بیت المقدس: قبلہ اول یا قبلہ سابق؟

3,147

اسرائیل کا بیت المقدس پر قبضہ یا  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں مگر اس تنازعہ کو تاریخ کی نظر سے دیکھیں تو  یروشلم ایک ایسا علاقہ جس پر مسلمان, عیسائی  اور یہود  گاہے بگاہے  قبضے کا خواب دیکھتے آئے ہیں اور اسکی تکمیل بھی کر چکےہیں۔

یقیننا ً امت مسلمہ ایک فرد واحد کی مانند ہے اور فلسطینی ایک مظلوم قوم ہیں جو اپنے گھر سے دربدر ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس زمینی تنازعہ کو ہم مذہبی تنازعہ بنا کر کیامقاصد حاصل کر سکتے ہیں؟ اسی تنازعے کے حوالے سے مزید سوالات بھی ہیں جن کے جواب ہمیں ضرور ڈھونڈنے چاہئیے۔

کیا بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے ؟

کیا اسکی کوئی مذہبی حیثیت اب باقی ہے؟

کیا متروک املاک پر مذہبی حق جتانا چاہیے؟

ہمیں پہلے ان سب سوالات کے جواب تلاشنے چاہئیے۔ اگر بیت المقدس قبلہ اول ہے تو خدا تعالٰی  قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے

اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَـلَّذِىۡ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ​​ۚ﴿3:96‏ ﴾

“سب سے پہلا گھر جو لوگوں کیلئے بنایا گیا وہ گھر ہے جو مکّہ میں ہے’برکت والا ‘ ہدایت والا’ جہاں والوں کیلئے.

اولاد بنی آدم کیلئے خانہ کعبہ کو سب سے پہلا قبلہ قرار دیا گیا۔ اس قبلہ کی تعمیر نوحضرت ابراہیم ااورحضرت اسماعیل نے کی یہی انکا اور امت کا قبلہ قرار پایا۔ خانہ کعبہ کو حضور کی ولادت سے پہلے کے واقعات میں دیکھیں تو تب بھی خانہ کعبہ ہی قبلہ ہے۔ اس سلسلہ میں ایک اہم واقعہ جب یمن کے حاکم ابرہہ نے 570 سنہ میں جو حضور کا سنہ ولادت ہے خانہ کعبہ کو منہدم کرنے کیلئے لشکر کے ساتھ روانہ ہوا  تو آنحضرت  کے داد عبدالمطلب نے جو قریش کے سردار تھے ابرہہ سے رابطہ کیا مگر وہ نا مانا اور خانہ کعبہ پرچڑھائی کا مصمم ارادہ کر لیا۔ محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں  کہ عبدالمطلب نے جو خانہ کعبہ کے متولی تھے قریش والوں سے کہا کہ اپنے بال بچے لیکر پہاڑوں پے چلے جاؤ  اور قریش کے چند سردار حرم میں حاضر ہوئے اور کعبہ کا کونڈا پکڑ کر انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگی۔

ابن ہشام نے یہ اشعار نقل کیے ہیں

خدایا! بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تُو بھی اپنے گھر کی حفاظت کر

اگر تو ان کو اور ہمارے قبلہ کو اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہتا ہے تو جو تو چاہے کر

(تفہیم القرآن  الناس__الم نشرح) از سید ابوالاعلیٰ مودودی)

اس مشہور واقعہ  اور دعاؤں سے صاف ظاہر ہے کہ خانہ کعبہ اس وقت بھی خانہ خدا سے منسوب تھ ۔حجر اسود کے نصب کرنے کا موقع آیا تو تمام قریش میں جھگڑا پیدا ہوا یہاں تک کےنوبت تلواریں کھنچ جانے تک آگئی اور اُمیہ بن مغیرہ کی رائے کے مطابق فیصلہ ہوا اور آنحضرت اس فریضے کیلئے منتخب ہوئے۔

ان واقعات کا بیان کرنے کا مقصد یہی ہے کہ اس وقت بھی قبلہ خانہ کعبہ تھا نہ کہ بیت المقدس۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ.

