وادی مرگ کے مسافر

10,472

پنجاب کے مرکزی اضلاع  سیالکوٹ، گجرات، گوجرانولہ اور جہلم کے نوجوانوں میں آج کل پنجابی کا ایک جملہ “بیچو مکان تے چلو یونان” (مکان فروخت کرو اور یونان چلو) ایک رائج الوقت محاورے کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس جملہ کے اس قدر زبان زد عام ہونے سے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے کہ یورپ جانے کی خواہش ایک وبا کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے اور یہ نوجوان اپنی ہر چیز دائو پر لگا کر یورپ چلے جانا چاہتے ہیں۔ وجوہات میں اگر جائیں تو اولاً بے روزگاری اور دوئم  معاشرتی عدم توازن اور راتوں رات امیر بننے کا خواب نوجونوں کو اس مہم جوئی پر اکساتا ہے اور وہ کسی ایسے ایجنٹ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں جو ان کو کم سے کم وقت میں سمندر پار پہنچا دے، یہ جانے بغیر کہ کیا وہ وہاں پہنچ بھی سکیں گے یا راستے میں ہی اپنی زندگی کی بازی ہار جائیں گے۔

ایجنٹ کے لیے بھی انہیں کوئی دفتر تلاش کرنا نہیں پڑتا بلکہ گلی کی نکڑ پر واقع چائے کے کھوکھے پر اس کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار یا دوست پہلی دفعہ یہ ملاقات کروا دیتا ہے۔ اس کے بعد ایک ٹیلفون نمبر ان کے درمیان تمام رابطوں کا زریعہ بنتا ہے۔ یورپ جانے کے لیے نہ انہیں کسی پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی کسی دوسری سفری دستاویزات کی۔ بس ایک بیگ اور چند سو ڈالر لے کر یہ نوجوان گھر سے نکلتے ہیں۔ اس کے بعد ان کو ہر ہدائیت ایجنٹ کے موبائل سے ملتی ہے۔ بلوچستان میں داخل ہوتے ہی انسانوں کی اس کھیپ کو بھیڑ بکریوں کی طرح اگلے ایجنٹ کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ انسانی سمگلروں کا  یہ ایک پورا مافیا ہے جن کا نیٹ ورک گلی کے نکڑ پر ملے ایجنٹ سے لے کر ترکی اور یونان کی سرحدوں تک پھیلا ہوتا ہے۔ ہر ایجنٹ کی اگلے ایجنٹ کے ساتھ ایک ڈیل ہوتی ہےجس کے تحت یہ ادلا بدلی ہوتی ہے۔

خشکی کے راستہ یورپ جانے والے یہ نوجوان پاکستان سے ایران، ایران سے ترکی اور پھر وہاں سے ترکی کا باڈر کراس کرکے یونان میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ دو جملوں میں بولا جانے والا سفر بہت آسان لگتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایسا نہیں ہے۔ یہ تارکینِ وطن اپنی جان کی بازی لگا کر یونان پہنچتے ہیں بلکہ ان کی ایک بڑی تعداد تو نہ یونان پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی واپس اپنے ملک جا سکتی ہے۔ ان کا مقدر صرف اور صرف موت ہوتی ہے، سفاک موت۔

وادی مرگ کا یہ سفر بلوچستان کے صدر مقام کوئٹہ سےنکلتے ہی شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں سے نکلتے ہی ان کی واپسی کا راستہ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی واپس آنا چاہے تو یہ ایجنٹ اس کو جان سے مار دیتے ہیں۔ ان ایجنٹوں کو واپس جانے والوں سے دو خطرے ہوتے ہے ایک تو یہ کہ واپس جانے والے اس کو پکڑوا نہ دیں، دوسرا جو رقم انہوں نے لی ہوتی ہے وہ واپس نہ کرنی پڑ جائے۔ چنانچہ وہ ایسے افراد کو باقی لوگوں کے سامنے کسی پہاڑ سےدھکا دے دیتے ہیں یا گولی مار دیتے ہیں تاکہ دوسرے اس سے عبرت پکڑیں اور واپس جانے کا خیال اپنے دل سے نکال دیں۔

