منیبہ مزاری ہو یا بُشریٰ مانیکا- ہم سب ایک ہیں

6,276

کافی عرصے کی غیرحاضری کے بعد لکھنے کا موقع ملا۔ گھر سے باہر نوکری کرنے والی خاتون کی زندگی کس قدر مصروف اور مشکل ہوتی ہے اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو اس میدانِ جنگ اور اس کی پیچیدگیوں سے واقف ہو۔ میں کبھی کبھی خود حیران ہو جاتی ہوں جب میں خود کو اور اپنے جیسی ہزاروں عورتوں کو دیکھتی ہوں جو پورا دن گھر سے باہر کام کرتی ہیں اور جیسے ہی گھر میں داخل ہوتی ہیں تو گھر کے کام اسے آن گھیرتے ہیں۔

میں اپنا محاسبہ اور موازنہ کرتی ہوں تو یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہوں کہ عورت ہے کیا؟ لامتناہی جوابات میرے شعور کو جھنجھوڑتے ہیں اور لاشعور میں نجانے کتنے احساسات محسوس ہوتے ہیں۔

بیٹی، بہن، بیوی، ماں، یہ عورت نامہ ہے۔ ایک ایسی تحریر جِسے سمجھنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ مرد نے دو تھپڑ رسید کر کے موٹی سی گالی دی عورت نے اپنی گود میں بیٹھے بچے کو دیکھا اور خاموش ہو گئی۔ یہ ایک عکس ہے۔ ایک رُخ ہے اس تصویر کا جو آج بھی ہم سے چیخ چیخ کے یہ کہتی ہے کہ ہم وہ قوم ہیں جو ایک کامیاب عورت کا وجود برداشت نہیں کر سکتے۔ کامیاب تو درکنار جہالت اور ذلت کی پستیوں میں غرق ایک مجبور عورت کو مزید روندنے میں یہ معاشرہ فخر کرتا ہے کیونکہ مرد حاکم ہے اور عورت محکوم ہے۔ اپنی سماعتوں کو بہرا، آنکھوں کو اندھا اور فکر و آگہی کی سبھی بتیاں گُل کر کے یہ اگلی چند سطور پڑھئے

مبارک ہو آپ کا بیٹا کامیاب ہوا۔ جی بہت شکریہ، آخر خون کس کا ہے

ایسی اولاد سے خُدا بچائے بوڑھے باپ کو کُتے کے ٹھیکرے میں پانی پِلا دیا۔ بس جی کیا کہیں “ماں” نے تربیت ہی ایسی کی ہے

ارے آپ کی بہو تو چندے آفتاب چندے ماہتاب ہے۔ جی بالکل آخر میرے بھائی کی بیٹی ہے۔ کوئی مذاق ہے کیا۔

دیکھو تو نواب زادی کتنا سالن کھاتی ہے۔ “ماں” نے سسرال کے طور طریقے سکھائے ہوں تو پتہ ہو

اور نجانے ایسی کتنی باتیں ہیں جو اگر رقم کروں تو اصل موضوع تشنہ رہ جائے۔ ہمارا معاشرہ عورت کو کسی حال میں نہیں بخشتا۔۔

گھریلُو ناچاقی سے لے کر طلاق تک اور شوہر کی تھوڑی کمائی سے لے کر تیسری بار پھر بیٹی کو جنم دینے تک قصوروار عورت ہی ہے۔ عورت کے کرم اور اُس کا نصیب یہ دونوں چیزیں کب اس کا جرم بن جاتی ہیں پتا ہی نہیں چلتا۔ دنیا جہان کی بدترین گالیاں بھی تب ہی تکمیل کی منزل پہ پہنچتی ہیں جب اُن میں ماں اور بہن جیسے معتبر رشتوں کی آمیزش کی جائے۔ سبز قدم قرار دیئے جانے سے لے کر منحوس ہونے تک اور بدصورت ہونے سے لے کر جنم جلی کہلانے تک سارے خطبات، القابات، استعارات اور تشبیہات عورت ہی کے لئے ہیں۔

