“ٹُو مچ فن” (ب، پ، چ، ح، گ اور ل  کی ایک  ناقابل اشاعت کہانی)

2,705

ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ ایک ملک تھا۔ آپ اس کو اپنی آسانی کے لیے چ سے شروع ہوتا ہوا کوئی بھی نام دے سکتے ہیں۔ ملک کی عوام بھی اسی ملک کے نام سے پکاری اور پہچانی جاتی  ہے جیسے چین میں چینی، ایران میں ایرانی اور پاکستان میں پاکستانی رہتے ہیں۔ چناچہ اس ملک ‘چ ‘کی عوام بھی ‘چ ‘ ہی تھی۔ ملک ‘چ’ میں ہر طرح کی چوری چکاری، چالبازی، چور بازاری، چاپلوسی اور  چیر پھاڑ  کادور دورہ تھا۔ عوام بھی ‘چ’ تھی لہٰذا چوری چکاری، چالبازی، چور بازاری، چاپلوسی اور چیر پھاڑ کے نت نئے چکرنہ صرف ایجاد کرتی رہتی بلکہ ان پر چوکس ہو کر  چلتی بھی رہتی تھی۔ ‘چ’ عوام کی پسندیدہ غذا چُوری تھی جسے وہ چائے کے ساتھ  چسکیاں لے کر کھاتے تھے۔

فی الوقت اس ملک میں جمہوریت کا راج تھا۔ ملک کے حکمراں کو آپ ‘گ ‘تصور کر لیں۔حکمراں ‘گ’ کو ملک کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔  گراں فروشی، گراوٹ، گالم گلوچ، گھٹیا پن، گڑبڑ اور گناہ کرنے والے گندے  لوگ اس کے گرد رہتے تھے اور ‘گ’ ان کا گرویدہ تھا۔ ‘گ’ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں مہارت رکھتا تھا۔ جمہوری دور میں وہ جمہوریت کا علم بردار تھا جبکہ آمریت میں وہ آمریت کا دم بھرتا نظر آتا تھا۔ ‘گ’ کی “گورمنٹ ” بیڈ گورننس کا شاہکار تھی۔  آج کل اس کاگھرانہ گردش میں آیا ہوا تھا اور پورے گھرانے پر گرد اڑ رہی تھی۔

ملک ‘چ’ میں ایک سیاست دان بھی تھا جس کو ہم ‘ل’ فرض کر لیتے ہیں۔  ‘ل’ لمبی لمبی چھوڑنے کا شوقین تھا۔ قد بھی کچھ لمبا تھا اس لیے لگی لپٹی رکھنے کا قائل نہیں تھا۔ وہ کھل کر ‘چ’ عوام کو اپنی لاف و گزاف سے متاثر کرنے کی کوشش کرتا رہتا۔ ‘ل’ کی پرورش لاہور اور لندن میں ہوئی تھی اس لیے اس اکثر وہ لال پیلا رہتا تھا۔  ‘ل’ اکثر اپنے مخالفین کو لعنت ملامت بھی کرتا رہتا تھا۔ ‘چ’ عوام اسے کبھی کبھار لال بجھکڑ بھی کہ دیتے تھے۔ ‘ل’  بھی ملک ‘چ’ کا حکمراں بننا چاہتا تھا اور اس کے لیے لیفٹ رائٹ کچھ بھی کرنے کو تیار تھا۔

اسی ملک ‘چ’ میں ایک اور سیاست دان بھی تھا ۔ اس کو ہم ‘ب’ کہ لیتے ہیں۔ ‘ب’ کو بات کا بتنگڑ بنانے کا فن آتا تھا۔ ‘ب’ کی بیوی اب نہیں رہی تھی اس لیے بعض اوقات ‘ب’ بہکی بہکی حرکتیں بھی کر جاتا تھا۔  ‘ب’ بھی ‘چ’ پر حکومت کر چکا تھا جس کی ‘چ’ عوام کو بڑی بھاری قیمت چکانی پڑی تھی۔ ‘ب’ جو تھا وہ ‘گ’اور ‘ل’ دونوں کا سیاسی مخالف تھا اور بہر صورت اقتدار  کی کرسی پر بیٹھنا چاہتا تھا۔

