امی کا کمرہ

1,731

میرے بچپن کی تلخ و شیریں یادوں میں ایک سنہری یاد ‘امی کا کمرہ’ بھی ہے۔

سب والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے دینی اور دنیاوی دونوں لحاظ سے اچھے طور طریقوں کو اپنانے والے بنیں اور اخلاقی طورسے بلند مقام حاصل کرنے والے ہوں۔ دینی تعلیم تو مساجد اور دین دارلوگوں کی صحبت میں بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہے ۔ دنیاوی اخلاقیات کی تربیت کے لیے مگر ‘امی کا کمرہ‘ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ویسے تو اس کمرے کے کئی نام اور بھی ہو سکتے ہیں جیسے کہ ‘زیر مرمت بچوں کی تجربہ گاہ’ یا پھر ‘اخلاقی مدرسہ’ وغیرہ۔ مگر جو لطف ‘امی کا کمرہ’  کہنے میں ہے وہ لطف کسی اور نام  میں نہیں ہے۔

یہ کمرہ دیکھنے میں گھر کے تمام کمروں کی مانند ایک عام سا کمرہ تھا۔ نہ تو اس میں کسی لسانی سیاسی جماعت کے مبینہ زیر زمین عقوبت خانوں کی طرح اذیت رسانی کے کوئی آلات لٹکے ہوتے تھے  اور نہ ہی اس میں  وطن عزیز کے جوہری اثاثوں  جیسے کوئی  مہلک ہتھیار پوشیدہ رکھے جاتے تھے۔ حتیٰ کہ  کوئی خطرناک اوزار  مثلاً  قصائی کا بغدہ، تیز دھار کلہاڑایا  بھاری بھرکم ہتھوڑا بھی نہیں پائے جاتےتھے۔ پھر بھی یہ کمرہ اپنی کچھ نہاں خصوصیات کی بنا پر اطفال ِ گھرانہ میں پراسراریت اور  خوف ودہشت کا ایک نشان بن کر ابھراتھا۔

اس کمرے کو ناگزیر صورت حال میں استعمال کیا جاتا تھا۔  مثال کے طور پر اگر کبھی گھر کے بچوں میں اچانک جناتی سرگرمیاں پیدا ہوجاتیں۔ یا  پھر کبھی کبھار بچوں کی قوتِ سماعت میں عارضی طور پر کمی واقع ہو جاتی (یعنی نافرمانبرداری) یا پھر کبھی جب بچے باہمی مساوات اور بھائی چارے کے اصولوں سے عدم اتفاق کرتے تو ایسے بچوں کو ‘امی کے کمرے’ کی زیارت کروائی جاتی تھی۔ اور اگر کبھی کسی مہمان کی موجودگی میں بچے شوخے ہو رہے ہوتے تھے تب تو ‘امی کے کمرے’ کا حوالہ ہی کافی ہوتا اور مچلتے جذبات یکلخت ٹھنڈے پڑ جاتے تھے۔اکثر اس کمرہ کو ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے بھی زیر استعمال لایا جاتا تھا مثلاً جب امی کے سر میں درد ہو اور بچے ادھم مچا رہے ہوں تب بھی اس بے مثال کمرے کی افادیت سے کما حقہ فائدہ اٹھایا جاتا تھا۔

کسی بھی  ہونہار کو اس کی اعلیٰ خدمات کی بدولت اس کمرے کا بغیر ویزہ لگائے دورہ کروادیا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر آپ مجھے ہی لے لیں۔ خاکسار کو بھی متعدد مرتبہ ‘امی کے کمرے’ کی زیارت نصیب ہوئی (آپس کی بات ہے، کسی سے ذکر مت کیجیئے گا)۔ موقعے کے گواہان یعنی میرے بہن بھائی  بیان کرتے ہیں کہ  جب والدہ محترمہ خاکسار کا بازو اس طرح گرفت میں لیتی تھیں جیسے مرغی کے پنجرے میں ہاتھ ڈال کر پھڑکتا ہوا برائلر مرغا پکڑا جاتا ہے تو چہرے کے تاثرات دیدنی ہوتے تھے۔ اول اول خوشی و سرمستی میں جھومتے جب ‘امی کے کمرے’ میں داخل ہوتے تو “واقفانِ حال” بظاہر سنجیدہ و رنجیدہ  صورت بنائے  صورت حال کا بغور معائنہ کر رہے ہوتے مگر سینوں میں نہاں قہقہوں کے طوفان مچل رہے ہوتے تھے۔

‘امی کے کمرے’ سے برآمدگی بعینہ یوں ہوتی تھی جیسے کوئی کم حیثیت ملزم تھانے میں تین دن تک خاطر داری کروانے کے بعد باہر نکلتا تھا۔ چہرے کا رنگ اڑا ہوا ہوتا تھا۔ چال میں واضح لڑکھڑاہٹ نمایاں ہوتی تھی۔ قوتِ سماعت اپنے بلند تر مقام پر پہنچی ہوتی تھی اور ‘والداتی تمغہ برائے حسن کارکردگی’ کے نشانات   چشم دید گواہوں کوسرسری نظر ڈالنے سے بھی دکھائی دے جاتے تھے۔

