خواتین کو جنسی گھٹن سے آزادی دلائیں

8,927

چند دن پہلے کراچی میں ایسا اندوہناک واقعہ پیش آیا جس نے پاکستان بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ ایک بہن نے اپنی ہی بہن کو منگیتر کے ساتھ مل کر قتل کر دیا۔ قتل ہونے والی چھوٹی بہن علینہ اپنی بڑی بہن علوینہ کو اس کی ایک ذاتی ویڈیو کی بنیاد پر ایک لڑکے کے ساتھ مل کر تنگ کر رہی تھی۔ یہ لڑکا ماضی میں علوینہ کا بوائے فرینڈ رہ چکا تھا۔ اب علوینہ مظہر کی منگیتر تھی۔ دھمکی وہی پرانی تمہارے منگیتر کو بتا دیں گے اور تمہارا مستقبل میں بسنے والا گھر خراب کر دیں گے۔ نتیجہ کیا ہوا؟ علوینہ نے منگیتر کے ساتھ مل کر سگی بہن کا قتل کر دیا۔

یہ واقعہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ہم نے اگر اب بھی اپنے آپ کو صحیح نہ کیا، اپنی نوجوان نسل کو نہ سمجھا اور اس معاشرے میں سے جنسی گھٹن نہ ختم کی تو ہم تباہ ہو جائیں گے۔ اسی جنسی گھٹن کی وجہ سے آج ایک بہن دوسری کی دشمن بن گئی ہے۔ اسی جنسی گھٹن کی وجہ سے غیرت مند بھائی اپنی بہن کو محبت کی شادی کرنے پر قتل کر دیتے ہیں۔ اسی جنسی گھٹن کی وجہ سے نوجوان نسل کا شادی پر سے یقین اٹھ رہا ہے۔ اسی جنسی گھٹن کی وجہ سے ہماری سڑکیں آج بھی عورتوں کے لیے غیر محفوظ ہیں۔ اسی جنسی گھٹن کی وجہ سے ہمارے معصوم بچے مدرسے میں مولویوں کی حیوانیت کا نشانہ بنتے ہیں۔ اسی جنسی گھٹن کی وجہ سے چند دن کی بچی سے لے کر بوڑھی عورت تک کا ریپ کر دیا جاتا ہے۔

اس جنسی گھٹن کو ختم کرنے کا حل شادی اور کم عمری کی شادی ہرگز نہیں ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ شادی کے بعد بھی مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مزید بڑھ جاتے ہیں۔ پہلے اگر ان مسائل سے ایک خاندان اثرانداز ہو رہا تھا تو شادی کے بعد ایک اور خاندان ان مسائل کا شکار بن جاتا ہے۔ ان تمام مسائل کو ختم کرنے کے لیے سب سے پہلے ہمیں ہماری خواتین کو انسان سمجھنا ہوگا۔ ان کی بطور ایک فرمانبردار بیوی اور بہو کے پرورش ختم کرنی ہوگی۔ ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ ان کی زندگی کا مقصد شادی کرنا، شوہر کی جنسی ضروریات پوری کرنا اور بچے پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ یہ سب چیزیں زندگی کا حصہ ہیں۔ ایک ایسا حصہ جسے وہ جب چاہیں اپنی زندگی میں شامل کر سکتی ہیں، جب چاہیں زندگی سے نکال کر پھینک سکتی ہیں اور اگر وہ اس کو اپنی زندگی کا حصہ نہ بھی بنانا چاہیں تو اس کا اختیار بھی انہیں حاصل ہے

