معاشرہ اور ہماری خواتین کی ذہن سازی 

1,949

اس سال گرمیوں میں شمالی علاقہ جات کی سیر کرنے کا موقع ملا۔ سیر و تفریح انسان کو دوبارہ سے زندگی کی پریشانیوں سے لڑنے کے لیے تازہ دم کر دیتی ہے۔ پچھلے ہفتے چچا جان ملنے آئے تو میں انہیں اس سیر کا احوال سنا رہی تھی۔ چچا نے فوراً ٹوکتے ہوئے کہا کہ یہ گھومنے پھرنے کا شوق کنواری لڑکیوں کو نہیں ہونا چاہئیے۔  شادی کے بعد شوہر کے ساتھ گھومنا۔ مجھے ان سے ایسے جواب کی امید نہیں تھی۔ عجیب بے بسی تھی جو اس وقت مجھے محسوس ہوئی۔ یہ سوچ صرف میرے چچا کی نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے کا ہے۔ لڑکیوں کی زندگی ان کی شادی کے بعد شروع ہوتی ہے اس سے پہلے انہیں جینے کا کوئی حق نہیں۔

ایک صاحب نے ریڈیو سٹیشن کے پروگرام میں کال کی اور میزبان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “جناب بیویاں شوہر کے گھر آ کر اتنی فرمائشیں کرتی ہیں جیسے ان کے والد صاحب مغل بادشاہ تھے۔” تو جناب اس میں قصور عورت کا نہیں بلکہ معاشرہ اور اس نفسیات کا ہے جو عورت کو شادی کا لولی پوپ دے کر جھوٹی تسلّی دیتے ہیں کہ جو بھی خواہش ہے شادی کے بعد پوری کرنا۔ اب چاہے وہ خواہش ساڑھی پہننے کی ہو، لال لپ اسٹک لگانے کی ہو یا موبائل لینے کی۔ ہر خواہش کا دروازہ شادی کے بعد ہی کھلے گا۔ شادی کے بعد سسرال والے کہتے ہیں کہ جتنا جینا تھا جی آئی۔ اب سنبھالو یہ جھائو، یہ پونچھا اور یہ توا۔ اب یہ ہے تمہاری زندگی۔

کہا جاتا ہے کہ قریش مکّہ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفنا دیا کرتے تھے۔ ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہم بہت اچھے لوگ ہیں ۔ ہم اپنی بیٹیوں کو زنددہ نہیں دفناتے بلکہ انہیں جیتے جی مار دیتے ہیں۔ ایسے مضامین میں ہم لفظ معاشرہ استمال کرتے ہیں۔ مگر معاشرہ وہیں سے شروع ہوجاتا ہے جب والدین اور گھر والے اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ ایک لڑکی ہے۔  یہ معاشرہ گھر کے انہی لوگوں سے بنتا ہے جو اس کے دماغ میں یہ بیج بوتے ہیں کہ وہ کمزور ہے اور  مرد کی محتاج ہے۔ اب وہ مرد کتنا ہی غیر ذمےدار اور کم ظرف کیوں نہ ھو وہ ہر حال میں عزت کے قابل ہے جبکہ لڑکی کی عزت نفس کا فیصلہ کھانے میں نمک کی مقدار پر  منحصر ہے۔ یہ عام سوچ ہے کہ عورت جو فیصلہ کرے گی وہ اچھا نہیں کر پائے گی اسلیے اسے وہی کرنا چاہئیے جو اس کے بڑے کہ رہے ہیں۔ بعض لڑکیاں ساری عمر یہی سوچتی رہتی ہیں کہ آخر ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔

آپ کو اپنے گرد بہت سی عمر رسیدہ خوتین ملیں گی جن کی زندگی صرف اچھا کھانا پکانے تک ہی محدود رہی۔ میں جب کسی ایسی عورت کو دیکھتی ہوں جس کی آنکھوں کے گرد حلقے ہوں، صحت گری ہوئی ہو اور عمر سے بڑی دکھائی دے رہی ہو تو میں سمجھ جاتی ہوں کہ وہ ایک ماں ہے۔ یہ ماں چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہوجاتی ہے، اس کی سوچ ہمیشہ اپنے گھر کے گرد گھومتی ہے، اس کو خود کسی چیز کا شوق نہیں ہوتا مگر سب کی پسند سے واقف ہوتی ہے۔ یہ ماں ہمیشہ ڈری اور سہمی ہوئی رہتی ہے کہ اس سے کوئی غلطی ہوگئی تو اس کا شوہر اسے کیا کہے گا۔  گزشتہ ہفتے میں اپنی سہیلی کی والدہ سے ملی۔ ان کی ساس نے گھر کے کاموں کے چکر میں ان سے اتنی سیڑھیاں چڑھوا لیں کہ اب ان کے جوڑ جواب دے چکے ہیں۔  یقیناً یہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ عورت کی زندگی کا مقصد بس ایک گھر بنانا اور اسے جوڑ کر رکھنا ہے۔ اس کی اپنی صحت اور شوق کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور اسی کا نام ہی تو قربانی ہے۔

بہت سے ایسے لوگ جو روائیتی خیالات کا شکار ہیں، اپنی بیٹیوں کی سادگی، معاشرے کے نشیب و فراز سے نا آشنائی اور ذہنی ناخواندگی پر فخر کرتے ہیں۔ مگر یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی پرندے کے پر کاٹ دیے جائیں۔  جو سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی طاقت اللّه نے اسے عطا کی تھی، اپ نے اس سے چھین لی ہے۔ آپ نے اسے پتا ہی نہیں لگنے دیا کہ وہ خود اعتماد ہوسکتی ہے، سوچ سمجھ سکتی ہے اور مشکل وقت میں صحیح فیصلہ کر سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں پلی بڑھی خواتین کو زندگی میں کئی  مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے کیونکہ ان کو کسی نے کبھی کچھ سمجھا ہی نہیں ہوتا جبکہ دوسری طرف ایسی خواتین جن کی زندگی میں موجود مرد ان کی رائے کا احترم کرتے ہیں اور زندگی کے فیصلوں میں ان کی  رائے کو اہمیت دیتے ہیں ان میں خود اعتمادی اور فیصلہ کرنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ اس سوچ کو بدلا جائے اور اپنی زندگی میں موجود تمام خواتین کو خود اعتماد بننا سکھایا جائے۔ ان کی رائے کا احترم کیا جائے۔ ان سے  اہم باتیں کی جائیں اور رائے لی جائے تا کہ وہ بہتر فیصلے کر سکیں۔  اپنی بیٹیوں کو بہادر بنائیں اور معاشرے کے نشیب و فراز سے آشنا رکھیں تا کہ کوئی انکی معصومیت کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ کیونکہ اگر آپ ان کو بہادر بننا اور خود پر اعتماد کرنا سکھائیں گے تو ان کو مشکل حالات سے لڑنے کا حوصلہ ملےگا ورنہ جو سبق معاشرہ سکھاتا ہے وہ بہت تلخ ہوتا ہے۔

عائشہ نور انگریزی ادب کی طالبہ ہیں۔ اردو ادب کا مطالہ کرنے اور معاشرتی مسائل پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت خوب۔ جس مسئلہ پر آپ نے قلم اٹھایا ہے وہ بنیادی مسئلہ ہے۔ اس تحریر پر آپ مبارکباد کی مستحق ہیں۔

    1. عائشہ نور کہتے ہیں

      بہت بہت شکریہ۔

تبصرے بند ہیں.