کیا تھر پاکستان کے لیے گیم چینجر بننے جارہا ہے؟

1 2,314

اس میں کوئی شک نہیں کہ وطن عزیز پر حکمرانی کرنے والی ہر حکومت ملک میں توانائی کی کمی کے سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوشاں رہی ہے لیکن یہ کبھی بھی ان کی ترجیح نہیں رہی۔  ایسے لگتا ہے کہ کسی بادشاہ کے ہاتھ دولت تو آگئی لیکن استمال کرنے کا طریقہ نہ آیا اور اس نے ادھر ادھر فضول چیزوں پر دولت لٹا کر تباہ کردی۔ یہاں تو دولت تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ قرضہ بھی لیا جاتا جسے عوام کو اتارنا پڑتا ہے۔

بدقسمتی سے ایسا ہی کچھ تھر میں کوئلے کے ذخائر کے ساتھ بھی ہوتا رہا۔  مفلوک الحال تھر کی زمین کالا سونا اگلنے کو تیار تھی مگر حکمران اس سونے کو ملک کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ ایک اندازےکے مطابق تھر میں پائے جانے والے کوئلے کی ذخائر 175 بلین ٹن ہیں جو دنیا میں کوئلے کے بڑے ذخائر میں سے ایک شمار ہوتا ہے وطن عزیز پر ربِ کائنات کی مہربانی ہے کہ کوئلے کے یہ ذخائر ریگستانی ہموار زمین کے نیچے یہ موجود ہیں۔ ہموار زمین کے نیچے معدنیات کا ہونا خود ایک نعمت ہے۔

Pakistan-Coal

کوئلہ، بجلی بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اس وقت دنیا کی کل بجلی کی پیداوار کا  04.6 فیصد کوئلے سے بنتا ہے۔  اگر ہم ان ممالک جن کو اللہ تعالی نے کوئلے کی دولت سے مالا مال کیا ہے ان کی بجلی کی پیداوا ری تناسب کا جائزہ لیں تو پتا چلتا ہے کہ پولینڈ، ساؤتھ افریقہ، چین، بھارت،آسٹریلیا، قازقستان،جرمنی، امریکہ، برطانیہ، ترکی، یوکرین، منگولیا،ہانگ کانگ، سربیا،بوسنیا  اور جاپان میں کوئلے سے بجلی بنانے کا تناسب 55 فیصد سے 99 فیصد تک ہے۔

تمام ایشیائی ممالک میں منگولیا کوئلے سے سب سے زیادہ بجلی بنانے والا ملک ہے جس کی پیداوار 92.2 فیصد ہے جب کہ منگولیا کے پاس 162 بلین ٹن کوئلے کے ذخائر ہیں۔ اسی طرح یورپی ممالک میں سب سے زیادہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا ملک پولینڈ ہے جو 83 فیصد بجلی کوئلے سے پیدا کرتا ہے۔ اگر اس بین الاقوامی تناسب کا موازنہ وطن عزیز سے کیا جائے تو سر پیٹنے کا دل کرتا ہے۔ایک بہت بڑا کوئلہ کا ذخیرہ ہمارے ملک میں موجود ہے اور ہم کوئلے سے آٹے میں نمک برابر بجلی پیدا کررہے ہیں۔

528325722c83f

تھر میں کوئلے کی کانیں سن 1991ء میں جیولوجیکل سروے آف پاکستان (جی ایس پی ) اور امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی کی مدد سے دریافت کی گئیں تھیں۔ ان ذخائر کو دنیا کے 119 ممالک میں پائے جانے والے کوئلے کے ذخائر میں ساتویں نمبر پر قرار دیا گیا تھا۔  تھر میں بڑے پیمانے پر کوئلے کی کانوں کی دریافت کے بعد سے ہی آسٹریلیا، جاپان،چین اور بھارت کے سرمایہ کاروں کی نظریں اس حوالے سے شروع ہونے والے منصوبوں پر لگی گئیں تھیں۔  ان ذخائر کی دریافت کے بعد ایک طویل عرصے تک اس نعمت سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا گیا۔اس کی وجہ اس قدرتی خزانے پر  ملکیت کی رسہ کشی تھی۔

