نا اہل اکبری اور اہل اصغری

3,110

مرۃ العروس  اردو زبان کا ایک مشہور ناول ہے۔ یہ ناول ڈپٹی نذیر احمد دہلوی نے لکھا تھا۔ اس ناول کے کچھ کرداروں نے دھوم مچا دی تھی۔ اکبری، اصغری اور ماما عظمت کے کرداروں پر مبنی کہانیوں کو ہماری اردو کی نصابی کتابوں میں بھی شامل کیا گیا۔

اکبری اور اصغری دو بہنیں تھی۔ اکبری بڑی بہن تھی جو تنک مزاج، پھوہڑ، بدزبان اور لڑاکا صفت لڑکی تھی جبکہ اصغری چھوٹی بہن تھی جو نیک سیرت، خوش اخلاق، سلیقہ شعار اور معاملہ فہم تھی۔ ماما عظمت گھریلو ملازمہ تھی جو ہیرا پھیری بھی کرتی تھی اور جس تھالی میں کھاتی تھی اس میں چھید بھی کرتی تھی یعنی گھر میں سازشوں کے جال بنتی رہتی تھی۔

اب زمانہ بدل گیا ہے۔  نئے زمانے کے نئے تقاضے ہیں۔ نئی جدتیں ہیں اور نئے رحجانات ہیں۔ مگر اکبری، اصغری اور ماما عظمت کے کردار آج بھی پائے جاتے ہیں۔ آیئے اکبری، اصغری اور ماما عظمت کی کہانی نئے تناظر میں پڑھتے ہیں۔

اکبری کی شادی کے بعد اس کے گھر میں اس کی حماقتوں اور پھوہڑ پن کی بدولت جھگڑا رہتا تھا۔ اکبری دولت پر جان دیتی تھی اور ہمیشہ دولت حاصل کرنے کے نت نئے طریقے سوچا کرتی تھی۔ جائز ناجائز کی اس کو کوئی پروا نہیں تھی۔

ایک دن ماما عظمت نے اکبری کو پٹی پڑھائی کہ اس کے شوہر کی قلیل آمدن سے وہ اپنے شوق پورے نہیں کر پائے گی چناچہ اس کو “دوسرے ذرائع” اختیار کر کے اپنی دولت میں اضافہ کرنا چاہیئے۔ اور پھر وہ اپنے تمام دیرینہ شوق کھل کر پورے کر سکے گی۔ اکبری کو یہ بات پتے کی لگی چناچہ اکبری نے یہ بات اپنے پلو سے باندھ لی۔  ماما عظمت نے اکبری کو ایک منشی سے ملوایا جو مختلف حیلے بہانوں سے لوگوں کی جیبوں سے دولت نکلوانے کی مہارت رکھتا تھا۔ اکبری نے منشی سے تعلقات قائم کر لیے۔ منشی نے تعلقات کے عوض اکبری کو دولت فراہم کرنا شروع کر دی۔

اکبری کے خاوند کو اکبری کے رنگ ڈھنگ بدلے نظر آئے تو اس نے اکبری کو گھر سے نکال دیا۔ اکبری گھر سے نکل کر پچھتائی مگر پھر معافی مانگ کر اور توبہ تلا کر کے گھر واپس آ گئی۔ کچھ عرصہ تک اکبری نے شرافت دکھائی مگر ماما عظمت کی پٹیوں اور منشی کی ترکیبوں کے باعث پھر اسی روش پر واپس آ گئی۔ خاوند نے ایک بار پھر اکبری کو گھر سےنکال دیا۔ اور کسی صورت گھر واپس لانے پر تیار نہ ہوا۔ اکبری کو کافی عرصہ اپنے ماں باپ کے گھر گذارنا پڑا۔

اس مرتبہ اکبری سدھرنے کے دعوے کر کے اور آئندہ کے لیے گھر کا خیال رکھنے کی قسمیں کھا کر اپنے خاوند کے گھر واپس آئی۔ اکبری مگر کانوں کی بھی کچی تھی اور اپنی کج فطرتی سے بھی مجبور تھی چناچہ وہ پھر ماما عظمت کی چکنی چپڑی باتوں میں آ گئی اور منشی سے کہا کہ اس مرتبہ اسے بے انتہا دولت مند بنا دے۔ حالانکہ اس کے پاس پہلے ہی بے اندازہ دولت جمع ہو چکی تھی۔

