میڈیا سے’ فیض عام’ اور ہر چوراہے پر موجود تجزیہ کار

7 397

فیض آباد دھرنا شروع ہوا میڈیا نے اٹھایا ۔پھر آپریشن شروع ہوا میڈیا نے لمحہ بہ لمحہ دکھایا ۔دیکھتے ہی دیکھتے ملک بھر میں احتجاج کا سلسلہ پھیل گیا ۔ سوشل میڈیا پر طوفان سا برپا ہو گیا ۔پیمرا کو مجبوراً تمام نیوز چینلز کی نشریات بند کرنا پڑیں ۔اور وزارتِ اطلاعات و نشریات کو سوشل میڈیا بھی بند کر نا پڑگیا ۔فیض آباد دھرنا تو حالیہ واقعہ ہے ۔ اس سے قبل درجنوں واقعات ایسے رونما ہو چکے ہیں جنہیں میڈیا پر دکھایا گیا اور وہ ریاستی کنٹرول سے باہر ہو گئے۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ریاستی تمام ادارے کمزور یا قدرے بے بس سے ہو گئے ہیں ۔ عوام حد سے زیادہ باشعور ہو گئے ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا نے عوام کو شعور دیا ہے ۔ لیکن اب ایک طبقہ ایسا کہنے پر مجبور ہو گیا ہے کہ میڈیا نے ہر چیز ہر خبر بلا روک ٹوک نشر کرکے عوام کو کچھ زیادہ ہی باشعور بنا  دیا ہے ۔ ہم اپنے ارد گرد ہی نظر دوڑا کر دیکھ لیں ۔ہر گلی محلے چوک ، پان والے کی دکان ، حجام کے تھڑے ، موچی کے پٹرے پر ،ہوٹل کی کرسیوں پر مبصر ہی مبصر ، تجزیہ کار ہی تجزیہ نظر آئیں گے ۔”میں نے جو کہہ دیا وہی حقیقی تصویر ہے ” کا لیبل تقریباً ہر پاکستانی کے ذہن میں چسپاں ہو چکا ہے ۔

ضرورت سے زیادہ کوئی بھی چیز نقصان دہ ہوتی ہے ۔ اور سب سے زیادہ خطرناک  کسی منفی ذہن میں عقل کی زیادتی ہونا ہے ۔اگر سوچ منفی ہو تو ضرورت سے زیادہ عقل والا چالاک اور مکار کہلاتا ہے ۔ایک دور تھا ذرائع ابلاغ میں جدت نہیں آئی تھی ۔ریڈیو پاکستان تھا یا پاکستان ٹیلی ویژن ، نہ موبائل فون تھا لینڈ لائن ٹیلی فون بھی اتنا عام نہ تھا ۔ یہ وہ دور تھا جس میں اخبار ہی معلومات کا مرکزی ذریعہ تھا ۔ اور ہر شخص اخبار خریدتا نہیں تھا ۔اس لیے زیادہ تر عوام اکثر واقعات سے لاعلم ہی رہتی تھی ۔ اور اگر علم بھی ہوتا تو وہ اتنی تفصیل سے نہ ہوتا ۔معاشرہ امن اور چین کے ساتھ رواں دواں تھا ۔  پہلے ارتقا اور تبدیلی نسل در نسل بعد آتی تھی ۔ لوگوں کے خیالات  میں کئی کئی دہائیوں بعد  ہلکی پھلکی تبدیلی آتی تھی ۔

