بِٹ کوائن اور اِرتقائے پیسہ – حصہ اول

1,683

نوٹ: “بِٹ کوائن اور اِرتقائے پیسہ” تحریر تین حصوں میں شائع کی گئی ہے. یہ اس تحریر کا پہلا حصہ ہے۔ اس تحریر کا دوسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں اور تیسرا حصہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ 

باہمی معاملات بطریقِ احسن چلانے کے آداب و اطوار ابتدائے آفرنیشن سے ہی انسانی تہذیب و تمدن کا جزوِلاینف رہے ہیں۔ تمدن کے نقطہٴ آغاز میں باہمی لین دین کا اصول مال کے بدلے مال اور خدمت کے بدلے خدمت کے تحت استوار کیا گیا۔ چونکہ ہر انسان کسی نہ کسی ہنر میں مہارت حاصل کرکے اس سے خود استفادہ کرتا ہے اسلیے اس امید کے ساتھ  دوسروں کو بھی مستفید کرسکتا ہے کہ بدلے میں بوقتِ ضرورت وہ بھی دوسروں کی مہارت کا فائدہ اٹھا سکے گا۔ تب معاملاتِ باہمی کے اس اصول میں مال و ہنر کی قدر کا تعین ذاتی صلاحیتوں پر یقین اور باہمی اعتماد کی بنیاد پر کیا جاتا تھا۔ تاہم جلد ہی انسان نے اس حقیقت کا ادراک کر لیا کہ جہاں یہ اصول باہمی لین دین کو معدود کرتا ہے وہیں لوگوں کو ایک دوسرے کا براہِ راست محتاج بھی بنا دیتا ہے۔ اگر معاشرے میں کسی خاص ہنر کے طلبگار محدودِ چند ہونگے تو ہنر رکھنے والے کیلئیے ضروریاتِ زندگی کا حصول بھی مشکل ہو جائے گا۔ اس مسئلے کے حل کیلئیے پیسہ (money) ایجاد کیا گیا۔

atmhistory-of-money.jpg__640x360_q85_crop_subsampling-2

باہمی لین دین کے آزادانہ فروغ کیلئیے پیسہ انسان کی ابتدائی لیکن انتہائی اہم ایجادات میں سے ایک ہے۔ پیسہ ایجاد کیا گیا تاکہ کسی بھی چیز، مال یا خدمت کا معاوضہ براہِ راست اور آزادانہ (یعنی کسی تیسرے فریق کی مدد کے بغیر) طور پر پیسے سے ادا کیا جا سکے. لہٰذا پیسہ دو فریقین کے درمیان ایک ثالث کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس کیلئیے کسی تیسرے فریق کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسی کہانی ہے جس پر سب کو یقین ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس میں پیسے پر غیرمتزلزل یقین کے ساتھ ساتھ یہ اعتماد بھی ہوتا ہے کہ باہمی لین دین میں پیسہ نہ تو ضائع ہوگا اور نہ ہی خود بخود پیدا ہوگا۔

پیسے کی ابتدائی شکل کارآمد تجارتی اجناس (commodities) کی ہے جس کی ادائیگی کرکے دوسری ضروریاتِ زندگی حاصل کی جاتیں۔ اس کے بعد پیسہ موتی و جواہرات اور معدنیات کی صورت اختیار کر گیا۔ برِصغیر میں یہ کوڑیوں کی شکل میں بھی موجود رہا ہے۔ یہ وہ دور تھا جب پیسہ کانوں (mines) میں پایا جاتا تھا اور لوگ اس کی تلاش کیلئے کان کنی (mining) کیا کرتے۔  تاہم یہ ابتدائی شکلیں پیسے کی جمع و ترسیل اور دوردرازانہ تجارت کیلئیے نہایت ناموزوں تھیں۔ دھات کی دریافت کے بعد جب کان کنی کا رخ دھاتی کانوں کی طرف ہوا تو جلد ہی پیسہ بھی دھات کی شکل اختیار کر گیا۔ یوں دھاتی سکوں (coins) کا دور شروع ہوا۔ ابتدا میں سکوں کی کوئی خاص شکل نہیں ہوتی تھی اور دھات کی صنف اور وزن سے ہی سکے کی قدروقیمت کا تعین ہوتا۔ البتہ وقت کے ساتھ ساتھ دھاتی سکوں میں نفاست آتی گئی اور مختلف حجم اور شکلوں کے سکے جاری ہونے لگے تاکہ سکوں کی قدر (intrinsic value) کا آزادانہ طور پر تعین کیا جا سکے۔

