زینب کی موت کو تماشہ مت بنائیں

1,539

سانحہ قصور کے بعد سے جس انداز سے معصوم بچی زینب کی لاش کو اپنے اپنے مزموم مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اس کو دیکھ کر سر ندامت سے جھک جاتا ہے۔ یقین ہی نہیں ہوتا کہ ایک کم سن اور ننھی سی پری کی لاش کو سیاستدان سیاسی عزائم، میڈیا ریٹنگ بڑھانے، اور عام افراد اسے ایک دوسرے پر پوائنٹ اسکورنگ کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ المیہ ہے کہ ہر سانحے کے بعد ہم اس کے عوامل کو ڈھونڈنے کے بجائے محض وحشیانہ طریقوں سے گلے پھاڑ کر بلوائیوں کے جلائو گھیراوٴ کی حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سانحے کو ایونٹ بنانے کے فن میں ہمارا الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا یکتا اور ماہر ہے۔ لاشوں کو سیاسی مقاصد کے لئیے استعمال کرنے میں ںسیاستدانوں کا کوئی ثانی نہیں دکھائی دیتا ہے جبکہ ماتم کناں ہو کر زخموں کی نمائش کرنے میں ہم سب عادت کے اتنے پکے ہیں کہ اکثر و بیشتر سانحات کے رونما ہونے کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب کوئی سانحہ رونما ہو اور ہم اپنی اپنی بھڑاس جو کہ ذاتی، سیاسی، مسلکی اور گروہی بنیادوں پر ہوتی ہے اس کو باہر نکال سکیں۔

اس سانحہ کے ہیچھے جو محرکات اور عوامل ہیں ان کے تدارک کے بجائے ساری توانائیاں محض اس بات پر صرف ہو رہی ہیں کہ حکومت استعفیٰ دے اور قاتلوں کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے۔ البتہ جو کروڑوں بچے بچیاں ابھی زندہ ہیں ان کو زینب جیسے انجام سے بچانے کے بجائے ساری ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں پر تھوپتے ہوئے سب بری الزمہ قرار دئیے جائیں۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک بچے کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ اور یہ اعدادوشمار رپورٹ کئیے گئے واقعات یا کونسلنگ کیلئے آنے والے بچوں کی تعداد کی بنیاد پر قائم کئیے گئے ہیں۔ جبکہ حقیقتاً اس کی تعداد ان اعدادوشمار سے کہیں زیادہ ہے۔اس کی بنیادی وجوہات ہمارا جرم کے بارے میں سیلف ڈینائل، بچوں کو بنیادی معلومات فراہم نہ کرنا جس کو اکثر ہم سیکس ایجوکیشن کا نام دیتے ہیں اور وہ رویے ہیں جو معاشرے کے سماجی ڈھانچے کو متعفن بناتے ہوئے قدروں یا رسوم و رواج کو انسانوں کی زندگیوں اور جبلیات پر مقدم ٹھہراتے ہوئے بیمار نفسیات کے حامل افراد کی پیدائش میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ جو بچوں بچیوں اور عورتوں پر اپنی بھڑاس نکال کر تسکین حاصل کرتے ہیں۔ زبردستی کر کے جنسی تسکین حاصل کرنا ایک ذہنی بیماری ہے اور اس بیماری کاعلاج تبھی ممکن ہے جب پہلے ہم ان عوامل کو حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے سیلف ڈینائل کی کیفیت سے باہر آئیں۔

