ہم ایسے کیوں ہیں؟

1 799

ہر روز کوئی ایسی خبر  ضرور ہوتی ہے جو کہانی کی طرح میڈیا کی اسکرینوں پر بنتی چلی جاتی ہے اور ہمارے جذبات کے بہائو کے بند کو توڑنے کے لیے جذباتی مناظر دکھائے جاتے ہیں اور ان پر بے لاگ تبصرے کیے جاتے ہیں۔ کچھ آنسو بھی دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن کچھ  دن  بعد کوئی نئی خبر اور نئی کہانی ان اسکرینوں کی رونق بنی ہوتی ہے اور پھر وہی تبصرے اور تجزیے کہ یوں ہوتا تو اچھا تھا ۔ یوں نہ ہوتا تو اچھا تھا۔ ہم یوں کر دیں تو اچھا ہے۔ ہم یوں نہ کریں تو اچھا ہے۔ صبح سے شام یہی راگ آلاپ کر اور قوم کے المیے پر ماتم کر کے دکان سجاتے ہیں اپنا چورن بیچتے ہیں اور دکان بند کر کے حکمرانوں کو دو چار گالیاں دے کر گھر چلے جاتے ہیں۔ اور یہ سوچتے ہیں کہ آج کے منجن میں مصالحہ کم تھا کل کچھ اور کرتب کر کے اپنے ریٹس بڑھانے ہوں  گے۔ اور واہ واہ کرانے کے لیے کچھ اور بھی چٹ پٹا کرنا ہو گا۔ اور یوں روز ہماری اسکرینوں پر نان ایشوز کو ایشوز  اور ایشوز کو نان  ایشوز بنایا جاتا ہے    لیکن مسائل وہی کے وہی ہیں۔ ستر سالوں بعد بھی کراچی میں صاف پینے کا پانی نہیں ہے۔ کراچی کے لوگوں کو صاف پانی مہیا کرنے کے لیے چیف جسٹس کو اس پر از خود نوٹس لینا پڑا۔ لیکن بات  اگر  بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی تک محدود رہتی تو ہم کب سے برداشت کر ہی رہے تھے  اب بھی کرتے رہتے اور مستقبل میں بھی قوی یقین  ہے کہ ہم گونگے بہرے اور اندھے بن کر ان سیاسی شعبدہ بازوں کی گھوم جمھورا گھوم کی آواز پر گھومتے جاتے۔ لیکن بات اب ہماری عزتوں پر آن پہنچی ہے۔

سنا تھا جب پاکستان بن رہا تھا تو لاکھوں عورتوں کی عصمت  دری  کی گئی۔ اس تکلیف کو آج تک کتنے خاندان محسوس کرتے ہیں جن کی بیٹیاں ، بیویاں ، بہنیں اور مائیں بھارت سے پاکستان نہیں پہنچ سکیں اور راستے میں ہی درندوں کی سفاکی کی نذر ہو گئیں۔ لیکن ستر سال بعد کا پاکستان جہاں ہمارے بچے اپنے گھروں اور گلی میں محفوظ نہیں۔ ایک ماں جس کی زینب جیسی سات سالہ بیٹی ہو اور اسے گھر کی محفوظ چار دیواری میں  چھوڑ کر خدا کے گھر کی زیارت کو گئی ہو اور کوئی شمر   اپنی ہوس کو کم سن  اور نازک وجود  سے مٹائے۔ یہ درندگی تو جانوروں میں بھی  نہیں  ہے شائد۔

زینب کے ساتھ جو ظلم ہوا یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا واقعہ تو نہیں ہے۔ سنا ہے  بلھے  شاہ کے شہر میں  گیارہویں  معصوم فرشتے کی عصمت اس وقت لوٹ لی گئی جب اسےعصمت کے معنی بھی معلوم نہیں تھے۔ اس تو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہر انکل جو ٹافی اور دس روپے دے دے ضروری نہیں کہ وہ پاپا جیسا ہو۔ ان معصوموں کو معلوم ہی کیا کہ شکاری دانہ ڈال کر انہیں پنجرے میں بند کر دیتے ہیں۔ معصوم پھولوںکو مسل کر ان کی آواز دبا دیتے ہیں اور کسی کے لخت جگر کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک کر اگلے شکار پر نکل جاتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں ان کی مائوں کے لیے تا حیات اذیت کا سامان۔   نفسیات کہتی ہے  کہ جنسی تشدد اپنی  طاقت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔  لیکن جب کسی بچے کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے تو  اس پورے خاندان کو پوری زندگی کے لیے نفسیاتی طور پر مفلوج کر دیتی ہے۔