money evolution

کاغذ کی ایجاد نے جلد ہی پیسے کو کاغذ میں منتقل کرنے کی راہ ہموار کردی کیونکہ سکوں کی بڑی مقدار میں جمع و ترسیل کا کام نہ صرف مشکل بلکہ پرخطر بھی ہوا کرتا تھا۔ مزید براں پیسے کی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم اور اس کی ہر جگہ دستیابی و قبولیت بھی نا ممکن تھی۔ کاغذی پیسوں یا نوٹوں (fiat money) نے ان مسائل کو حل کرنے میں مدد دی۔ کاغذ کے علاوہ حال ہی میں کچھ ممالک نے پلاسٹک کے نوٹ، جو کہ کاغذ کی نسبت زیادہ پائیدار ہوتے ہیں، کا تجربہ بھی کیا ہے۔  تاہم ان کی اپنی خامیاں ہیں مثلاً انکا رنگ وقت کے ساتھ مدھم پڑ جاتا ہے اور یوں نوٹ قابلِ استعمال نہیں رہتا۔

یہ بات اب کوئی راز نہیں کہ نوٹوں کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہوتی بلکہ جاری کرنے والے ممالک کی سند ان کو قابلِ قدر بنا دیتی ہے۔ اس لیے آج کی جدید ریاستیں اندھا دھند نوٹ نہیں چھاپتیں بلکہ کسی مناسب پیمانے کے تحت ایک خاص مقدار میں ہی نوٹ جاری کر سکتی ہیں۔ اس کیلئیے پہلے یہ میعار تھا کہ جاری کرنے والے ملک کے پاس سونا (گولڈ) کتنا ہے لیکن آجکل پیسے کی قدر کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ جاری کرنے والا ملک دنیا کی نظر میں معتبر کتنا ہے۔ یعنی بات واپس اُسی باہمی اعتماد کی طرف پلٹ گئی ہے جو پہلے دو انسانوں کے درمیاں مطلوب ہوا کرتا تھا اور اب دو ملکوں کے درمیان۔

چونکہ دنیا اب ایک عالمی گائوں کی شکل اختیار کر چکی ہے اس لیے پیسے کی قدر بھی بین الاقوامی حالات و واقعات سے منسلک ہو گئی ہے۔ اور ایک ملک کے پیسے کو دوسرے ملک کے پیسے میں بدلنے کے معیارات بمعہ شرح و مقامات بھی طے کر لیے گئے ہیں۔

پچھلی ربع صدی میں انٹرنیٹ کی ایجاد اور اس پر برقی تجارت (ecommerce) کی پیشرفت نے پیسے کو ایک نئی جہت عطا کر دی ہے اور پیسہ اب پلاسٹک کے ایک کارڈ میں سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اس میں باہمی لین دین کا دائرہِ اختیار تو آپ ہی کے پاس رہتا ہے لیکن انتقالِ پیسہ بنکوں کے ذریعے بالواسطہ طور پر ایک خودکار طریقے سے ہوتا ہے۔ یوں کارڈ کے ذریعے لین دین ایک تیسرے فریق کا محتاج ہوتا ہے یعنی یہ ایک درمیانی واسطے (بنک) کا تقاضہ کرتا ہے جوکہ پیسے کی بنیادی شرائط پرقطعاً پورا نہیں اترتا۔ فقط ایک حقیقی پیسہ ہی کسی تیسرے فریق کے بغیر باہمی لین دین کے آزادانہ فروغ کی حمایت کرتا ہے۔

1435739708_5cb0ad5c44_z

تاہم آجکل جس طرح حقیقی خط و کتابت کی جگہ برقی خط و کتابت (email and emessaging) نے لے لی ہے اسی طرح باہمی لین دین کی ادائیگیاں بھی پیسے کے برقی انتقال (electronic transfer) سے ہو رہی ہیں۔ پیسے کے برقی انتقال سے اب نہ صرف ہر قسم کی مادی اشیا خریدی جا سکتیں ہیں بلکہ ڈیجیٹل اثاثے بھی دستیاب ہیں۔ برقی و ساعتی کتابیں، گانے، فلمیں، آپ کی بنائی ہوئی تصویریں اور آن لائن تحریریں ڈیجیٹل اثاثوں کی چند ایک نمایاں مثالیں ہیں۔ ان اثاثوں کی مادی افادیت تو یہ ہے کہ آپ انہیں دیکھ، سن، اور پڑھ سکتے ہیں۔ انہیں پرکھتے اور سراہتے ہیں لیکن ان کی مالی قدر کا تعین بہرحال پیسے سے ہی ہوتا ہے۔ ایسے میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا پیسہ بذاتِ خود بھی ڈیجیٹل ہو سکتا ہے؟

جاری ہے۔۔۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

تبصرے بند ہیں.