اسرائیلی وزیر اعظم کا خط بنام نواز شریف

3,986

نور چشم اور عزیز ازجان نواز شریف،

کرپشن کے مقدمات میں آج پھر میری روبکاری ہوئی۔ نااہلی کی تلوار میرے سر پر لٹک رہی ہے اور عوامی حمایت میں بتدریج کمی کا سامنا ہے۔ ان آزمائشوں سے گلوخاصی کی کوئی صورت بجھائی نہیں دیتی۔ آثار یہی ہیں کہ کچھ عرصہ بعد میں بھی ‘مجھے کیوں نکالا’ کی گردان کر رہا ہوں گا۔

بہت غوروحوض کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس فتنہ و آشوب میں آپ کے تقش قدم پر چل کر ہی کرسی اور مقبولیت برقرار رکھ سکتا ہوں۔ لیکن اس ضمن میں درج ذیل قباحتیں درپیش ہیں۔

اعلیٰ تعلیم تک آسان رسائی کی وجہ سے اسرائیلی عوام شعور کے بلند مرتبے پر فائز ہیں اور یہ باآسانی سازش کے بیانیے میں پھنسنے والے نہیں ۔ فی کس آمدنی یورپی ممالک کے ہم پلہ ہے اور یہ ناہنجار (اسرائیلی عوام) کسی صورت ایک پلیٹ بریانی پر نہ مانیں گے۔ مزید برآں، میرے زمرہء خاص میں دانیال عزیز اور طلال چوہدری جیسے نگینے بھی نہیں جوشب و روز میرا دفاع محبوب کے نام کی تسبیح کی طرح کریں۔ قانونی بندشیں ایسی کہ پولیس اور عدالتوں کے خلاف احتجاج تو کجا کچھ بولنے کی بھی اجازت نہیں۔

یہاں اسرائیلی معاشرے میں قواعد و ضوابط اس طرح جاگزیں ہیں، جیسے فولاد میں جوہر۔ اب دو ٹکے کے پولیس افسروں کو ہی دیکھ لو منہ اٹھا کر وزیراعظم ہائوس میں تفشیش کرنے آ دھمکتے ہیں۔ کیا پنجاب پولیس ایسا کرنے کی جسارت کر سکتی ہے؟ مزکورہ بالا تفاوت کی وجہ سے میں آپ سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوا۔

حضور، مجھے جن مقدمات کا سامنا ہے وہ تو عالی جاہ کے مقدمات کا عشر عشیر بھی نہیں۔ کہاں تین ہزار ارب کی مبینہ کرپشن اور کہاں صرف دو لاکھ ستر ہزار کا معمولی تحفہ؟

آپ سے گزارش ہے کہ کوئی ایسا نسخہ تجویز کریں کہ عوام میری کرپشن کو میرے خلاف ہی سازش سمجھیں (ہی ہی ہی)۔ اور تل ابیب ایسے نعروں سے گونج اٹھے

نتن تیرا ایک اشارہ

حاضر حاضر لہو ہمارا

اجازت دیجیے کے کچھ دفتری امور نمٹانے ہیں۔ جواب کا بے صبری سے انتظار رہے گا۔

شنبہ 13 دسمبر 2017

از نتن یاہو۔

نوٹ: یہ ایک طنزیہ مضمون ہے۔ 

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Awais Ahmad کہتے ہیں

    Very good one.
    But it is received a day earlier 😀

تبصرے بند ہیں.