خون آشام سولہ دسمبر اور پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی

2,158

آج سے تین سال قبل سولہ دسمبر کی ایک سرد صبح تھی جب بہت سے بچوں نے سکول جانے سے قبل اپنے والدین کو نخرے دکھائے تھے۔ وہ سردی کے باعث سکول نہ جانا چاہتے تھے لیکن اْن کے والدین نے اْنھیں پیار محبت سے اْٹھا کر ناشتہ کروا کر سکول بھیج دیا۔ انہیں کیا پتا تھا کہ ان کے یہ سکول جانے والے بچے پھر کبھی واپس لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ سفاک دہشت گرد صبح 11 بجے سکول میں داخل ہوئے اور معصوم بچوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور سکیورٹی فورسز کے پہنچنے تک ان ظالموں نے 132 معصوم بچوں سمیت 141 افراد کو شہید کر دیا۔ یہ ایسا شرمناک واقعہ ہے کہ جس کی مثال دنیا بھر میں کہیں نہیں ملتی۔

سانحہ اے پی ایس نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کا مطالبہ لواحقین سمیت پوری قوم کی طرف سے سامنے آیا۔ اس مطالبے کے نتیجے میں قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا اور متعدد دہشتگردوں کو پھانسی دی گئی اور سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا۔ لیکن کیا اس سے ملک میں دہشتگردی کم ہوئی؟ نہیں، بلکہ سانحہ پشاور کے بعد ان واقعات کی تعداد مزید بڑھی ہے۔

یہ واقعات ہمیں کیا اشارہ دیتے ہیں؟ یہ واقعات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اکا دکا دہشت گرد مارنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ملک میں امن قائم کرنے کے لیے ہمیں ان دہشتگردوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔ یہ دہشت گرد ملک کے دائمی دشمن ہیں۔ یہ بار بار اپنا چولا بدل کر ہمارے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ آخر کیوں؟ ان کے خاتمے کے لیے سخت ترین اقدامات کیوں نہیں کیے جارہے؟ کیوں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ان کے ٹھکانے معلوم کرکے انھیں نیست ونابود نہیں کیا جارہا؟ آخر ڈرون ٹیکنالوجی کس لیے ہے؟ کیوں نیکٹا کو فعال نہیں کیا جارہا؟ ہم کب تک لفظوں کے ہیر پھیر سے قوم کے زخموں پر مرہم رکھتے رہیں گے؟ ہمیں اپنی آزادی کی قیمت ایک بار طے کر لینی چاہئیے تاکہ بار بار کا رونا ختم ہو۔

ان دہشت گردوں نے ضربِ عضب پہ ضرب لگائی اور ردالفساد کو رد کر دیا۔ پشاور اسکول کے بچوں پر دہشت گردوں کا حملہ اپنی نوعیت اور شدت کے اعتبار سے مختلف سہی لیکن پاکستانی قوم کئی دہائیوں سے دہشت گردوں کا شکار رہی ہے۔

یہ دہشت گرد اس سے پہلے عبادت گاہوں پر حملہ آور ہو کر ثابت کر چکے ہیں کہ وہ تقدس کی حرمت سے بیگانہ ہیں۔ ملک کے بازاروں میں پر امن شہریوں کو خاک اور خون میں نہلا کر واضح کر چکے ہیں کہ یہ جنونی ہیں اور معمولاتِ زندگی کا حسن پہچاننے سے قاصر ہیں۔ ریاست کے اہم ترین دفاعی اداروں اور سفارت خانوں پر حملہ آور ہو کر مذہبی شدت پسندوں نے بتا دیا ہے کہ وہ انسانی اجتماع کی بنیادی علامتوں کو سمجھنے کی صلاحیت سے بھی عاری ہیں۔ مذہبی دہشت گردوں کی سوچ ایک جنون ہے جو وحشت کی صورت میں انسانی بستیوں پر اترتی ہے۔ یہ کوئی سیاسی سوچ نہیں جسے تہذیب کے دائرے میں جگہ دی جا سکے۔ یہ ایک وحشت ہے جو پھولوں ، پرندوں اور بچوں کے تعاقب میں ہے جسے انسانی مسرت سے عداوت ہے جو مسکراہٹ سے نفرت کرتی ہے اور جو اپنے اظہار کے لئے آگ، لہو اور آنسو ہی کی زبان جانتی ہے۔

اس دہشتگردی کے نتیجے میں ساٹھ ہزار سے زائد شہری اور آٹھ ہزار فوجی جوان شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں فرقے اور عقیدے کے نام پر جان سے ہاتھ دھونا پڑے، وہ بھی جو افغانستان میں اسٹرٹیجک گہرائی کی کھائی کا شکار ہوئے اور وہ بھی جنہیں وسطی ایشیا اور عرب ملکوں سے آنے والے بن بلائے مہمان دہشت گردوں نے اپنی سفاکیت کا نشانہ بنایا۔