میں یہ سب کیوں لکھ رہی ہوں اور اپنا خون کیوں جلا رہی ہوں اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ میں ایک عورت ہوں ایک بیٹی، بیوی اور ماں ہوں شاید یہ ایک وجہ ہے۔ لیکن ٹھہریئے اصل وجہ وہ ویڈیو ہے جو ابھی فیس بُک پر نظروں کے سامنے سے گُزری۔ ویڈیو میں ایک شخص ہے جو اپنی مطلقہ بیوی کی پاکدامنی کی حمایت میں دلائل دے رہا ہے۔ ساتھ ہی لگے ہاتھوں جس سیاسی لیڈر سے اس کی سابقہ اہلیہ منسوب کی جا رہی ہے اس مَرد کی بھلائی اور پاکیزگی کے قصے بھی سُنا رہا ہے۔ متعلقہ ویڈیو کے نیچے فیس بُک کے مجاہدین، علامے اور مولانے اور لبرلز اور فہرست خاصی طویل ہے ان کے کمنٹس بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور کیوں نہ پڑھیں بھئی بےغیرت ہم ویسے ہی ہو چکے ہیں۔ دل ہمارے مردہ اور سخت ہو چکے ہیں۔ آزادئِ اظہار کے بے دریغ اور لا محدود استعمال میں ہماری قوم اتنی ماہر ہو چکی ہے کہ ماہرانہ آراء کا ایک تانتا اور سیلِ تند رو ہے جو تھمنے میں نہیں آتی۔ گمان گزرتا ہے کہ واہ کیا دانشوروں پہ مبنی قوم ہے جو نہ اخلاقیات کی پرواہ کرتی ہے اور نہ ہی ذاتیات پہ اُترنے سے گریز۔ ایک پاگلوں کا ٹولہ ہے جو بیٹھ کے روٹیوں کو توڑنے کے ساتھ ساتھ کی بورڈ پہ اپنی انگلیاں توڑنے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتا۔

مجھے اس تحریر میں نہ ہی عمران خان سے کچھ کہنا ہے اور نہ ہی بشریٰ مانیکا سے مجھے کوئی سروکار ہے۔ میرا دُکھ صرف یہ ہے کہ ہماری تماشبین قوم اور انتہا کی حدوں کو چھوتا غیر ذمہ دار میڈیا جن کی رگوں میں غیرت اور شرافت کی بجائے بےغیرتی اور بھونڈا پن دوڑ رہا ہےصرف اپنی نیوز فیڈز، والز، پوسٹس اور نام نہاد ریٹنگ کی خاطر بریکنگ نیوز کا تڑکہ لگا کر چار بچوں کی ماں کی عزت کو نیلام کر رہے ہیں۔ رہ گئے سیاسی لیڈر تو سیاست پاکستان میں صاف تھی ہی کب؟ سیاسی طہارت تو اقبال اور قائد کے جانے کے ساتھ ہی رُخصت ہو گئی۔ یہاں جو سیاست میں ہے اُس کا وطیرہ یہ ہے کہ جو کہنا ہے کرنا نہیں ہے اور جو کرنا ہے کہنا نہیں ہے۔ مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ جب سے اس تیسری شادی کا واویلا مچا ہے تب سے لے کر اب تک ایک بیٹے کو اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اپنی ماں کے دفاع کے لئے ٹی وی پر آنا پڑا اور ایک شوہر کو اپنی سابقہ اہلیہ کی عفت کے حق میں دلائل دینے پڑے۔ کیا یہی وہ معاشرہ ہے جس کا سید و سردار شاہِ لولاک ماں کے قدموں تلے جنت اور بیٹی کو رحمت بتاتا ہے؟

المیہ یہ ہے کہ پاکستان اور اس معاشرے میں ایک عورت کی عزت اور اس کے وقار کی نہج کیا ہے اس کا ادراک کوئی نہیں کر سکا۔ ہمیں معذرت کے ساتھ کوئی کامیاب عورت کہیں بھی ہو کیسی بھی ہو برداشت نہیں ہوتی۔ ہمیں زبیدہ طارق کے خاموشی سے گزر جانے پہ افسوس تو بہت ہوتا ہے لیکن ان کی زندگی میں ہم  ان کی عزت کر سکتے۔ ہمیں پڑھے لکھے بغیر دانشور بننے کا بہت شوق ہے اس لئے ہم ملالہ یوسفزئی کو غدار اور ایجنٹ اور نجانے کیا کیا کہنے سے نہیں چُوکتے۔ ہمیں منیبہ مزاری کی کامیابیاں ہضم نہیں ہوتیں اس لئے ہم ایک ذاتی مسئلے کی بنیاد پر اسے ہیرو سے زیرو بنا دیتے ہیں۔

یہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم جس چیز کے بارے میں کچھ نہیں جانتے جس حقیقت سے ہم لاعلم ہیں اور اس کے متعلق کوئی مستند معلومات نہیں رکھتے ہم اس کو اپنی قیاس آرائیوں اور اپنی سوچ کی عینک لگا کے خود پرکھیں اور اس کے خلاف لکھیں۔ ہمارے اپنے گھروں میں کیا ہو رہا ہے وہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ ہم سب کچھ چھوڑ کے یہ فیصلہ ضرور کریں گے کہ وہ اچھی بیوی تھی یا نہیں۔ قارئین سے معذرت کے ساتھ یہ وہ آئینہ ہے جسے ہم دیکھنے سے شرماتے نہیں بلکہ کتراتے ہیں۔ بات فقط بشریٰ یا منیبہ کی نہیں بات ایک عورت کی ہے۔ بات اس عورت کی عزت کی ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ ایک طلاق یافتہ عورت کو رشتہ بھیجا گیا یا نہیں بات اس عورت اور اس کے گھر والوں کے مجروح شدہ احساسات اور عزت کی پامالی کی ہے۔ بات یہ نہیں ہے کہ ایک مَرد اپنی سابقہ بیوی کو ہتک عزت کا دعویٰ کر کے اسے ہرجانے کے نوٹس بھیجے اور عدالتوں میں گھسیٹے وہ بھی پانچ پانچ دفعہ۔ بات اس عورت کے وقار کی ہے۔

افسوس کے ساتھ ہم وہ معاشرہ ہیں جو بیمار بکریوں کے یکطرفہ ریوڑ کی طرح آزادئِ اظہار حق کے نام پر لوگوں کی عزت اور غیرت پہ رائے قائم کر کے پلتا ہے۔ جب تک ہم کسی انسان کی کردار کشی نہ کرلیں ہمیں سکون نہیں ملتا۔ یہاں آج بھی حوّا کی بیٹی اپنے جائز حقوق کے لئے تڑپتی ہے۔ یہاں آج بھی بیٹے کو بوٹی اور بیٹی کو شوربہ ملتا ہے۔ اس معاشرے میں لڑکی کو یہ کہہ کر بیاہا جاتا ہے کہ بیٹی تیرا جنازہ ہی اب اس گھر سے نکلنا چاہئے۔ یہاں ایک عورت کی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ اس کا شوہر باہر جو چاہے کرتا رہے اس سکھایا جاتا ہے کہ اعتراض نہ کرو لوٹ کر وہ تمہارے ہی پاس آئے گا۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں ہم کیسی بیٹیاں اور بیٹے اس معاشرے کو دے رہے ہیں۔ ماڈرنزم کی لہر میں بہہ کر یا تو ہم انتہائی مغرب زدہ ہو جاتے ہیں یا پھر اسلام کے نام پر خطرناک حد تک مشرق زدہ۔ ہمارے یہاں اعتدال کا راستہ وجود ہی نہیں رکھتا اور اگر ہے تو انتہائی پُرخار ہے۔ مرد ہو یا عورت وہ کچھ اچھا کرے تو ہم سر آنکھوں پر بٹھائیں گے اور اگر کوئی ذرا سی بات اس کے خلاف آ جائے تو ہم اسے اتنا لتاڑیں گے، دلائل کی وہ مار ماریں گے اس کے کردار کو اس حد تک پرکھیں گے کہ اس کو اپنی زندگی موت سے بدتر لگنے لگے۔

