متعلقہ تحصیل والے امیدواران کو 4 اضافی نمبرات دیے جائیں گے تو کہیں درج ہے کہ میرٹ تحصیل وائز بنے گا۔ اس ساری تفصیل میں یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ متعلقہ تحصیل والے امیدواران کو 4 اضافی نمبردیے جانے کے باوجود اگراسی ضلع کی  دوسری تحصیل کے امیدوار کے میرٹ نمبر زیادہ ہوئے تو نوکری کا حقدار کون ہو گا۔

3۔ این ٹی ایس کی طرف سے اس مرتبہ امیدواران کا بائیوڈیٹا آن لائن بھرنے کا عمل شروع کیا گیا۔ اس کے باوجود این ٹی ایس کی طرف سے اسناد کی ہارڈ کاپیز منگوانے کی وجہ چہ معنی دارد۔پنجاب پبلک سروس کمیشن نے کبھی امیدواران سے اسناد و ضروری دستاویزات کی ہارڈ کاپیز طلب نہیں کیں۔

4۔ این ٹی ایس جب امیدواران کو رول نمبر کا پیغام بھیجتا ہے اس میں حکومت کی تازہ ترین تعلیمی پالیسی کا لنک بھی ضرور  شامل ہونا چاہئے۔

5۔ این ٹی ایس کا ٹیسٹ بھی تضادات کا مجموعہ ہے۔ اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر کے ٹیسٹ کو ہی لے لیں۔اس میں چالیس نمبرز کی ایف ایس سی سطح  کی فزکس ، کیمسٹری، بائیولوجی اور ریاضی شامل ہے جبکہ پاس ہونے کے لیے 60 نمبر حاصل کرنا ضروری ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آرٹس پڑھنے والے امیدواران کے لیے باقی 60 نمبروں میں سے ایک بھی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ انگریزی ، اردو، اسلامیات اور دیگر آرٹس کے مضامین پڑھنے والے طلباء کا کیا قصور ہے؟ ان کو کیوں اس عہدے سے دور رکھا جاتا ہے؟ کیا صرف سائنس پڑھنے والے امیدواران ہی اس عہدے پر بہتر انداز سے کام کر سکتے ہیں؟

6۔ اس باراین ٹی ایس کا رزلٹ آنے کے بعد امیدواران کو پاسورڈ بھیجے گئے تاکہ وہ این ٹی ایس فارم کو ڈاؤن لوڈ کر سکیں جس پر امیدوار کا تمام بائیو ڈیٹا اور حاصل شدہ نمبر درج ہیں۔ لیکن اس فارم کو ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے لنک 3 دن کی تاخیر سے ویب سائٹ پر فراہم کیے گئے جس کی وجہ سے بہت سے امیدواران این ٹی ایس فارم کی بجائے سادہ رزلٹ کارڈ اپنی فائل کے ساتھ متعلقہ ضلعی ایجوکیشن دفاتر میں جمع کروا  کرآئے جن کو اب دوبارہ ضلعی  ایجوکیشن دفاتر جانا پڑ رہا ہے۔

7۔ این ٹی ایس کی طرف سے امیدواران کو بھیجے گئے پاسورڈ بہت سے امیدواران محفوظ نہیں رکھ سکے۔ پاسورڈ ریکوری کا کوئی آپشن ویب سائٹ پر دستیاب نہیں ہے اور امیدواران کے پاس واحد آپشن این ٹی ایس کے اسلام آباد آفس میں کال کرنے کا ہے جو ایک پیچیدہ عمل ہے۔

8۔ ایجوکیٹرز امیدواران کے لیے کوئی درخواست فارم این ٹی ایس کی ویب سائٹ یا پنجاب ایجویشن ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب نہیں ہیں۔ امیدواران پچھلے سالوں کے درخواست فارم سے ہی کام چلا رہے ہیں۔ نیز درخواست فارم کے ساتھ لف اسناد کی صفحہ بندی کے لیے کوئی چیک لسٹ ان ویب سائٹس پر موجود نہیں ہے۔ اورہر ایجوکیشن دفتر نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے اور قریبی فوٹو سٹیٹ بھیجا جاتا ہے جہاں سے چیک لسٹ 10 روپے میں ملتی ہے۔

9۔ کلرک اپنے عہدے کا بادشاہ ہوتا ہے۔ اس کا ادراک درخواست جمع کروانے کے لیے آنے والے امیدورارن کو بخوبی ہو جاتا ہے۔ کہیں کہیں چائے پانی نہ دیا جائے تو امیدوار خوار ہو جاتا ہے۔اور کوئی اعتراض سمجھ نہ آئے تو امیدوار کو ایم اے کی ڈگری لانے کو کہہ دیا جاتا ہےجو یونیورسٹیاں دو دو سال جاری نہیں کرتیں۔

10۔ این ٹی ایس کے امتحان کی معیاد ہونی چاہئے۔ ایک ہی سال میں دو بار بھرتیوں کے لیے امیدواران کو دونوں دفعہ ٹیسٹ دینا پڑتا ہے۔ اور چونکہ ہر امیدوار ایک سے زائد پوسٹس پر اپلائی کرتا ہے اس لیے اس کو ہر بار این ٹی ایس کی مد میں دو سے تین ہزار روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں۔ اس طرح این ٹی ایس کا تعلیمی فائدہ ہو نہ ہو، امیدوارن کی جیبیں ضرور ہلکی کر رہا ہے۔

تدریس ایک مقدس پیشہ ہے اور حکومت پنجاب کو اساتذہ کی بھرتیوں کے طریقہ کار کو مزید شفاف اور سہل بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ امیدواران کی  شکایات  پر ترجیحی بنیادوں پر غور کیا جانا چاہئے اور اس سلسلے میں امیدواران سے فیڈ بیک لینا مناسب عمل ہو گا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.