فَاَقِمۡ وَجۡهَكَ لِلدِّيۡنِ حَنِيۡفًا ​ؕسورۃ روم آیت ۳۰

اے محمد)  تم ہر طرف سے سے صرفِ نظر کر کے دینِ ابراہیمی کیلئے کمر بستہ ہو جاؤ )ُُُُُ

ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ سورۃ نحل۱۲۳

پھر اے پیغمبر) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ ابراہیم کے طریقے کی پیروی کرو جو ہر طرف سے ہٹا ہوا (صرف دین حق پر ہی کاربند رہنے والا) اور مشرکوں میں سے نا تھا.

سب سے پہلے جس مقام کو نوع انسان کیلئے مرکز قرار دیا گیا وہ یہی مکہ ہے اسکے علاوہ کوئی ایسا مقام نہیں جس کو قبلہ قرار دیا گیا ہو۔.

کہ جو بھی شخص اسمیں داخل ہو گیا اسے ہر طرف سے امن و سلامتی حاصل ہو جائے گی۔ سورہ البقرہ آیت ۱۲۵

اسی مقام کا حج فرض قرار دیا گیا۔ سورہ الحج ۲۲ آیت ۳۳

اسی کو مقام ابراہیم کہا گیا

اسی کو اللہ تعالیٰ نے اپنا گھر قرار دیاسورہ البقرہ آیت ۱۲۶

ان حوالوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ اس وقت بھی مسلمانوں کا قبلہ کعبی ہی تھا اور آج بھی ان کا قبلہ یہی کعبہ ہے۔ رہی بیت المقدس کی بات تو یہ ایک مقامی جگہ تھی جس کو حضرت دائود  اور  حضرت سلیمان نے تعمیر کیا تھا مگر اس کو کبھی انسانوں کا مرکز قرار نہیں دیا گیا اور نا ہی رسالت مآب نے بیت المقدس کا حج کیا جب کہ قبلہ کا  تعلق حج سے ہے۔ قرآن پاک میں بھی بیت المقدس کو قبلہ قرار نہیں دیا گیا۔

بیت المقدس  قابل ِاحترام ضرور ہے مگر ایک سابقہ حیثیت میں۔ اس کو ایک فلسطین  اسرائیل تنازعہ کی صورت میں  دیکھنا چاہیے نہ کہ مسلمان اور یہود تنازعہ میں۔ کیونکہ اگر اس کو مذہبی صورت میں اجاگر کیاگیا تو مزید یہ کیس کمزور ہو گا۔اس کو انسانی بنیادوں پر جلد سے جلد حل ہونا چاہیے تاکہ دنیا ایک پائیدارحل کی طرف بڑھ سکے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. FD کہتے ہیں

    nobowwat ke pehle 10 saal musalmaan bait ul maqdis ki taraf mn ker ke namaaz parhtay thaay.

  2. حافظ محمد شعیب کہتے ہیں

    جناب نقوی صاحب دینی علوم سے ناواقفیت کی بنیاد پر یہ بات کہہ رہے ہیں
    صحیح مسلم میں براء بن عاذب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مکہ کے ١۳ سال اور مدینہ میں 17ماہ تک ہم بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے
    رہے بعد میں قبلہ کی تبدیلی کا حکم آیا
    مزید بہت سے دلائل موجود ہیں بوقت ضرورت پیش کئے جاسکتے ہیں

  3. حافظ محمد شعیب کہتے ہیں

    باقی رہا مسجد حرام کا معاملہ تو اس میں کوئی دوسری راٴے نہیں کہ مسجد حرام روءے زمین کی پہلے مسجد ہے نہ تو یہ قبلہ اول ہونے کی دلیل ہے اور نہ ہی بیت المقدس کا قبلہ اول ہونا مسجد حرام کی اہمیت کو کم کرتا ہے

تبصرے بند ہیں.