سیلف ایمپلائیڈ پروفیشنل

1,738

نوٹ: مصنف نے یہ تحریر زینب زیادتی و قتل کیس کے سلسلے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے لکھی  ہے۔  مدیر

میں ایک سیلف ایمپلائیڈ پروفیشنل ہوں۔ سیلف ایمپلائیڈ پروفیشنل تو آپ جانتے ہوں گے۔ اپنی خدمات کے عوض معاوضہ حاصل کرنے والے اس فرد کو سیلف ایمپلائیڈ پروفیشنل کہتے ہیں جو کسی کا ملازم نہ ہو۔ ڈاکٹر، وکیل یا اسی طرح کے پیشے میں سیلف ایمپلائیڈ پروفیشنلز پاکستان میں عام ملتے ہیں۔میرا شعبہ کچھ مختلف ہے۔ ممکن ہے، بلکہ مجھے یقین ہے کہ میرا شعبہ جان کر آپ مجھ سے شدید نفرت کریں گے۔ کرتے رہیں۔ آپ  صرف نفرت ہی کر سکتے ہیں اور کچھ تو آپ نے کرنا نہیں۔ اور میں نے اپنا کام کرنا ہے۔ لہٰذا آپ اپنا کام بے شک نہ کریں مگر میں اپنا کام کرتا رہوں گا۔

ہاں تو میں بچے اٹھاتا ہوں۔ بچے اٹھانے سے آپ یہ مت سمجھ لیں کہ میں کسی اسکول یا کالج کی وین چلاتا ہوں۔ جی نہیں۔ میں بچے اغوا کرتا ہوں۔ یہی میرا پیشہ ہے۔ میں اپنے اس پیشے کے عوض خطیر رقم کماتا ہوں۔ میرے ذہن میں یہ پیشہ اختیار کرنے کا خیال کافی پہلے آیا تھا۔ پہلے پہل میں بہت ڈرا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ میرا ڈر دور ہو گیا۔  اس میں آپ سب نے میری مدد کی۔ جی ہاں۔ آپ سب نے میری بھرپور مدد کی جبھی تو میں اپنے پیشے میں کامیاب ہوں۔ آپ لوگوں کی لاپروائی،  نا سمجھی اور غفلت ہی میرے کاروبار کی کامیابی کی ضامن ہے۔ آپ لوگ اپنے بچوں پر نظر نہیں رکھتے ۔ کوئی اجنبی ان کے ساتھ فری ہونے کی کوشش کر رہا ہو چاہے آپ کی آنکھوں کے سامنے ایسا ہو رہا ہو، آپ لوگ پھر بھی پروا نہیں کرتے۔ “چائلڈ گرومنگ” جیسی اصطلاح کا آپ کو دور تک علم نہیں ہے۔ علم ہو بھی کیسے۔  نہ آپ کو تحقیق کا شوق، نا علم کی جستجو اور نہ ہی اپنی اولاد کی تربیت اور حفاظت کا خیال۔

آپ سمجھ رہے ہوں گے کہ بچے اٹھانا بہت آسان کام ہے۔ بالکل نہیں۔ کبھی کبھار تکا لگ جائے تو اور بات ہے ورنہ بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ اب آپ کا سوال ہو گا کہ اتنی محنت والا گھناؤنا کام میں کرتا ہی کیوں ہوں؟  میرے ذہن میں یہ خیال کافی عرصہ پہلے یوں آیا کہ ایک دن میں انٹرنیٹ  پر ایک فحش ویب سائٹ دیکھ رہا تھا۔ وہاں ایک  بچے کی ویڈیو میری نظر سے گذری ۔ بچہ بہت چھوٹا تھا۔ سات یا آٹھ سال کا ہو گا۔   اس ویڈیو کو دیکھ کر میرے ذہن میں ایک شیطانی خیال ابھرا۔ میں نے سوچا کہ یہ کام تو میں بھی کر سکتا ہوں۔ اور اس سے پیسے بھی کمائے جا سکتے ہیں۔

میں نے ایک فحش ویب سائٹ  پر اپنا پیغام اپنے  ایک ای-میل ایڈریس   کے ساتھ دے دیا۔  میں اس وقت حیرت زدہ رہ گیا جب لوگوں کے پیغامات میری ای-میل پر آنے شروع ہوئے۔ ان میں داد و تحسین بھی تھی اور ایسا ہی کچھ کر گذرنے کی حسرت بھی۔ دو۔چار نے لعنت ملامت بھی کیا مگر جہاں سیکڑوں پیغامات حوصلہ افزائی کے ہوں وہاں لعنت ملامت کے دو۔چار پیغامات کو کون دیکھتا ہے۔ پھر میں نے اعدادوشمار دیکھنا شروع کر دیئے۔  وہ حیران کن تھے۔ دنیا میں چائلڈ پورنوگرافی کا کاروبار بہت کامیابی سے چل رہا ہے۔  2003 میں دنیا میں پورنوگرافی کا 20 فیصد  صرف چائلڈ پورنوگرافی پر مشتمل تھا۔  اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اس میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا چلا گیا۔ آپ اس سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کاروبار کی کتنی مانگ ہے۔ وحشیانہ اور انتہائی حد تک بنائی ویڈیوز کی مانگ زیادہ ہے۔ کمائی بھی خوب ہے۔  لگ بھگ دو سو سے زیادہ نئی تصاویر اور ویڈیوز روزانہ کی بنیاد پر انٹرنیٹ  پر ڈالی جاتی ہیں۔

