خُود نمائی اور خود کو نمایاں کرنا 

4,427

خُودنمائی اور خود کو نمایاں کرنے میں بڑا فرق ہے۔ دونوں لفظوں کے مفہوم خاصے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ اظہار میں بھی بہت واضح فرق رکھتے ہیں اور قطعی طور پر ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے۔ کسی بھی شعبے میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لئے جدوجہد کی بھٹی میں خود کو جلانا پڑتا ہے، کوشش اور تپسیا کے تپتے صحرا سے گذرنا پڑتا ہے اور قسمت کی مہربانی کا منتظر رہنا پڑتا ہے جبکہ خُودنمائی ایک بیماری سے زیادہ کچھ نہیں۔ خود نمائی کو ایک نفسیاتی مرض بھی سمجھا جاسکتا ہے۔ خُودنمائی کی عادت میں مبتلا شخص ہمیشہ شارٹ کٹ کے چکر میں رہتا ہے۔ ایسے شخص کا اخلاقیات سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ بے موقع بات کرنے کی علت کے باعث ایسے لوگ بارہا بے عزت ہونے کے باوجود شرمندگی سے کوسُوں دور ہوتے ہیں۔

پہچانے جانے کی خواہش انسان کی جبلت میں شامل ہے مگر یہ فطری خواہش بعض افراد کی کمزوری بن جاتی ہے۔ کچھ لوگ اس کمزوری کو اپنی طاقت بنا کر ہمیشہ کے لئے انسانیت کی معراج پالیتے ہیں جبکہ زیادہ تر اس خواہش کی تکمیل میں اتنا گر جاتے ہیں کہ انسانیت اور اخلاقیات کو روندتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔

سیاست خود کو نمایاں کرنے کے حوالے سے کامیاب شعبہ تصور کیا جاتا ہے جبکہ شوبز تو ہے ہی خُودنمائی کا نام۔ ہمارے ایک دوست کسی زمانے میں لگ بھگ ڈیڑھ فلم کی ہدایات دے چُکے ہیں اور اسے خوش قسمتی کہیے یا کچھ اور، یہ فلمیں پردہ سکرین کی زینت بھی بن چُکی ہیں۔ اسے اتفاق سمجھیں یا وقت کی ستم ظریفی کہ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان فلم انڈسٹری نے ابھی اپنے زوال کی جانب سفر شروع کیا تھا تاہم ہمدرد دوستوں کے خیال میں “تو میرا میں تیری” اور “دولت” کو اس بحران کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا کیوں کہ مذکورہ دونوں فلمیں فلاپ رہیں تاہم پاکستان فلم انڈسٹری کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اور اس کے زوال سے براہ راست متاثر ہونے والے محض فلاپ ہونے کی بنا پر “تو میرا میں تیری” اور”دولت” کو اس “جرم” سے بری الذمہ قرار دینے کے لئے تیار نہیں۔ بات کہیں اور نکل گئی ذکر ہو رہا تھا خُودنمائی کا ۔ ہمارے یہ دوست اگرچہ اس مرض میں مبتلا نہیں مگر اپنے تحریر کردہ نثرپاروں کو اقوال زریں کہنے سے ذرا بھی نہیں چوکتے۔ بچپن سے اداکار بننے کی خواہش اب یقین میں بدل چُکی ہے اس لئے ہمارے یہ دوست اب ہدایت کار بننے کے بعد اب مکمل اداکار کا روپ دھار چُکے ہیں۔

زمانے کی ترقی نے جس طرح لوگوں کے شب وروز کو متاثر کیا ہے اسی طرح دوسروں کو “متاثر” کرنے سے باز نہ رہنے والے بھی اپنی خامیوں کو دور کرنے کے بجائے اسے اپنا سٹائل قرار دیتے ہیں ۔ بولنے میں اردو کا تلفظ تک درست نہ رکھنے والے ٹی وی چینلز پر بیٹھے قومی زبان کا تشخص تباہ کرنے کے درپے دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے یہ دوست بھی اپنی غلط اردو کی ہزار دلیلیں دیتے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ اپنی بات میں وزن کے لئے اپنے “اقوال زریں” کو کوڈ کرنے سے بھی نہیں کتراتے حالاں کہ اس پر” کوڈ آف کنڈکٹ” بنتا ہے ۔ چیزوں کے مثبت پہلو پر نظر رکھنے والے کم لوگ ہی ہوتے ہیں اس لئے ہمیں پورا یقین ہے کہ اپنے بارے میں اتنا کچھ لکھے جانے کو بھی وہ اپنی مقبولیت ہی قرار دیں گے۔

