چینی قوم اور ان کی وقت کی پابندی کی عادت

1,941

میں نے اپنی زندگی کے دو سال چائنہ میں گزارے۔ ان دو سالوں نے مجھے بہت کچھ سکھایا اور میں ایک مختلف مگر بہتر انسان کے طور پر پاکستان واپس آئی۔ ان خوشگوار تبدیلیوں کا سہرا میرے چینی پروفیسرز، دنیا بھر سے آئے ہم جماعتوں اور میرے چینی دوستوں کو جاتا ہے۔ اپنے اس قیام کے دوران مجھے ایسے محسوس ہوا کہ چینی قوم کو ایک ترقی یافتہ قوم بننے کے لیے ابھی بھی بہت سی تبدیلیوں سے گزرنا ہے مگر اب بھی وہ سماجی اور اخلاقی طور پر وہ ہم سے بہت آگے ہیں۔

انہوں نے جان لیا ہے کہ اگر ترقی کرنی ہے تو وقت کی پابندی لازم ہے۔ کیا چھوٹا کیا بڑا، سب کی ایک ہی عادت وقت کی پابندی۔ میں نے اپنے دو سالہ قیام میں ایک بھی چینی ایسا نہیں دیکھا جو وقت پر نہ پہنچ سکنے پر بہانے تراش رہا ہو۔ وقت کی پابندی چینیوں کی گھٹٰی میں پڑی ہوئی ہے۔ جب پہلے دن یونیورسٹی میں کلاس لینے گئی تو میں پہلے سے پروفیسر کو وہاں بیٹھے دیکھ کر حیران رہ گئی۔ کلاس آٹھ بجے شروع ہونا تھی اور میں مقررہ وقت سے پندرہ منٹ پہلے پہنچی تھی اور پروفیسر وہاں پہلے سے موجود تھا۔ پورا سمسٹر وہ پروفیسر ہمارے آنے سے پہلے ہی موجود ہوتا تھا۔ میرے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ پاکستان میں بہت کم پروفیسرز وقت کی پابندی کرتے ہیں بلکہ یہ تو اب روایت پڑ گئی ہے کہ جیسے جیسے انسان ترقی کی منازل طے کرتا ہے ویسے ویسے تاخیر سے پہنچنا اپنا شیوہ بنا لیتا ہے کہ اسی سے سٹیٹس چھلکتا ہے۔ پانچ دس منٹ کی دیر کو تو ہم کسی کھاتے میں ہی نہیں لاتے۔

ایک دوسرے پروفیسر نے مجھے صبح دس بجے ملاقات کا وقت دیا۔ میں پانچ منٹ پہلے اس کے دفتر پہنچی تو مجھے لاکڈ دروازہ دیکھ کر ایک دھچکا سا لگا۔ خیر میں انتظار کرنے لگی۔ ٹھیک نو بج کر انسٹھ منٹ پر کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز آئی اور ٹھیک دس بجے پروفیسر مجھے ہیلو کہہ رہا تھا۔ میرے پروفیسرز نے میری وقت کی پابندی کی عادت کو مزید پختہ کر دیا ہے۔

ایک سال گزرا تو سوچا کوئی کام بھی کر لیا جائے تاکہ پاکستان واپسی پر کوئی موٹی سی رقم ہمراہ ہو۔ دیسی لوگ۔۔ دیسی سوچ۔ مختلف ویبسائٹس پر نوکریوں کی درخواستیں جمع کروائیں۔ ایک جگہ سے ای میل آگئی۔ ای میل میں کہا گیا تھا کہ میں انہیں ٹیلیفون انٹرویو کا وقت بتا دوں۔ میں نے شام چار بجے کا وقت انہیں دے دیا۔ انٹرویو کے دن پورے چار بجے میرے فون پر ان کی کال آ گئی۔ فون پر کال رسیو کرتے ہوئے میں ان کی وقت کی پابندی کی عادت کو سراہ رہی تھی۔ پاکستان میں بہت بار نوکری کے انٹرویوز دینے کا اتفاق ہوا۔ یہاں انٹرویو کلچر بالکل مختلف اور الگ ہے۔ انٹرویو کے لیے جو وقت دیا جاتا ہے اس پر کبھی بھی انٹرویو شروع نہیں ہوگا۔ آپ کے پہنچتے ہی آپ کو انتظار گاہ میں بٹھا دیا جائے گا اور آدھے گھنٹے سے ایک گھنٹے تک کا انتظار کروایا جائے گا۔ کبھی کبھار تو ایسے لگتا ہے جیسے جان بوجھ کر انتظار کروایا جاتا ہے، اس کی توجیہ شائد ہی میں کبھی سمجھ پائوں۔

