کیا خواتین ایک دوسرے سے خائف ہیں؟ 

1,132

برطانیہ کی وزیراعظم ٹریسامے نے بڑے دھوم دھڑکے کے ساتھ, اپنی کابینہ میں ردوبدل کے بعد نئی کابینہ تشکیل دی ہے، لیکن وہی ڈھاک کے تین پات۔ اپنی پچھلی کابینہ کی طرح  22  وزیروں کی نئی کابینہ میں بھی انہوں نے صرف 5 خواتیں کو شامل کیا ہے۔

pm may

برطانیہ کی پہلی خاتون وزیراعظم، مارگریٹ تھیچر کے مقابلہ میں یہ ٹریسامے کا انقلابی اقدام ہے کیونکہ مسز تھیچر کی پہلی کابینہ میں کوئی خاتون شامل نہیں کی گئی تھیں اور دوسری کابینہ میں صرف ایک خاتون وزیر بنی تھیں جو ان کی پرانی دوست تھیں، لیکن یہ دارالعوام کی رکن نہیں تھیں البتہ دارالامراء سے ان کا تعلق تھا۔

mrs thacher

یہ واقعی عجیب و غریب بات ہے کہ برطانوی معاشرہ میں جہاں اب خواتین زندگی کے ہر شعبہ میں آگے بڑھ رہی ہیں ، پارلیمنٹ اور کابینہ میں اپنی نمائندگی میں اتنی پیچھے رہ گئی ہیں اور وہ بھی خاص طور پر خاتون وزیر اعظم کے بر سر اقتدار ہوتے ہوئے ۔ قدرتی طور پر لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس صورت حال کی کیا وجوہات ہیں ؟ کیا خواتین وزارت کی ذمہ داریوں کی اہل نہیں ہیں؟ جب خواتین وزیر اعظم بن سکتی ہیں تو کابینہ کی وزیر کیوں نہیں بن سکتیں؟ اس کی وجہ صرف ایک ہی نظر آتی ہے کہ شائد خواتین ایک دوسرے سے اتنی خائف یا حاسد ہیں کہ انہیں اپنے سے آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیتیں۔

یہ رجحان صرف برطانیہ تک محدود نہیں ہے ۔ ایشیاء میں بھی یہ رجحان عام ہے۔

مسز بندرانایئکے کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ وہ ایشیاء کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنی تھیں اور وہ تین بار وزارت اعظمی کے عہدہ پر فائز رہی تھیں ۔اس دوران انہوں نے اپنی کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر کو شامل نہیں کیا تھا۔

mrs banarnaike

اسی طرح مسز اندرا گاندھی کو ہندوستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔ مسز بندرانایئکے کی طرح ان کی پہلی کابینہ میں ان کے علاوہ کوئی نسوانی چہرہ نہیں تھا۔ دوسری کابینہ میں البتہ اندرا گاندھی نے 5 خواتین کو شامل کیا تھا لیکن انہیں صرف وزیر مملکت کے عہدے دئے تھے۔ لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ اندرا گاندھی کی کابینہ کے مقابلہ میں نریندر مودی کی موجودہ کابینہ میں سات خواتین شامل ہیں۔

indira gandhi

خود پاکستان میں ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اپنی بیس رکنی کابینہ میں صرف ایک خاتون کو نشست دی تھی جو ان کی والدہ بیگم نصرت بھٹو تھیں۔ ان کے علاوہ کسی خاتون کی قسمت میں بے نظیر کی کابینہ میں جگہ حاصل کرنا نہیں لکھا تھا۔

benazir bhutto 1

بے نظیر بھٹو کو کیا دوش دیا جائے۔ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اپنی انتیس وزیروں کی کابینہ میں دو سے زیادہ خواتین کو اس کا اہل نہیں سمجھا کہ جنہیں وزیر کا عہدہ تفویض کیا جاسکے۔ اسی طرح صرف دو خواتین کو انہوں نے کابینہ میں وزیر مملکت کا عہدہ بخشا ہے۔

علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ۔۔

وجودِ زن سے ہے ” کابینہ کے سواء ” تصویر کائنات میں رنگ۔

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت خؤب لکھا ہے۔

تبصرے بند ہیں.