پھر اکیسویں صدی کیا آئی کہ ایک دم سے کایا ہی پلٹ گئی ۔ کمپیوٹر کا عام ہونا ، موبائل فون کا عام ہونا ، انٹرنیٹ کا عام ہونا ، کیبل کا عام ہونا ، درجنوں نئے ٹی وی چینلز کا آنا ، اور سب سے زیادہ متاثر کرنے والے سوشل میڈیا کا عام ہونا ۔ اتنے سارے عوامل ہوں تو ارتقا اور سوچ تو سال اور مہینے  کیا بلکہ دنوں اور گھنٹوں میں بدلے گی ہی ۔ اس چیز میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ جو بھی چیز اللہ پاک نے بنائی اور اپنی  قدرت  سے تخلیق کی، اس میں تمام مخلوقات کیلئے خیر ہی خیر ہے ۔ اور جس بھی چیز میں انسان تبدیلی لایا اس قدرتی چیز میں بھی نقصانات شامل ہونے لگے ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے دماغ دیا جس کی وجہ سے وہ دنیا تسخیر کر رہا ہے لیکن سائنس کی وجہ سے جو بھی جدت آئی اس میں خیر اور شر, اچھائی اور برائی کے دونوں عنصر موجود رہتے ہیں اور یہی ایک تلخ حقیقت ہے ۔

ایک بڑی مثال دنیا ہی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے دنیا کو خوبصورت بنایا اور  تازہ ہوا فراہم کی ۔ انسا ن گاڑیاں ، فیکڑیاں بنا کر فائدہ حاصل کیا ۔ لیکن ان سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دھویں نے قدرتی توازن میں بگاڑ پیدا کر دیا ۔ ایسے ہی بہت سی دیگر مثالیں بھی ہیں ۔

مثل مشہور ہے کہ لاعملی بھی ایک بڑی نعمت ہے ۔کمپیوٹر ، موبائل فون ، انٹرنیٹ ، کیبل ،نیوز چینلز کے بہت سے فوائد ہیں ۔ لوگوں میں شعور آیا ہے ۔  ان کو حالات کا پتہ چلا ہے ۔لیکن اس کا نقصان بھی ہوا ہے ۔پاکستان میں میڈیا، ریڑھ کی ہڈی اور کوئی بھی سمت متعین کرنے والا ادارہ بن چکا ہے ۔ جو بات میڈیا کہہ دے عوام کی اکثریت اس پر من و عن سر خم کرتی ہے ۔لیکن میڈیا نے ضرورت سے زیادہ چیزوں کو دکھا کر عوام کو گمراہ کن حد تک منفی کر دیا ہے ۔میڈیا اور سوشل میڈیا نے ہر عام شہری کو اپنے تئیں تجزیہ کار بنا دیا ہے ۔عدم برداشت کا رویہ عام سا ہو گیا ہے ۔ جہاں دو لوگ جمع ہو جائیں کسی بھی موضوع پر ‘جامع’ تبصرہ شروع ہو جاتاہے ۔کہنے کو تو یہ ٹائم پاس کرنے کیلئے اکٹھے ہوتے ہیں لیکن لاشعوری طور پر ان کے دل و دماغ میں ایک مواد جمع ہونا شروع ہوتا ہے ۔ جو بالآخر ایک لاوے کی شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ جب کوئی اس شخص سے اس موضوع پر گفتگو کرتا ہے تو صرف اپنا ہی تجزیہ اور شواہد پیش کرتا ہے، دوسرا اس سے اختلاف کرے تو سیخ پا ہو جاتا ہے ۔کوئی بھی انسان دوسرے کے موقف کو سننا ہی پسند نہیں کرتا ۔ سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ بن جائے تو اس پر بے لاگ تبصرے شروع ہو جاتے ہیں ۔جن میں سے اکثریت بغیر کسی توجہ و شوق کے ہوتے ہیں ۔ حالانکہ تبصرہ کرنے والے کو اصل موضوع کی الف ب بھی پتہ نہیں ہوتی ۔