بخدا یاد رکھئیے عورت معاشرے کی معمار ہوتی ہے۔ عورت ماں ہو یا ویشیا سب سے پہلے عورت ہوتی ہے۔ کبھی سوچا ہے کہ منٹو نے کیوں لکھا تھا کہ “ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں عورت کوٹھا تو چلا سکتی ہے تانگہ نہیں۔” پھر ایک جگہ کہتا ہے کہ “ہم کوٹھے پہ بیٹھنے والی عورت کو تو نام دے سکتے ہیں لیکن کوٹھے پہ آنے والے مردوں کو نہیں۔” مجھے اس قوم کا اس سے بھیانک اور منافقت سے بھرا ہوا چہرہ نظر نہیں آتا۔ ہم عورت کو رشتوں کے نام سے پرکھنے کی بجائے اسے صرف عورت سمجھ کر کب سوچنا شروع کریں گے۔ چھوڑ دیجئے کہ وہ کسی کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی ہے بس یہ سوچئے کہ وہ ایک عورت ہے۔ لیکن مجھے معلوم ہے کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہماری نیوز فیڈز اور لائکس کا کیا ہو گا اور ریٹنگ کیسے آئے گی؟ اشتہارات کیسے چلیں گے؟ بل بورڈز کون دیکھے گا؟ اور اگر آپ پُل کے دوسری طرف کھڑے ہیں تو یہ شعر آپ کی نذر ہے

میرا دکھ یہ ہے میں اپنے ساتھیوں جیسا نہیں

میں بہادر ہوں مگر ہارے ہوئے لشکر میں ہوں

مصنفہ ملتان کے ایک ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے نانا جان شمشیر حیدر ہاشمی المعروف مہر صاحب ریڈیو پاکستان کے مشہور صداکار تھے۔ آج کل ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

10 تبصرے

  1. Shafiullah Shirazi. کہتے ہیں

    Agree with all your observations…..Please accept that every single woman is not an angle and all men are not criminal…..

  2. Ambreen کہتے ہیں

    Bohat achi baat kahi aapne masha Allah

  3. waqar کہتے ہیں

    saara blog parhne ke baad bhee muhhe samjh naheen aaya keh qalamkar kehna kia chahti hain. Mein ne aaj tak itna homeopathical blog naheen parha. koi aik bhee fiqra chonka dene wala naheen mila.majmui tor par aik be taasur si tehreer.

  4. Sheraz کہتے ہیں

    Respected Fazeela Haider when we start writing about women rights ,their disrespect and non realisation of their contribution in daily life, we do forget that there are still educated families and good husbands exist who do every thing for their counterparts. My friend , the x-husband of Muneeba Mazari was one of those great people who sacrificed everything for his beloved wife’s happiness and made her what she is right now. Once he married her against the will of his family ,she was just a pretty lady with all the hidden talents .He was an Armed forces fighter pilot with lot of responsibilities and his own carrier ahead. The lady without realising his duties commitment made his tough professional life more tough with lots of demands and a fun loving life. He was posted in Quetta from where moving to any other city by road was horrible and dangerous due to security and broken road conditions. Just to please his beloved wife my friend use to travel every other weekend on that track in his personal car while putting both the life in danger since she felt suffocated in Quetta PAF Base due to restricted social life. My friend had only weekend for such activities for the pleasure of his wife. On one of these time compressed events while returning back to Quetta from weekend on his wife’s desire due to tiredness and a very hectic drive and that too at night time he lost the control of his car and suffered the accident where both of them were badly injured. Unfortunately the injuries happened to the lady were of more severe nature then his husband who was driving the car.
    What happened afterwards is a long untold story of eternal love and sacrifice of man for his beloved disabled wife. The person did everything to make her able again and spent his everything in the best hospital of Pakistan instead of any authorised armed forces hospital to rehabilitate her and to bring her happiness back. The gentle man has always blamed himself that he is the one who is responsible for her misery and due to his nap while driving she suffered the disabling injury. He went to every extent when her own family has left her. He managed her with her mother and two young brothers and even bared all the expenditures of her young siblings. He kept the whole family for her at his residence when even her own father even refused to support on the issue. He went to the extent that once he knew that it is not possible for her to be a mother, he adopted a child to complete their family. He motivated and helped her for bringing her painting talents out and went to support her while driving her to the whole country and remain there at the doorsteps till the time she is not free from her exhibitions and meetings and seminars where she humiliated him without mentioning his name and mentioned him as a driver responsible for all her miseries. She never mentioned the sacrifices and contributions which he did for her after the accident. The medical treatments, the painting commitments, the hoteling, shopping, supporting her family and everything to please his beloved wife whom he loved more than his life, his parents and his demanding profession. He ruined everything of his own life for her and in the end once she became famous and rich she left him and applied for the divorce. He did everything to change her decision but she did not listen. After so many years once she still did not regarded what he did for her and kept her maligning in her emotional sermons about the cruelties and selfishness of his husband and blamed him for her so called tragedy where she was the one who was more responsible for that accident since she forced her for those odd travelling adventures on a dangerous and risky route. The gentleman decided to bring everything and the maligning campaign in the court.
    My point is that its not always the women is innocent and oppressed, sometimes she is also taking advantage of being a lady. Also the media against whom you said some strict remarks does not want to listen anything against the charming lady since she is a darling and publishing against her will be against the popular item and business loss for them. The other side is the damage and disrespect of a devoted and loyal husband who did everything for happiness of his beloved wife before and after the accident.

