قصور کا قصور وار کون ؟

741

پچھلے کچھ عرصہ میں اس ملک خاص طور پر صوبہ پنجاب اور پنجاب کے خوبصورت شہر قصور میں جو کچھ ہو رہا ہے اس تمام تر صورت حال کا ذمہ دار اور قصوروار کون ہے ؟ بحیثیت ایک مسلمان اور اس سے بڑھ کر ایک پاکستانی مجھے اس بات کا شدید قلق ہے کہ حکومت خاص طور پر پنجاب حکومت، پاکستان کے آئین میں عام شہری کے لیے جو کچھ موجود ہے وہ ڈیلیور کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

ریاست کے تین اہم ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ہیں۔2013ء میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ عدالت ریاست کا تیسرا ستون ہے ، جو آئین کی بالادستی کے ذریعے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کر رہی ہے۔ لیکن آج کی عدالت کا سارا زور جہانگیر ترین کی شوگر ملز اور گنے کسانوں کو فائدہ دینے میں نظر آرہا ہے۔

1

بحیثیت پاکستانی میرا شکوہ پاکستان کی عدالتوں اور عدلیہ سے نہیں کیونکہ ہم نے ووٹ سیاستدانوں اور مقامی نمائندوں کو دیا  ہے نہ کہ عدلیہ کو ، کہ وہ ہمارے مسائل حل کرے اور ہر مسئلہ کا سوموٹو ایکشن لے کر اس کو کچھ سے کچھ بنا دے۔

رہی بات ایک اور ستون یعنی مقننہ کی تو ان سے بھی کسی بات کی امید لگانا بالکل بیکار ہے کیونکہ وہاں پر بیٹھے لوگوں کو عوام سے زیادہ اپنا فائدہ عزیز ہے۔ قانون سازی کرنے والے ادارے صرف اپنے فائدے کے لیے راتوں رات قانون سازی کرتے ہیں اور آئین میں تبدیلی کرتے ہیں۔ ان کی بلا سے چاہے کسی کی بیٹی کی عزت اچھالی جائے ، اسے سرے بازار برہنہ کیا جائے یا کراچی میں عورتوں کو چھرے مارے جائیں ، ان کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کیونکہ صرف عوام کا مقدر ذلیل ہو کر مرنا ہے۔

ہماری مقننہ صرف کسی بِل کے حق میں یا کسی کے خلاف ووٹ دے سکتی ہے یا کسی واقعے کی مذمت کر سکتی ہے اس سے زیادہ مقننہ کی اوقات نہیں۔ اب ذرا بات ہو جائے ایک اور ستون یعنی انتظامیہ کی جس کے ماتحت وہ تمام ادارے آتے ہیں جن کا کام قانون میں رہتے ہوئے قانون کی پاسداری ہے مگر افسوس یہ بھی کسی کام کی نہیں ۔ان سے صرف ایک پولیس کا محکمہ کنٹرول نہیں ہوتا اور باتیں کرتے ہیں چاند پر جانے کی۔

میں پوچھتا ہوں ان لوگوں سے جو نام نہاد سی ایس ایس کے بعد پولیس فورس کو جوائن کرتے ہیں کیا ان کو دوران ٹریننگ اس بات کی ٹریننگ دی جاتی ہے کہ وہ اپنے عظیم الشان دفاتر میں براجمان رہیں اور اگر ان کے دفتروں کے باہر ہجوم اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں تو وہاں کا ڈی پی او یا  ڈی سی او یا آر پی او اس بات کی ہدایت دے کہ معصوم اور نہتے شہریوں پر سیدھا فائر کیا جائے۔ ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے ان پولیس والوں کو تنخواہ ملتی ہے اور جن کے ٹیکس کے پیسوں سے ان کو تنخواہیں ملتی ہیں یہ انہی کو گولیاں مارتے ہیں۔ معصوم لوگوں کو شہید کرتے ہیں اور پھر نہ ختم ہونے والا ایک لامتناہی بلیم گیم کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ آخر وہ کون تھا جس نے فائرنگ کا حکم دیا کیونکہ جس سے پوچھا جائے وہ کہتا ہے مجھے تو علم نہیں۔

اور آجکل ہماری پولیس میں ایک نیا ٹرینڈ سیٹ ہو گیا ہے ،سیاستدانوں کے ساتھ مل کر قبضہ کرو ،عزتیں اچھالوں ،اور جب بات میڈیا تک پہنچ جائے اور ساری کوششیں ناکام ہو جائیں تو پھر ملزم کو پکڑنے کے لیے ایک اشتہار دیا جائے اور عوام کو لالچ دی جائے کہ ملزم کو پکڑنے کی صورت میں انعام دیا جائے گا اور نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

زینب کے قاتل ہو یا کراچی میں عورتوں پر چھرے سے حملہ کرنے والے شخص کو پکڑنا مطلوب ہو تو ہاتھ کیا آتا ہے نہ ملزم نہ مجرم بلکہ انعام کا ایک اشتہار۔

کراچی کا امن بحال کرنے کے لیے فوج اور رینجرز ،راجن پور میں چھوٹو گینگ کو پکڑنے کے لیے فوج، انتخابات کروانے کے لیے فوج ،دھرنے ختم کرنے کے لیے فوج، اب تو حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ایک ڈسٹرکٹ کی پولیس ایک قاتل کو پکڑنے میں ناکام رہی سی سی ٹی سی سی ٹی وی فوٹیج کے بعد بھی۔ اور شاید اس کیس میں بھی فوج کی مدد کی منتظر ہے اگر ہر کام فوج نے کرنا ہے تو یہ جمہوریت کس کام کی؟

سید شرجیل احمد قریشی نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم فل کیا ہے ۔ اور پی ایچ ڈی انٹرنیشنل ریلیشنز میں داخلہ کے خواہاں ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.