ایک سبزی والا اگر سنار بن جائے تو یقیناً وہ نقصان اٹھائے گا ۔ ایک دودھ دہی بیچنے والا اگر میڈیکل سٹور پر جا کر دوائی بیچے گا تو یقیناً کسی نہ کسی کی ہلاکت کا ہی باعث بنے گا ۔ کپڑے بیچنے والا تاجر اگر یونی ورسٹی میں جا کر معاشیات پر لیکچر دے گا تو یقیناً طلبا کا نقصان ہی کرے گا ۔ مقصد یہ کہ جس شخص کا جو شعبہ ہے وہ اگر اپنے ہی شعبے میں رہے اور دوسرے شعبے میں مداخلت نہ کرے تب ہی معاشرے کا توازن درست رہے گا ۔ اگر وہ کسی دوسرے شعبے میں مداخلت کرے گا تو دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنا بھی نقصان کرے گا ۔

عوام کو چاہیئے کہ وہ نیوز چینلز دیکھے اور جو صحافی اور تجزیہ کار ہیں ان کے تجزیے سنے اور ان پروگرامز سے اپنی معلومات میں اضافہ کریں ۔ نہ کہ خود محفلوں میں بیٹھ کر نت نئے تجزیے شروع کر دیں ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب ایک پروگرام نیوز چینل پر چلتا ہے تو وہ ایک مستند صحافی پیش کرتا ہے ۔ جو وہ بات کرتا ہے جو معلومات وہ ناظرین سے بانٹتا ہے وہ کسی نہ کسی ذریعے سے حاصل ہوتی ہیں ۔ایک صحافی خصوصاً رپورٹ کا براہ ِراست تعلق سیاست دانوں  ،سرکاری حکام  اور انتظامیہ سے ہوتا ہے ۔ایک صحافی کوئی بھی بات کرتا ہے  یا کوئی بھی الزام لگاتا ہے تو اس کے پاس ٹھوس معلومات ہوتی ہیں ۔ جو کسی صورت ایک عام شہری کے پاس نہیں ہوسکتیں ۔ جب عام شہری گلی محلوں یا ڈرائنگ رومز میں ایسی محافل سجاتے ہیں اور اپنے اپنے تجزیے پیش کرتے ہیں ۔تو اس کے کئی نقصانات ہیں ۔ اول تو بغیر کسی معلومات اور ثبوت کے دوسرے کو غلط معلومات پہنچائی جارہی ہوتی ہیں ۔ دوسرا یہ کہ ناقص معلومات کے ذریعے بحث و مباحثہ کرکے قیمتی وقت برباد کر رہے ہوتے ہیں ۔ تیسرا یہ کہ اگر کوئی ایک بھی شخص اس محفل میں ہونے والی کسی ایک بھی جھوٹی یا غیر مستند بات کو کسی اگلی محفل میں پہنچا دے تو کتنا غلط ہو گا ۔

اس کالم کا مقصد یہ بالکل نہیں کہ اس میں عام شہری کی تذلیل کرنے یا ان پر پابندی لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بلکہ ایک مشورہ ہے کہ جس چیز پر عبور نہ ہو،جس چیز کا علم نہ ، جس چیز کی معلومات  نہ ہوں  اس پر اپنی طرف سے بحث نہ کی جائے ۔حکومت جائے گی یا نہیں ، کوئی وزیر اعظم  رہے گا یا نہیں ، فوج اقتدار پر قبضہ کرے گی یا نہیں ، کوئی انگلینڈ سے پاکستان آئے گا یا نہیں ،اگلا الیکشن و ہ جیتے گا یا نہیں ،اور اس جیسے موضوعات پر کئی کئی گھنٹے بحث ہوتی ہے ۔ اور آخر میں بحث کرنے والا اٹھتا ہے اور کہتا ہے دوستوں میں اب چلتا ہوں کیونکہ دیر ہو رہی ہے صبح کام پر جا کر روز گار بھی کمانا ہے ۔

