سانحہ قصور: ذمہ دار کون؟

2,650

جرم کرنے والا مجرم اور مجرم کو اپنی غلطی یا کوتاہی یا لاعلمی یا نااہلی یا بھول یا کسی بھی اور معلوم یا نامعلوم قول یا فعل یا عدم فعالیت کے سبب جرم کرنے کے قابل بنانے یا جرم کرنے کی ہمت دینے یا جرم کرنے پر آمادہ کرنے یا جرم کرنے کی اجازت دینے یا جرم کرنے کا موقع فراہم کرنے والا اس جرم کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

زینب کے قاتل کا تعین تو صرف خدا کی ذات یا اس ملک کا نیم مردہ نظام انصاف ہی کر سکتا ہے لیکن اس کی المناک موت کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کیونکہ ہم سب خود کو زینب کے وارث قرار دے رہے ہیں۔

تاہم اس کوشش کا مقصد کسی کو نادم کرنا یا مجرم قرار دینا یا شریک مجرم قرار دینا یا دکھ پہنچانا یا ملامت کرنا ہرگز ہرگز نہیں۔ اس کوشش کا مقصد صرف ایک ایسی خود احتسابی ہے کہ جو شاید ہمیں مستقبل میں ایسے کسی اور دکھ سے بچا سکے۔

جاڑے کا موسم ہے۔ شام پانچ بجے مغرب کا وقت ہو جاتا ہے۔ یعنی اندھیرا ہو جاتا ہے۔ سات بجے عشاء کی اذان ہو جاتی ہے۔ یعنی گھپ اندھیرا۔ زینب رات کے پونے سات بجے اپنے گھر سے دو سو فٹ کے فاصلے پر اپنی خالہ کے گھر قرآن پڑھنے جاتی تھی۔ ہو سکتا ہے دیگر ایام میں اس کے ساتھ اس کی عمر کے کچھ اور بچے بھی جاتے ہوں مگر جس شام وہ اغواء ہوئی، اس شام وہ اکیلی وہاں گئی تھی اور اس کے گھر والوں کو یعنی اس کے بھائیوں اور چچا اور دیگر اہلخانہ کومعلوم تھا کہ وہ اکیلی جا رہی ہے۔ وہ ان سب کے سامنے سے، ان سب کی مرضی سے بلکہ شاید ان سب کے کہنے پر گئی تھی۔ اس کی لاش اس کے گھر کے قریب ہی سے ملی ہے۔ یعنی مجرم قریب ہی رہتا تھا۔ عین ممکن ہے کہ وہ کافی دیر سے زینب کو رات کو اکیلے آتے جاتے دیکھتا رہا ہو اور اس نے کئی روز تک اس کی روٹین کو مانیٹر کرنے کے بعد باقاعدہ منصوبہ بنا کر، راستے کا کوئی اندھیرا گوشہ ڈھونڈ کر اسے وہاں سے اغواء کیا ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس نے اغواء سے پہلے کبھی گلی میں سے گزرتے وقت زینب کو بلایا ہو، اسے کوئی ٹافی گولی دے کر یا کسی بھی دوسرے طریقے سے اسے خود سے مانوس کرنے کی کوشش کی ہو اور پھر کسی روز اچانک اسے کوئی جھوٹی سچی بات کہہ کر، خود کو اس کے ابا یا چچا یا بھائی کا دوست یا رشتہ دار کہہ کر وہاں سے کسی بہانے سے لے گیا ہو کیونکہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں زینب نہایت اطمینان سے اس کے ساتھ جا رہی ہے وگرنہ بچے کسی اجنبی کے ساتھ اطمینان سے نہیں جاتے۔ زینب جتنی عمر کے بچے تو کسی اجنبی کے ایک سے دوسری بار بلانے پر طوفان اٹھا لیا کرتے ہیں۔ پھر کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ مجرم کئی روز سے بتدریج بچی کو اپنی جانب مائل کر رہا تھا اور اس کے گھر والے پھر بھی بے خبر تھے؟ سب اندازے ہیں، سب مفروضے ہیں، سب غلط ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ سب سوال بھی ہیں اور سوال کوئی بھی ہو چھوٹا یا غیراہم نہیں ہوتا۔ سوال صرف غور طلب ہوتا ہے۔

