معاشرے کے مردہ ڈھیر پر زندہ زینب

0 948

ہم زندہ قوم ہیں۔ ہم پائندہ قوم ہیں۔ ضیاء الحق کے دور میں یہ ترانہ سنتے سنتے ہم جوان ہوئے۔ لیکن اس دور میں ہم نے جتنے بھی ترانے بنائے ان کا ہم پر الٹ اثر ہوتا گیا اور ہم مرُدوں سے بھی بد تر ہوگئے۔ ہمارا ضمیر دور کسی قبرستان میں جا سویا اور ہم ذاتی مفادات، ذات، برادری قبیلوں اور دھڑوں کی سیاست میں ڈوبتے چلے گئے۔

اس دوران ہم بھول ہی گئے کہ ہمیں معاشرہ کو بھی سدھارنا ہے، اس کی راہیں بھی متعین کرنی ہے، اس کو شعوردینا ہے اور ہمیں آنے والی نسلوں کا مسقبل سنوارنا ہے لیکن ہم تومرد مومن مرد حق ضیاء الحق، ضیاء الحق زندہ ہے، بھٹو زندہ ہے، نواز ساڈا شیر اے، باقی ہیر پھیر ہے، کرتے کرتے اس نہج پر پہنچے کہ نہ تو ہمارا ضمیر اے پی ایس کے شھداء کے خون سے جاگا اور نہ قصور کی سات سالہ زینب کے بے رحمانہ قتل سے۔

آپ یقیناً کہیں گہ کہ اتنے تو جلوس نکلے۔ دو لوگ مارے بھی گئے۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا پر ایک ہنگامہ بھی کھڑا ہوگیا تھا۔ لیکن میرا سوال یہ ہے کہ جب پہلی بچی کے ساتھ ایسا ہوا تھا تب پورا قصور شہر بلکہ پورا ملک اٹھ کھڑا ہوتا تو بعد میں جو گیارہ جانیں گئیں وہ شائد بچ جاتیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ معاملہ کتنے دن چلے گا، کتنے دن ہم زینب کو یاد رکھیں گے۔ لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ کچھ ہی دنوں میں ہم زینب کو بھول جائیں گے، پھر خاموشی چھا جائے گی، پولیس کے معطل آفسران بحال ہو جائیں گے اور ہم آنکھیں بند کرکے ہر برائی کو دیکھتے ہوئے بھی نظریں چرا کر آگے نکل جائیں گے۔ اور پھر کسی اور زینب کی لاش کسی دوسرے کچرے کے ڈھیر پر ملنے کا انتظار کریں گے۔

ہم نے نہ مختاراں مائی کے واقعے سے کچھ سیکھا نہ کسی کو زندہ جلتا ہوا دیکھ کر ہمارا ضمیر جاگا۔ آپ میں سے اکثر شائد یہ بھی سوال کریں کہ ضمیر آخر ہے کس بلا کا نام؟ میرے پاس بھی اس کا کوئی جواب نہیں کیونکہ ہمارا ضمیر بھی تقسیم ہوگیا ہے۔ جس طرح ہم ذات، برادری، قیبلوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں اسی طرح ہمارا ضمیر بھی منقسم ہے۔

زینب کا قتل ایک بچی کا قتل نہیں، یہ ہماری نسلوں کا قتل ہے۔ یہ کسی جنسی درندے کا کام نہیں یہ اس بے حس معاشرے اور اس کے اربابِ اختیار کے اپنے فرائض سے آنکھیں چرانے کا نتیجہ ہے۔ اس قتل کے پیچھے رائےونڈ سے لے کر سرے محل اور مذہبی آمریت سے لے کر لبرل آمریت تک کا ہاتھ ہے۔ اس ملک کا کوئی شخص صدر سے لے کر عام عوام تک اس سے بری قرار نہیں دیا جاسکتا۔

میں شائد بنی گالہ کو چھوڑ گیا لیکن یہ بارِ ثبوت ان پر بھی ہے۔ انہیں بھی عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا۔ انہیں بھی معاشرے کے ضمیر پر دستک دینی پڑے گی ورنہ ان کا نام بھی ضمیر فروشوں میں لانا پڑے گا۔ ہمیں اپنے ملک کا نظام ہی نہیں بلکہ معاشرے کی راہ بھی متعین کرنی پڑے گی۔ مذہبی جماعتوں اور گروپوں کو بھی اپنا قبلہ درست کرنا پڑے گا۔ سیاستدانوں کو بھی ذاتی سیاسی اختلافات چھوڑ کر معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔

زینب کی لاش ایک کچرے کے ڈھیر پر نہیں پڑی تھی بلکہ وہ غلاظت بھرا ڈھیر اس مردہ بے ضمیر معاشرے کا تھا جسے زندہ زینب چیخ چیخ کر اٹھانے کی کوشش کررہی تھی کہ اٹھ جاؤ، خدا کیلئے اٹھ جاؤ۔ اس سے پہلے کہ تمھاری بیٹیاں یہاں آکر تمھیں جگائیں، اس سے پہلے اٹھ جائو۔ تمہاری پھولوں جیسی بیٹیاں اس غلیظ جگہ کیسے آئیں گئیں، یہاں کی بو کیسے برداشت کرسکیں گیں۔ تم نے تو انھیں بڑے نازو سے پالا ہے وہ یہاں کیسے ٹھہریں  گیں۔ میں تمھیں جگانے آگئی ہوں کہ تمھاری بیٹیوں کو یہاں نہ آنا پڑے۔ اس لئے اٹھ جاوُ اس سے پہلے کہ بہت دیر ہوجائے۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.