تھینک یو زینب

0 813

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خُشک سالی چل رہی تھی۔ ذہن بانجھ ہو چکے تھے۔ زبانیں گنگ ہوئی پڑی تھیں۔ قلمکار سُوکھا قلم گھسیٹ رہے تھے۔ شاعروں کے تَخیل پر کَائی جم چکی تھی۔ موسیقاروں کی دُھنیں ہوا میں اِرتعاش پیدا کیے بغیر گزر جاتیں۔ سیاستدان، سماجی رہنما، مولوی اور لِبرل روز روز کی لَق لَق سے تنگ آ چکے تھے۔ سارا معاشرہ بِینائی سے محروم ہوا بغیر منزل، بِنا مقصد ادھر ادھر کو بھاگ رہا تھا۔

پھر کیا ہوتا ہے، ہم ہی میں سے ایک یا شائد چند افراد کی شَہوت کا سانپ پَھنکار کر باہر آتا ہے۔  نشانہ بنتی ہے ایک سات، آٹھ سالہ بچی جو قران پڑھنے گھر سے نکلتی ہے۔ کچھ حیوان صفت نفوس اِسے بہلا پھسلا کر لے جاتے ہیں، آدمیت کے چہرے پر کالک ملتے ہیں اور اسکی جان لے لیتے ہیں۔ بچی کے والدین مذہبی رسُومات کی ادائیگی کے لئے ملک سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

یہ واقعہ ملک بھر میں آگ کا سا سماں پیدا کر دیتا ہے۔ لوگ مشتعل ہو جاتے ہیں۔ زینب کی بے بسی میں ہم سب کو اپنی دوکان چلنے کا سامان نظر آتا ہے۔  معاشرے کے ماہر حضرات کو ادراک ہوتا ہے کہ لوہا دَہک رہا ہے۔  ضرب لگا دی جائے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بنجر ذہنوں میں خیال اگنے لگے ہیں۔

زینب پر جو بیتی ہم اس کے حصے کریں گے۔ اُسکی نسوانیت کو انسانی حقوق والے اور سماجیات کے علمبردار بیچیں گے۔ شمعیں جلیں گی، مرد کے وجود پر تھوکا جائے گا۔ سماج کو سڑا ہوا بوسیدہ ہجوم کہا جائے گا۔ زینب پر گزرے کرب و درد سے شاعروں کی دوکان چلے گی۔ اسے تَشبیحات، تلمِیحات، اِستحاروں میں ڈھال ڈھال کر خوبصورت بننایا جائے گا۔ خوب داد سمیٹی جائے گی۔ خود پسندی کے چِیچَک زدہ کتے کو خوب ہڈیاں میسر آئیں گی۔

قلم کاروں کے ادھورے مضامین کی تکمیل کا بھی وقت ہوا ہے۔ انہیں معلوم ہے قوم احساس کی دہک پر پگھل رہی ہے۔ اسے جس شکل میں ڈھالو، ڈھل جائے گی۔ مردہ پڑے الفاظ کو تراش خراش کر زِندوں کے دام بیچا جائے گا۔

اور مُلا کیسے پیچھے رہ سکتا ہے، زینب کے والدین تو عمرہ کرنے گئے ہیں اور زینب قران پڑھنے جا رہی تھی۔ مولوی کی دلچسپی کا سامان بھی پورا ہے۔ ملا کی لفاظی اب سامنے آئے گی۔ عبادت کرنے آئے لوگوں کو سامنے بیٹھا کر خوب گرجیں گے۔ رنگ رنگ کے راگ لگا کر زینب کے والدین کی بے بسی کا تماشا کیا جائے گا۔ سیاست دان ایک دوسرے پر الزام لگائیں گے۔ زندہ باد مردہ باد کو زبان ملے گی اور لٹیرے تلواریں سونت سونت کر سڑکوں پر گشت کریں گے۔ عام آدمی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر سب تماشا دیکھے گا اور سر جھٹک کر بُھلا دے گا۔

جہاں ہم سب کا اتنا فائدہ ہو رہا ہے وہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے زینب کدھر جائے گی؟ اسکے باپ کے سینے میں کون جھانک کے دیکھے گا کہ کیا بیت رہی ہے ؟ اسکی ماں کی آنکھیں کون درست کرے گا، جو کفن میں ملبوس زینب کی نعش کو بھی ہنستی کھیلتی زینب دکھا رہی ہیں۔

یہ سب جمود ایسے ہی رہے گا۔ گھڑیال کی گھومتی سوئیاں مدہم سُروں میں ہم سب کو لوری سُنا رہی ہیں، دھیرے دھیرے ہم سب پر خُمار طاری ہو گا اور ہم اس وقت تک مدہوش رہیں گے جب تک کسی اور زینب کی دِلخراش چِیخ ہماری نیند میں خلّل نہ پیدا کر دے۔

اس انسانیت سوز جرم کے مرتکب افراد شائد گرفتار بھی ہو جائیں۔ مقدمات بھی چلیں مگر حاصل کیا؟ وہی ضمانتیں،معافیاں اور صلح نامے۔ انصاف کبھی نہیں ملے گا کیونکہ جنہوں نے انصاف دینا ہے وه اَسپتالوں میں کاکروچ ڈھونڈ رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.