بیجنگ میں میری ایک چینی دوست تھی۔ اس کا نام ایمی تھا۔ وہ اکژ اتوار کے روز مجھ سے ملنے آتی تھی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کے لینگویج پارٹنر بھی تھے۔ وہ مجھ سے اردو سیکھ رہی تھی اور میں اس سے چینی زبان کے اسباق لے رہی تھی۔ ایک دفعہ وہ آئی تو اس کے بال کندھوں تک کٹے ہوئے تھے۔ میں نے وجہ پوچھی تو وہ آرام سے بولی کہ “لمبے بالوں کو سکھانے میں بہت وقت لگتا ہے، اس لیے میں نے بال کاٹ لیے۔ اب میں کم وقت میں اپنے بال سکھا سکتی ہوں۔” میں توقع کر رہی تھی کہ وہ بال کٹوانے کی وجہ جدید فیشن یا اپنی پسند بتائے گی مگر اس کی بتائی ہوئی وجہ سن کر میں اس کا منہ تکنے لگی۔ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں دنیا میں؟ میں نے اپنی زندگی میں کسی کو بہت وقت لگتا ہے کی وجہ سے بال کٹواتے نہیں دیکھا تھا، حیران ہونا تو بنتا تھا۔

اگر یہ کہا جائے کہ چینی قوم وقت کی پوجا کرتی ہے تو یہ کسی طور بھی غلط نہ ہوگا۔ ان کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ آپ کبھی کسی چینی کو ایسے ہی کسی چوک پر بیٹھے یا کسی کھوکھے نما دوکان پر کھڑے ارد گرد کے لوگوں کو گھورتے ہوئے نہیں دیکھیں گے۔ ہر چینی وقت کو اپنا سب سے قیمتی سرمایا جانتا ہے۔ ان کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ انہیں اپنے وقت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے وقت کا بھی احساس ہوتا ہے۔ اگر کوئی چینی دیے ہوئے وقت پر نہ پہنچ سکتا ہو تو وہ آپ کو پہلے سے مطلع کر دے گا تا کہ آپ کا وقت ضائع نہ ہو۔ ہم چین سے بہت کچھ درآمد کر رہے ہیں۔ اگر یہ ایک عادت بھی وہاں سے یہاں لے آئیں تو ہماری ترقی کا سفر تیز ہو سکتا ہے اور ہم بھی ترقی یافتہ قوموں کی فہرست میں اپنا نام لکھوا سکتے ہیں۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

8 تبصرے

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہترین

  2. Awais Ahmad کہتے ہیں

    بہت عمدہ

  3. تحریم عظیم کہتے ہیں

    شکریہ

  4. nawaz zaman کہتے ہیں

    aik gandhi machli sara talab gandha ker sakti hay… aur humray haan agar koi asa kerna b chaye to log kernay nahi detay . na humari hakumat .. 3.3 gantay bijli k liya rukna parta ha. a jaye to yeh 5 min k kaam ha ker loun..3 gantay Cng station pe 200 rs ke gas bharwanay main lag jatay hain. kisay urain hum waqat k sath.

  5. Mr.Sah کہتے ہیں

    ميں خود ايک ساوتھ کورين کمپنی ميں جاب کررہاہوں بے شک جيسا کہ تحريم عظيم صاحبہ فرمارہی ہے ان لوگوں کی ترقی کا راز ہی وقت کی پابندی ہے مگر ہم لوگ کب سيکھے گے ميں نے آٹھ سال ان کے ساتھ گزارے مگر آج تک سيکھ نہ پايا

  6. ارشد فاروق بٹ کہتے ہیں

    بہت خوب۔ ہمارے ہاں پڑھا لکھا طبقہ بھی وقت کی پابندی نہیں کرتا۔ کسی ولیمے پر چلے جائیں۔ تین گھنٹے کا انتظارکہیں نہیں گیا۔ بس سٹاپس پر بسیں آدھا دن انتظار کروانے کے بعد روانہ ہوتی ہیں اور اگلے سٹاپ پر سواریوں کو دوسری بس والوں کو فروخت کر کے واپسی کی راہ لیتی ہیں۔ یہ کلچر اب تبدیل ہونا چاہئے۔

  7. محمدیاسین کہتے ہیں

    بہترین ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ۔ لاہور میں اپنے چینی دوست سےملاقات کا وقت طے ہوا شام چار بجے دو دوست اور بھی تھے لیکن کرنی ایسی ہوئی کہ اس دن ملاقات نہ ہوسکی اور نہ ہم اسے آگاہ کرسکے وہ دن اور آج کا دن اس شخص نے ہمیں ملاقات کا وقت دیا نہ کوئی بہانہ ۔

  8. Yaylo کہتے ہیں

    وقت کی پابندی اور زہنی بیمایوں کے درمیان جو تعلق ہے اس پر بھی ایک مقالہ ہو جائے
    Twitter @yaylojournalist

تبصرے بند ہیں.