جنسی استحصال یا ریپ ایک حقیقت ہے اور اس کے تدارک کیلئے اپنے نصاب کی کتابوں میں سب سے پہلے ہمیں اس کے بارے میں آگاہی اور بچائو کی تدابیر کو شامل کرنا ہو گا تا کہ معاشرے میں پروان چڑھنے والی ہر نسل کو اس گھنائونے فعل کے نقصانات اور بچائو کے بارے میں آگاہی حاصل ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اس دوغلے پن اور منافقت کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جس کے نتیجے میں ہمارے معاشرے میں جبلتوں کے اظہار کو گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ جب معاشرے میں کوئی چیز شجر ممنوعہ قرار دی جائے تو اس کی جانب رجحان اور طبعیت زیادہ مائل ہوتی ہے جبکہ دوسری جانب بنیادی جبلتوں پر قدغن لگانے سے جنسی محرومی جنم لیتی ہے جو آگے چل کر بچیوں اور عورتوں سے جنسی زیادتی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اپنے معاشرے کو مصنوعی قدغنوں اور مصنوعی تہذیب تھوپنے کی چاہ میں دراصل ہم نے ایک منافقانہ اور گھٹن پر مبنی ایسا سماجی بیانیہ تشکیل کر دیا ہے جہاں مصوری، رقص یا دیگر فنون لطیفہ کا وجود تقریبا ناپید ہو چکا ہے اور ان لوازمات کو معاشرتی قبولیت بھی حاصل نہیں ہونے پاتی جس کے نتیجے میں معاشرے میں تفریح کیلئے جو ایک واحد چیز بچتی ہے وہ جنسی آسودگی حاصل کرتے ہوئے کچھ لمحات کا سکون حاصل کرنا ہوتا ہے۔

یہ سکون و راحت کہیں قحبہ خانوں سے حاصل کیا جاتا ہے تو کہیں اپنی شریکِ حیات کو محض جنسی لذت کا سامان سمجھتے ہوئے، کہیں مدرسوں یا سکولوں میں بچوں اور بچییوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی صورت میں اور کہیں بچوں بچیوں یا لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کر کے۔غرض ہر ممکن طریقے سے جنسی آسودگی کی تسکین ہمارا محبوب ترین مشغلہ دکھائی دیتی ہے۔ جبکہ ان تمام حقیقتوں کے باوجود ہم ایسے واقعات کو بے حیائی اور مذہب سے دوری کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ مدارس میں یا سکولوں میں کم سن بچوں بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مرتکب مولوی حضرات یااساتذہ اکثر و بیشتر مذہب کی تعلیمات سے نہ صرف واقف ہوتے ہیں بلکہ مذہبی رسومات کو باقاعدگی سے ادا بھی کرتے ہیں۔ یہاں یہ مثال دینے سے مراد مذہب کو دوش دینا نہیں ہے بلکہ اس امر کی جانب نشاندہی کرنا ہے کہ جرائم کے اثباب محض دین سے دوری کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ان میں دیگر معاشرتی عوامل اور زمینی حقائق کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ اگر دین کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم بچوں کو دنیاوی تعلیم کے زمرے میں بنیادی جبلتوں سے آگاہی کی تعلیم دیتے ہوئے انہیں ہر سکول یا مدرسے میں ایک ماہر نفسیات کونسلر کی خدمات مہیا کریں تو یقیناً ہم مسقبل قریب میں لاتعداد زینب جیسی بچیوں اور بچوں کو بچا سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر اپنی نسلوں کے اذہان میں  مردوں کی عورت پر برتری اور عورت کو غیرت کی کھونٹی سے باندھنے کے تصورات بھرنے کے بجائے انہیں یہ درس دیا جائے کہ ہر زی روح کی بنیادی خواہشات ہوتی ہیں اور ان خواہشات کو پوراکرنا یا زندگی کو بسر کرنے کا تعلق کسی بھی صنف سے نہیں ہوتا اور نہ ہی غیرت کا تعلق عورت کی جسمانی و ذہنی خواہشات کو کمتر سمجھتے ہوئے غیرت کے ساتھ منسلک کرنا ہے تو معاشرے میں موجود “جنسی شدت پسندی “کا خاتمہ کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔

مقتولہ بچی زینب کے والد کا جے آئ ٹی کے سربراہ کے بارے میں رویہ بھی ہماری مجموعی منافقانہ سوچ کا عکاس ہے۔ محض عقیدے کی بنا پر مقتولہ کے والد کی جانب سے جے آئی ٹی کے سربراہ پر بے یقینی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جے آئی ٹی سے ہٹوانے کا مطالبہ ثابت کرتا ہے کہ ہم پر سانحات کا رتی برابر بھی اثر نہیں ہونے پاتا۔ عقائد کا تعلق پیشہ وارانہ مہارت سے ہرگز نہیں ہوتا۔ اور اگر عقائد کی بنیاد پر ہی ہمیں خدمات یا سہولیات سے مستفید ہونا ہے تو پھر ہمیں ہوائی جہاز، گاڑیوں، بجلی، انٹرنیٹ سب کا استعمال ترک کرنا ہو گا کیونکہ یہ تمام ایحادات اور سہولیات بھی زیادہ تر یہودیوں اور عیسائیوں کی ایجاد کردہ ہیں۔

