بابری مسجد کی مسماری پر نوحہ

2,130

پچیس سال قبل ایودھیا میں سولہویں صدی کی بابری مسجد کی مسماری پر میرے دیرینہ دوست اور ممتاز اردو شاعر جگن ناتھ آزاد نے یہ نوحہ لکھا تھا۔
یہ تونے ہند کی حرمت کے آئین کو توڑا ہے
خبر بھی ہے تجھے مسجد کا گنبد توڑنے والے
ہمارے دل کو توڑا ہے، عمارت کو نہیں توڑا
خباثت کی بھی حد ہوتی ہے ،حد توڑنے والے
ادھر ہندوستان کا چہرہ تو نے مسخ کر ڈالا
اُدھر بوئے ہیں تو نے کانٹے راہ ِ منزل میں
تجھے کچھ بھی خبر اس کی نہیں اے بد نصیب انسان
کہ ہندو دھرم کیا ہے اور اس کی آتما کیا ہے
نہیں ہے دھرم وہ ہرگز جسے تو دھرم کہتا ہے
خبر کل تک بس اتنی ہی تھی کہ گنبد ایک توڑا ہے
کھلی اب بات مسجد کا نہیں چھوڑا نشان باقی
وہ تہذیبِ تسلسل جو تھا جاری چار صدیوں سے
تو سمجھا ہے نہ رہ پائے گی اس کی داستاں باقی
خدا کا گھر ہے مندر بھی خدا کا گھر ہے مسجد بھی
مجھے تو میرے ہندو دھرم نے بس یہ سکھایا ہے
نہیں ہے دھرم ہرگز وہ فقط اندھی سیاست ہے
تجھے تیرا یہ درسِ شیطا نیت کس نے پڑھایا ہے
یہ مسجد آج بھی زندہ ہے اہل دل کے سینوں میں
خبر بھی تجھے ہے مسجد کاپیکر توڑنے والے
ابھی یہ سر زمین خالی نہیں ہے نیک بندوں سے
ابھی موجود ہیں ٹوٹے ہوئے دل جوڑنے والے

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔
آصف جیلانی کو International WhosWho میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.