آرمی پبلک سکول کے شہداء کو انصاف کب ملے گا؟

1,571

سولہ دسمبر 2016ء کا دن پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ اُس دن تحریکِ طالبان پاکستان کے چھ مسلح دھشت گردوں نے پشاور کے آرمی پبلک سکول کے احاطہ میں داخل ہوکر ایک سو اکتالیس افراد کو بےدردی سے قتل کر دیا تھا۔ ان قتل ہونے والے طالبعلموں میں ایک سو بتیس نویں اور دسویں کلاس کے طلبا تھے جن کی عمریں بارہ سے لیکر اٹھاریں سال تک کی تھیں۔

یہ طلباء پاکستان کا وہ مستقبل تھے جنہوں نے آگے جاکر مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس ملک اور معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا تھا۔ یہ پوری ایک نسل تھی جس نے آگے چل کر اس ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی تھی۔ یہ اُن والدین کا بھی مسقبل تھے جنہوں نے انہیں پیدا کیا، پڑھایا لکھایا تاکہ وہ کل ان کا سہارا بن سکیں۔ ان والدین کو چند لاکھ دینے سے ان کے غم کا مداوا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ایک اتنا بڑا نقصان اور المیہ ہے کہ جس پر جتنا بھی افسوس کیا جائے کم ہے۔ میں اس بلاگ میں چند ایسے ہی سوال اہل اختیار سے کرنا چاہتا ہوں۔

اول: تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دشمن پر حملہ کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے اپنے گھر کو محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ دشمن پلٹ کر ہمارے ہی گھر پر حملہ نہ کر دے۔ ہم نے ایسی حکمت عملی کیوں نہیں بنائی تھی؟ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے دشمن کو پہچانا نہیں یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کی ہوئی تھیں؟

دوم: پاکستان کے کچھ سیاسی اور مذہبی حلقوں کی جانب سے اس واقعے کی ان پر زور الفاط میں مذمت نہیں کی گئی جسی طرح کی جانی چاہیے تھی وہ کیا تقاضے اور مصلحتیں تھیں جن کی بنا پر ان کی زبان اس طرح نہیں چیخی اور نہ آنکھوں سے اس طرح پانی بہا جیسا کہ ایک سچے پاکستانی کا بہنا چاہیے تھا؟

سوم: اُن دنوں میں پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک ایسا پروپیگنڈا گروپ بھی سامنے آیا جس نے ان شہداء کی یاد میں موم بتی جلانے کو ہی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا کہ یہ جائز نہیں ہے۔ تو بھائی آپ کے نزدیک جو جائز ہے اس طریقہ سے اپنی عقیدت کا اظہار کرلو۔ ہم نے تو آج تک یہی دیکھا ہے کہ بزرگوں، اولیاء اکرام اور صوفیا اکرام کے مزاروں پر بھی چراغ اور اگر بتیاں جلائیں جاتیں ہیں تو پھر اگر ان بے گناہ آدم زادوں کی یاد میں موم بتیاں جلائی گئیں تو کون سی قیامت آگئی۔ قیامت تو ان ماں باپ پر آئی جن کے معصوم بچے شہید کردیے گے۔ آپ تو گھر بیٹھے گرما گرم چائے پیتے ہوئے بس فتویٰ دیتے رہے ۔

سوئم: قومیں ہمشہ اپنے وطن پر قربان ہونے والوں کی یادگاریں بناتی ہیں۔ ان کے ناموں سے شہر، شاہراہیں اور تعلیمی ادارے منسوب کیے جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ اس سانحے کے بعد ان طلباء کی یاد میں کوئی یادگار تعمیر کی جاتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس کی کیا وجہ تھی؟ کیا ان معصوم بچوں کی جان اتنی ہی ارزاں تھی؟

اب ذرا جامشورو میں قائم ہونے والے ایک گرلز کیڈٹ کالج کا بھی ذکر ہوجائے۔ قوم کے پیسے سے بننے والے اس کالج کا نام آصف زرداری کی بیٹی بختاور کے نام پر بختاور گرلز کیڈٹ کالج رکھا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر اس کالج کا نام اے پی ایس سکول کی شھید پرنسپل طاہره قاضی کے نام پر رکھا جاتا۔ وہ طاہرہ قاضی جو آخری دم تک اپنے طلباء کو بچانے کے لیے دہشتگردوں سے لڑتی رہی۔ ان کو بدبختوں نے گولی بھی ماری اور جلایا بھی۔ ذرا یہ بتا دیں کہ بختاور نے آج تک پاکستان کے لیے کیا کام کیا ہے؟ کیا ایک کالج اس لیے اس کے نام پر بنایا جا رہا ہے کیونکہ وہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی بیٹی ہے؟ کاش طاہرہ قاضی بھی کسی وزیر یا سیاستدان کی بیٹٰ ہوتی تو آج اس کی جان کی بھی اہمیت ہوتی۔

چہارم: 18 اکتوبر 2017ء کو اے پی ایس حملہ کا ماسٹر مائنڈ عمر خراسانی افغانستان میں ایک ڈرون حملہ میں مارا گیا۔ پاکستان میڈیا نے اسے بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا لیکن اس پر وہ ردعمل دیکھنے میں نظر نہیں آیا جیسا ردعمل اوسامہ بن لادن کے مرنے پر امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک میں نظر آیا تھا۔ اوسامہ بن لادن نے تو امریکہ کے صرف دو ہزار شہری ہی مارے تھے لیکن پاکستان کے ایک لاکھ شہری ان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے۔ اس معاملے میں ہماری اعلیٰ سیاسی قیادت سے لے کرعام شہری تک جس بے حسی کا مظاہرہ دیکھنے میں آیا وہ حیران کن ہے۔ مجال ہے کہ کہیں سے کوئی آواز آئی ہو۔ شائد اس کی وجہ یہ ہو کہ عمر خراسانی ایک امریکی حملہ میں مارا گیا۔ لیکن کیا وہ ہمارا دشمن نہیں تھا کیا اُس نے ہماری ماوُں کی گود نہیں اجاڑی تھی؟

پنجم: آئی ایس پی آر کی طرف سے سانحہ اے پی ایس پشاور کی یاد میں ایک گانا “ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے” جاری کیا گیا۔ میں ان سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اپنے بچوں کو مروا کر ان کے بچوں کو پڑھانا تھا؟ کیا اس گانے کے بعد دہشت گردوں کے حملے بند ہوگئے؟ کیا اس گانے کو سننے کے بعد انہوں نے امن کی فاختائیں بھیجنی شروع کردیں؟

اس افسوسناک واقعہ پر سوالات تو کئی اٹھتے ہیں لیکن جب ہر شاخ پر الو بیٹھا ہو تو گلستان کو قبرستان بننے میں دیر نہیں لگتی۔ آرمی پبلک سکول کے بچوں کے قتل کو شہادت کا جامہ تو ہم نے پہنا دیا لیکن اس سے ہماری کوتاہیاں نہیں چھپ سکتیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم نے ان تمام بچوں سے انصاف نہیں کیا۔ صرف ان سے کیا ہم نے پاکستان میں دھشت گردی کے نتیجہ میں جان بحق ہونے والوں کو بھی ہم بھول گئے ہیں۔ حکومت نے چند دہشت گردوں کو پھانسی دے کر اپنا فرض ادا کر دیا۔ اس سے آگے نہ کچھ وہ کرنا چاہتے ہیں نہ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ اختیار عوام کی خدمت اور تحفظ کے لیے نہیں بلکہ صرف اپنی جیب کی خدمت کے لیے حاصل کرتے ہیں۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.