گو کہ اس کمرے میں قیام مختصر ہوا کرتا تھا پر اس  مختصر قیام  میں مرتب ہونے والےاثرات دیر پا ثابت ہوتے تھے۔ ویسے تو نونہالانِ قوم کی مثال کو چکنے گھڑے پر بھی منطبق کیا جا سکتا ہے  کیونکہ دیرپا اثرات بھی بہرحال کسی موسمی بیماری کی مانند ہفتہ دس روز رہ کر غائب ہو جایا کرتے تھے اور  ‘امی کے کمرے’ کی مستقبل قریب میں آنے والی ممکنہ زیارت کے امکانات واضح ہونے شروع ہو جاتے تھے۔

‘امی کے کمرے ‘ میں مجھ پر مرتب ہوئے اثرات کی افادیت کا صحیح معنوں میں قائل میں تب ہوا   جب میرے محلے کے لوگ میرے اخلاق کی مثالیں دینا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ وقت بھی آیا کہ محلے میں پیدا ہونے والے چند نومولودوں کی ماؤں نے بھی مجھ سے درخواست کی کہ میں ان کے بچوں کو “گھٹی” دے دوں کیونکہ وہ چاہتی ہیں کہ کوئی ‘نیک’ بندہ ہمارے بچوں کو گھٹی دے۔ اب یہ اور بات ہے کہ گھٹی دینے کے بعد میں ان ماؤں کا سامنا کرنے سے محض اس خوف سے کتراتا رہا کہ اگر کوئی ایک بھی بچہ میرے نقشِ قدم پر چل نکلا تو لازماً اس کے والدین نے مجھ پر مقدمہ کر دینا ہے۔

پہلے پہل میرا گماں تھا کہ ‘امی کا کمرہ’ صرف ہمارے ہی گھرانے میں متعارف ہوا ہے اور باقی دنیا اس سے نا آشنا ہے۔ مگر میرا  یہ گماں تب باطل ثابت ہوا جب میں نے یورپ میں بھی ایسے کئی کمرے مشاہدہ  کیے جہاں اقوام عالم کے نونہالوں کی نہ صرف دھلائی بلکہ ڈرائی کلیننگ وغیرہ  بھی کی جاتی تھی۔ بلکہ اقوامِ بیضا  تو دو ہاتھ آگے بڑھ گئیں۔ نہ صرف نونہالوں بلکہ ان نونہالوں کے ذمہ داران ہونہار باپوں کی بھی گوشمالی ‘امی کے کمرے’ میں ہوتی پائی گئی ہے۔ تب ایک خیال شوریدہ ندی کی مانند دل و دماغ میں بپھرتا ہوا داخل ہوا کہ ‘مفادِ عامہ’ کے لیے’امی کےکمرے’ کا تعارف ضرور لکھنا چاہیئے۔ تاکہ قوم کی ماؤں کو آنے والی نسلوں کی تربیت کے ضمن میں ایک نیا ٹوٹکا میسر آ جائے۔

حقیقت دراصل یہ ہے کہ بچپن میں ہم جس ‘امی کے کمرے’ سے دہشت زدہ رہتے تھے اصل میں وہ کمرہ ہمارے اخلاق و کردار کی بنیادی تربیت کا باعث بنا۔ میں آج بھی اپنی والدہ محترمہ کا صد شکر گذار ہوں جنہوں نے ہماری بے پناہ شرارتوں کے سامنے سپر انداز ہونے کے بجائے بارہا ہمیں اپنے کمرے کی زیارت سے مشرف کیا اور ہماری کوتاہیوں کی بروقت سرکوبی کی۔

میں آج بھی ان افکار و اعمال پر قائم ہوں جو ‘امی کے کمرے’ کے طفیل مجھے بچپن میں حاصل ہوئے۔ اور آج میں فرانس میں بیٹھ کر یہ محسوس کرتا ہوں کہ پاکستان کے ہر گھر میں ایک عدد ‘امی کا کمرہ’ ہونا چاہیئے تاکہ پاکستان کے حالات سدھر سکیں۔ اور آنے والے وقت میں ہمارا شمار دنیا کی ایسی اقوام میں ہو جو اپنی منفی اور تخریبی وجوہات کی بنا پر نہیں بلکہ مثبت اور تعمیری اقدام کی بنیاد پر پہچانی جائیں۔

 

احمد عمر ایک پاکستانی نژاد فرانسیسی ہیں۔ اپنے فارغ اوقات میں سوشل سروس کرتے ہیں۔ خاص طور پر تارک الوطن مہاجرین کے حقوق کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    😀

    Its funny but writer did well to point out training matters on children.

  2. نبیحہ کہتے ہیں

    بہت خوب سر! {امی کا کمرہ} کی اصطلاح بہت اچھی استعمال کی ہے۔ ہمارے والدین کو بچوں کی تربیت کے لیے محںت کرنی ہی پڑتی ہے!!!!!

تبصرے بند ہیں.