ان ایجنٹوں کےعلاوہ علیحدگی پسند تنظیمیں بھی ان کے لیے بہت بڑا خطرہ ہوتی ہیں۔ ایک خاص  فرقہ سے تعلق رکھنے والے دھشت گرد دوسرے فرقہ کے لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارتے ہیں۔ علاوہ ازیں پنجاب سے جانے والوں کو وہاں کے جغرافیائی حالات کا بھی علم نہیں ہوتا۔ لہٰذا میدانوں کے رہنے والے یہ نوجوان جب خطرناک پہاڑی سلسلوں،صحرائوں، ندی نالوں اور جنگلوں میں میلوں پیدل چلتے ہیں تو ان میں کئی کسی حادثہ کا شکار ہوکر اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں اور جو زخمی ہوجائے اسے یہ ایجنٹ  خود ہی مار دیتے ہیں۔ یہ زخمی اس سفر کے دشوار گزار راستوں کو عبور کرنے کے قابل نہیں رہتے، پیچھے ان کو چھوڑا نہیں جاسکتا اس لیے انہیں مارنا ہی ایجنٹ کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ ایجنٹ ان کے پیچھے اپنا وقت بھی ضائع نہیں کرنا چاہتے۔ ان کا کام ایک انسانی کھیپ کو ایران کی سرحد پر پہنچانا اور پھر دوسری آنے والی کھیپ کے درمیان وقفہ قائم رکھنا ہے۔

وادی مرگ کے اس سفر میں یہ تارکینِ وطن ہر دم موت سے آنکھ مچولی کھیلتے ہیں۔ ابھی حال میں ہی تربت سے ملنے والی پندرہ لاشوں کی خبر تو آپ نے سنی ہی ہوگی  کہ کیسے ان کو ایک علحیدگی پسند تنظیم کے لوگوں نےگولیوں سے بھون ڈالا۔ ان میں سے بچ جانے ایک سترہ سالہ لڑکے نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ اس نے ایجنٹوں سے یونان جانے کے ایک لاکھ پینتس ہزار طے کیے تھے گویا وہ اپنی جان کا سودا محض ایک لاکھ پینتس ہزار میں کررہا تھا۔ یہ ایجنٹ ان نوجوانوں کے ساتھ سودا طے کرتے ہوئے یہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ وہ کتنا افورڈ کرسکتا ہے اور اسی حساب سے پیسے طے کرتے ہیں۔ عام طور پر سوا لاکھ سے لے کر ساڑھے تین لاکھ تک میں سودا طے پاتا ہے۔ کچھ پیسے پہلے لے لیے جاتے ہیں بقایا یونان پہنچنے کے بعد کمائی کر کے دینے کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ لیکن کمائی کرکے پیسے واپس کرنے والی بات بالکل جھوٹ ہوتی ہے اس سے پہلے ہی یہ ایجنٹ مختلف حیلوں بہانوں سے اصل سے تین گنا رقم وصول کر لیتے ہیں

ان نوجوانوں کے گھروالوں کا ردِعمل بھی زیر بحث نہ لایا جائے تو موضوع مکمل نہ ہوگا۔ ان نوجوانوں کو اس دردناک موت کی طرف دھکیلنے والے ان کے اپنے خاندان والے ہی ہوتے ہیں۔ خاندان کا ہر فرد اپنی اپنی بساط کے مطابق مالی مدد کرتا ہیں۔ پونڈ اور ڈالر کا خمار ہی کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی کو ان خطرات کا علم بھی ہو تو وہ چُپ سادھے رہتا ہے کہ کہیں لڑکا ڈر کر اپنا ارادہ ہی ملتوی نہ کردے۔