اچھا۔۔۔ زینب کے والد نیک آدمی ہیں۔ عمرے پر گئے ہوئے تھے۔ زینب کی والدہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ ان کو اپنے عقیدے کی بڑی فکر ہے۔ وہ ایک دیندار بزرگ ہیں۔ انہوں نے عقیدے کی بنیاد پر جے آئی ٹی کا سربراہ بھی تبدیل کروا لیا ہے لیکن وہ اپنی بیٹی کو خود قرآن کیوں نہیں پڑھاتے تھے؟ کیا بہت مصروف تھے؟ کیا ان کی اہلیہ بھی بہت مصروف تھیں؟ آخر عمرہ کرنے بھی تو گئے ہی تھے ناں۔ پھر یقیناً ایسے بھی مصروف نہیں ہوں گے کہ ان کے پاس یا ان کی اہلیہ کے پاس یا گھر ہی میں موجود زینب کے چچاؤں کے پاس یا بڑے بھائی کے پاس اسے قرآن تک پڑھانے کا وقت نہ ہو۔۔۔۔ حج فرض ہے۔ لیکن عمرہ نفلی عبادت ہے۔ امین صاحب کا سب سے بڑا بیٹا بارھویں جماعت میں پڑھتا ہے جبکہ ان کی تین بیٹیاں اس سے چھوٹی ہیں یعنی سب کی سب سکول گوئنگ یعنی بہت ہی کم عمر پھر بھی اگر وہ ایک نفلی عبادت کیلئے کئی روز کیلئے گھر سے باہر چلے ہی گئے تھے تو کم از کم اتنے دن کیلئے خاندان کے دیگر افراد سے کہہ جاتے کہ وہ ان کی بیٹیوں کو اکیلے گھر سے باہر نہ جانے دیں۔ چلیں اگر ایسا بھی ناممکن تھا تو کم از کم یہی کہہ جاتے کہ انہیں رات کے وقت اکیلے باہر نہ جانے دیں۔

عین ممکن ہے کہ کئی دوست مجھے پوری قوت سے کوس رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ یہ نام نہاد قلم کار اپنے بچوں کو محفوظ معاشرہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے کی بجائے انہیں گھر میں قید کرنے کا درس دے رہا ہے۔ بچیوں کی تعلیم اور آزادی پر قدغن لگا رہا ہے، وغیرہ، وغیرہ۔ لیکن معذرت دوستو! میں یہ سب کچھ بقائمی ہوش و حواس لکھ رہا ہوں۔ میں اس ملک کے حکمرانوں، اس ملک کی پولیس، اس ملک کی انتظامی مشینری، اس ملک کے سماجی ڈھانچے و اقداری زوال کے ہاتھوں دلبرداشتہ ہو چکا ہوں۔ اس کے خلاف چیخ چیخ کر تھک چکا ہوں۔ اس کے خلاف لکھ لکھ کر قلم کے قلم توڑ چکا ہوں۔ اس کا نوحہ کہہ کہہ کر میری آواز بیٹھ چکی ہے اور اس کا ماتم کرتے کرتے میرا سینہ لہو لہان ہو چکا ہے لیکن افسوس صد افسوس کہ یہ سماج جوہڑ کا ٹھہرا ہوا پانی بن چکا ہے۔ اس ملک کی اشرافیہ ستر سال سے صرف اور صرف آمریت اور جمہوریت کا کھیل کھیل رہی ہے اور لوگوں کو پاگل بنا رہی ہے۔ ایک ہی طبقہ ہے جو کبھی وردیاں پہن کر اور کبھی شیروانیاں پہن کر ارض مقدس کے تخت پر قابض ہو جاتا ہے اور پھر الزام تراشیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ سیاستدان کہتے ہیں ہم نے نظام بدلنا تھا، ہمیں موقع نہیں ملا، کام شروع کرتے ہیں تو پھر آمریت آ جاتی ہے، ہمیں موقع ملتا تو ہم دودھ اور شہد کی نہریں بہا دیتے۔ آمر کہتے ہیں، ہم نے سیاستدانوں کا ڈالا گند سمیٹا ہی تھا کہ یہ پھر آ گئے، ہمیں مزید موقع ملتا تو ہم شیر اور بکری کو ایک ہی گھاٹ سے پانی پینے پر مجبور کر دیتے، کوئی پیروں پر پانی نہیں پڑنے دیتا۔ جھوٹ سچ کے ساتھ اور سچ جھوٹ کے ساتھ بری طرح خلط ملط ہو رہا ہے۔ حق کو پہچاننا مشکل ہو رہا ہے۔ سچ کو جھوٹ سے الگ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ نہ کوئی عوام کے سوال کا جواب دیتا ہے اور نہ کسی کے گریبان تک عوام کا ہاتھ پہنچتا ہے۔ عوام باری باری باری سب کو آزما چکے، پرانوں کو بھی دیکھ چکے، نئیوں کو بھی دیکھ رہے ہیں لیکن کوئی توقعات پر پورا نہیں اتر رہا۔ عجیب نہ ختم ہونے والا طوائف الملوکی کا دور ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس ملک پر نظام سکے کی حکومت کو دوام مل گیا ہے۔ عام، غریب یا شریف آدمی کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں کہ وہ الیکشن لڑ کر آگے آ سکے۔ لہٰذا جو بھی آئے گا، جس بھی جماعت سے آئے گا، اشرافیہ کا گماشتہ ہی آئے گا۔ اس کو اور اس کے بچوں کو پروٹوکول ملتا ہو گا، وہ مکمل طور پر محفوظ ہوں گے۔ لہٰذا وہ کبھی بھی ہماری زینبوں کو بچانے کیلئے، ان کی حفاظت کیلئے اقدامات نہیں کریں گے۔

