“تہانوُں کی؟”

6,867

چاند کی روشنی میں ہم نے ڈرتے ڈرتے اپنی “سر ی” کو بلند کر کے نگاہ مرد مومن سے ارد گرد کا جائزہ لیا تو تقدیر بدل چکی تھی۔ متحارب قوتیں پسپائی اختیار کر چکی تھیں۔ مشتعل افراد اپنا محاصرہ اٹھا لےگئے تھے۔ گویا ہم “پین دی سری” والی صورت حال سے دوچار ہونے سے بال بال بچ گئے تھے۔ (اس داستان کے لیے ہمارا بلاگ  “متبرک کلمات کے مہلک اثرات” ملاحظہ فرمائیے)

ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے تو آپ کو مزید صورت حال سے آگاہ کریں گے۔ اب ہم کوئی سیاست دان تو  ہیں نہیں کہ وعدہ کر کے بھول جائیں۔ ہمیں اپنا وعدہ اس انتہائی  نامساعد صورت حال میں بھی یاد ہے چناچہ ہم آپ کی  قوتِ مطالعہ کا مزید امتحان لینے کو تیار ہیں۔

آپ کو یاد ہی ہو گا کہ اتوار بازار میں افکارِ رضویہ میں سے  چند متبرک کلمات کی بےوقت  ترویج کے اثرات کی بدولت ہمیں اتوار بازار کے عقبی برساتی نالے میں  آئی۔ڈی۔پی بننا پڑا تھا۔  کچھ دیر پہلے تک ہم خود کو راہ حق کا مسافر سمجھرہےتھےمگر  جب مردِ مجاہد کے لیے وقتِ شہادت آیا تو ہم اپنے اندر وہ حوصلہ پیدا نہ کر سکے اور یوسین بولٹ  کی رفتار سے بھاگتے ہوئے بالآخر برساتی نالے میں غروب ہوگئے ۔ بعد ازاں غازی بننے پر ہم نے خدا کا شکر ادا کیا اور برساتی نالے ہی سے طلوع ہو ئے۔

خشک برساتی نالے میں ہم “یوں ہوتا تو کیا ہوتا”  کے مختلف زاوئیے سوچ سوچ  کر پسینے میں بھیگ چکےتھے۔اپنے طویل مگر غیر متوقع قیام کے طفیل ہمیں اپنے خیالات سےتفصیلی طور پر رجوع کرنے کا موقع بھی ملا تھا۔ شریف اعظم کی طرح ہم اس سوال پر بھی غور کر رہے تھے کہ آخر ہمارا  قصور کیا تھا۔ ہم نے اس سوال پر اتنا غور کیاکہ “رانجھا رانجھا کردے میں آپے رانجھا ہوئی” کے مصداق ہمارے اندر شرافت کا نزول ہو گیا۔  ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ ہماری گاڑی کانٹا تبدیل ہونے کی بنا پر غلط پٹڑی پر چڑھ گئی تھی۔ جوں ہی ہمیں “راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے”  ہم نے فوری یو-ٹرن لیا اور “رائے ونڈ جنکشن” سے گاڑی تبدیل کر لی۔

ہر آئی۔ڈی۔پی کا مقدر کچھ عرصہ کی دربدری سہنے کے بعد بالآخر اپنے گھر کی آبادکاری ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ ہوئے توہین آمیز سلوک کے بعد ہم بھی بذریعہ جی ٹی روڈ  گھر جانا چاہتے تھے۔برساتی نالے سے طلوع ہونے کے بعدتاریک راہوں میں گرتے پڑتےہم سڑک تک پہنچے۔ ہمارے موبائل فون کی بیٹری عارضی طور پر داغِ مفارقت دے چکی تھی اور ہم سستے سفر کے لیے “نجی” ٹیکسی سروس کی خدمات حاصل کرنے سے معذور ہو چکے تھے۔ سڑک پر پہنچتے ہی ہمیں اندازہ ہو گیا کہ ہم “شریف” کیا ہوئے، ساری دنیا ہی بدمعاش ہو گئی تھی۔ اس کا سب سے پہلا ثبوت ہمیں لب سڑک موجود اکلوتی کالی پیلی ٹیکسی کے لال پیلے ڈرائیور نے دیا جب اس نے نجی ٹیکسی سروس کے مقابل چھ گنا زائد کرایہ طلب کیا۔ پہلے تو ہم بھونچکا رہ گئے اور پھر کچھ لے دے کر معاملہ طے کرنے کی کوشش کی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے گریڈ اٹھارہ سے اکیس کے سے افسران کی شان سے انکار کیا اور ٹیکسی بھگا لے گیا۔ دور جاتی ہوئی ٹیکسی کی عقبیروشنیاں نہ جانے کیوں ہمیں ہیروں کی مانند چمکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔

