کیا مصیبت ختم ہو گئی؟

0 1,297

ہم پاکستانیوں کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ اپنی ہی پیدا کردہ مصیبت کے ٹل جانے پر خوشی کے ایسے شادیانے بجاتے ہیں کہ جیسے سب کچھ ہمیشہ کے لئے ٹھیک ہو گیا ہو اور اب مصیبت کبھی لوٹ کر نہیں آئے گی لیکن اگلے ہی لمحے ہم اپنے ہاتھوں سے نئی مصیبت کے بُت تراشنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر ہے۔

ہمیں یاد ہے کہ جنرل ضیا الحق کے مارشل لاء کو بھی زوالفقار علی بھٹو کی آمریت سے نجات قرار دیا گیا تھا مگر پھر اگلے گیارہ سال ضیاء الحق سے جان چھڑانا مشکل ہو گیا تھا۔ خُدا خُدا کر کے اُس سے جان چھوٹی تو تب بھی قوم نے شکر ادا کیا کہ دیر آید درُست آید مگر جن نادیدہ قوتوں کو سیاسی حکومتیں راس نہیں آتیں اُنہوں نے نئے جال بُن لیے۔

zia-bhutto

بھٹو کی نیشنلائزیشن اور ضیاء الحق کی جہاد پالیسی کے اثرات ابھی زرا کم نہ ہونے پائے تھے کہ جنرل پرویز مشرف پرائیوٹائزیشن کی سوچ کے ساتھ اقتدار پر براجمان ہو گئے۔ اُس وقت بھی ہم نے انہیں اپنی ہر مشکل سے نجات کا زریعہ سمجھا اور خُوب آئو بھگت کی۔ پچھلی مصیبتوں سے چھٹکارے پر خوشیوں کے دیپ جلائے مگر پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ پرویز مشرف خود ”مصیبت” بن گئے۔

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے ازخود نوٹسز کو بھی حکمرانوں کی پیدا کردہ مُصیبتوں کے خلاف ڈھال سمجھا گیا مگر وقت نے انصاف کے لئے لڑی جانے والی اس جنگ کو ”ٹوپی ڈراما” ثابت کر دیا حالاں کہ پوری قوم نے  عدلیہ بحالی 54a2609b57306تحریک میں خود کو جھونک دیا تھا۔ اس کے باوجود کہ عدلیہ کا ”نظریہ ضرورت” ہمیشہ قوم کے لئے بھاری ثابت ہوا مگر پھر بھی ماضی کو بھلا کر جدوجہد کی نئی تاریخ رقم کرنے کا کڑوا گھونٹ پیا گیا۔ لیکن ہوا کیا! عدلیہ کی بحالی کے بعد بھی لوگ آج بھی انصاف سے محروم ہیں۔

بقول ظہیر کاشمیری مرحوم

جس دیوار کو خون پلا کر

سر سے اُونچا کر گئے لوگ

اُس دیوار کے نیچے آ کر

اک اک کر کے مر گئے لوگ

پاکستان تحریک انصاف کے اسلام آباد دھرنے کو ملک وقوم پر مُصیبت بنے حُکمرانوں کا دھڑن تختہ سمجھا گیا۔ اس دھرنے سے حکومت سے جان تو نہ چھوٹی مگر دھرنوں کی ایسی سیاست کا آغاز ہو گیا کہ جس سے اب چھٹکارہ مشکل ہی نظر آتا ہے۔ آج مشکل میں پھنسا ہر شخص دھرنے کو ہی مسئلے کا حل سمجھتا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والا تحریک ختم نبوتؐ کا دھرنا ہو یا لاہور کے مال روڈ کی بندش ہزاروں لوگ اس مُصیبت سے دوچار رہے۔

dharna

ہم میں سے بہت سے لوگ یقین کی حد تک یہ سمجھتے ہیں کہ مُصیبت اللہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اس کے آنے اور جانے کا اپنا وقت ہوتا ہے۔ انسانی کوشش زیادہ سے زیادہ اس کے نقصانات کم کر سکتی ہے مگر مکمل چھٹکارہ ممکن نہیں۔ ہمارے خیال میں ایسا سوچ صرف خود احتسابی سے گریزاں افراد کا ہی ہو سکتا ہے، کیوں کہ جو لوگ اور قومیں اپنا احتساب کرنے کی عادی ہوتی ہیں اُن کے لئے کوئی بھی مُصیبت کسی امتحان سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ترقی یافتہ قومیں تو مُصیبت بننے والی کسی معمولی سی غفلت کو بھی نظر انداز کرنے کو غلطی سمجھتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں احمقانہ فیصلوں پر بھی کسی قسم کی شرمندگی کا کوئی احساس تک نہیں ہوتا۔ اسی لئے تو ہماری مصیبتیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ دھرنا ہو یا احتجاج کے دوران سڑک بند کرنا، یہ طے ہے کہ مصیبتوں کے حل کا ایسا کوئی بھی طریقہ کسی طور بھی درست نہیں۔ راستے بند کر کے حکمرانوں کے مردہ ضمیر کو جگانے کی ایسی کوششیں زیادہ تر بے سود ہی رہی ہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ دھرنے دے کر حکمرانوں کی بے حسی کو للکارا جا سکتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی یا خوش فہمی ہی ہو سکتی ہے کیوں کہ کام تو ہمیشہ وہ ہاتھ دکھاتے ہیں جو نظر نہیں آتے اور دراصل یہی وہ ہاتھ ہیں جو کبھی کسی کی پشت پر اور کبھی کسی کی گردن پر ہوتے ہیں۔

بقول شاعر

یہ جو پیچھے سے وار کرتے ہیں

ہم پہ ظاہر اپنا کردار کرتے ہیں

اُن سے کہتے ہیں جاں نثار اُن پر

پھر اُن کی جاں کا حصار کرتے ہیں

خواجہ آفتاب حسن لاہور میں مقیم ایک صحافی اور مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.