بچوں کی جنسی زیادتی کے واقعات زیادہ تر کم سن لڑکیوں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ چناچہ اعداد و شمار کے مطابق  20 فیصد واقعات بچیوں کے ساتھ اور 8 فیصد واقعات بچوں کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ جبکہ چائلڈ پورنوگرافی میں بھی  80 فیصد سے زیادہ بچیوں  کو استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ان میں سے تقریباً 91 فیصد بچیاں 12 سال یااس سے کم عمر ہوتی ہیں۔

ان اعدادوشمار کو دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا کہ میں اس کاروبار کا حصہ بنوں گا۔ چناچہ میں نے سوچنا شروع کیا۔   شروع شروع میں گھبراہٹ ہوتی تھی کہ کہیں پکڑا نہ جاؤں مگر  چار پانچ ویڈیوز کے بعد میرا حوصلہ بڑھ گیا اور مجھے اپنا “کاروبار” محفوظ طریقے سے چلانے کا گر بھی آ گیا۔ بس کچھ بااثر لوگوں کو مٹھی میں رکھنا پڑتا ہے۔

ابھی حال ہی میں  میں نے اوپر تلے کافی ویڈیوز بنائی ہیں۔  وہ سب ہاتھوں ہاتھ لی گئی ہیں۔ میرے کچھ بھائی بند بھی یہ کاروبار کامیابی سے چلا رہے ہیں۔  آپ نے دو سال پہلے  قصور اسکینڈل  تو سنا ہی ہو گا۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ اس کاروبار میں  اکثر بچوں کے عزیز و اقارب بھی شامل ہو جاتے ہیں جو بظاہر تو معاشرے کے باعزت فرد ہوتے ہیں ۔ معاشرے میں اپنی نیک نامی اور ڈر کی وجہ سے وہ خود کچھ کرنے کی ہمت نہیں کر پاتے تو ہم جیسوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ اور ہم ان کا یہ کام خوش اسلوبی سے کر دیتے ہیں۔ یوں وہ اپنی کوئی دشمنی بھی نکال لیتے ہیں اور ان میں سے کچھ اپنے سفلی جذبات کو بھی ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔

ویسے تو یہ کام کرتے ہوئے میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا۔ ہاں مگر جب کوئی بچہ یا بچی درندگی کو سہار نہ سکے اور مر جائے یا شناخت کے خوف سے مار دی جائے  اور اس کی لاش کو کسی کنویں،  کسی گنے کے کھیت یا کسی کچرے کے ڈھیر میں پھینکنا پڑے تب  کچھ دیر کے لیے دل بوجھل ہو جاتا ہے۔ آخر کو میں بھی تو تین بچوں کا باپ ہوں اور مجھے اپنے بچوں سے بہت محبت ہے۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. طارق کہتے ہیں

    بہت عمدہ طریقے پر سمجھایا ہے

  2. انیق کہتے ہیں

    Agreed

  3. کاشف احمد کہتے ہیں

    بہت خوپ انداز بیاں اپنایا ہے اور اعداد شماردیکھ کر اندازہ ہوا کےیہ لعنت کس تیزی کے ساتھ معاشرے میں پھیل رہی ہے ہمیں چا ہیے کے اس حقیقت کو تسلیم کر لیں کہ جنسی تسکین ایک فظری ضرورت ہے اور اس ضرورت کو پورا کرنے کے جائز طریقوں کو عام کرنا ہوگا یعنی شادی کے معاملے حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے قوانیں بنائے جس کی مدد سے امیر اور غریب دونوں طبقوں کی شادی ایک ہی بجٹ میں صرف ون ڈش جیسے قوانین کافی نہیں شادی پر فضول خرجی کو سختی سے روکنا ہوگا تاکہ کم خرچ میں شادی کا کلچر فروغ پائے مزید یہ کہ 25 سال سے زیادہ عمر کے شخص کے لیے شادی کرنس لازمی قرار دیا جائے اور اگر کسی کی سکت نہیں تو حکومت کو چاہیے کہ وہ آبادی بڑھ جانے کی فکر سے آزاد ہو کر ایسے لوگوں کی مدد کرے کیوں کہ اللّہ نے روزی دینے کا وعدہ قرآن میں کیا ہے بس ہمیں اس کے طریقوں پر چلنے کی ضرورت ہے

تبصرے بند ہیں.