چیزیں قبول کرنے سے آسان ہو جاتی ہیں

923

زندگی آپ کو ہمیشہ خوش رکھنے کا وعدہ کبھی نہیں دے سکتی۔اپنی زندگی کے دوران  انسان ہر قدم پر آزمائش میں مبتلا ہوتا رہتا ہے۔مگر زندگی ان پر آسان ہو جاتی ہے جو ان چیزوں کو قبول کر لیتے ہیں جنہیں وہ بدل نہیں سکتے۔ایک اندازے کے مطابق 90 فیصد ہمارے معاملات درست راہ پر گامزن ہوتے ہیں ، جبکہ 10فیصد میں کسی قسم کی کوتاہی یا کمی بیشی کا سامنا ہوتا ہے اور ہم ان 10 فیصد کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔درحقیقت ہم ان 10 فیصد کو قبول نہیں کر رہے ہوتے۔

ماضی کا کوئی تلخ واقعہ، یا شخص یا کوئی کمزوری یا شرمندگی جیسے گرد وغبار والے خیالات سے بسا اوقات لوگوں کا ذہن بھر جاتا ہے ۔با نسبت ان چیزوں کو بدلنے کے لیے لڑنے کے بجائے ان چیزوں کو قبول کرنے والا انسان خوش اور پرامن ہو جاتا ہے۔دیکھا گیا ہے کہ جو چیزیں آپ کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ان میں اولین لوگوں کے روئیے اور گزرا ہوا وقت ہے۔اس کے بعد جسمانی خدوخال اور ساخت ہیں ، جنہیں بہتر تو کیا جا سکتا ہے مگر تبدیل نہیں۔ تاہم چیزوں کو قبول کرنا بھی اختیاری عمل ہے اور ہر مشکل سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں،ایک تو یہ کہ جو ہو رہا ہے اسے مان لیا جائے اور مثبت راہ اختیار کر کے ذہنی سکون اور آمادگی حاصل کی جائے ، اور دوسرا اس کے خلاف سراپا مہم بن کر پریشانی کو بڑھایا جائے ، کیونکہ یہ صورتحال فطرت کے مخالف ہے۔ہم ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو آئے دن بدل رہی ہے ، ایسے میں انسان کسی ایک پریشان کن خیال یا چیز کے ساتھ جامد نہ ہو ۔بلکہ “تسلیم” کرنا ہی ایسی صفت ہے ، جو اپنی چھاؤں تلے انسان کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ متحرک بھی رکھتی ہے۔ محض خود پر معمولی سا غور و فکر کر کے آپ اپنی زندگی کو کامیاب بنا سکتے ہیں۔

چناچہ اس چیز کو سمجھ لیں کہ قوانین فطرت کے تحت جو کچھ بھی انسان کے ساتھ ہوتا ہے وہ پہلے سے متعین اور لکھا جا چکا ہے۔نبی اکرمﷺ کا فرمان مبارک ہے، “اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے ہی لکھ دی تھیں اور اللہ کا عرش پانی پر تھا”۔(صحیح مسلم،کتاب القدر،حدیث2653)

اچھا یہ ہے کہ اپنی زندگی میں ہونے والے ہر معاملے کے پیچھے مقصد اور سبق کو تلاش کریں اور بہتر چیزوں کے لیے سرگرداں ہو جائیں۔

انسانی مزاج کا خاصا ہے کہ وہ ہمیشہ چاہتا ہے کہ اس کے معاملات درست ہی رہیں، حالانکہ وقت کی اونچ نیچ انسان کو سیکھنے اور بہتر جینے کا قابل بناتی ہے۔ایک راستہ بند ہونے سے ہی باقی راستے سامنے آتے ہیں۔جب انسان کو کوئی تکلیف یا کسی فرد سے کوئی دکھ پہنچتا ہے تو ہمارا عمومی طرز عمل ہے کہ کوسنا شروع کر دیتے ہیں یا اللہ سبحان وتعالیٰ سے گلے شکوے پر آجاتے ہیں،اس طرح انسان اس عادت میں مبتلا ہوتا ہی چلا جاتا ہے۔زندگی میں آنے والے ہر ایسے وقت کواپنے لیے چیلنج بنائیں کہ مبتلائے آزمائش میں “آزمائش” کا سامنا کرنا ہے۔ یاد رکھیں یہی وہ مومن کی صفت ہے کہ جس کا ذکر اس حدیث مبارکہ میں ملتا ہے۔

سیدنا صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”مومن کا بھی عجب حال ہے ، اس کے ہر معاملے میں بھلائی ہی بھلائی ہے اور یہ بات سوائے مومن کے کسی کوحاصل نہیں ،اگر اس کو خوشی حاصل ہوئی اور اس نے شکر ادا کیا تو اس میں بھی ثواب ہے ،اور جو اس کو نقصان پہنچا اس پر صبر کیا ، تو اس میں بھی ثواب ہے”۔(مختصر صحیح مسلم ،حدیث2092)