ہمیں اپنی خواتین کو بتانا ہوگا کہ ان کی زندگی کے مقاصد اپنی ایک پہچان بنانا اور اس دنیا کو بہتر بنانا ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ان کی سوچ اور انہیں باورچی خانے سے باہر نکالنا ہوگا۔ ہمیں یہ قبول کرنا ہوگا کہ ان کی بھی جنسی ضروریات ہیں اور جنسی ضروریات کسی بھی انسان کے ساتھ پورا نہیں کی جاسکتی بلکہ ان کو وہی پورا کر سکتا ہے جس کی رسائی انسان کے دل تک ہو۔ ہمیں انہیں اعتماد دینا ہوگا کہ وہ جسے چاہیں اپنے دل اور زندگی میں شامل کر سکتی ہیں۔ جب تک ہم انہیں اجنبیوں کے ساتھ بیاہتے رہیں گے تب تک وہ اس جنسی گھٹن کا شکار رہیں گیں۔

ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ وہ خاص ہیں۔ وہ جیسی بھی ہیں منفرد ہیں۔ ان جیسا کوئی دوسرا دنیا میں نہیں ہے۔ وہ مکمل ہیں۔ انہیں خود کو مکمل کرنے کے لیے کسی مرد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں ایسا ساتھی چاہئیے جو ان کی زندگی کو مزید آسان اور خوشگوار بنا سکے۔ ایک ایسا ساتھی جو ان کا احترام کرتا ہو اور انہیں انسان سمجھتا ہو نا کہ انہیں اپنا غلام بنانا چاہتا ہو۔

ہمیں خواتین کو بتانا ہوگا محبت جنسی تعلق کا نام نہیں ہوتی۔ ہمیں انہیں پیار، ہوس اور جنسی تعلق میں فرق بھی بتانا ہوگا۔ ان کا حق ہے کہ اپنی طرف بڑھنے والے ہر اس ہاتھ کو روکیں جو انہیں خوشی نہیں دیتا۔ ہمیں انہیں سمجھانا ہوگا کہ وہ انمول ہیں اور انہیں اپنی محبت صرف اس پر لٹانی چاہئیے جو اس کے قابل ہو۔ ایک ایسا شخص جو ان کی عزت کرتا ہو۔ ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ عزت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ان پر “میری غیرت گوارا نہیں کرتی” کے نام پر پابندیاں لگائے بلکہ عزت کرنے والا مرد وہ ہوتا ہے جو انہیں انسان سمجھتا ہو، جیسی وہ ہیں انہیں ویسا ہی قبول کرتا ہو اور انہیں آگے بڑھنے اور بہتر ہونے میں مدد دیتا ہو۔

ہمیں انہیں بتانا ہوگا کہ  زندگی میں ان کی طرف بہت سے مرد بڑھیں گے لیکن ان کی اکثریت کی دلچسپی بس ان کے جسم تک محدود ہوگی۔ انہیں ان سے محتاط رہنا ہوگا۔ ایک ایسا مرد جس کی دلچسپی بس عورت کا جسم ہو وہ کسی عورت کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتا کیونکہ اسے بس جسم چاہئیے ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی عورت کا ہے۔

ان کی طرف ایسے مرد بھی بڑھیں گے جو انہیں اپنی زندگی میں اس لیے شامل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان پر حکمرانی کر سکیں۔ ہمیں انہیں ایسے مردوں سے بچنا اور انہیں شٹ اپ کہنا سکھانا ہوگا۔ ہماری خواتین کو ایسے مردوں سے بھی بچنا ہوگا جو ان کی پرائیویسی میں مداخلت کرنا اپنا حق سمجھتے ہوں۔

ہم اگر اپنی خواتین کو “راہِ راست” پر لانا چاہتے ہیں تو انہیں گھر بٹھانے، سکول، کالج اور یونیورسٹی جانے سے  روکنے، نوکری نہ کرنے دینے یا گھر والوں کی پسند سے شادی کرنے، موبائل اور انٹرنیٹ کی سہولت نہ دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ہمیں انہیں انتخاب کا حق اور فیصلہ لینے کی آزادی دینی ہوگی تاکہ وہ اپنی زندگی میں خودمختار ہو سکیں اور اپنی زندگی خود جی سکیں۔ تب ہی یہ مسائل حل ہوں گے ورنہ روزانہ خبریں پڑھتے رہئیے اور چچ چچ کیا زمانہ آ گیا ہے۔۔ کہتے رہیے۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

8 تبصرے

  1. Saleem Iqbal کہتے ہیں

    I think whole passage is partially related with the incident. The above mentioned murder case has no relation with what writer explained. In fact in our society there are many problems for a women to do something but ” Freedom just for the sake of freedom ” is not the solution. As writer explained problems are caused by society, it means we need to council our whole society completely.