ہم “نسخہ ہائے شرافت “سے ابھی نئے نئے “نوازے” گئے تھے ۔ “مجموعہ خیال ابھی فرد فرد تھا” اور جذبات میں وہ ٹھہراؤ پیدا نہیں ہوا تھا جو  “شرفا ” کا طرہ امتیاز ہے لہٰذا اس سلوک پر ہکا بکا رہ گئے۔ رات کے اس پہر آس پاس تو کیا دور دور تک کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ ہم آخر کتنی دیر تک ہکا بکا رہتے ۔ اندر سے کوئی چیخ چیخ کر کہ رہا تھا کہ قدم بڑھاؤ ۔۔قدم بڑھاؤ۔۔ فکر مت کرو۔ تم تنہا نہیں ہو۔ گھبراؤ مت۔ تم قدم بڑھاؤ۔ اور ہم نے قدم بڑھا دیئے۔ اس وقت  ہم تنہا تھے مگر سینکڑوں قدموں کی آہٹیں ہمارے کانوں میں گونج رہی تھیں۔ کچھ دیر اور کچھ دور چل کر ہم نے پلٹ کر دیکھا تو پریشان ہوگئے۔ “میں تنہا تھا، میں تنہا ہوں” کی سی صورت حال تھی۔

تقریباً دو گھنٹےتک مسلسل قدم بڑھانےکے بعد ہمیں ایک نیک دل فوجی نے لفٹ دے دی۔ گھر تک پہنچنے کو اور کوئی بھی وسیلہ دسترس میں نہ پا کر ہم نے طوعاًوکرہاً لفٹ قبول کر لی۔ تاہم ہم نے  فوجی سے سوال کیا کہ رات کے اس پہر سنسان سڑک پر ایک اجنبی کو لفٹ دیتے اسے ڈر نہیں لگا؟  فوجی جو اپنے انداز سے نہایت پراعتماد معلوم ہوتا تھا   ، بولا کہ اسے” ڈر  وَر ” نہیں لگتا۔ ہمیں لگا کہ یہ بات شاید ہم پہلے بھی کہیں سن چکے ہیں  مگر ذہن پر خاصا زور دینے کے باوجود ہمیں یاد نہ آ سکا کہ یہ لہجہ اور الفاظ ہم نے پہلے کب اور کہاں سنے تھے۔بہرحال!  دورانِ سفر فوجی سے گپ شپ رہی اور ہم نے اسے ان حالات سے آگاہ کیا جن سے ہم حال ہی میں گذرے تھے۔ وہ خاموشی سے سنتا رہا۔ اس داستان میں سفر کٹ گیا۔

صبح کے تقریباً پونے چار بجے جب اس نے ہمارے گھر کے سامنے گاڑی روکی تو ہمارے عالی شان گھر کو دیکھ کر حیران ہوا۔ ہماری داستان سن کر وہ شاید یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ ہم کوئی ٹٹ پونجیا ہیں۔ ظاہر ہے جب رات کے تین بجے ایک سنسان سڑک پر ایک شکستہ حال شخص آپ کو ملے  اور اپنی دکھ بھری داستان آپ کو سنائے تو آپ اس کو ارب پتی تو نہیں نا سمجھ سکتے۔ اس کے استفسار پر ہم نے بڑے غرورسے بتایا کہ یہ ہمارا ہی اثاثہ ہے۔ ہماری بات سن کر فوجی کے لبوں پر جو مسکراہٹ ابھری اس نے ہمارے تن بدن میں آگ لگا دی۔ ہمیں لگنے لگا جیسے ہماری تمام مصیبتوں کے پیچھے اسی کا ہاتھ ہے۔  ہمیں اس بات کا اس قدر یقین ہو گیا کہ ہمیں اس سے نفرت محسوس ہونے لگی۔

گاڑی سے اترتے وقت ہم نے اس کی بڑبڑاہٹ سنی۔ وہ کہ رہا تھا۔ بڑے میاں سٹھیا گئے ہیں۔ اپنا حالت نہیں دیکھتے۔ کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ یہ گھر ان بڑے میاں کا ہی ہے۔ تب ہم پلٹے اور انتہائی کرخت لہجے میں اسے جواب دیا۔

“ایڈےتسی آئے اعتراض کرن والے۔ بھئی اگر تہانوں میری حالت توں نئیں لگدا کہ ایہہ گھر میرا اے تے ماما   “تہانوں کی؟”

فوجی نے پہلے تو گھور کر ہماری طرف دیکھا۔ پھر اس نے کندھے اچکائے اور گاڑی آگے بڑھا دی۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. IRAM SHAHZAD کہتے ہیں

    آپ کے طنز کا انداز بھی کمال ھے.

    1. Awais Ahmad کہتے ہیں

      تعریف کا شکریہ۔ آپ کا حسن نظر ہے۔

  2. طوبیٰ زیب کہتے ہیں

    بہت اچھا لکھا ہےآپ نے۔ اپنے خاص طنزیہ انداز میں۔

تبصرے بند ہیں.