دبئی کی سیر

1,857

دنیا ایک کتاب کی مانند ہے  اور جو لوگ سفرنہیں کرتے وہ محض اس کتاب کا ایک صفحہ ہی پڑھ پاتے ہیں۔ رواں برس موسم گرما کی چھٹیوں کے دوران میں نے اپنے آپ کو زندگی کی اس کتاب کے دوسرے صفحے پر پایاجب  میں نے متحدہ عرب امارات کی سرزمین پر قدم رکھا۔

خوش قسمتی سے مجھے ویزے کے حصول ، ایئرپورٹ اور دبئی میں رہائش کے لیے کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔ دبئی میں رہائش پذیر میرے  کزنز نے قدم قدم پہ میری رہنمائی کی۔ دبئی ایئرپورٹ پر انہوں نے میرا  استقبال کیا اور ہم الغبیبہ میٹرو سٹاپ کے نزدیک واقع رہائش گاہ چلے گئے۔

کزنز نے مجھے بتایا کہ دبئی میں آپکو بار بار میٹرو کا سفر کرنا پڑے گا۔  اس لیے سب سے پہلے اس سسٹم کے بارے میں اچھی طرح معلومات لے لینا۔گوگل میپ اس شہر میں آپ کا سب سے بڑا گائیڈ ہے۔

maxresdefault

اگلے دن صبح سویرے میں میٹرو سٹاپ پہنچا اور سکیورٹی اہلکار سے سفر کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ اس نے بتایا کہ دبئی کی کسی بھی ٹرانسپورٹ کے لیے کیش پاس رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اے ٹی ایم طرز کا ایک کارڈ جسے نول کارڈ کہتے ہیں ہر قسم کی ٹرانسپورٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

dubai-metro

میں نے کارڈ بنوایا ، اس میں 50 درہم لوڈ کیےاور آزمائشی طور پر دبئی میٹرو ٹرین میں برج خلیفہ کی سیر کو چلا گیا۔ برج خلیفہ جانے کے لیے میٹرو سٹاپ سے دبئی مال میں جانا پڑتا ہے اور کافی دیرپیدل چلنے کے بعد برج خلیفہ تک رسائی ہوتی ہے۔برج خلیفہ دنیا کی بلند ترین عمارت شاید دبئی میں وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔میں نے وہ دن اسی مقام پر گزارا۔ کم وبیش ہر قومیت کے لوگ وہاں سیر کے لیے آتے ہیں۔ شام کووہاں میوزک فاؤنٹین کا نظارہ کرنے والوں کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔

Burj Khalifa

دبئی کے بس سٹاپس کےمنظر نے مجھے بہت حیران کیا جہاں آپ کو کبھی ہارن کی آواز سنائی نہیں دے گی۔ نہ ہی کوئی ہاکر یا کنڈکٹر نظر آتا ہے۔ نہ ہی ایسی گاڑیاں جو پاکستان میں لوکل گاڑیاں کہلاتی ہیں۔ اے سی گاڑیاں ٹائم ٹیبل کی پابند ہیں جن میں تعلیم یافتہ ڈرائیور ہوتے ہیں۔گاڑی وہی سڑک پر آتی ہے جو مکمل فٹ ہو۔رکشہ وہاں ناپید ہے سوائے چند ایک سیاحتی مقامات کے جہاں بے آوا ز الیکٹرک رکشے چلتے ہیں لیکن وہ سامان اٹھانے کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ سڑکوں پر سفر کرنے کے لیے۔ ایک اچھی روایت یہ دیکھی کہ پیدل سڑک پار کرنے والوں کو راستہ دینے کے لیے گاڑیاں رک جاتی ہیں۔ اگر آپ سڑک پار کرنے میں ہچکچائیں اور سوچ رہے ہوں کہ پہلے گاڑیاں گزر جائیں تو وہ گاڑیاں روک کر آپ کوگزرنے کا اشارہ کریں گے۔ پیدل چلنے والوں کے حقوق کا اس قدر خیال میں نے اس سے قبل کسی جگہ نہیں دیکھا۔

دبئی مال میں ایک شاندار قسم کا ایکویریم یعنی مچھلی فارم بنایا گیا ہے جہاں انواع واقسام کی مچھلیاں سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ ایک سو درہم ادا کر کے آپ آکسیجن ماسک لگا کر اس کے اندر سیر کر سکتے ہیں۔

dubai-mall-218-750x562

میری رہائش کے قریب ہی ایک مسجد تھی۔ ایک اہم تبدیلی جو میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ لوگ اپنے جوتے مسجد کے باہر سڑک پر اتارتے تھے۔ مجال ہے کوئی چوری کرنے کی حماقت کرے۔ دبئی میں کسی جگہ کوئی ریڑھی یا تجاوزات کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ہمارے پٹھان بھائی وہاں بکثرت پائے جاتے ہیں اور گھڑیوں، تالوں اور دھوپ کے چشموں کی دکانیں بنا رکھی ہیں۔ ان میں سے اکثر ڈرائیور ہیں۔

اس کے بعد دبئی کا قلعہ میری  دلچسپی کا باعث بنا۔ 1787ء میں تعمیر کیا جانے والا دبئی کا قلعہ جسے بعد میں آرٹلری کے اسلحہ خانے کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔ اس جگہ کو 1971ء  میں میوزیم کے طور پر نمائش کے لیے کھولا گیا۔ سیاحوں کی دلچسپی کے لیے اس میں ‘مجسموں اور طرز بودوباش کی نمائش’ کے ذریعے قدیم دبئی کی عکاسی کی گئی ہے۔بنائی گئی فرضی دکانوں، مدرسوں، کشتیوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے متعلقہ آوازوں کی وجہ سے حقیقی زندگی کا گمان ہوتا ہے۔

