“آزادی – ایک تارک ِوطن کی ڈائری کا ایک ورق”

0 457

اس بلاگ میں بیان کی گئی کہانی سچ پر مبنی ہے۔ ہمارے کئی بہن اور بھائی مختلف مصائب کا شکار ہو کر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ وہاں انہیں جن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کی تفصیل جان کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائےاور ہم سب پر اپنا خاص کرم رکھے۔ آمین۔ (مدیر)

کچھ دن پہلے میں اپنے دوست کے گھر اس کی والدہ کی عیادت کی غرض سے گیا۔ابھی وہاں پہنچ کر بیٹھا ہی تھا کہ اسپتال سے طبی عملہ اس کی والدہ کا معمول کا طبی معائنہ  کرنے کے لیے پہنچ گیا۔یہاں یورپ   میں مریضوں کی گھر میں مناسب دیکھ بھال کا بہت اچھا انتظام ہے۔میرا دوست معذرت کر کے اٹھ گیا  اور میں اس کی غیر موجودگی میں یونہی  بے مقصد ادھر ادھر نظریں دوڑانے لگا۔

جس چیز نے میری توجہ اپنی جانب کھینچی وہ اس کمرے کے ایک کونے میں رکھا ہوا ایک پنجرہ تھا جس میں کچھ رنگ برنگے مگر بے چین پنچھی موجود تھے۔اکثر لوگ گھر وںمیں خوبصورتی کی غرض سے پرندوں کو پنجروں میں قید رکھتے ہیں۔پرندہ مگر ایک آزاد فطرت مخلوق ہے۔اس پنجرے میں  موجود پنچھی خاموش نہیں تھے مگر ان کی آوازوں کو چہچہانا بھی نہیں کہا جا سکتا تھا۔میں ان پرندوں کے ترنم میں ان کا درد محسوس کر رہا تھا۔وہ  بار بارپنجرے کی سلاخوں سے ٹکراتے تھے کہ کسی طرح پنجرہ توڑ کر ایک بار پھر آزاد فضاؤں میں اڑ سکیں۔ان کی یہ جدوجہد دیکھتے دیکھتے میری آنکھوں کے آگے ماضی  کے وہ تکلیف دہ مناظرایک بار پھر ابھرنے لگے جن کو میں اپنے ذہن کے کسی کونے میں دفن کر چکا تھا۔

وہ رات کے ایک بجے کا عمل تھا اور ہر طرف سناٹا پر پھیلائے محوِ پرواز تھا۔دفعتاً ایک مدھم  آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ “سلاخیں  کٹ گئی ہیں۔بھاگو!”  یہ سنتےہی  کمرے میں موجود بیس میں سے سولہ لوگوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور تین منزلہ عمارت کی دوسری منزل پر موجود کمرے کی کھڑکی سے باہر کود گئے۔آزادی کا جذبہ اتنا توانا تھا کہ انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا کہ آگے کیا ہوگا۔باقی بچ جانے والے چار افراد جن میں، مَیں بھی شامل تھا،سانس روکے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔چھلانگ لگانے والوں میں سے پانچ لوگ ان خاردار تاروں پر گرے جو اس عمارت کی چاردیواری پر لگائی گئی تھی جس میں ہم لوگ موجود تھے۔ان کی دردناک چیخوں نے سناٹے کو درہم برہم کر دیا۔جو تاروں سے بچ گئے تھے، وہ باہر سڑک پر جاکر گرے ۔ دوکے علاوہ باقی تمام  کی ٹانگوں کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور وہ بھاگنے کے قابل نہ رہے۔جو دو لوگ خوش قسمتی سے بچ گئے تھے وہ  آن کی آن میں ہماری نظروں کے سامنے بھاگتے ہوئے اندھیرے میں غائب ہو گئے۔

زخمیوں کی چیخوں نے عمارت کے محافظوں کو چوکنا کر دیا تھا چناچہ  وہ فوری طور پر حرکت میں آگئے۔پولیس کے ساتھ ساتھ ایمبولینس بھی طلب کر لی گئیں۔زخمیوں کو کو فوری ابتدائی طبی امداد مہیا کی گئی۔ جو دو لوگ  خوش قسمتی سےفرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے ان کی قسمت نے بھی زیادہ دیر تک یاوری نہ کی اور وہ بھی دوبارہ دھر لیے گئے ۔ ایک مرتبہ پھر ان کا مقدر وہی کمرہ بن گیا جہاں سے  وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