دراصل غم اور خوشی ہی وہ کیفیات ہیں ، جسے مومن “قبول” کر رہا ہوتا ہے۔خود کو ہر مشکل کے لیے تیار رکھیں کیونکہ نقصان بھی برداشت کیا جا سکتا ہے، جب آپ انا پر جمے رہتے ہیں تو مزاحمتی طاقت بھی کم ہو جاتی ہے ۔چاہے کیسا بھی نقصان ، ناکامی اور غیر متوقع حالات سے دوچار ہو نا پڑے ، جو چیز آپ کے بس میں نہیں ہے اسے قبول کرنے سے حقیقی خوش اور سکون ملتا ہے۔

ہمارا ایک المیہ یہ ہے کہ ہم اپنی ذات کے سمندر میں غوطہ لگانے کی سعی بھی نہیں کرتے اور لوگوں کو یا ماضی کو یا کسی تلخ واقعہ کو الزام دیتے رہتے ہیں بغیر یہ سوچے سمجھے کہ ہماری توقعات بھی کتنی زیادہ تھیں۔مایوسی سے بچنے کا سب سے عمدہ نسخہ یہ ہے کہ لوگوں سے توقعات نہ رکھیں ، اپنی توقعات اللہ تعالیٰ سے وابسطہ کرلیں۔آپ ﷺ کا فرمان مبارک ہے، “تم میں سے کسی کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ وہ اللہ تعالیٰ سے نیک گمان (حسن ظن)رکھتا ہو”۔(سنن ابن ماجہ ، حدیث 4167، تخریج:صحیح)

آپ کی غلطیاں آپ کے مقصد کی تعمیر کرتی ہیں ، اس غلطی کو بھلا دیں جو آپ کو “Hurt” کرتی ہے اور “Guilt” دیتی ہے۔لیکن اس غلطی سے حاصل کیئے سبق کو کبھی نہ بھولیں کیونکہ یہ اس غلطی یا واقعہ کو موجود ہونے کا سبب اور مقصد تھا۔رب کائنات کی اس مشیت کے تحت کہ جس پر آپ ﷺ ہمیں آگاہ فرما چکے ہیں کہ ” کوئی بندہ مومن نہیں ہو سکتا ، یہاں تک کہ اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے ، اور یہ یقین کر لے کہ جو کچھ اسے لاحق ہوا ہے چوکنے والا نہ تھا ، اور جو کچھ چوک گیا ہے اسے لاحق ہونے والا نہ تھا”۔(جامع الترمذی ، حدیث 2144,تخریج :صحیح)

ہماری موجودہ حالت اس وقت ایسے جمود کا شکار ہو چکی ہے کہ ہر طرف نفرت ، غم و غصہ ، قتل وغار ت اور نفاق ،حسد جیسے منفی طرز کے رجحان زیادہ ہیں۔اس صورت میں منفیت کو چھوڑ کر  “ممکنات” کے پہلو کو مدنظر رکھیں۔کامیابی اور ترقی کی امید اگر آپ کی ممکنات میں سے ہے تو اس کے لیے “Efforts” لگانا شروع کر دیں اور یہ امید کی طرف پہلا قدم ہے۔یہ سمجھنا کہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں؟ یا اگر ایسا نہ ہوتا ‘اِس بند دروازے کی طرح ہے جو انسان کو آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ابو ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:”طاقت ور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور و ناتواں مومن سے بہتر اور پسندیدہ ہے ، اور ہر ایک میں بھلائی ہے ، تم اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں فائدہ پہنچائے اور عاجز نہ بنو ، اگر مغلوب ہو جاؤ تو کہو اللہ تعالی کی تقدیر ہے۔جو اْس نے چاہا کیا ، اور لفظ “اگر مگر” سے گریز کرو ، کیونکہ “اگر مگر” شیطان کے کام کا دروازہ کھول دیتا ہے۔”(سنن ابن ماجہ ، حدیث 4168، تخریج:صحیح)چناچہ نفع بخش چیزوں کی حرص کرنا  “ممکنات” کو ترجیح دینا ہے۔

حاصل کلام یہ کہ جو کچھ آپ کے پاس ہے وہی آپ کا اثاثہ ہے، ممکن ہے کہ جن چیزوں پر آپ کو افسوس ہے یا آپ ان پر اپنی توانائی ضائع کر رہے ہیں ، وہ ان سے بہتر ہر گز نہ ہوں جو آپ کے پاس موجود ہے۔یہی سے شکر پیدا ہوتا ہے۔اور کاملیت کسی کو نہیں ملتی یہ صفت خداوندی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت اچھا مضمون ہے۔

  2. Waqas کہتے ہیں

    Very good written blog., full of wisdom and motivation. Thanks for sharing.

تبصرے بند ہیں.