انسان کی زندگی میں تعلیم کی اہمیت

3,924

خالق کائنات کا سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ اس نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسان کی پہلی درسگاہ اسکا گھر ہوتا ہے جہاں اسکی پرورش کی جاتی ہے۔ جس سے اسے ایک خاص طرح سے سوچنے اور عمل کرنے کا سلیقہ آجاتا ہے۔ نیک عورت کی گود میں پلنے بڑھنے والا بچہ یقیناً ایک اچھا انسان اور بہتر مسلمان ہوتا ہے۔ یہ بچہ ماں کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس میں عزت نفس، وفا کشی اور غیرت کی وہ تمام خوبیاں موجود ہوتی ہیں جو خود اس کی ماں میں موجود تھیں۔ انسان میں موجود جہالت صرف تعلیم سے نہیں بلکہ پرورش سے بھی ختم ہوتی ہے۔

تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے۔ یہ انسان کا بنیادی حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا۔ اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے۔ یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول، کالج، یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور سماج کا خیال رکھ سکے۔ تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے۔ اس دنیا میں ایسے افراد بھی جنم لیتے ہیں جن کے نزدیک تعلیم و تہذیب کوئی معنی نہیں رکھتی۔ وہ حیوانوں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں اور اس فانی دنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ انسان کا دنیا میں برتاؤ کیسا ہونا چاہۓ، اس کے لیے لازمی ہے کہ ہمیں علم ہو کہ انسان کیا ہے اور اسکی تخلیق کا کیا مقصد ہے۔

دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے ورنہ حیوان اور جانور میں کوئی فرق نہ رہتا۔ تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے۔ اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے۔ آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔ حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے، ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم، ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ، وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہیں۔

مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ تر کے بانی مسلمان ہی ہیں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پا کر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔

آج پاکستان میں تعلیم ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہیں۔ دشمن طاقتیں معصوم لوگوں کو تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہے جو اپنی سرداری ،جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رُسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ یہ بچوں کی تعلیم کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، کیونکہ وہ کم اجرت پر ان بچوں سے کام کروانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے دیہاتی علاقوں میں شرح خواندگی کم ہے۔ جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب سیاستدان تعلیم کے فروغ اور اس کے پھیلاٶ کے خلاف ہیں۔ اسکے علاوہ سرکاری حکام بھی تعلیم کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کے تعلیم کی وجہ سے عوام میں شعور پیدا ہوگا اور اس طرح عوام کو سیاستدانوں اور اعلیٰ سرکای حکام کا اصل چہرہ نظر آجائے گا۔

مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے۔ اسی تعلیم کے بل پر انہوں نے پوری دنیا کو فتح کیا ہے۔ مغرب کی کامیابی اور مشرقی کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے ان کا  دفاعی بجٹ تو اربوں روپے کا ہے، مگر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، یہی ان کی تباہی کا بائث ہے۔ اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں۔ آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے۔ صرف علم حاصل کرنا ضروری نہیں بلکہ اس کا اطلاق بھی ضروری ہے۔ اسی طرح صرف خواہش کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اسکے حصول کے لیے عمل بھی کرنا چاہئیے۔

ہمیں چاہئیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہو جائیں گے جو جدید علوم سے اگاہی رکھتے ہیں۔

خطیب احمد طالب علم ہیں۔ صحافت اور اردو ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ سماجی مسائل پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فن خطابت سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.