گورکھ دھندہ

1,726

مجھے اس شام معلوم ہوا کہ ایمسٹرڈیم کے”منطقہ لال روشنی”میں اس کثیر منزلہ عمارت کی دہلیز پر بیٹھی ہوئی برگنڈی رنگ کے بالوں والی لڑکی اپنے بوائے فرینڈ یا شوہر کے کندھے پر سر رکھنا چاہ رہی تھی مگر کیوں نہیں رکھ پا رہی تھی اور اسکا بوائے فرینڈ نہر کے پار، چرچ کے بلند ایستادہ مینار سے اوپر دور خلا میں، اپنی گرل فرینڈ یا بیوی سے بے نیاز، کیا گھورے جا رہا تھا۔

2

میں آتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا کہ یہاں وہ ترک بچہ جو فرینچ فرائز کی دکان کھولے بیٹھا ہے کیسے اپنا خرچہ پورا کرتا ہوگا اور کون اس کی دکان سے شراب و شباب اور بھنگ کے درمیان، اس سے تلے ہوئے آلو خریدتا ہو گا لیکن اب واپسی پر میں اس کی عقل اور کاروباری دماغ کی داد دے رہا تھا کہ آلو کے نمکین قتلے بیچنے کی اس سے بہتر جگہ تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔

مجھے اب یہ احساس ہو رہا تھا کہ “ڈی والن” کے بیچوں بیچ گزرنے والی نہرمیں بجروں پر بیٹھے ہوئے وہ بظاہر سست الوجود سیاح،  پانی کے شور،غروب ہوتے سورج کی مدھم کرنوں، بطخوں کی قطاروں اور خنک ہوا کا لطف اٹھا رہے تھے، جن کا وہاں فارغ بیٹھنا مجھے پہلے وقت کا ضیاع لگ رہا تھا۔

4

وہ ابھی نیم اندھیر کافی شاپس میں لائوڈ میوزک میں سارا دن گزار کر نکلے تھے اور اب یہ دیکھ رہے تھے کہ سورج کس تیزی سے اس چرچ کے بڑے سے مینار کی اوٹ میں غروب ہو رہا تھا جس میں سے ہر گھنٹے بعد گھنٹیاں بجنے لگتی تھیں۔ کوئی کنفیشن کرے یا نہ کرے، کوئی عبادت کرنے آئے یا نا آئے، صلائے عام ضرور تھی۔ پرندے قطاروں میں واپس جا رہے تھے، سیاحوں کا رش کم ہو رہا تھا- سارا دن سیاحوں کو دعوتِ گناہ اور جسموں کی فروخت کے بعد جدید دور کی غلام مخلوق لال روشنی والے کمروں کے شیشوں کے آگے پردے گرا کر کل دوبارہ آنے کے لیے جا چکی تھی اورسائیکلوں کی گھنٹیاں، کاروں کے ہارن، ٹرام کی آواز، پیدل سڑک پار کرنے والوں کے لیئے بزر، بطخوں کا شور اور دور کسی شراب خانے کے ٹی وی سے آتی ہوئی چیمپئینز لیگ کی کمنٹری کی ہلکی آواز ایک اس قسم کا شور ثابت ہو رہی تھی کہ جس میں انسان اپنی سوچوں اور خیالات کو پڑھنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔

4

5

ایمسٹرڈیم کی وہ سڑکیں اور گلیاں تھیں جو دو گھنٹے پہلے تک انجان سی لگ رہی تھیں اب گوالمنڈی جیسی لگ رہی تھیں۔ مجھے وہ سینٹرل اسٹیشن جو پہلی نظر میں کوئی بہت ہی پر شکوہ عمارت لگ رہی تھی اب راولپنڈی اور لاہور کے ریلوے سٹیشن کی دوسرے درجے کی کاپی لگ رہی تھی۔وہاں پر برہنہ مجسمے اور لاہور کے ریلوے سٹیشن پر پاک کلمات۔ ادھرمرسیڈیز ٹیکسیاں اور یہاں کالی پیلی مہران، آس پاس گزرتے لوگوں میں “جاکھم والز” “بشیر” اور “ایلیسے” “شبانہ”۔ بشیر چوہدری صاحب کا قرض دار اور جاکھم کریڈٹ کارڈ کا۔ ایلیسے کی خفیہ طور پر ڈی والن کے کسی دلال سے ڈیل اور پاکپتن کی شبانہ بھی جوہر ٹائون لاہور کے گیسٹ ہائوس میں کسی ایسے ہی مقصد کے لیے رہے۔ وہاں کے میوزیم آف سیکس، میوزیم آف پراسٹیٹوشن، میوزیم آف ٹارچر اور مادام تسائو میوزیم میں اگر غلاموں، جنگ و جدل اور جاہلیت کے دور کیا نسانیت کی تذلیل کی ایک تاریک تاریخ قید تو یہاں پر شیش محل، شاہی قلعے، اور بارہ دریوں میں بھی انسانیت کی چیخیں مقید۔ جہاں پر غلاموں اور لونڈیوں کی حالت زار کے ساتھ ساتھ بیٹوں کے ہاتھوں باپ کو زندان میں ڈالنے کی کہانیاں قید۔ وہاں لبرٹی مارکیٹ میں چار پیسے کمانے کے لیے لوگ جوکروں کا روپ دھارے پھریں اور ادھر بھی صبح سے شام تک مجسم مجسمہ بنے لوگ کہ ٹورسٹ لوگ کچھ سکے ساتھ پڑے پیالے میں ڈالتے جائیں۔  یہاں پر “ایکپیٹس” بہتر مستقبل کی تلاش میں غم جاناں سے بیزار، غم روزگار کا روگ لیئے پھریں اور میرے “ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور جیسے ولندیزی جوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ہالینڈ سے باہر جانے کے تگو دو میں۔

