ہمارے بچے خطرے میں ہیں 

1 748

یونیسیف اور دنیا بھر کے دیگر فلاحی اداروں کی کوششوں سے دنیا بھر میں بچوں کی اموات میں واضح کمی واقع ہورہی ہے جو کہ خوش آئند ہے لیکن اب بھی بچوں کی اموات کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بچوں کی اموات کے حوالے سے یونیسیف کی رپورٹ (2017) کے مطابق اب بھی روزانہ 15000 بچے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جبکہ 1990ء میں یہ تعداد 35000 یومیہ تھی۔ 1990ء سے اب تک بچوں کی اموات میں تقریبا 56 فیصد کمی واقع ہوئی ہے لیکن اب بھی ہر ایک ہزار پیدا ہونے والے بچوں میں سے 41 بچے پانچ سال سے کم عمر میں ہی موت کا شکار ہو جاتے ہیں.

دنیا بھر میں ہونے والی بچوں کی اموات میں 46 فیصد ایک ماہ سے کم عمر میں ہو تی ہیں ان اموات میں %3 نمونیا، %16 قبل از پیدائش پیچیدگیوں، %11 دوران پیدائش پیچیدگیوں، %7 گردن توڑ بخار، %1 تشنج، %3۔0 ڈائیریا اور %9 دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

جبکہ 54 فیصد اموات1 سے 59 ماہ کی عمر میں ہوتی ہیں جن میں %13 نمونیا، %4 پیدائشی بیماریوں، %1 دوران پیدائش پیچیدگیوں، %2 قبل از وقت پیدائش، %2 گردن توڑ بخار، %1 ایڈز، %5 ملیریا، %8 ڈائیریا اور %19 فیصد دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں ان میں نصف اموات خوراک کی کمی کی وجہ سے کمزور قوت مدافعت کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

473393-childrenfloodpakistanafp-1354321965

2016ء میں 6۔2 ملین (روزآنہ 7000) بچے موت کا شکار ہوئے جس میں سے 46 فیصد پانچ سال سے کم عمر تھے۔ بچوں کی اموات سب سے زیادہ جنوبی ایشیاء میں ہوئی ( 39 فیصد) اور دوسرے نمبر پر سب سہاراں افریقہ میں ( 38 فیصد) اور باقی 23 فیصد دیگر ممالک میں واقع ہوئی۔ لیکن ہمارے لئے تشویش کی بات یہ ہے کہ دنیا کے پانچ ممالک ایسے ہیں جن میں ہونے والی بچوں کی اموات  کو جمع کیا جائے تو وہ دنیا بھر میں ہونے والی بچوں کی اموات کا نصف بنتا ہے۔ بد قسمتی سے ان ممالک میں دو ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو دن رات اسلحہ جمع کرنے میں جتے ہوئے ہیں تاکہ ایک دوسرے پر برتری حاصل کی جا سکے اور یہ بھی کہ ان ممالک میں کرپشن اور بیڈ گورنس کی کہانیاں زبان زدعام ہیں اور بد قسمتی سے یہاں کی سیاسی  جماعتیں اصل مسائل کو اجاگر کرنے کہ بجائے اقتدار کی رسہ کشی میں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف نظر آتی ہیں۔ اگر کوئی اچھا کام کرتا ہے تو اس کی تعریف نہیں کی جاتی اور کوئی غفلت کا مرتکب ہوتا ہے تو بجائے تنقید برائے اصلاح کرنے کے ایشو کو سیاسی پوائینٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ جی ہاں آپ بلکل ٹھیک سمجھے میں پاکستان اور بھارت کا ہی ذکر کر رہا ہوں۔ ان پانچ ممالک میں پاکستان، بھارت، نائیجیریا، عوامی جمہوریہ کانگو اور ایتھوپیا شامل ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے لیئے یہ افسوس ناک بات ہے کہ بچوں کی اموات کے حوالے سے ہمارا شمار نائیجیریا، ایتھوپیا اور کانگو جیسے انتہائی غریب ممالک کے ساتھ ہے۔