  2. Zahid کہتے ہیں

    Ap ne jo kuch bhi likha ha wo sab wrong analysis ha. Ye incident ha is ki vaja se ap is tarha ka andaza nhi kar sakte. Ap kis azadi ki baat karte hain abhi tak samjh nhi ai ha. Alham du lillah aj bhi kafi halat ache hain or orten gharon me izzat k reh rhi hain jobs bhi karti hain..1 ya 2 vaqiaat ki vaja se ap ….Kiya topic nikala ha Jinsi Ghutan…..ap thora clearly mention kar dete k orton ki kis qisam ki azadi den. Or plz kisi aik mulk li example den zara .America ko le len jaban orton ko azadi hasil ha 200% or us k side effects pata hain rape ki raio kiya ha americe me vahan orton ki izat kaise ki jati ha.
    Asal me azadi kis ko kehte hain k orton a jae be naqaab ho kar road par. Logo ki liye enjoyment ka samn ho jae hamare mulk bhi india america jaise mulkon me shamil ho jae jahan fahashi or har 10 mint me rape hota ha jahan girla college me wo dress pehan kar jati ha jis ko dekh kar …
    Please ap log society ko thek karo media thek karo k wo achi ikhlaaq ki chezen dikhae …

  3. Nawaz zaman کہتے ہیں

    janab .. main yeh arz kerna chahon ga k.app ko keh rahi hain azadi azadi … yeh maslay k hal nahi.. asay case to europe main aye roz hotay hain… wahan kya azadi nahi . wahan kya rape nahi .. wahan to aurat ko sub kuch mila.. kapray na pehno tak ke azadi .. har chez tecnology apnay sath achay aur buray asarat lati hay..farq yeh ha k hum logon ka demagh shaitan ka ha. wo ghalat istemal ke taraf lay jata ha..rishton main qadar aur mohabat nahi rahi..aur aik baat such ha .. . Aurat pe haqomat iss mulk main ke jati ha.. Aurat pe siyasat.. Aurat pe ghairat.. Aurat pee sub kuch..un se nahi poucha jata k un ke marzi kya ha… Itna kejiya k uss bechari see b poucha jaye ….what she wants .. bus.

  4. Hammad کہتے ہیں

    bara he fazool tabsara hy

  5. محمد اسداللہ کہتے ہیں

    مضامین اردو میں اور تبصرے انگریزوں اور رومن اردو میں۔یہ کیا بوالعجبی (کھلا تضاد) ہے
    ۔
    جو معاشرتی مضمون نگار دیکھنا چاہتی ہیں وہ بتدریج پیدا ہوتا جارہا ہے۔ جلد بازی نہ کریں جلد بازی سے بہت سے رکاوٹیں کھڑی کرنے والے آ دھمکے ہیں۔ بس لگے رہیں۔

  6. Moon کہتے ہیں

    Biased writer wants to bring naked freedom, s/he may choose it for their family

    Writer has issues with marriage at young(right) age but looks very happy in dating at the same age or even earlier –

    Looks like a condom seller became a blogger

  7. مسئلہ جنسی گھٹن کا نہیں ہے

    […] بلاگز پر ایک مضمون نظر سے گذرا جس کا عنوان تھا  ” خواتین کو جنسی گھٹن سے آزادی دلائیں“۔  اس مضمون میں پاکستان میں خواتین کی آزادی خصوصاً […]

تبصرے بند ہیں.