سالگرہ، برسی اور پاکستان

1,904

پاکستان کی تاریخ میں شاید 27 دسمبر کو وہ اہمیت حاصل ہوگئی ہے جو شاید اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں تھی۔  دسمبر کا مہینہ جہاں سخت سردی کے ساتھ سال ختم ہونے کی نوید سناتا ہے وہاں یہ مہینہ قائداعظم  محمد  علی جناح کا یومِ پیدائش اور  مسیحی برادری کا مذہبی تہوار کرسمس بھی اپنے ساتھ لاتا ہے۔

اسی مہینے کی 27 تاریخ  بھی سیاسی لحاظ سے بہت اہم ہے۔ دس سال پہلے 27 دسمبر کو محترمہ بے نظیر بھٹو کو  لیاقت باغ میں شہید کیا گیا تھا۔ افسوس  یہ کہ ان کے قاتل آج بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ 2008ء  سے 2013ء  تک پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی مگر اس کے باوجود وہ بی بی شہید کے قاتلوں کو بے نقاب نہ کرسکی۔   بینظیر بھٹو کے بیٹے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ کی برسی کے موقع پر کہا کہ ” بینظیر بھٹو کو جمہوریت کے دفاع اور آمریت سے لڑنے کی سزا دی گئی“۔

bilawal-benazir-1024

اسی تاریخ کو پاکستان کے موجودہ وزیرِاعظم  جناب شاہدخاقان عباسی کی بھی سالگرہ ہوتی ہے۔  سوشل میڈیا پر ان کی اپنے گھر میں کیک کاٹتے ہوئے تصویر سادگی کے ہیش ٹیگ کے ساتھ خوب وائرل ہوئی تھی۔

Untitled-2

انہوں نے اس  دن  ہزارہ  موٹروے افتتاح کے موقع پر فرمایا: “شیروانیاں بنانے والوں کو 2018 میں شرمندگی ہوگی۔ انہوں نے  مزیدکہا کہ کوئی کسی غلط فہمی میں نہ رہے ۔  حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور 2018 میں بھی مسلم لیگ (ن) حکومت بنائے گی جس سے ایک بار پھر شیروانیاں بنانے والوں کو بھی شرمندگی ہوگی۔

میرا یہ مضمون پڑھنے والوں کو تو بظاہر ایک عام سی بات محسوس ہوگی اور اس آرٹیکل کا قاری یہی سمجھے گا کہ میں نے اس میں ایسی کوئی نئی یا انوکھی بات کا ذکر تو نہیں کیا تو پھر اس میں ایسی

کیا خاص بات ہے جو کہ یہ پڑھنے والے کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اس مضمون کو بغور پڑھے؟

اگر آج کے اس دن اس سالگرہ اور اس برسی کے دن پر اس ملک کی سب سے بڑی جماعت کا دعویٰ کرنے والے دعویداروں کی بات کو اگر سمجھا جائے تو اس میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آئے گی کیونکہ دونوں نے آج کے اس خاص دن اسی بات کا رونا رویا جو آج سے پہلے سال کے 364 دن روتے آئے ہیں دونوں نے اس بات کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ وہ اس ملک کی بہتری اور خوشحالی کے لئے کام کریں گے اور پاکستان کی بہتری اور ترقی کے لیے  ایک جماعت اپنی مدت پوری کرے اور دوسری جماعت اپنی باری کا انتظار کریں۔

برسی کے موقع پر سابق صدر آصف علی زرداری نے  خطاب کرتے ہوئے  کہا  ” ہر بار 549ccae897214کی طرح اس بار بھی ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا اور اب کی بار ہم آپ کی باتوں میں نہیں آئیں گے“۔  یہاں پر میرا سوال ان لوگوں سے ہے خاص طور پر ان سیاستدانوں سے جو ہر بار عوام سے ووٹ لےکر لاکھوں وعدہ کرکے مکر جاتے ہیں تب تو انہیں وعدہ خلافی کا زرہ بھر بھی احساس نہیں ہوتا لیکن  جب خود ان کے ساتھ وعدہ خلافی کی جائے تو ان کو اس بات کی شدید تکلیف ہوتی ہے اور وہ جگہ جگہ دھرنا دے کر اسی بات کا رونا روتے رہتے ہیں۔

میری ان سب سے درخواست ہے کہ اگر آپ سالگرہ اور  برسی سے فارغ ہو چکے  ہیں تو برائے  مہربانی اس ملک اور اس کی عوام کا بھی کچھ سوچ لیں۔صرف اقتدار کی کرسی پر بیٹھنا آپ کا فرض نہیں ہے بلکہ اس کرسی پر بیٹھ  کر ملک و قوم کی خدمت کرنا آپ کی اصل ذمہ داری ہے۔

سید شرجیل احمد قریشی نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم فل کیا ہے ۔ اور پی ایچ ڈی انٹرنیشنل ریلیشنز میں داخلہ کے خواہاں ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.