جب ایک عام شہری کا مقصد روز گار کمانا ،اپنے اہل خانہ  کی ضروریات پوری کرنا اور روز صبح اٹھ کر ڈیوٹی پر جانا ہے ۔تو پھر دیگر عوامل پر اتنی لا حاصل بحث کیوں؟ یہ بات طے ہے کہ عام شہری جتنی مرضی بحث کرلے۔طاقتوں کا فیصلہ کرنے کیلئے ان کی رائے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔  جو وقت اتنی لاحاصل گفتگو میں ضائع ہوتا ہے اس سے آدھا وقت اپنے ذرائع آمدن بڑھانے پر سوچیں تو کبھی نہ کبھی کوئی راستہ ضرور نکلے گا ۔ اس لیے نیوز چینلز اور سوشل میڈیا کو اپنی تفریح اور معلومات کے ذریعے کے طور پر ہی لیں اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔ آزمائشی طور پر کچھ روز عمل کرکے دیکھیں ۔آپ کو اپنے اندر تبدیلی کے ساتھ ساتھ سکون بھی ضرور حاصل ہوگا ۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

7 تبصرے

  1. Sarosh Mayo کہتے ہیں

    Bilkul aam shehri jitni marzi behes krle
    Taqatoon Ka faisla hatmi h

  2. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Sarodj Mayo Thank You

  3. zakirya کہتے ہیں

    Laahasil behas sy talukaq kharab hoty hn…. jin siyasat danoo k mutaliq ghanto baat hoti unhy zarra barabar frq nhi prta tuuu kyun apni energy waste ki jaye….. 100% agree with you

  4. Ali Mayo کہتے ہیں

    Zakirya yes every person and every institute must be in its own domain ,it will be good for this State

  5. محمد جاوید کہتے ہیں

    میرے پیارے بھائی آپ کا مشورہ سر آنکھوں مگر کس تجزیہ نگار کو سنوں اے آر وائی کے صابر شاکر اور عارف بھٹی جیسے صاحب آرا
    کو سنوں یا جیو پر بیٹھےحسن نثار جیسے محقیقین کو چینل 92 پر سوٹ ٹائی لگاے شاہد لطیف اور جنرل امجد جیسے ریٹائرڈ جرنیلوں کے پر مغز تبصرے سنوں یا پھر سماء پر براجمان ایک خاص مسلکی وفقہی سوچ کے اوپر سیاسی ملمع کاری کر کے بیٹھائے حسن عسکری جیسے
    عظیم مفکروں کے بھاشن سنوں
    تعصب ہی تعصب ہے ہر طرف ;بغض ہی بغض ہے چار سو

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      محد جاوید صاحب یہی تو میں عرض کر رہا ہوں کہ ٹی وی پر بیٹھے تجزیہ کاروں کو صرف اپنی اطلاعات کی رسائی کی حد تک سنیں ۔ ان کو فالو کرنا یا ان کی بات کو حرف آخر سمجھ کر اپنی رائے قائم نہ کریں ۔ میڈیا کا کام یہی ہے ۔عوام کو بھی چاہیئے کہ اپنے روزگار زندگی پر توجہ دیں اور اپنا معیار زندگی بلند کریں ۔ بلاجواز تبصروں اور تجزیوں سے اپنا قیمتی وقت برباد نہ کریں

      1. محمد جاوید کہتے ہیں

        معذرت کے ساتھ میڈیا کا کام حقائق پر مبنی خبروں اور تبصروں
        پر عوام کو آگہی دینے کے ساتھ ان کو راہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ہر چینیل کسی سیاسی پارٹی یا کسی ادارے کا ترجمان بن کر اسی کے بیانیے کو لے کر رائے عامہ کو اس پارٹی یا اس ادارے کے حق میں ہموار کرنے کی کوشش میں لگا ہے – اب تو حالت یہ ہے کہ آپ کسی گھر کسی دفتر کسی ہسپتال یا کسی ہوٹل میں لگی ٹی وی سکرین کا چینیل دیکھ کر بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس گھر کے
        مکینوں کا یا اس ادارے ِ اس ہوٹل اس ہسپتال کے سربراہ کا تعلق کس پارٹی سے ہے ;اب آپ بتائیں دنیا کے کس جمہوری ملک میں اس طرح کی صحافت ہوتی ہے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.