موت اور زندگی کےاس کھیل میں ان تارکینِ وطن کے سامنے تین ملکوں کی باڈر سیکورٹی فورسز ہوتی ہیں جن کو چکما دے کر انہیں ایران، ترکی اور پھر یونان میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ ان فورسز میں تربیت یافتہ فوجی شامل ہوتے ہیں جن کا روزانہ ان جیسے تارکینِ وطن سے واسطہ پڑتا ہے۔ ان نوجوانوں میں سے بہت سارے باڈر کو کراس کرتے ہوئے ان فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں۔ جو ان گولیوں سے بچ جائیں ان کا مقابلہ پھر مختلف قبائل سے ہوتا ہے جو اپنے علاقے میں کسی غیر کو برداشت نہیں کرتے۔ ان میں قابلِ ذکر ترکی کے کرد قبائل ہیں جو کہ خود ترکی سے علیحدگی چاہتے ہیں۔ یہ کسی اجنبی کو اپنے علاقے میں برداشت نہیں کرتے۔ اگر انہیں اپنے علاقے میں کوئی غیر نظر آجائے تو بغیر کسی تفتیش یا صفائی کے موقع کے اسے قتل کر دیتے ہیں۔

یہ تارکینِ وطن کس طرح ان علاقوں سے گزرتے ہیں یہ وہی جانتے ہیں۔ ایران اور ترکی کے اندر بھی ان کا سفر آسان نہیں ہوتا۔ انہیں جانوروں کی مانند گاڑیوں میں ٹھونس کر اور کنٹینروں میں بند کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جایا جاتا ہے۔ کئی کئی دن تک تہہ خانوں میں بند رکھا جاتا ہے۔ کبھی کھانا ملتا ہے تو کبھی نہیں ملتا۔ جو پکڑے جائیں، اُن ساتھ کیا ہوتا ہے یہ ایک علیحدہ داستان ہےجس کی تفصیل میں جائیں تو ایک پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے۔

اس سفر کے دوران جو لوگ مرجاتے ہیں ان کو کفن تو کیا قبر بھی نصیب نہیں ہوتی۔ انسانی جانوں کی جو بے توقیری ان ایجنٹوں کے ہاتھوں ہوتی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ترکی اور یونان کی سرحد پر ایسے قبرستان موجود ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں گمنام قبریں ہیں۔ ان قبروں پر کوئی کتبہ نہیں ہے۔ ان کے حسب نسب، والدین یا مذہب کا کسی کو پتہ نہیں۔ جس کی لاش ملتی ہے اسے دفن کردیا جاتا ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں یہ قبر بھی نصیب ہوتی ہے۔ اکژ کے نصیب میں تو درندوں کی خوراک بننا لکھا ہوتا ہے۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. بلال کہتے ہیں

    شکریہ جناب آپکی یہ ریسرچ پڑھ کے بہت فائدہ ہوا ہے.

  2. محمد خلیل کہتے ہیں

    اللہ کرے کے ہمارے ملک کے حالات اچھے ہو جائیں۔ اور اس طرح غریب لاچار اور مجبور یا خوب سے خوب تر کی تلاش میں نکلنے والے نوجوان لقمہ اجل نہ بنیں۔

    خدا کرے میرے ایک بھی ہم وطن کے لئے 
    حیات جرم نہ ہو، زندگی وبال نہ ہو 
    آمین

  3. محمداطہرجمیل کہتے ہیں

    یورپ جانے والے سب غریب نہیں ہوتے۔جو آدمی ڈیڑھ لاکھ یا اس سے زیادہ رقم ادا کرتا ہے وہ اس رقم سے یہاں بھی کاروبار کرسکتا ہے لیکن یہ غربت نہیں اندر کا لالچ،حرص ہوتی ہے جو اس راہ پر ان کو چلنے پر مجبور کرتی ہے۔

تبصرے بند ہیں.