اب کی بار خاوند نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا  مگر اکبری کینہ پروری کی وجہ سے خاوند سے پھر جھگڑا مول لے بیٹھی۔ خاوند نے اس کے طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا۔ معاملہ قاضی کے پاس چلا گیا۔  قاضی نے پورا ماجرا سن کر اکبری سے اس کی دولت کے ذرائع دریافت کیے۔ اکبری اپنی دولت کے ذرائع بتانے میں ناکام رہی تو قاضی نے خاوند کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے اکبری کو اہلیہ سے نا اہل کر دیا۔

اصغری جو کہ چھوٹی بہن تھی، وہ نیک سیرت اور معاملہ فہم تھی۔ وہ اپنے خاوند کے گھر کا خوب خیال رکھتی تھی۔ اس کو کسی شکایت کا موقع نہیں دیتی تھی۔ اس طرح اس کی زندگی خوشگوار گذر رہی تھی۔ اصغری اپنی بڑی بہن اکبری کی حرکتیں دیکھ دیکھ کر کڑھتی رہتی تھی۔ گاہے بگاہے اس کو سمجھانے کی کوشش بھی کرتی تھی مگر اکبری اس کی نصیحتوں پر ذرا بھی کان نہ دھرتی تھی۔

ماما عظمت ایک مکار عورت تھی۔ اس کی پوری کوشش تھی کہ جیسے اس نے اکبری کا گھر برباد کیا تھا ویسے ہی اصغری کا گھر بھی برباد کر دے۔ وہ اصغری کو بھی الٹی سیدھی پٹیاں پڑھانے کی کوشش کرتی تھی مگر اصغری ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی تھی۔ اصغری قناعت پسند تھی اس لیے منشی والی ترکیب بھی اس پر کارگر ثابت نہیں ہو رہی تھی۔ اصغری کی نیک سیرتی اورمعاملہ فہمی کی وجہ سے محلے کی اچھی عورتیں اس کی دوست بن گئی تھیں۔ ان میں امیر اور غریب ہر طرح کی عورتیں تھیں۔

ماما عظمت کو اصغری کی خوشگوار زندگی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔ اس نے ایک خطرناک چال چلی۔ وہ ایک بار پھر اکبری کے پاس گئی اور اس کے کان میں پھونک ماری کہ اس کا گھر خراب کرنے میں دراصل اصغری کا ہاتھ ہے اور یہ اصغری ہی تھی جس نے اکبری کے خاوند کو پٹی پڑھائی کہ وہ اکبری کو طلاق دے دے۔ اکبری کو یہ سن کر بڑا غصہ آیا۔ وہ ویسے بھی تنک مزاج اور لڑاکا صفت تھی۔ اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی بہن کا گھر بھی اجاڑ دے گی۔ اس نے اپنے ایک نوکر کو قاضی کے پاس شکایت لگانے بھیج دیا کہ اصغری نے  اپنے پاس ایسے زیور رکھے ہوئے ہیں جو چوری کا مال ہیں اور وہ اس نے سب سے چھپا کر رکھے ہیں۔

معاملہ قاضی کی عدالت میں پہنچ گیا۔ اصغری نے اپنے تمام زیورات کی تفصیل قاضی کو بتا دی۔ اصغری کے خاوند نے بھی اصغری کا ساتھ دیا۔ قاضی مطمئن ہو گیا اور اصغری کو اہل قرار دے دیا۔

جیسا کہ آپ نے پڑھا۔ اکبری اگلے زمانے میں بھی نا اہل تھی اور آج بھی نا اہل ہے۔ اصغری تب بھی اہل تھی اور اب بھی اہل ہے۔

کہانی کا سبق:  ویسے تو کہانی سے کئی سبق حاصل ہوتے ہیں مگر دو اسباق اہم ہیں۔ پہلا یہ کہ لالچ بری بلا ہے۔ اور دوسرا یہ کہ سانچ کو آنچ نہیں۔

میٹھے کا تڑکا:   عدالت نے جہانگیر خان ترین کو تحریک انصاف کے چیئرمین کے عہدے کے لیے اہل قرار دے دیا ہے۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.