اس ضمن  میں عمران خان صحت و تعلیم کے شعبے کے حوالے سے کے پی کے میں بہت بہتری لائے ہیں جس کا اندازہ وہاں کے لوگوں کی رائے جان کر ہوتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کے پی کے حکومت تمام صوبوں سے بہتر کارکردگی دکھا رہی ہے ہاں لیکن کے پی کے کی حد تک بہتری ضرور ہے۔ شہباز شریف نے حال ہی میں ایشیاء کا سب سے بڑا چلڈرن ہسپتال مکمل کیا جوکہ اب فنکشنل ہے۔ اس کے علاوہ گردے اور جگر کے امراض کا جدید ترین ہسپتال بھی بنایا گیا ہے ان کی بھی تعریف کی جانی چاہیے تاکہ ملک میں صوبوں کے درمیان کارکردگی کی بنیاد پر مقابلے کا دجحان فروغ پائے۔

941875-childlabourpakistanAFP-1440107441-442-640x480

دنیا بھرمیں پیدائیش کے پہلے ماہ میں بچوں کی اموات کا خطرہ سب سے زیادہ پایہ جاتا ہے۔ یہ اپنی جگہ کے 1990ء سے اب تک اس ضمن میں 49 فیصد کمی ہوئی ہے لیکن دنیا بھر میں 19 فیصد بچوں کی اموات اب بھی پیدائیش کے پہلے ماہ میں ہوتی ہےجبکہ 1 سے 59 ماہ کے بچوں کی اموات میں 1990ء سے اب تک 62 فیصد کمی ہوئی ہے۔

یونیسیف کے مطابق بچوں کی زیادہ تر اموات ایسی بیماریوں کی وجہ سے ہورہی ہے جن کی آسانی کے ساتھ روک تھام اور علاج کیا جاسکتا ہے۔

یونیسیف نے ان بیماریوں سے بچائو اور علاج کے حوالے سے تمام ممالک کو اپنی تجاویز سے آگاہ کیا ہے جن پر عمل کرکے بچوں کی اموات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ یونیسیف کے مطابق اگر صورت حال ایسی ہی رہی تو 2030ء تک 60 ملین بچے 5 سال سے کم عمر میں موت کا شکار ہو جا ئیں گے اور اگر ان تجاویز پر عمل کیا جائے تو اضافی 10 ملین بچوں کی جان بچائی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں ہر ایک ہزار نئے پیدا ہونے والے بچوں میں سے 81 جبکہ بھارت میں 48 اور بنگلہ دیش میں 38 بچے پانچ سال سے کم عمری میں ہی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر ایسے بچے جو نمونیہ کا شکار ہوتے ان میں سے %64 کو ڈاکٹر سے علاج کی سہولت میسر ہوتی ہے جبکہ بھارت میں یہ تعداد %77 اور بنگلہ دیش میں %42 ہے۔ جبکہ ڈائیریا کے مرض میں مبتلا ہونے والے بچوں کے لئیے یہ تناسب پاکستان میں %38 بھارت میں %39 اور بنگلہ دیش میں %77 ہے۔

pakistan-banner

پاکستان میں ایک سال کی عمر کے ایسے بچے جو خسرے کی بیماری کا شکار ہو تے ہیں ان میں سے 61 فیصد کو علاج کی سہولت مل پاتی ہے جبکہ بھارت میں یہ تعداد %87 اور بنگلہ دیش میں%88 ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے بچوں میں صرف 18 فیصد ایسے ہوتے ہیں جنہیں پیدائش کے ایک گھنٹے بعد ماں کا دودھ میسر ہوپاتا ہے۔ اس تعداد میں کمی کی بڑی وجہ پیدائش کے بعد ماں اور بچے کی خراب صحت ہے جبکہ بھارت میں یہ تعداد %45 اور بنگلہ دیش میں %51 ہے۔ پاکستان میں %81 ایسے بچے ہیں جنہیں پیدائش سے ایک سال تک مسلسل ماں کا دودھ میسر ہوتا ہے جبکہ بھارت میں یہ تعداد %85 اور بنگلہ دیش میں %96 ہے۔

پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد جو پرائمری تعلیم سے پہلے کے درجوں( مونٹیسری یا کے جی) کے لیئے اسکول میں داخلہ لیتے ہیں %82 ہے جبکہ بھارت میں %58 اور بنگلہ دیش میں %33 ہے پاکستان میں یہ تعداد زیادہ ہونے کی وجہ والدین کا کم پڑھا لکھا ہونا ہے جبکہ بھارت اور بنگلہ دیش میں زیادہ تر بچے ابتدائی تعلیم گھر میں والدین سے حاصل کرتے ہیں۔

