کپتان یا شہباز ؟اگلے وزیرِاعظم کیلئیے دو نام فائنل

6,983

سال 2017ء کو ملکی تاریخ میں عدلیہ کے اہم ترین برسوں میں شمار کیا جائے گا۔ نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ سنانے کے بعد ملک کی سب سے بڑی عدالت نے جمعہ پندرہ دسمبر کو ملکی عدالتی تاریخ کے دو مزید اہم فیصلے سنا دیئے۔حنیف عباسی کی جانب سے دائر نااہلی کی درخواست میں عدالت نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دے دیا۔جبکہ ان کے قریبی ساتھی جہانگیر خان ترین کو نااہل قرار دے دی۔ اسی روز سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے حدیبیہ پیپرملز کیس کھولنے کی نیب اپیل مسترد کر دی۔جس کے بعد شریف فیملی نے یقیناً سکھ کا سانس ضرور لیا ہوگا۔سب سے زیادہ ریلیف شہباز شریف کو ملا ہوگا ورنہ بڑے بھائی کے بعد ان پر بھی نااہلی کی تلوار لٹکنے کا خطرہ ہوتا۔

سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بعد مستقبل میں ملکی سیاسی صورتحال کا کیا رخ ہو گا۔اب تصویر واضح ہو گئی ہے۔ایک بار پھر ن لیگ کا کم بیک ہوا ہے۔ اگر اگلے الیکشن میں شہباز شریف وزرات عظمیٰ کے امیدوار ہوئے تو عمران خان کو یقیناً الیکشن جیتنے کیلئے خاصی تگ و دو کرنا پڑے گی۔

بھولا خبری ایسا عیار ہے جب اس کی ضرورت پڑتی ہے تو ناہنجار کو ناجانے زمیں نگل جاتی ہے یا آسمان کھا جاتا ہے نظر ہی نہیں آتا۔ بہت مشکل سے رابطہ کیا تو ندیدے نے خود بخود ہی راقم کو زبردستی کا میزبان بنا دیا۔اور فرمائشی کھانوں کی لسٹ سناتے ہوئے اطمینان سے ملاقات کا وعدہ کیا۔ مجبوراً راقم نے بھی ہاں کہہ دی۔ حسب روایت ملاقات میں سلام دعا کے فوری بعد کھانے کا پوچھا اور دستر خوان پر براجمان ہو کر کھانے میں محو ہو گیا۔ راقم نے اسی دوران جب سیاسی صورتحال کا ذکر چھیڑا اور بھولے خبری کو یاد کرایا کہ نمک کو حلال کرے تو فورا سے بول پڑا۔بھولے خبری نے ایک بار پھر وہی خبر دی جو اس نے ڈیڑھ سال پہلے دی تھی۔ وہ اس بات پر قائم ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اگلا وزیراعظم عمران خان کو ہی دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن ساتھ ہی عمران خان کو فری ہینڈ بھی نہیں دینا چاہتی۔ اس لیے کپتان پر دباؤ بھی برقرار رکھنا ہے۔ بھولے کا کہنا ہے کہ حدیبیہ کیس کے فیصلے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی مشکل آسان ہو گئی ہے۔ اب کپتان کو باآسانی باور کرایا جا سکے گا کہ وزارت عظمیٰ کیلئے پہلی پسند تو ہوسکتے ہیں لیکن واحد پسند نہیں۔ اگر عمران خان اپنی حدود سے تجاوز کرینگے تو دوسرے مقبول لیڈر شہباز شریف کو بھی وزرات عظمیٰ کے سنگھاسن پر بٹھایا جا سکتا ہے۔

راقم نے پوچھا کہ شہباز شریف کو کم و بیش نو مواقع مل چکے ہیں لیکن انہوں نے ہر بار اپنے بڑے بھائی کی تابعداری میں وزارت عظمیٰ کی کرسی کو لات ماری ہے۔مستقبل میں وہ کس طرح نواز شریف کی حکم عدولی کر سکتے ہیں۔ اس پر بھولے خبری جیسے بدذوق نے اپنی شخصیت کے برعکس ایک خوبصورت شعر کہہ ڈالا

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا !!!

شعر کہتے ہوئے مچھلی اپنے پلیٹ میں ڈالتے ہوئے بولا نواز شریف کی نااہلی کے بعد ن لیگ واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے شہباز شریف اور چودھری نثار کو کچھ تجاویز دی گئیں تھیں۔ لیکن ان پر عمل درآمد مکمل طور پر نہ ہو سکا۔ راقم کے اصرار پر بھی بھولے نے تجاویز نہ بتائیں۔ اور مکار ہنسی ہنستے ہوئے بات آگے بڑھا دی۔ بھولے خبری نے کہا کہ اس کی ڈیڑھ سال پہلے والی خبر درست ثابت ہوچکی ہے کہ جس میں کہا تھا مریم نواز پارٹی سنبھالنا چاہتی ہیں۔جس کے باعث شہباز شریف فیملی کو تحفظات ہیں۔ بھولے خبری نے اپنی ایک اور درست خبر کا بتایا کہ کلثوم نواز کی وجہ سے شہباز شریف کو این اے 120کا ضمنی الیکشن نہ لڑنے دیا گیا۔ نوازشریف اور شہباز شریف کی حد تک تو ٹھیک ہے۔ لیکن جب بات آگے اولاد تک آجائے تو یقینا فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ شریف فیملی کی جلا وطنی میں حمزہ شہباز ہی وہ واحد فرد تھا جس نے ڈکٹیٹر کا سامنا کرتے ہوئے ن لیگ کو جمع کرکے رکھا۔ حمزہ شہباز کی جو خدمات ن لیگ کیلئے ہیں وہ اگلے دس سال تک بھی مریم نواز نہیں کر سکتیں۔ کھیر پکائیں حمزہ شہباز اور کھائیں نواز شریف کے بچے۔اس حق تلفی پر دونوں فیملیز میں کافی دوریاں بڑھ چکی ہیں۔