اب بتائیں میں کیا کروں؟ کس کے ہاتھ پر اپنی بیٹی کا لہو تلاش کروں؟ کس کا گریبان پکڑوں؟ میں ٹھہرا کمزور، تہی دست اور بے بس انسان جو یا سوال کر سکتا ہے یا التجا کر سکتا ہے۔ اس کے سواء ہنوز شاید میرے بس میں کچھ نہیں۔ اور حکمرانوں سے سوال یا التجاء کا واحد نتیجہ وہی ہو سکتا ہے جو دیوار سے سر ٹکرانے کا ہو سکتا ہے۔ لہٰذا میں اگر کسی سے التجاء کر سکتا ہوں تو وہ بھی صرف اور صرف محمد امین اور ان جیسے لاکھوں کروڑوں دیگر باپ ہیں۔ خدارا محمد امین صاحب! میری نہ سنیں مگر اس تاجدار دوجہاں ﷺ کی تو سن لیں کہ جس کے دربار پر آپ چند ہی روز قبل حاضری دے کر آئے ہیں۔

حدیثِ نبوی ﷺہے: جتنا میں جانتا ہوں، اگر لوگوں کو بھی اکیلے سفر (کی برائیوں) کے متعلق اتنا علم ہوتا تو کوئی سوار رات میں اکیلا سفر نہ کرتا۔

خدارا! کم از کم اپنے ننھے بچوں کو تو اکیلے گھر سے باہر نہ بھیجا کریں۔ اور وہ بھی رات کو۔

ایک صحابیؓ نے نبی کریمﷺسےپوچھا کہ اےاللہ کےرسولﷺ! میں اپنےاونٹ کوباندھ کراللہ پرتوکل کروں یا اسکو چھوڑ دوں ، پھراللہ پر توکل کروں؟ نبی کریمﷺ نےارشاد فرمایا: ایسانہ کرو بلکہ پہلے اونٹ کو باندھو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرو۔

نظام سکے کی سلطنت میں بسنے والے ہر محمد امین سے التماس ہے کہ یہ ریاست زینب کو تحفظ فراہم کرے یا نہ کرے، آپ تو اپنی ہر ممکن کوشش کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک ایک کرکے ہم اپنا سارا باغ ہی گدھوں اور مردارخوروں کے ہاتھوں اجڑوا بیٹھیں۔

اور آخر میں کچھ سطور اس ڈی پی او کے متعلق کہ جس نے زینب کی لاش ملنے پر بجائے اسے زندہ بازیاب کرانے میں ناکام رہنے پر نادم ہونے کے یا معافی مانگنے کے یا استعفیٰ دینے کے، الٹا اس کے اہلخانہ سے کہا کہ اب آپ کو ان اہلکاروں کو دس ہزار روپے انعام دینے چاہئیے، جنہوں نے آپ کی بچی کی لاش ڈھونڈی ہے اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ موصوف ان ‘عظیم اہلکاروں’ کو شیلڈز اور سرٹیفکیٹس سے نوازیں گے۔ ویسے تو وزیرِ اعلیٰ پنجاب اس ڈی پی او کو او ایس ڈی بنا چکے ہیں اور ہمیں ان سے اس سے زیادہ کوئی توقع بھی نہیں۔ لیکن پھر بھی اگر وہ یا وزیرِاعظم پاکستان یا صدر مسلم لیگ نون کو زینب کی موت کا اپنی وزارت عظمیٰ جانے سے دس گنا کم دکھ بھی ہے تو ان سے ایک التماس ہے، اس بے حس، جنگلی اور وحشی افسر کو کسی بھی طرح، کسی بھی قانون کے تحت اس کے عہدے سے برطرف کرکے قصور کے بپھرے ہوئے ہجوم کے حوالے کر دیں اور انہیں اجازت دے دیں کہ وہ اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ خدارا میاں صاحب! ایسا ضرور کریں، خواہ ایسا کرنے کیلئے آپ کو آئین میں ترمیم ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ بالکل اسی طرح جس طرح آپ نے خود کو پارٹی سربراہ بنانے کیلئے آئین میں ترمیم کی تھی۔ یقین کریں، اگر آپ ایسا کر دیں تو پاکستان کی پولیس کے بہت سے افسر درندے سے انسان بن جائیں گے لیکن چھوڑیں میں بھی کن سے توقع کر بیٹھا۔ سوری میاں صاحب!

میر بھی کیا سادہ تھے بیمار کیا جس نے

اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.