اگر زینب کے ساتھ زیادتی کرنے والا مجرم مذہبی عقیدے کو ماننے والا نکلا تو کیا اس کے بعد بھی ہم عقیدوں کی بنا پر اہم عہدوں پر شخصیات کی تعیناتی کا معاملہ اٹھائیں گے؟ رویوں کو تبدیل کیجئے مجرم اور جرم کا کوئی عقیدہ کوئی مذہب نہیں ہوتا یہ نعرہ سب سے پہلے ہم سب ہی کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ کے بعد بلند کرتے ہیں۔ اگر یہ نعرے اور یہ دلیل درست ہے تو پھر اس کے تناظر میں ہماری نظروں میں قابلیت اور ہیشہ وارانہ مہارت کا عقیدے سے کوئی تعلق نہیں ہونا چائیے۔  محض جذباتی نعرے لگانے، جذباتی سٹیٹس سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے یا گلہ پھاڑ کر نعرے مارنے اور سرکاری و نجی عمارات کو احتجاج کے نام پر جلانے یا توڑ پھوڑ کرنے سے زینب جیسی بچیوں کو بچایا نہیں جا سکتا۔ البتہ ان اقدامات سے آپ سیاسی چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

زینب کی لاش کو لیکر اس وقت جو سیاستدان مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہوئے اہنے سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں یہ وہی حضرات ہیں جن کے اپنے اپنے صوبوں میں بھی کئی بچے اور بچیاں اسی طرح کے استحصال کا شکار ہو چکے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں نوجوان بچی کو برہنہ کر کے سر عام گھمانے والے ملزمان ابھی بھی خیبر پختون خواہ کی مثالی پولیس کی گرفت سے باہر ہیں۔ عنبرین نامی بچی کو بھی اسی صوبہ کے شہر ایبٹ آباد میں قتل کر کے جلا دیا گیا تھا۔ مشعال خان نامی نوجوان بھی اسی صوبہ میں بلوائیوں کے ہاتھوں بے رحمی سے مارا گیا تھا۔ طوبیٰ نامی چھ سال کی بچی کی لاش قتل کے بعد کراچی کے ایک گٹر سے برآمد ہوئی تھی اور بسمہ نامی بچی بلاول بھٹو صاحب کے پروٹوکول کے باعث ہسپتال بروقت نہ پہنچنے کی بدولت جان سے ہاتھ دھو بیٹھی تھی۔

یہ سانحات آئے دن وطن عزیز کے طول و عرض میں رونما ہوتے ہیں لیکن ان کے تدارک کے بجائے ان سانحات پر سیاست چمکانا ایک مکروہ ترین فعل ہے۔ کم سے کم ان گدھ نما سیاسی رہنماؤں جو کہ لاشوں پر اپنی سیاست چمکانے کے خواہاں ہیں ان کے پراپیگینڈے کا شکار ہونے کے بجائے آپ سنجیدگی سے مجرموں کو قانون کی گرفت میں لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے اپنے رویوں کو تبدیل تو کر سکتے ہیں۔ زینب کی لاش کو سیاسی یا مذہبی ہاتھوں اور منافقانہ رویوں کا شکار ہونے سے بچاتے ہوئے اسے تماشہ مت بنائیں۔

عماد ظفر ابلاغ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ ریڈیو،اخبارات ،ٹیلیویژن ،اور این جی اوز کے ساتھ وابستگی بھی رہی ہے ۔میڈیا اور سیاست کے پالیسی ساز تھنک ٹینکس سے وابستہ رہے ہیں۔باقاعدگی سےاردو اور انگریزی ویب سائٹس ،جریدوں اور اخبارات کیلئے بلاگز اور کالمز لکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    ہر پانچ میں سے ایک بچہ؟
    کچھ زیادہ نہیں ہو گیا؟

تبصرے بند ہیں.