کیا بحیثیت معاشرہ ہم اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر واقعہ کے بعد ہمارے منہ پر کسی طمانچے کی طرح لگتا ہے۔  زینب کوئی پہلی مظلوم بچی تو نہیں۔ قصور کی سات بچیوں اور تین بچوں کے خاندان اب تک اپنے بچوں کے مجرموں کی گرفتاری کا انتظار کر رہے ہیں۔  اس سے پہلےدو سو اسی بچے بھی تو قصور ہی میں زیادتی کا نشانہ بنے تھے۔ نو سالہ طیبہ جو کسی جج صاحب کے گھر کام کرتی تھی اور جس پر بدترین جنسی تشدد کیا جاتا تھا۔ چھ سالہ طوبیٰ جسے کراچی میں زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد اس کے گردن اور ہاتھ کی نسیں کاٹ دی گئیں۔ دس سالہ عائشہ پروین جسے  واہ کینٹ میں پڑوسی نے    سات روز ہوس کا نشانہ بنائے رکھا اور آخرکار اسے ابدی نیند سلا دیا۔  آٹھ سالہ عمران جسے فیصل آباد میں ایک مدرسے میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور برہنہ حالت میں تیسری منزل سے نیچے پھینک دیا گیا۔  لیکن یہ سلسلہ رکا نہیں  ابھی جبکہ ہم زینب کی المناک موت کا ماتم کر رہے ہیں تو فیصل آباد میں  نویں جماعت کے طالب علم کو زیادتی کے بعد مار کر کھیتوں میں پھینک دیا گیا۔

پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے ہولناک واقعات میں اضافہ تشویش ناک ہے لیکن اس سے زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں میں اب تک ایسے کیسز کو رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کے مطابق  پورے پاکستان میں 2017ء  کے پہلے چھ مہینوں میں ہی بچوں کے ساتھ  جنسی زیادتی کے1764  کیسز رپورٹ ہوئے۔ جبکہ 2016ء میں   یہ تعداد 4139 تھی۔  حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں  ہر روز گیارہ بچے جنسی زیادتی کا  شکار ہورہے ہیں۔ جنوری سے جون 2017ء کے دوران  پاکستان میں بچوں سے زیادتی کے واقعات میں سے 62 فیصد پنجاب میں رپورٹ ہوئے ۔ اس طرح پنجاب میں 1089   کیسز، سندھ میں  27 فیصد، بلوچستان میں  76 خیبر پختونخواہ میں 42 کیسز رپورٹ ہوئے۔   دوہزار سترہ کے پہلے چھ ماہ میں  45 فیصد واقعات میں کوئی قریبی رشتہ دار ملوث تھا۔ جبکہ 17 فیصد کیسز میں اجنبی یا نامعلوم افراد ملوث پائے گئے۔

ان تمام اعدادو شمار کے ساتھ ساتھ اہم بات یہ بھی ہے کہ کیا ہم اپنے بچوں کو آنے والے خطرے سے آگاہ کر رہے ہیں۔ معاشرے میں  موجود درندوں کے حوالے سے کیا ہمارے بچے جانتے ہیں۔  بچوں پر ہونے والے ظلم کے اصل ذمہ دار ہم لوگ خود ہیں کیونکہ ہم ان سفاک ذہنی مریضوں کو معاشرے میں دندناتا ہوا  پھرتےدیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے شر سے ہمارے بچے محفوظ رہیں گے۔  خدارا ہمیں اپنی اگلی نسل کی تربیت  زمانے کے مطابق کر نی ہو گی۔ اپنی مصروف زندگی میں سے اپنے بچوں کےلیے وقت نکالنا ہو گا۔ انہیں کسی انکل، چاچا یا ماموں کے حوالے کر کے ان ہوس پرستوں کو موقع فراہم نہیں  کرنا۔  یہ احتجاج جو ہر بچے کے بیہمانہ قتل کے بعد نظر آتا ہے اور جس سے ہوتا کچھ بھی نہیں صرف معمولات زندگی مفلوج ہو جاتا ہے اور ہم اپنی غیر ذمہ دارانہ رویے کو ان کھوکھلے نعروں کے پردے میں چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔  ہمارے وکلا حضرات جو زینب کے لیے احتجاجاً  ہڑتال کر کے بیٹھیں ہیں انہیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ ان کی آئے دن کی ہڑتالوں سے کتنی زینب، طیبہ،عائشہ اور طوبیٰ انصاف سے محروم ہیں۔

ہم سب  کو ایک بار سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم ایسے کیوں ہیں اور ہماری بے حسی کی قیمت ہمارے بچے کیوں ادا کر رہے ہیں۔ ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا ورنہ  معصوم بچے ابھی بھی گھروں سے باہر نکلتے ہیں اور  کئی سفاک بھیڑیے ابھی بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔

اُمِ کلثوم ایک فری لانس لکھاری ہیں اور گزشتہ پانچ سالوں سے بلاگز لکھ رہی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. kashif ahmed کہتے ہیں

    اسلام علیکم
    آپ کی تحریر بہت متوازن اور عمدہ ہے آپ نے روایتی کالم نگاروں کی طرح صرف حکومت کو گا لیاں دینے کے بجائے معاشرے کے ہر طبقے کو اس کی ذمے داری کا احساس دلایا ہے اور آپ نے جس طرح اعداد شمار اور ماضی کے واقعات کا ذکرکیا ہے اس سے یہ بات عیاں ہے کے آپ نے صرف لفاظی کا سہارا لینے کے بجائے بہت تحقیق کے بعد یہ بلاگ تحریر کیا اور حقائق سامنے رکھے جو تمام لکھنے والوں کےلیئے مثالی ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.