ہم بھی فراز سے واقف ہیں

1,718

کوہاٹ کے سادات گھرانے میں 12 جنوری 1931 کو پیدا ہونے والا ایک لڑکا جس کا نام سید احمد شاہ رکھا گیا۔ لڑکے کے والد سید محمد شاہ برق پیشے کے لحاظ سے اکائونٹینٹ تھے جو ایک سخت مزاج اور ڈسپلن کے دلدادہ شخص تھے۔ بیٹے کے گھر تاخیر سے آنے پر اکثر بلند آوازمیں سرزنش اور دست و بازو پراختیار کھو بیٹھتے تھے۔ اتنی سخت گیری کا اثر سید احمد شاہ کے مزاج پر آنا لازمی تھا۔ جب والدین سخت ہوں تو بچے شخصی و انفرادی آزادی کے انتہا کے قائل ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ سید احمد شاہ کے ساتھ بھی ہوا۔ متلون مزاجی ان کی شخصیت کا حصہ بن گئی۔ ذرا ذرا سی بات پر روٹھ جاتے اور پھر کسی کے منانے کا انتظار بھی کرتے۔ اور حسین بات یہ کہ منانے والے بھی بہت تھے تو یہ عادت ساری زندگی ساتھ چلی۔ دو لوگوں کو پہلے دوست بنایا اور پھر انہی کے دلدادہ بھی ہو گئے۔ ان میں ایک فیض احمد فیض اور دوسرے علی سردار جعفری تھے۔

maxresdefault

سید احمد شاہ نے جب اعلیٰ تعلیم کا آغاز کیا تو ماسٹرز میں مضامین کے انتخاب کے لیے مستقبل میں بڑا آدمی بننے کی فکر سے آزاد ہو کر اردو اور فارسی کو چنا۔ ریڈیو پاکستان میں فیچر لکھے تو اتنے کمال لکھے کہ ریڈیو پاکستان نے ملازمت آفر کر دی۔  گریجویٹ ہوئے تو ریڈیو پاکستان چھوڑا اور تعلیم و تدریس شروع کر دی۔ ادب سے لگائو تو خداداد تھا تو جو لفظ تحریر کیا وہ منفرد ہی بن گیا۔ اپنی سوچوں کو کاغذ پر اتارا تو دلفریب شاعری بن گئی۔ اور ایسی شاعری کے جس کی دھوم پشاور سے پورے پاکستان اور پھر پوری دنیا تک پہنچ گئی۔ سید احمد شاہ اب احمد فراز بن گئے تھے۔ وہ احمد فراز جو  رومانوی شاعری کریں تو ہرخوبرو و نازنین دل آرا دوشیزہ کے دل کو گدگدا جائے۔ فراز کی رومانوی طبیعت نے جہاں شاعری میں رنگ بھرے وہاں ان کی زندگی میں بھی کئی گل رنگ و حسین حادثے ہوتے رہے۔ جس کا عکس ان کی شاعری میں صاف جھلکتا ہے۔

سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں

سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے

سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں

مگر یہ کمال بھی شاید فراز کو ہی حاصل تھا کہ اپنی محبتوں میں ازدواجی متعلقات  کی جانب سے مداخلت قبول نہ کی۔ اور اپنی شاعرانہ اور سیاسی معاملات سے لے کر گھریلو معاملات تک صرف ان کا ہی حکم چلتا تھا۔ لیکن اس تنہا پسندی اور حاکمانہ طبیعت میں بھی فراز کی شاعری میں سادگی اور ملتفعت مزاجی کا عنصر نمایاں تھا۔

Ahmadfaraz1

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ.