بھولے خبری کا کہنا ہے اسٹیبلشمنٹ نے ایک بار پھر گیند نواز شریف کے کورٹ میں پھینک دی ہے۔ اب نواز شریف پر منحصر ہے وہ اپنے چھوٹے بھائی کو مرکز کی سیاست کرنے کی اجازت دیکر خود ایک بڑے شکنجے سے نکل سکتے ہیں یا پھر وہی ضد ،انا اور غلط مشیروں کی باتوں میں آکر مریم نواز کو ہی اپنا جانشین بنائیں گے۔بھولے خبری نے تقریبا چھے ماہ پہلے والی بات دہرائی۔جس میں پنامہ فیصلے سے قبل ہی اس نے پیش گوئی کی تھی کہ اس فیصلے کے نتیجے میں نواز شریف نااہل ہو جائیں گے۔اور 2018ء کی نصف کے بعد شریف فیملی کے ارکان کے پابند سلاسل بھی ہونے کا امکان ہے۔

بھولے خبری نےایک اور بڑی مخبری بھی کی۔جس کے مطابق اگلے سال کے آغاز سے دیگر سیاسی افراد کے خلاف بھی کرپشن کے بڑے بڑے کیس کھلیں گے۔ خواجہ آصف اور اسحاق ڈار بھی کلین بولڈ ہوں گے۔ جبکہ اگر وزیراعظم شاہد خاقان کے خلاف کوئی کیس دائر ہوا تو اس کا فیصلہ بھی ان کے گلے کی ہڈی بن سکتا ہے۔

بظاہر تو ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی تلاش ‘مکمل ‘ ہو چکی ہے۔ مقبولیت کا عنصر مدنظر رکھا جائے تو اگلے عام انتخابات میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف مرکز میں حکومت کرتی دکھائی دیتی ہے۔پنجاب ن لیگ کے ہاتھ سے نہیں جائے گا لیکن اس کی عددی برتری میں کمی ضرور ہوگی۔ سندھ میں پی ایس پی اور متحدہ پاکستان اس بار پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے سے روکتی نظر آرہی ہیں۔ خیبر پختون خوا میں کپتان کے کھلاڑی ہی حکمرانی کرتے نظر آئیں گے۔بلوچستان میں وہی حکومت بناتا ہے جو مرکز میں برسراقتدار ہو۔ تاہم بھولا خبری جاتے جاتے دو اور اہم باتیں کر گیا۔ اول تو یہ کہ عام انتخابات کے ستمبر اکتوبر سے پہلے ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اور اس سے قبل حکومت تحلیل ہونے کے بھی کافی زیادہ امکانات ہیں۔جس کے بعد ٹیکنوکریٹ حکومت متوقع ہے۔ اس کے مطابق رواں سال عام انتخابات کے انعقاد کا 30فیصد سے زیادہ امکان نہیں۔ اور اگر الیکشن ہوبھی جاتے ہیں تو مرکز اور صوبوں میں برسراقتدار جماعت کو بھاری اور خطرناک اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑے گا۔اور دوسری بات یہ کہ کپتان اتنے پراعتماد ہیں کہ ان کی شیروانی بھی تیار ہے۔حدیبیہ کیس کے بعد شہباز شریف کو بھی گرین سگنل مل چکا ہے۔لیکن ان کی شیروانی اور شریف فیملی کے احتساب کا دارومدار صرف نواز شریف کے فیصلے پر ہی ہے۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. Athar کہتے ہیں

    Next Govt. Should be of that party who truly complete the requirement of a democrat Govt…. but Alas our political system cannot update its credibility.. keep it up very correct analysis

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Athar sab .thank you very much

  2. zakirya کہتے ہیں

    Abbb Imran Khan ko chaheye k apny faisalay khud kary or dosoron ki baat zaror sunnain but apna demag istemal kr k decision lain…. jahan tak Shehbaz Sharif ki baat hy wo apny bhai ki nisbat apny faisaly khud lyty hn.. agr PM bny tuu shayad achi policies lain…

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Zakirya , aik sahafi k tor per humra kam to sirf aik rukh hi dikhana hota h muashrey ko . baqi kam awam r mtulaqa hukam ya party ka hota hai .

  3. Sarosh Mayo کہتے ہیں

    بہت عمدہ

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Sarosh Thank you

  4. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    نواز شریف کا اگلے الیکشن میں شہباز شریف کو وزیراعظم کا امیدوار قرار دیدیا ۔کالم میں لکھی ایک اور پیش گوئی صر ف 2 روز بعد درست ثابت ہو گئی ۔

تبصرے بند ہیں.