امریکہ  پاکستان سے دھرنا سیاست سیکھنا چاہتا ہے

2,386

گزشتہ برس امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوئے جس میں دو بڑی جماعتوں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی نے حصہ لیا۔ ریپبلکن پارٹی نے جس شخص کو صدارتی امیدوار کے لیے نامزد کیا  اس کا نام تھا  ڈونلڈ ٹرمپ، جبکہ دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی نے جس شخص کو صدارتی امیدوار نامزد کیا تھا وہ سابق خاتونِ اول ہیلری کلنٹن تھیں۔

امریکہ میں صدارتی انتخابات کے نتائج کے بعد ایک غیر یقینی کیفیت پھیل گئی تھی۔ ہیلری کلنٹن ایک مضبوط امیدوار تھی۔ امریکیوں کو بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کا یقین نہیں تھا ۔انتخابات سے پہلے جب ٹیلی ویژن پر صدارتی مباحثہ ہوا تو اس میں بھی ہیلری کلنٹن نے واضح برتری لی  تھی اور یہی گمان کیا جا رہا تھا کہ امریکہ کی اگلے چار سال کے لیے صدر ہیلری کلنٹن ہی ہو ں گی۔  مگر نتائج اس کے برعکس نکلے اور ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بن گئے۔ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد احتجاج بھی لیے گئے مگر دھرنا نہیں دیا گیا۔ شائد امریکیوں کو دھرنا دینا نہیں آتا۔ امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی وہاں کی کسی یونیورسٹی میں عمران خان اور طاہر القادری دھرنا سیاست پڑھانا شروع کریں گے۔

آج امریکہ میں ایک کتاب شائع ہوئی جس کا عنوان ہے۔

“The Dangerous Case of Donald Trump”

اس کتاب میں امریکہ کے 27 ماہر نفسیات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بیمار اور ذہنی مریض قرار دیا اور امریکہ کے صدر ہونے کی حیثیت سے ان کو امریکہ اور امریکی عوام کے لیے بہت بڑا خطرہ قرار دیا۔ یہ بات امریکی عوام بہتر طور پر جانتے ہیں کہ انہوں نے کسی نارمل شخص کو صدر منتخب کیا ہے یا کسی ابنارمل شخص کو۔

بہرحال اس بحث کا تعلق امریکہ اور امریکہ کی عوام سے ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے کئی فیصلوں کو امریکہ کی عدالتوں نے منسوخ کردیا مگر اس کے باوجود اس  کے خلاف کسی نے دھرنا نہیں دیا۔ یقیناً وہاں کسی کو دھرنا دینا نہیں آتا۔

امریکی عوام مجھے تو بے وقوف سی لگتی ہے۔ ان کے ملک میں اتنا کچھ ہوا مگر اس سب کے باوجود بھی  امریکہ میں نہ کوئی لابی بنی، نہ کوئی دھرنا ہوا ، نہ کوئی لاک ڈاؤن ہوا اور نہ  ہی کسی اپوزیشن اور کانگریس نے امریکی صدر کی ٹانگیں کھینچ کر اسے گرانے کی کوشش  کی کیونکہ  وہاں سب کے لیے” سب سے پہلے امریکہ” ہی ہے۔

اگر یہ کتاب پاکستان میں شائع ہوتی اور اس میں کسی سیاستدان کی شان میں گستاخی کی جاتی تو وہ مصنف، کتاب اور اس کتاب کا پبلشر شاید 24 گھنٹوں کے اندر گمشدہ لوگوں کی فہرست میں شامل ہوتے ۔

مشرق اور مغرب کے درمیان بنیادی فرق ہی سوچ کا ہے۔ وہ بےوقوف لوگ اور ہم عقل مند۔ گزشتہ چند سالوں سے پاکستان میں جس رفتار سے دھرنے اور کنٹینرکی سیاست ہو رہی ہے مجھے ایسا لگتا ہے امریکا پاکستان سے لازمی طور پر ایسے لوگوں اور ماہرین کو امریکا آنے کی دعوت دے گا جو لوگ دھرنے، کنٹینرکی سیاست توڑ پھوڑ ،جلاؤگھراؤ، اور حکومت کو وقت سے پہلے گھر بھیجنے پر یقین رکھتے ہیں۔

ہم  امریکہ سے جدید ٹیکنالوجی خریدتے ہیں،امریکہ ہم سے  دھرنے کی ٹیکنالوجی خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے کیونکہ امریکا دھرنے کی سیاست میں ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ مجھے یقین ہے کہ ہماری اس خدمت کے بعد  ایک دن امریکہ دھرنے کی سیاست میں خود کفیل ہو جائے گا اور پھر وہاں بھی دھرنے ہوگے اور امریکہ کو دنیا بھر میں سپر دھرنا پاور کے نام سے جانا جائے گا۔ اور اس سب کا کریڈٹ صرف اور صرف عمران خان، طاہر القادری اور مولانا خادم حسین رضوی کو جائے گا۔

سید شرجیل احمد قریشی نے انٹرنیشنل ریلیشنز میں ایم فل کیا ہے ۔ اور پی ایچ ڈی انٹرنیشنل ریلیشنز میں داخلہ کے خواہاں ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. hassan کہتے ہیں

    totally a stupid blog, only a patwari can say all that. An honest and impartial Pakistani must see the corrupt, plundering, anti -state and anti-ideology role and activities of Mr NaAhal sharif’s.
    I have a humble request that please detach the word Syed from from your name and easily become a batman of NS. Why dont you listen the cries and blood of victims. bye a pair of glasses and a set of hearing aid.

  2. saad کہتے ہیں

    “Occupy wallstreet” and “Not my president” protest outside trump tower were both “dharna protests” so it isn’t correct to claim that it never happened in usa. Also they accused trump of having aid from russia and that russian hackers “rigged” the elections for trump, etc etc.what was that ? As for violent protests or “tor phor” just google black lives matter protests in america. They are not perfect.No country is perfect.

تبصرے بند ہیں.