فراز کی اس غزل سے سال نو کا آغاز اب روایت ہی بن گئی ہے:

نہ شب و روز ہی بدلے ہیں نہ حال اچھا ہے

کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے

اور پھر محبتوں کی تشہیر اور گلے شکوے سے بھرپور یہ غزل کئی دل جلوں کے دل کی آواز بنتی ہے:

ہر کوئی جاتی ہوئی رت کا اشارہ جانے

گل نہ جانے بھی تو کیا باغ تو سارا جانے

تجھ سے بڑھ کر کوئی نادان نہیں ہو گا فراز

دشمن جاں کو بھی تو جان سے پیارا جانے

اور کبھی محبت کے شگوفے پھوٹے تو محبوب کی تاخیر سے ملنے کا گلہ کر ڈالا۔۔۔

زندگی سے یہی گلہ ہے مجھے

تو بہت دیر سے ملا ہے مجھے۔۔

اور فراز کی یہ غزل جسے میڈم ترنم نورجہاں کی دلنشین اور دلسوز آواز نے لازوال بنا دیا۔

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں

یوں ہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے

کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں

لیکن جب اردگرد آمریت کے شکنجوں سے لوگوں کو گھٹتے ہوئے دیکھا تو یہ رومانوی شاعر انقلابی بن گیا۔ اور ہر شعر میں آمریت کے خلاف تندو تیز وار تھے۔ جو آمریت کے سینے پر اس زور سے پیوست ہوئے کہ آپ کو پابند سلاسل ہونا پڑا۔ مشہور زمانہ نظم ’’پیشہ ور قاتلو‘‘ لکھنے پر ان کی نظموں کو بغاوت کا حوالہ بنا کر ان کو قید تنہائی کی نِذرکردیا گیا۔

ایسا سناٹا کہ جیسے ہو سکوت صحرا
اتنی تاریکی کہ آنکھوں نے دہائی دی ہے
در زندان سے پرے کون سے منظرہوں گے
مجھ کو دیوار ہی دیوار دکھائی دی ہے
دور اک فاختہ بولی ہے کسرشاخ سحر
پہلی آواز محبت کی سنائی دی ہے

عدالتی حکم پرفراز کو رہا کردیا گیا لیکن کراچی میں منعقد ہونے والے ایک مشاعرے میں نظم ’’محاصرہ‘‘ پڑھنے پر ان کو صوبہ بدر کردیا گیا۔ جب ان پر آزادی اظہار کے تمام دروازے بند کردیئے گئے تو احمد فراز نے اپنا ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور برطانیہ چلے گئے۔ ستم ظریفی یہ کہ چھ سال کے خود ساختہ جلاوطنی نے فراز کی شاعری کو نئی راہوں پر ڈال دیا۔ کہتے ہیں کہ شاعر کا ذوق تو الم و تنہائی میں نکھرتا ہے۔ فراز کی بھی بہترین شاعری جلاوطنی کے دور کی ہی ہے۔ ساری دنیا گھومنے والے فراز کو پاکستان آنے کی تڑپ نے کبھی چین سے بیٹھنے نہ دیا اور جب لگا کہ دامن زیست ناتواں جسم کے لرزتے ہاتھوں سے سرکنے لگا ہے تو اپنے وطن لوٹنے کی ضد کر دی۔ اور پھر 25 دسمبر 2008 کواپنی ہی مٹی کے گلے میں بانہیں ڈال کر سو گئے۔ بقول فراز۔

نیند تو کیا آئے گی فراز
موت آئے گی تو سو لیں گے

فراز کی شاعری اردو ادب کا بیش بہا سرمایہ ہے اور فراز بلاشبہ شاعری کے آسمان کا آفتاب ہیں۔  فراز کی شاعری کے مجموعوں میں

”بے آواز گلی کوچوں میں “،”شہر سخن آراستہ ہے “،”جاناں جاناں“،”غزل بہانہ کروں“،’’تنہا تنہا“ ،”دردآشوب“ ،”نایافت “ ،”جاناں جاناں “ ،”شب خون “،”میرے خواب ریزہ ریزہ“،”نابینا شہرمیں آئینہ’’،”پس انداز موسم“ ،”سب آوازیں میری ہیں“ ،”خواب گل پریشاں ہے“ ،”بودلک “ اور ”غزل بہانہ کروں ‘‘ شامل ہیں۔ فراز کی شاعری کے بیشتر مجموعے ساری دنیا میں اردو ادب کے نصاب میں شامل ہیں اور آج بھی فراز  کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

اُمِ کلثوم ایک فری لانس لکھاری ہیں اور گزشتہ پانچ سالوں سے بلاگز لکھ رہی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. محمداطہرجمیل کہتے ہیں

    بہت ہی معلوماتی تحریر۔شکریہ

تبصرے بند ہیں.