آج اسلام اتنا زوال پذیر کیوں؟

1,736

ہمارا تعلق ایسی قوم سے ہے جس نے ہمیشہ ہر چیز سے نا جائز فائدہ اٹھایا ہے۔ ہماری قوم کو جو کچھ ملا اس کو سنبھالنے کی بجائے اس نے اس کا الٹا نقصان ہی کیا ہے۔جبکہ  دوسری قومیں اوردوسرے ممالک ہمارے مقابلے میں بہت پیچھے تھے مگر ان قوموں اور ممالک نے اپنی نیک نیتی، مخلص پن اور دیانتداری سے وہ مقام حاصل کر لیے کہ جن کا ہم کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ آج ہم ان قوموں کی مثالیں دیتے ہیں  اور ان  کے بنائے ہوئے قوانین کو اپنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آج ہم ان قوموں اور ممالک سے پیچھے کیوں رہ گے؟ ہم کامیاب قوم کیوں نہ بن سکے؟ ہم ایک قوم کیوں نہ بن سکے؟

ہمارے ملک میں غربت کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی ہم خود کفیل ملک ہوا کرتے تھے جن ملکوں کو ہم نے قرضے دئیے ، جن ملکوں نے ہماری پالیسیوں سے ترقی کی آج وہ ممالک ہم کو قرضے دے رہے، ہم کوترقی کرنے کے طریقے بتا رہے ہیں ایسا کیوں ہے ؟ ہم آگے جانے کی بجائے پیچھے کیوں آئے ؟ ہم ترقی کرنے کی بجائے زوال پذیر کیوں ہوئے؟ یہ سب ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اندر اجتماعی سوچ نہیں ہے، 70 سال بعد بھی ہماری سو چ انفرادی ہے۔ ستر سال بعد بھی ہم ایک قوم نہیں بن سکے اور نہ ہی ہماری سوچ ایک قوم کی سوچ بن سکی ہے۔ ہم نے ایک دوسرے کی کامیابی میں ساتھ دینے کی بجائے اس کی مخالفت کی ہے۔ کامیاب ہونے والے کو الٹا نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے جس کی وجہ سے ہم نے اپنا نقصان بھی کیا ہے اور دوسرے کا بھی نقصان کیا ہے ۔ ہماری یہ منفی سوچ ایک اجتماعی سو چ بن چکی ہے کہ نہ کسی کو کامیاب ہونے دیں گے اور نہ خود کامیاب ہوں گے۔ جس کی وجہ سے ہم جس مقام پر تھے اس مقام سے پیچھے کی طرف آئے ہیں آگے کی طرف نہیں جا سکے۔

 ہماری اس منفی سوچ کا فائدہ دوسری قوموں نے اٹھایا اور ہمارے اندر سے پیسے کے لالچی لوگوں کو خرید کر ہمارے اپنے ملک کے خلاف ہی استعمال کیا، جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں دہشت گردی نے ہوا پکڑی۔ اس فتنہ میں ہر خاص و عام کا نقصان ہوا، ہمارے ملک کا نقصان ہوا اورہمارے نظریات کانقصان ہوا، مگر ہماری سوچ پھر بھی نہ بدلی اتنا نقصان اٹھانے کے باوجود بھی ہم ایک قوم نہ بن سکے ہم پنجابی، پٹھان، سندھی اور بلوچی ہی رہے۔ قومیت کے طوفان کے بعد فرقہ واریت نے وہ طوفان کھڑا کیا کہ ہر طرف خوف و ہراس نظر آتا ہے۔ نہ مسجد کا تقدس قائم رکھا گیا، نہ درسگاہوں کو بخشا گیا، نہ بزرگان دین کی عزت کی گئی۔

پاکستان کی کون سی ایسی جگہ ہے جہاں خون نہ برسا ہو، وہ مسجدیں جو ہر وقت نمازیوں اور مسافروں کیلئے اوپن رہا کرتی تھیں، سکول اور کالج جہاں پر چھٹی ہونے کے بعد طالب علم کھیلا کرتے تھے، پارک اور باغات میں جانے کیلئے کسی سے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی، گراؤنڈزمیں بھی کوئی جگہ خالی نہیں ملتی تھی، بزرگان دین کے پاس علم حاصل کرنے والوں کی بہت زیادہ تعداد ہر وقت جمع رہتی تھی، مزارات پر حاضری دینے والوں کی تعداد کبھی کم نہیں ہوتی تھی، کھانا، پینا اور باہر سے آئے ہوئے مسافرین کیلئے کوئی پابندی نہیں ہوتی تھی۔ مگر آج دیکھا جائے تو ہم اس وقت کس حال میں ہیں۔