Dubai Museum

میری اگلی منزل برج العرب تھی۔ جہاں ایک شام ساحل سمندر پر گزاری۔ برج العرب مہنگا ترین سیاحتی مقام ہے اس لیے وہاں عوام کا رش نسبتاً کم تھا۔ میرینا  کا ساحل تصویر کا دوسرا رخ پیش کرتا ہے جہاں نہانے کے لیے شرٹ اور ٹراؤزر اتارنے پڑتے ہیں اور محض نیکر پہننے کی قوانین اجازت دیتے ہیں ۔ یورپ سے آئی خواتین ساحل پر سن باتھ کرتی دکھائی دیتی ہیں اور بھائی لوگ سیلفیوں میں مصروف ہوتے ہیں تاکہ سوشل میڈیا پر دوستوں کو مرعوب کر سکیں۔Burj al arab

 

الورقہ میں موجود دبئی سفاری فیملیز کے لیے بہترین سیر گاہ ہے جہاں جنگلی حیات اور انسانوں کے درمیان شیشے کی ایک دیوار حائل ہے۔ وسیع رقبے پر پھیلے اس پارک میں تقریبا ہر قسم کی جنگلی حیات کی نمائش کی گئی ہے۔ جن میں نمایاں سفید شیر، افریقہ کے ہاتھی، دریائی گھوڑے، شتر مرغ وغیرہ شامل ہیں۔

دبئی ، شارجہ اور اجمان میں پاکستانی اور انڈین سکول کثرت سے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے سکول بہت عمدہ ترتیب سے بنائے گئے ہیں جن کے سامنے وسیع و عریض پارکنگ کی جگہ چھوڑی گئی ہے تاکہ سڑکوں پر ٹریفک متاثر نہ ہو۔ دبئی میں گرمیوں کا موسم شدیدجھلسا دینے والی گرمی لاتا ہے اور آپ بغیر چھتری کے دن کو دھوپ میں  زیادہ دیر پیدل نہیں چل سکتے۔ساون بھادوں کا وہاں کوئی تصور نہیں اور گرمی کا موسم بغیر بارش کے گزر جاتا ہے۔ شدید گرمی میں صرف ایک ہی آسرا تھا۔ میٹرو ٹرین کا۔

سفر کے لیے دبئی ٹرین کے علاوہ سرکاری بسوں کا ایک متبادل سرکاری نظام بھی موجود ہے لیکن میرے پاس اس کو سمجھنے کے لیے وقت تھا اور نہ دلچسپی۔ ایک بار القرہود کے قریب  میں راستہ بھٹک گیا اور پیدل چلتے چلتے گرنے ہی والا تھا کہ ایک بزنس سنٹر پر نظر پڑی جہاں پینے کو پانی مل گیا۔

shutterstock_454195906

دبئی میں جابز کے لیےانگلش میں مہارت  یا برٹش کونسل کا سرٹیفکیٹ ہونا ضروری ہے۔دبئی کے معیار زندگی اور اخراجات کے لحاظ سے سکولوں اور دیگر اداروں میں تنخواہیں خاصی کم ہیں۔ دبئی میں رہائش اور کھانے پر ماہانہ 35000  پاکستانی روپے خرچ آ جاتا ہےاور دبئی کےکچھ سکول 85000اور کچھ 98000  روپےسے سیلری شروع کرتے ہیں۔اخراجات نکال کے یہ اتنے ہی بنتے ہیں جتنے لاہور یا دیگر اضلاع میں تعلیمی ادارے دے رہے ہیں۔ انشورنس اور ریسیپشن کی جابز وہاں سب سے زیادہ ہیں۔

دبئی سارے کا سارا آباد نہیں ہے۔ شہر سے دور راس الخور کی طرف جائیں تو دبئی کی حقیقی سرزمین دیکھنے کو ملتی ہے ۔ وہاں تیز چلتی ہوائیں اپنے ساتھ ریتلی زمین کے ذرات اڑاتی ہیں۔میں نے کافی دیر اس  ریتلی مٹی کا تجزیہ کیا اور میرے ذہن میں پنجاب کےلہلہاتے سر سبز میدان یہ سوال پوچھ رہے تھے کہ خدا کی ہر نعمت ہونے کے باوجود پاکستان ایک پسماندہ ملک کیوں ہے۔

پردیس میں رہنا  سیر کی حد تک تو بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن  دوست احباب، عزیز رشتہ دار سب سے کٹ کرپردیس میں  زندگی گزارناگویا ایسے ہی ہے جیسے کوئی قیدی اپنی زندگی کے دن پورے کر رہا ہو۔اگر آپ میں گھر بار چھوڑ کر دور دراز رہنے کی طاقت ہے صرف تب جائیں۔دبئی میٹرو میں سفر کرتے ہوئے آپ کو اندازہ ہوگا کہ روبوٹ قسم کے لوگ مشینوں کی طرح اپنے اپنے راستوں پر گامزن ہیں۔

بحرحال دبئی میں سیر کرنے والوں کے لیے بہت کچھ ہےجو سیاح جوق در جوق اس کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔سمندر، بلند ترین عمارات، شاپنگ مال، تاریخی و تفریحی سیر گاہیں، کشادہ سڑکیں، آلودگی پر قابو، ٹریفک کا بہترین انتظام اور سب سے بڑھ کر تحفظ کا احساس اس کی نمایاں خوبیاں ہیں جو اسے سمارٹ سٹی بناتی ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.