  5. محمد اختر کہتے ہیں

    محترمہ!
    عورت کی حرمت کے حوالے سے آپ نے جو فرمایا، بالکل بجا ہے۔ اس پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔
    لیکن کسی بھی موضوع یا شخصیت بارے کسی ایک پہلو کو لے کر رائے قائم کرنا درست نہیں۔۔۔۔۔۔۔
    مذکورہ خواتین کی ترجیھات، خواہشات اور بیانات کو مدنظر رکھا جائے۔۔۔۔۔۔۔ انہین اپنی حرمت کو پبلک کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  6. Farhan Maqbool کہتے ہیں

    Ap ki 90% batain theek hain lakin Muniba Mazari k mamlay ma i’ll disagree with you. Nobody discussed her personal life until she decided to bring in it in public. From several years she has been respected and treated as a symbol of courage. But, as it happens mostly, fame got her mind and she started to bring her family matters not just on national but on international level. In most cases, women are being potrayed as Janam Jalli but she tried to label her ex-husband. It is only after her husband decided to show her past claims, ppl turned agianst her. You may disagree with it but tell me since when ppl start bashing. But this is not the reason i wrote this comment.

    I wrote it because of your introduction at the end of your writing. Your introduction through your grandfather is another example of what you want to say in your writing. There is no harm in it but This is exactly what you oppose but it is being practiced here.

  7. انیق کہتے ہیں

    میں آپ کی بات سے بالکل متفق نہیں ہوں بوٹی اور شوربے کے مفروضے تو آپ اچھی طرح قائم کرتی ہیں لیکن آپ کو اس معاشرے میں وہ لوگ نظر کیوں نہیں آتے جو آج بھی حقوق نسواں کی نام نہاد تنظیموں کے بھاشن سنے بغیر ہی بیٹیوں کو بیٹوں سے زیادہ معتبر اور باعزت بناتے ہیں۔ جب آپ لوگ مردوں کی برابری کیے بنا رہ نہیں سکتیں تو پھر قومی اسمبلی میں عورتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے کیوں اسرار کرتی ہیں؟ سرکاری یا پرائیویٹ نوکری کے بعد گھر کو ذمہ داری کی بجائے بوجھ کیوں سمجھتی ہیں؟ جنابہ عالیہ عزت ایک کمپیوٹر سافٹوئیر کی بجائے ایک احساس ہے جو اپنے اعمال سے کسی کے دل میں پیدا کیا جاتا ہے۔ جب ایک عورت اپنے شوہر سے طلاق کو ” روہانی بشارت” قرار دے گی ایسی “بشارت” پہ انگلیاں تو اٹھیں گی ہی

    1. Sagittarius کہتے ہیں

      Roohani Basharat pe ungliyan uthaen aurat pe nahin..
      Betiyan kitni moatabar aur ba-izzat hen sab jaantay hen. Aurat kabhi ghar ki zimedaari ko bojh nahin samajhti, ghar honay pe fakhr karti hai shart yeh hai k Ghar walay theek hon…
      Men uss mard ko mard he nahin samajhta jo aurat ki izzat nahin kar sakta.

  8. Waheed gull کہتے ہیں

    Great baji bohot achee or kabil a samajh baat ki aap na orat ka bohot roup hein lakin ha orat hi respect and salute to your thought but ya sawaal bhi ha ka khan sahab na dhindora q peeta or apni age daykhein or kisi bahen bayti ki izzat ka tamasha na banai

  9. محمد حنیف عبدلعزیز کہتے ہیں

    آپ نے بات دروست کی ہے لیکن یہ باتیں ایک ٪ ہیں کیں کہ ہمارے اکثر گھروں میں لڑکی بیٹی بیوی اور ماں کی بہت عزت کی جتی ہے ۔

تبصرے بند ہیں.