اس دہشتگردی کے نتیجے میں ہمارے ان گنت شہری اپاہج ہوئے، ہمارے ملک کا امن برباد ہوا، ادارے اپنی ساکھ کھو بیٹھے شہریوں میں بداعتمادی کی گہری دراڑیں نمودار ہو گئیں۔ یہ ہماری اجتماعی ناکامی ہے۔ ریاستی ادارے اپنے کوتاہ نظر مفادات کے لئے خطرے کو نظر انداز کرتے رہے۔ ہماری سیاسی قیادت ریت میں سر چھپا کے بیٹھی رہی۔ ہمارے صحافی اور دانشور اپنی مفروضہ ذہانت کی مدد سے دہشت گردی کے مختلف جواز پیش کرتے رہے اور دہشت گردی کے خطرے کو نام نہاد بین الاقوامی سازشوں کے ساتھ خلط ملط کرتے رہے۔ ہمارے مذہبی رہنماؤں کو غلط فہمی رہی کہ دہشت گرد پاکستان کے آئینی، سیاسی اور تمدنی بدن سے گوشت کے جو ٹکڑے نوچیں گے وہ بالآخر مذہبی جماعتوں کے دستر خوان کا حصہ بنیں گے۔

ان دہشت گردوں کی جڑیں ہمارے اندر تک پھیلی ہوئیں ہیں۔ عشروں سے ہمارا یہ مزاج ہے کہ مذہب کا نام لے کر جو سورما وارد ہوتا ہے ہم اس پر تقدیس کی چادر ڈال دیتے ہیں۔ ہم برسوں دہشت گردی کی تعریف میں الجھے رہے۔ ہم نے برسوں یہ راگ الاپا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ اور مغرب کی لڑائی ہے اور ہمارا اس جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں۔ ہم کئی سالوں تک دہشت گردی کا شکار ہونے کا واویلا کرتے رہے۔ ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ دہشت گردوں نے ساری دنیا میں ہمارے ملک ہی کو اپنا ٹھکانہ کیوں بنا رکھا ہے۔آج سے تین سال پہلے یہ سب مفروضے اور دلیلیں پشاور آرمی ا سکول کے سانحے نے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی ہیں۔ جن دلیلوں کو ہم ملک سے غداری قرار دیتے تھے وہ معصوم بچوں کی ننھی قبروں پر موم بتیوں کی صورت میں روشن ہیں۔

آج عوام کا یہ موقف واضح ہو چکا ہے کہ ریاست مذہب کے نام پر ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ قومی مفادات اور قومی سلامتی کی ذمہ داری ریاستی اداروں کی ہے۔ قومی سلامتی کا تحفظ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ عوام صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے قومی فرائض انجام دے سکتے ہیں۔ ایسا ہر جتھا اور گروہ دہشت گرد ہے جو کسی بھی سیاسی اور مذہبی نصب العین کے ہتھیار اٹھاتا ہے، نام نہاد نیک مقاصد کے لئے جو تلوار اٹھائی جاتی ہے وہ بالآخر ہمارے لہو میں نیام ہوتی ہے۔ پاکستان میں سیاسی عمل اور قانون سازی کا ماخذ صرف یہاں کے باشندوں کی تائید سے قائم ہونے والی پارلیمنٹ ہے۔ کسی کو بھی یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ تقدیس کی منڈیر پر کھڑا ہو کر ہمارے آئین اور قومی اداروں پر چاند ماری کرے۔

دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں عوام کو بھی اپنا فرض ادا کرنا ہوگا۔ عوام کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ایسے تمام رویوں، افراد اور گروہوں کی کھل کر نشاندہی کریں جو دہشت گردی کے لئے نرم گوشے رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کے بارے میں ابہام بھی موجود ہے اور اس کی تائید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ہمیں ایسے سب عناصر کی نشاندہی کرنی چاہئیے جو قتال کی تعلیم دیتے ہیں، جو اکیسویں صدی میں گھوڑوں میں بیٹھ کر غنیم پر چڑھ کر دوڑنے کی اداکاری کرتے ہیں، جو پاکستان کے قلب میں بیٹھ کر ہمارے قاتلوں کی مذمت کرنے سے انکار کرتے ہیں، جو تعلیمی اداروں میں بیٹھ کر دہشت گردی کی تائید میں کتابیں رقم کرتے ہیں، جو اخبار کے صفحات پر غبارآلود سوچ کا پرچار کرتے ہیں۔ ہمیں لگی لپٹی رکھے بغیر ان کی نشاندہی کرنی چاہئے اور انہیں بتا دینا چاہئے کہ پاکستان میں علم، جمہوریت اور رواداری سے انحراف کی کسی صورت بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پشاور آرمی پلک اسکول کے درجنوں بچے اب واپس نہیں لوٹیں گے۔ ہم ان کی معصومیت اور مسکراہٹ سے محروم ہو چکے ہیں۔ ان بچوں نے آنے والے کل میں پاکستان کو اچھا بنانے میں جو حصہ ڈالنا تھا، وہ خواب پریشان ہو چکا۔ ان معصوم بچوں کو ہمیشہ کے لئے پاکستان کے دل میں محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ دہشت گردی کی تمام صورتوں کو دو ٹوک لفظوں میں رد کیا جائے۔

ہر سال آنے والا سولہ دسمبر اپنے ساتھ یہ پیغام لاتا ہے کہ ہمیں اب تعصب، مہم جوئی اور لسانی و علاقائی نفرت کو ترک کر کے قومیت اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہئیے تاکہ اس طرح کے سانحات سے مستقبل میں بچا جا سکے۔ وگرنہ خدا نخواستہ “تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔”

حسن نقوی ایک سینیر براڈکاسٹ جرنلسٹ ہیں جو جی فار غریدہ ٹاک شو میں پروڈیوسر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.