ہماری آزادی کو کس طرح کچل دیا گیا۔ ہماری آنے والی نسلوں کو گھروں میں بند کر دیا گیا۔ مسجد میں نماز پڑھنے جائیں تو گن پوائنٹ پر تلاشی لی جاتی ہے۔ کبھی نئے آنے والے نمازی کو دیکھ کر نمازی خوش ہوا کرتے تھے مگر آج پریشان ہو جاتے ہیں پتہ نہیں یہ کون ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں۔ اسی طرح سکول میں جانے والے بچے سکول گیٹ پر ایک بہت سخت اور باوردی گن مین کو دیکھ کر دور سے ہی خاموش ہو جاتے ہیں۔ سکولوں اور کالجوں میں گھومنے پھرنے کی کوئی آزادی نہیں رہی۔ ہمارے کھیل کے میدان خالی ہو چکے ہیں اگر کوئی اجتماع کروانا بھی ہو تو لوکل گورنمنٹ سے اجازت لینا پڑھتی ہے اگر اجازت نہ لی جائے تو قانون کی خلاف ورزی کرنے پر سزا بھی ہو سکتی ہے۔

 اب تہواروں پر لوگ باہر جانے کی بجائے گھروں پر ہی رہنا پسند کرتے ہیں۔ وہ پارک جہاں ہر وقت ایک میلا سا لگا ہوتا تھا آج خالی نظر آتے ہیں ۔ کوئی حادثہ ہو جائے تو ہم سب سے پہلے ڈبل سواری پر پابندی لگا دیتے ہیں پھر کال نیٹ ورک  بند کر دیتے ہیں بس اتنی سی قانون سازی ہمارے قانون ساز ادارے کرتے ہیں۔

 میری اپنی قوم سے التجا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی اس آزادی کو نعمت سمجھیں اور اس ملک کو اللہ کی سب سے بڑی رحمت جان کر اس کی حفاظت کریں۔  ان قوموں کی طرف دیکھیں جن کے پاس اپنے ملک نہیں یا پھر ان قوموں کی طرف دیکھیں جنھوں نے اپنی غلطیوں کی وجہ سے اپنے ہی ممالک کو نقصان پہنچایا اور آج وہ قومیں در بدر ہو رہی ہیں ان کی عزتیں محفوظ نہیں اورنہ ہی ان کی موجودہ اور آنے والی نسلیں محفوظ ہیں۔  نہ ان قوموں کو اپنے گھر بار کا پتہ ہے اور نہ ہی ان کو اپنے مال و ذر کا، دیار غیر میں فقیروں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ جو لوگ اپنے ملک میں کبھی سونے کے چمچ کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے آج وہ کچرے کے ڈھیر سے اٹھا کر کھا رہے ہیں۔

یہ تمام اسلامی ممالک کے ساتھ ہی کیوں کیا جا رہا ہے؟ آج اسلام اتنا زوال پذیر کیوں ہو چکا ہے؟ آج امریکہ پاکستان کو دھمکیاں لگا رہا ہے۔ اور پاکستان کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ قرار دے رہا ہے۔ اسلامی تعلیمات کو ہم نے یاد رکھا ہوتا تو آج ہم کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ آپﷺ نے چودہ سو سال پہلے ہی فرما دیا تھا کہ یہودی و عیسائی آپ کے دوست نہیں ہو سکتے مگر ہم ر بار دھوکا کھانے کے باوجود ان سے ہی دوستی کرتے ہیں اور ان سے ہی بھیک مانگتے ہیں۔ہہ