یہ کسی کہانی یا فلم کا منظرنہیں تھا بلکہ حقیقت پر مبنی ایک آنکھوں دیکھا واقعہ تھا۔2009 میں جب میں اپنے وطن کی زمین ایک جھوٹے مذہبی مقدمے میں خود پر تنگ ہونے کے بعدبے اندازہ مشکلوں سے نبرد آزما ہوتے کسی نہ کسی طرح  مشرقی یورپ کے ملک ہنگری پہنچنے میں کامیاب ہوا تو  مجھے دو ہفتوں کے لیے اسی عمارت میں رہنے کا ناخوشگوار  تجربہ ہوا تھا۔ اس عمارت کو جیل نہیں کہا جا سکتا تھا کیوں کہ وہ مجرموں سے بھری ہوئی نہیں تھی۔البتہ وہاں غیر قانونی تارکین وطن کو رکھا جاتا تھا  ۔ اس وقت تک جب تک ان کے مستقبل کا کوئی فیصلہ نہ ہو جائےاور  وہاں رہنے والوں کو کسی بھی قیمت پر وہاں سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔

میں نے جب ان لوگوں سے بات چیت کی تومعلوم ہوا کہ کچھ لوگ  وہاں دو ماہ ،کچھ چھ ماہ اور کچھ آٹھ ماہ گذار چکے تھے اور یہ ان کی وہاں سے فرار کی پہلی کوشش نہیں تھی۔وہ اس سے پہلے بھی وقتاً فوقتاً وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتےرہے تھے۔ اس کوشش میں پہلے بھی اکثر لوگ زخمی ہو چکے تھےاورصحت یاب ہو کر پھر بھاگنے کو پر تولنے لگتےتھے۔اگر کبھی بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو بھی جاتےتو  دوبارہ پکڑ کر وہاں لائے جاتے تھے۔

یہ سب دیکھ اورسن کر پہلی مرتبہ احساس ہوا تھا  کہ آزادی کتنی بڑی نعمت ہے۔گو کہ ہم بچپن سے آزادی پر لکھے گئے مضامین اسکول کی کتابوں میں پڑھتے آئے تھے مگرقصے کہانیوں سے زیادہ ان کو اہمیت نہیں دی تھی۔اب جب کہ اپنی آنکھوں سے لوگوں کو آزادی کے لیے دیوانہ وار کوشش کرتے دیکھا تو  سمجھ آئی کہ آزادی کیا ہوتی ہے اور لوگ کیوں اس کے لیے اپنی جان تک کی پرواہ نہیں کرتے۔

یہ سب یاد کرتے کرتے  خیالات کی رو اپنے پیارے وطن کی جانب مڑ گئی۔ پاکستان کے موجودہ حالات دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے کہ آزادی جیسی نعمت سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نواز رکھا ہے مگر پھر بھی ہم   آزادی جیسی بیش بہا نعمت کے حقوق ادا نہیں کر پا رہے۔ مساوات کے ذرا بھی قائل نہیں۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہے۔ہر کوئی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگا ہوا ہے۔اور حکومت وقت  تو سب پر بازی لے گئی  جب اس نے آزادی اظہار تک کا گلا دو دن تک دبائے رکھا۔ایک سوال ذہن میں ابھرا کہ کیا  ہماری قوم  اس آزادی کی حفاظت کر پا رہی ہے جو  نہ جانے کتنی المناک قربانیوں کے بعد  اس قوم کو نصیب ہوئی ہے۔؟

ابھی میں انہی خیالات میں گم تھا  کہ میرا دوست واپس آ گیا۔میں ایک نظر دوست کو دیکھا  اور دوسری نظر پنجرے پر ڈالی۔مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ میری آنکھوں میں سے آنسو کے چند قطرے  میرے گالوں پر ڈھلک آئے ہیں۔میرا دوست  مجھے دیکھ کر پریشان ہو گیا اور میری اس حالت کے بارے میں استفسار کیا۔ “عمر۔ تمہیں کیا ہوا؟”۔ میں نے  اپنے دوست سے درخواست کی کہ پنجرے میں قید پرندوں کو آزاد کر دے کیوں کہ  انسان اور پرندے آزاد فضاؤں میں ہی اچھے لگتے ہیں۔میرا دوست میرے ماضی سے واقف تھا۔وہ میری بات سمجھ گیا اور مجھے اجازت دی کہ میں ان پرندوں کو اپنے ہاتھ سے آزاد کر دوں۔

پرندوں کو آزاد فضا میں چھوڑتے ہوئے  میں خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرہا تھا ۔مجھے لگ رہا تھا جیسے  آج میں نے اپنے ماضی کی تکلیفوں  کا  ازالہ کر دیا ہے۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.