سیاست کا شعبہ بھی خود کو نمایاں کرنے کا کامیاب میدان تصور کیا جاتا ہے حالاں کہ جتنی خُودنمائی اس میں ہے کسی اور شعبہ میں نہیں تاہم کارکن سے لیڈر بننے والے بھی موجود ہیں ۔ فوری رسپانس کے خواہش مند عموماً سیاسی میدان کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست کسی زمانے میں پاکستان تحریکِ انصاف کے نہ صرف سرگرم اور متحرک ترین کارکن تھے بلکہ شائد لاہور کی سطح پر پارٹی عہدیدار بھی تھے ۔ غالبا یہ وہ زمانہ تھا جب قوم نے ابھی عمران خان کی باتوں پر یقین کرنا شروع نہیں کیا تھا۔

جدوجہد کے زمانے کے یہ سیاسی ورکر بہت خُوب مقرر بھی تھے اور سمجھتے تھے کہ اُن کی پارٹی اپنی لیڈر شپ کی قیادت میں نہ صرف ملک وقوم بلکہ اپنے کارکنوں کے حالات بھی بدل دے گی اور ایسا ہوا بھی، جیسے جیسے تحریکِ انصاف عوامی پذیرائی حاصل کرتی گئی دیرینہ ورکرز کے حالات پارٹی میں بدلتے چلے گئے اور ایسا وقت بھی آیا کہ بہت سے نظریاتی کارکنوں کو قیادت بارے اپنا”نظریہ” بدلنا پڑا۔

میڈیکل سائنس اور انسانی رویہ یہ ثابت کرتا ہے کہ برداشت اور صبر ہر شخص میں ایک جیسا نہیں ہو تا، کچھ جلد ہمت ہار جاتے ہیں اور بعض دوسرے کے صبر اور برداشت کا امتحان بنے رہتے ہیں۔ بہرحال ہمارے یہ دوست تحریکِ انصاف سے باقاعدہ الگ کر دئیے گئے۔ حالات سے سمجھوتا کرنا راجپوتوں کا شیوہ نہیں اسی لئے سیاست میں اپنا سب کچھ لٹانے کے باوجود ہمارے یہ دوست اس سے زیادہ دیر دور نہ رہ سکے اور اب ایک مرتبہ پھر سے میدان سیاست میں کودنے کا تہیہ کئے بیٹھے ہیں البتہ اب انہیں سمجھ آگئی ہے کہ کارکن بننے سے بات نہیں بنے گی اس لئے لیڈر بن کر ہی میدان سیاست میں نمایاں ہوا جاسکتا ہے۔ اس حوالے سے سینئر صحافی اور ہمارے دیرینہ دوست رفیق خان کا کہنا ہے کہ ترقی کرنے کے لئے پہلے اپنے سوچ کو ترقی دینا پڑتی ہے۔ اس کی مثال وہ یوں دیتے ہیں کہ اگر ایک سب ایڈیٹر یا رپورٹر ایڈیٹر بننے کا نہیں سوچے گا تو زندگی میں کبھی اس عہدے پر پہنچ بھی نہیں پائے گا۔ اس لئے پہلے خود کو اپنے سوچ کے خول سے باہر نکالنا ہو گا اور اس کے لئے ضروری ہے کہ یہ سوچا جائے کہ “میں کیوں نہیں”۔

شوبز اور سیاست میں ایسے لوگوں کی بہت سی مثالیں موجود ہیں جنہوں نے خود کو نمایاں مقام دلانے کے لئے بے مثال جدوجہد کی۔ ان لوگوں کے علاوہ ایسے بھی لاکھوں لوگوں کی مثالیں ہیں جنہوں نے خود کو نمایاں کرنے کے لیے خُودنمائی کا سہارہ لیا۔ اداکارہ میرا ہو یا سیاست کے طلال اور دانیال سب خُودنمائی کی عِلت میں مبتلا لوگ ہیں جبکہ خود کو نمایاں کرنے کے حوالے سے ایکسٹراز کی قطار میں کھڑے مرحوم اداکار سلطان راہی محنت اور جدوجہد کی بہترین مثال ہیں۔ زمانہ آج بھی ان کی کامیابیوں اور صلاحیتوں کا معترف ہے جبکہ سیاست کی تاریخ میں بانی پاکستان سے بڑی کوئی مثال موجود نہیں کہ کانگریس میں عام ورکر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کرنے والے محمد علی جناح کو دنیا نے برِصغیر کے مسلمانوں کے لیے قائداعظم بنتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔

خواجہ آفتاب حسن لاہور میں مقیم ایک صحافی اور مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. tariq shahid satti کہتے ہیں

    kmaal khwaja sb

  2. Rana Osama Khan کہتے ہیں

    Love you my beloved Kh. Aftab brother…..

تبصرے بند ہیں.