اسلام ایک پر امن مذہب ہے۔ اسلام کی تبلیغ صرف اور صرف اخلاقیات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اسلام میں نہ دہشت گردی ہے اور نہ ہی اسلام میں دہشت گردوں کیلئے کوئی جگہ ہے۔ اگر آج ہم نے یک زبان ہو کر امریکہ کو جواب نہ دیا تو ہماری آنے والی نسلیں ہم کو کبھی معاف نہیں کریں گی۔ اگر ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کو مستقبل دینا ہے یا ان کی حفاظت کرنی ہے تو آج ہم کو ایک قوم بن کر فیصلے کرنا ہوں گے۔ جو غلطیاں ماضی میں ہو چکی ان پر اللہ سے توبہ کریں اوراللہ کی دی ہوئی آزادی اور اس اسلامی ملک کی حفاظت کریں ۔اللہ آپ سب پر اپنا فضل و کرم کریں۔ آمین۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

10 تبصرے

  1. آصف جیلانی کہتے ہیں

    طاہر فاروق طاہر صاحب۔ اسلام زوال پژیر نہیں بلکہ مسلمان اپنے مذہب کی دکھائی ہوئی راہ سے بھٹک گئے ہیں۔
    کہا اقبال نے شیخ حرم سے۔
    ۔تہہ ممحراب مسجد سو گیا کون۔۔
    ۔ ندا مسمجد کی دیواروں سے آئی۔۔
    فرنگ بتکدے میں کھو گیا کون۔

    1. Tahir Farooq کہتے ہیں

      Such kaha hi ap nay Asif Bahi jo be hi but waqat preshani ka hi

    2. Tahir Farooq کہتے ہیں

      Asif bahi ap nay theek kaha hi but fikar o preshani ka waqat ja raha hi

  2. Fakhar کہتے ہیں

    ہمارے ملک میں غربت کی شرح نہ ہونے کے برابر تھی ہم خود کفیل ملک ہوا کرتے تھے جن ملکوں کو ہم نے قرضے دئیے ، جن ملکوں نے ہماری پالیسیوں سے ترقی کی

    ?یہ معجزہ کب رونما ہوا

  3. Tahir Mahmood کہتے ہیں

    Bhai apnay blog kaa name change karain. it is not Islaam. it should say “Muslim”

  4. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بالکل وہی بات جو میں کہنا چاہ رہا تھا محترم آصف جیلانی صاحب نے لکھ دی۔ اسلام ہرگز زوال پذیر نہیں ہے۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کے ستاون رکن ہیں۔ یعنی دنیا میں ستاون ایسے ممالک ہیں جن کو اسلامی ممالک کہا جا سکتا ہے۔ اب ان میں سے کتنے ہیں جو داخلی انتشارکا شکار ہیں اور خارجی عوامل کی
    وجہ سے کتنے ممالک ہیں جو عالمی توجہ کا مرکز ہیں؟ کل ملا کر دس بھی نہیں بنیں گے۔ یعنی سینتالیس مسلمان ممالک ایسے ہیں جو پر امن ہیں اور اپنا گذر سکون سے کر رہے ہیں۔
    مسئلہ اسلام کا نہیں،ہے۔ مسئلہ سیاسی مفادات کا ہے۔

  5. mughal کہتے ہیں

    Bhai Sab,
    Aap k article ka title bilkul ghalat he. kion k islam zawal pazeer nhi bal k islam ko manenay waly zawal k shaker ho chukay hein.

  6. TAHIR کہتے ہیں

    اسلام علیکم میرے دوستو
    آپ سب سے عزت و احترام کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ اسلام آج زوال پذیر ہے ۔ افراد کو دہشت گرد اقرار نہیں دیا جا رہا ، بدقسمتی سے مسلمانوں کو دہشت گرد اقرار دیا جا رہا ہے کیوں اس کی کیا وجہ ہے ؟ کیوں ہم کو دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے ، کیوں اسلام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیوں ماڈرن اسلام کو متعارف کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

  7. TAHIR کہتے ہیں

    فخر بھائی ہم خوشحال ملک تھے ہم نے چین کو بھی قرضہ دیا تھا ، ہم ترک کو بھی قرض دیا سعودی عرب کے کیا حالات تھے اس کی بھی پاکستان سے امداد جایا کر تی تھی ، کوریا کہاں تھا آج وہ ہماری پالیسیوں کی وجہ سے کہاں کھڑا ہے

  8. TAHIR کہتے ہیں

    کیا آپ لوگ مجھ کو بتا سکتے ہیں وہ کون سے 47 ممالک ہیں جن میں اسلام اپنے عروج پر ہے پلیز میری معلومات میں ضرور اضافہ کریں

تبصرے بند ہیں.