پاکستان میں پرائمری درجے میں داخلہ لینے والے بچوں کی اسکولوں میں حاضری کی شرح %64 ہے جبکہ بھارت میں%84 اور بنگلہ دیش میں %91 ہے۔ پاکستان میں ایسے بچوں کا تناسب جو اسکول میں پہلی جماعت پاس کرنے کے بعد پانچویں تک تعلیم حاصل کر پاتے ہیں %62 ہے جبکہ بھارت میں %95 اور بنگلہ دیش میں %96 ہے۔

پاکستان میں %28 بچے پرائمری تعلیم حاصل نہیں کرپاتے جبکہ بھارت میں یہ تعداد صرف %1 اور بنگلہ دیش میں %9 ہے۔پاکستان میں سیکنڈری سطح پر بچوں کی حاضری کی شرح %42 جبکہ بھارت میں %54 اور بنگلہ دیش میں %53 ہے۔ پاکستان میں 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں میں لیٹریسی ریٹ (یعنی ایسے افراد جو پڑھنا لکھنا جانتے ہیں) %71 ہے جبکہ بھارت میں %86 اور بنگلہ دیش میں %81 ہے۔

_FOOD_SECURITY

بچوں کی تعلیم کے حوالے سے مندرجہ بالا اعداد شمار کے مطابق پاکستان تعلیم کے شعبے میں بھارت اور بنگلہ دیش سے خاصہ پیچھے ہے جس کی وجوہات غربت ، والدین کا کم تعلیم یافتہ ہونا، تعلیم کی اہمیت سے آگاہی نہ ہونا، کمزور معیشت، حکومت کی ناقص حکمت عملی،  دیگر بڑے چیلنجز جیسا کہ دہشت گردی لوڈشیڈنگ اور سیاسی افرا تفری کی وجہ سے توجہ نہ دے پانہ چائلڈ لیبر ، اسکولوں کی کم تعداد، کرپشن اور زیادہ دفاعی اخراجات کی وجہ سے وسائل کی کمی ہیں۔

یہاں اعداد شمار  پیش کرنے اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ان کا موازنہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پڑھنے والوں کو صورت حال کا ٹھیک اندازہ ہوسکے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Iqbal Ahmed kashmiri کہتے ہیں

    پاکستان میں گندہ پانی پینے کی بیماریوں سے ہر سال بڑی تعداد میں اموات ہوتی ہیں اس کے علاوہ علاج کی بہتریں سہولیات نہ ہونے کی وجہ اور جعلی دوائیاں کی مارکیٹ میں بھرمار لوکل کمپنیوں کی تیار کردہ اودیات جو گاؤں دیہات میں عام طور پر سپلائی کی جاتی ہے بچوں کی بیماریوں میں بے اثر ہونے کی وجہ سے اموات کا سبب بنتی ہے پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی اسٹنٹنٹ گروتھ کا شکار ہے جس میں بچوں کو مناسب خوراک نہ ہونے کی وجہ سے دماغی پرورش
    میں فرق رہ جاتا ہے اور وہ اپنے پورے قد تک نہیں پہنچ پاتےاور قوت مدافعت کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے بیماریاں ان پر آسانی سے حملہ آور ہوجاتی ہیں۔افسوس کے ساتھ پاکستان میں انسانوں پر پیسہ لگانے کے بجائے ملکی آمدن کا ایک بڑا حصہ ترقیاتی کاموں اور دفاع پر خرچ کیا جاتا ہے۔اور تعلیم صحت اور انصاف جیسے معملات کو یکسر نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔افسوس کے ایسے معملات میں ہم اعداد شمار کا سہارا لیتے ہیں مگر دنیا میں جو ترقی کے زاویے ہیں اس پیمانے پر ہم ترقی یافتہ ممالک سے ایک صدی کی مسافت پر ہیں۔چائینا ہمارے بعد خودمختار ملک بنا آج وہ 47 ممالک کو کوریڈور سے ملانے کی اسکیم دے رہا ہے اور ہم ایک سی پیک کی بھیک لے کر ترقی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں جس کی آمدن اور فوائد میں ہمارا 20 فیصد حصہ بھی نہیں ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی معاشی تعلیمی یا صحت کا انصاف کا انقلاب آیا اس کے پیچھے ایک عظیم لیڈر اور رہنما کی سعچ کارفرما ہوتی ہے بد قسمتی سے پاکستان کو 70 سالوں میں کوئی عظیم رہنما میسر نہیں آیا اس لئیے پاکستانی قوم نے موجودہ لیڈروں کو ہی اپنا رہنما ورہبر تسلیم کرلیا ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.