6

7

8

ہالینڈ میں الیکشن کا دن تھا اورسیاسی پنڈتوں کو یہ امید تھی کہ قوم پرست گریٹ ویلڈر جیت جائے گا۔ میرے ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور کا بھی یہی خیال تھا جو ابھی ووٹ ڈال کر آیا تھا اور اب کام پر تھا۔ اس چنائو کے دن بھی وہاں پر کوئی چھٹی نہیں، کوئی بینر نہیں، کوئی ریلی نہیں، کوئی پلے کارڈ نہیں، کوئی حب الوطنی کا سرٹیفیکیٹ نہیں، کوئی غداری کی مہر نہیں، کوئی پولنگ سٹیشن پہ لائین نہیں، یہ کوئی موبائیل سروس بند اور نہ ہی کوئی سکول۔ ٹرام ویسے ہی چل رہی تھی سیاح اسی طرح بئیر اور بھنگ یا میریجوانا والے سگریٹ پی رہے تھے۔ ایک فلسطینی بغیر لاپتہ ہونے کے خوف کے غزہ کے لیے، ٹاون سکوئیر کے بیچوں بیچ فنڈ ریزنگ کرنے میں مصروف تھا۔ میرا ٹرانسپورٹر فلم کے ہم شکل و ہم لباس  ڈرائیور کا یہ رونا کے ہماری جابز ایکسپیٹس لے گئے اور ہم بے روزگار؛ بالکل اسی گرایجویٹ “ٹویٹراتی” کی طرح تھا جو پاکستان کے ہر مسئلے کی جڑ میں افغانی تلاش کرتے ہیں۔

9

 

یہاں بھنگ لیگل، جیسے شاہ جمال پر چرس خاص طور پر جب وہ پپو سائیں کی ڈھول کی تھاپ پر جب صوفی نشہ بن جائے۔ ایمسٹرڈیم میں اسی طرح کی ایک نہر، جیسے لاہور میں- اسی طرح کا ریڈ لائٹ ایریا، جیسے لاہور کی ہیرا منڈی۔ فرق صرف یہ ہے کہ ادھر کی نہر میں ہر وقت پانی بہتا ہے اور ٹورسٹ اس میں کشتی رانی کرتے ہیں، بئیر پیتے ہیں اور انجوائے کرتے ہیں اور لاہور کی نہر میں کتے، گدھے، انسان اور بھینسیں ایک ساتھ نہاتے اور رفع حاجت کرتے ہیں اور بچے بڑے سڑک کے کنارے موجود بیلنے والے سے خرید کر گدلے گلاسوں میں گنے کا جوس پیتے ہیں۔

11

وہاں کے ریڈ لائٹ ایریا میں کام کرنے والی طوائفوں کو قانونی تحفظ حاصل اور یہاں کی طوائفوں کو غیر قانونی۔ وہاں بھی جمہوریت اور یہاں بھی۔ وہاں کی جمہوریت بھی سرمایہ دار کی مرہون منت ہے اور یہاں بھی۔ وہاں کی جمہوریت پل بڑھ کے اور جوان ہو کے اب اپنی ٹانگیں قبر میں لٹکائے بیٹھی ہے اور سرمایہ داری جس نے جمہوریت کو جنم دیا ہے اب وہی جمہوریت کے درپے ہے اور یہاں کی جمہوریت ابھی پالنے سے باہر آنے کا نام نہیں لے رہی اور ابھی تک یہ بحث جاری ہے کہ جمہوریت کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟

مماثلتیں اپنی جگہ تو اندیشہ ہائے دور دراز کہ فرق صرف کنفیوژن کا کہ وہاں پر لبرل ازم، سیکولر ازم اور باقی جو بھی ازم ان میں کوئی کنفیوژن نہیں اور ائے پاکستانیو! تم 11 اگست کی تقریر میں پاکستان کے آیئن کے خدوخال  کو تو سیکولر بناتے ہو، پھر بھارتی قرارداد مقاصد کو لے کے اس میں مذہب کا تڑکا لگاتے ہو۔ کبھی بناتے ہو جناح کو لبرل تو کبھی اسکے نام کے ساتھ “رح” سجا دیتے ہو۔ ایک احمدی کو ملک کا پہلا وزیر خارجہ بناتے ہو، بعد میں اس کی پوری قوم کا بھی مقاطعہ کرا دیتے ہو۔ شری چندرا چڈوپادے اور جوگندر ناتھ منڈل کو دیس نکالا دیتے ہو، پھر آپریشن سرچ لائٹ بھی اٹھا دیتے ہو۔ مذہب کے نام ملک بنایا تھا اس کو پھر قومیت کے نام پر دولخت کرا دیتے ہو۔ ایک سیکولر اور جمہوری طرز حکومت کا آیئن بناتے ہو پھر اس میں مذہبی شقوں کا تڑکا بھی لگا دیتے ہو۔ اقلیتوں پر کبھی زمین تنگ کرتے ہو تو انکو وزارتوں سے بھی ہمیشہ نواز دیتے ہو۔ لگا بیٹھتے ہو جو امریکہ سے جوت۔ افغانستان کی سنگلاخ چٹانوں میں اپنے خون سے اس کا سرمایہ دارانہ نظام بچا لیتے ہو۔ کسی کی لگائی گئی آگ کو بجھاتے بجھاتے اپنے اپ کو ہی جلا لیتے ہو۔ سٹاک ہوم سنڈروم میں ایسے مبتلا ہوتے ہو کہ یہاں آگ لگانے والوں کو بار بار اپنا بھائی بنا لیتے ہو۔ کشمیر کے نام پر چار جنگیں بھی لڑتے ہو، بھارت کے ساتھ ساتھ باقی ہمسائیوں کو بھی دشمن بنا لیتے ہو۔ پھر ایمبیسی کے سکولوں میں اشوک لی لینڈ اور ٹاٹا بسوں پر آنے والے بچوں کو انہی دشمن ملکوں کی فہرست بھی پڑھاتے ہو۔ حرام مشروبوں پہ پابندی لگا دیتے ہو لیکن مری بروری کا منافع بھی ہر سال بڑھاتے ہو۔ اپنے ملک میں تفرقہ بازی عروج پر لیکن اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کروا دیتے ہو۔ جو کہتے تھے کہ پاکستان پانچ سال نہیں نکال سکتا ان کے سامنے گرتے پڑتے کھڑے رہتے ہو۔ پاکستان، تم ایک گورکھ دھندہ ہو۔

پہلے امریکہ اور اب چین، پہلے جہاد اور اب ضرب، عضب، پہلے مارشل لاء اب ڈان لیکس، پہلے جعلی کلیم اور اب پانامے، پہلے سعادت حسن منٹو، اب عطالحق قاسمی، پہلے فوجی ڈکٹیٹر اب جمہوری آمریت، پہلے امریکہ کے لیے جنگیں، اب چین کے لیے سڑکیں، پہلے دوسرے ملکوں کی ایرلائنز کو بنانے کے لیے خدمات اب دوسرے ملکوں سے بسیں تک خریدنے کے لیے قرضے۔ پہلے سپارکو، اب پانی سے چلنے والی گاڑی، پہلے چین کو دنیا میں متعارف کروایا، اب وہی چین سلامتی کائونسل میں ہمیں دہشت گرد ریاست قرار دلوانے سے بچائے۔ پہلے بھی کچھ ٹوٹی پھوٹی خود مختاری اب بھی خودمختاری کی تہمت۔

انہی منضاد مماثلتوں میں نیند آگئی اور صبح اٹھ کر یہ احساس شدت سے ہو رہا تھا کہ شائد بل ڈاگ کافی شاپ کے اٹینڈینٹ نے مجھے بھنگ پلا دی تھی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بے ربطی کے شدید جھٹکے دیتی ہوئے عمدہ خیال کی بنیاد پراٹھائی گئی تحریر۔

    1. مرسلان حیدر کہتے ہیں

      ۔۔ گورکھ دھندہ بے ربط ہی ہوتا ہے 😛
      بہرحال خیال کی تعریف کا شکریہ 😀

  2. N.A. Shahid کہتے ہیں

    Nice Article, ALLAH bless you

تبصرے بند ہیں.