اسی ملک میں ایک طبقہ ایسا تھا جس کو آپ ‘ح’ تصور کر لیں۔ یہ طبقہ ہمہ وقت حرام اور حلال کی بحث چھیڑے رکھتا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ معاشرے کے ہر طبقے پر حاوی ہونے کی کوششوں میں مصروف رہتا تھا۔ اس سلسلے میں  کبھی حلاوت تو کبھی حرارت زدہ لہجے میں بات کرتا یہ  ‘ح’ والا طبقہ حلوے کا شوقین تھا۔ ‘ح’  حرمت رسول پر جان قربان کرنے کے نعرے لگاتا اور ہمیشہ دوسروں کی جان لیتا تھا۔ ‘ح’  دوسرے مذاہب والوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔ ‘ح’  اس ملک ‘چ’ میں حجازی طرز حکومت چاہتا تھا مگر حمایت سے محروم تھا۔

اس کے علاوہ بھی ملک ‘چ’ میں کچھ طبقات تھے ۔ ہم ان کو مجموعی طور پر ‘پ’ کا نام دے لیتے ہیں۔  یہ وہ طبقات تھےجو پہاڑ جیسی طاقت رکھتےتھے۔ پانی سے لے کر پرندوں تک اور پہاڑوں سے لے کر  پاتالوں تک ملک ‘چ’ کی پاسبانی کرتے تھے۔

ہوا کچھ یوں کہ ‘ل’ نے ‘گ’ کو لعنت ملامت کرنا شروع کر دیا۔ ‘گ’ بھلا کب یہ بات گوارا کرتا چناچہ اس نے ‘چ’ عوام سے رجوع کیا۔ ‘چ’ عوام  تو چاہتی ہی یہ تھی ‘ل’ اور ‘گ’ کی لگ جائے چناچہ ‘چ’ عوام نے چالاکی دکھاتے ہوئے ‘ل’ کے سامنے ‘ل’ اور ‘گ’ کے سامنے  ‘گ’ کی چاہت کا اظہار شروع کر دیا۔ ‘ح’ نے اس موقعے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور حصول اقتدار کے لیے ‘چ’ عوام کی حمایت حاصل کرنے کی تگ ودو شروع کر دی۔  ‘چ’ عوام نے ‘ح’ کو حسین خواب دکھانے شروع کر دیے اور ‘ح’ خود کو حقیقی راہنما محسوس کرنے لگا۔  ‘گ’ کے لیے یہ گھاٹے کا سودا تھا چناچہ ‘گ’ نے ‘ح’ کو ساتھ ملانے کے لیے گڑ کا حلوہ پکایا۔ ‘ل’ کو ‘گ’ کی گہری چال سمجھ میں  آگئی۔ ‘ل’ نے ‘ح’ کے کچھ لوگوں کو لاکھوں روپے دے دیئے جس سے ‘ح’ میں پھوٹ پڑ گئی۔ ‘ح’ کے کچھ حصے کو ساتھ ملا کر ‘ل’ نے ‘گ’ کا مسئلہ حل کرنے کا سوچا ۔  ‘چ’ عوام یہ ساری چکربازی دیکھ رہی تھی چناچہ ‘چ’ عوام  نے  چاروں صوبوں میں ‘گ’ ‘ل’ اور ‘ب’ کو ووٹ ڈال دیئے۔ سب کی اپنی اپنی حکومتیں بن گئیں۔  اب ‘ل’ ‘گ’ کے لتے لے رہا ہے اور ‘گ’ ‘پ’ کو گھونسہ دکھا رہا ہے۔ ‘پ’ ‘ح’ کو آگے کر ہا ہے اور ‘ب’ اپنی باری کے انتظار میں ہے۔ یعنی ” ٹُو مچ فن”۔

آپ کو سمجھ آئی؟ نہیں آئی نا؟  کوئی بات نہیں۔ ملک ‘چ’ میں بھی کسی کو کچھ سمجھ نہیں آتی  پھر بھی وہ چناؤ میں چاول کھا کر ایسوں ویسوں کو چن لیتے ہیں۔ پھر جب چار چوٹ کی لگتی ہے اور چاروں شانے چت ہو جاتے ہیں تو چن چن کر ایسی چکراتی ہوئی  کہانیاں پڑھتے ہیں اور چکر کھا جاتے ہیں۔ آپ بھی  کہانی پڑھیں اور چکر کھائیے۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. محمد عامر مشتاق کہتے ہیں

    ماشااللہ، کمال کر دیا۔ بہت خوب اندازِبیاں اور بہت اعلٰی پائے کی تشبیہات ہیں۔ خوبصورتی سے سارا منظر اور مسئلہ بھی بیان کردیا اور نام بھی کسی کا نہیں لیا۔
    10/10

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      تعریف کا شکریہ :)

  2. انیق کہتے ہیں

    بہت اعلی

تبصرے بند ہیں.