ایک طویل عرصہ ضائع کرنے کے بعد سترہ جون 2009 کو سندھ حکومت کی جانب سے ایک باضابطہ اعلان سامنے آیا جس میں عندیہ دیا گیا کہ تھر کول کا معاملہ حتمی طور پر طے پاچکا ہے۔ اس اعلان کے مطابق حکومتِ سندھ تھر میں دریافت ہونے والے کوئلے کی کانوں کو اپنی ملکیت میں رکھےگی۔  اسی خاطر وزیرِ اعلیٰ سندھ کی سربراہی میں تھرکول انرجی بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا اور منصوبے کو جامشورو یونیورسٹی کے حوالے کیاگیا۔  یونیورسٹی کے پاس اس منصوبے کے لیے درکار مہارت کا فقدان تھا جس وجہ سے منصوبے پر عمل درآمد میں تاخیر مزید طوالت کا شکار ہو گئی۔

تھر کول میں واقع کوئلے کے ذخائرpic_1483960602 کو تیرہ بلاکوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جوتین  فیز پر مشتمل ہیں۔  سن 2010 سے 2012 تک کے لیے پہلے بلاک میں ڈاکٹر ثمر مبارک کی زیرِ قیادت منصوبہ شروع کیا گیا جس کا تخمینہ 9 بلین روپے تھا۔ اس بلاک سے 28 مئی 2015 سے بجلی کی پیداوار شروع کی گئی۔ ڈاکٹر ثمر مبارک کا کہنا ہے کہ اسی دن سے اس پروجیکٹ کے لیے فنڈنگ روک دی گئی اور 2017 تک اس منصوبے کے لیے 03 بلین کی فنڈنگ ہوئی جس سے صرف 150 میگاواٹس بجلی پیدا کی جا سکتی تھی۔ یہ بجلی ان کے منصوبے میں استمال ہونے والی بجلی کی ہی مانگ پوری کرنے کے قابل تھی۔ منصوبے کی فنڈنگ رکنے کے بعد ڈاکٹر ثمر مبارک نے تھر کول کے مزید بلاکوں میں شروع ہونے والے منصوبوں کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید جن بلاک میں کام شروع کیا گیا ہے وہاں ایمپورٹڈ کوئلے سے بجلی بنائی جائے گی جسے پورٹ قاسم سے تھرلایا جائے گا۔ جب کہ حکومت کی جانب سے اس بات کو یکسر مسترد کیا گیا۔

مئی 2013 میں سندھ اینگرو کول مائیننگ کمپنی ( ایس ای سی ایم سی ) کے ذریعے بلاک ٹو کے منصوبے پر کام کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فیصلہ اس نوعیت سے ایک منفرد فیصلہ تھا کہ پوری دنیا میں کوئلہ نکالنے کے منصوبے پر کام حکومتیں خود کرتی ہیں۔  ایس ای سی ایم سی نے سندھ حکومت کی شراکت سے بلاک ٹو میں کام شروع کیا ہے جس کا رقبہ 98 مربع کلومیٹر ہے۔ ایس ای سی ایم سی کے مطابق  یہاں سے نکلنے والے کوئلے سے 5000 میگاواٹ بجلی بنائی جاسکے گی جو آئیندہ 50 سالوں کی ضرورت پوری کرے گی۔ اس منصوبے کا کل تخمینہ 50 بلین ڈالر ہوگا۔ منصوبے کی مطابق فیز ون سے 03 جون 2019 کو بجلی کی سپلائی شروع ہوجائے گی جو کہ 660 میگاواٹ ہوگی۔ 2020 سے 2021 میں فیز ٹو اور تھر ی سے 1650 میگاواٹ پیداوار ہوگی جس سے مجموعی پیداوار بڑھ کر 2310 میگا واٹ ہوجائیگی۔ اسی طرح 2022 سے 2023 میں مجموعی پیداوار 3630 میگاواٹ اور 2024 سے 2025 تک یہ پیداوار 5000 میگاواٹ ہوجائے گی۔  ایس ای سی ایم سی کی مطابق بتایا گیا ہے کہ امید ہے 2028 میں منصوبے کے لیے جو قرض لیا گیا ہے وہ واپس کردیا جائے گا اور 2029 سے بجلی مزید سستے نرخوں میں عوام تک پہنچنا شروع ہوجائے گی۔

ایس ای سی ایم سی کی مطابق وہ فیز ون میں جس بلاک میں کام کررہی وہ تھرکول ذخائر کا ایک فیصد ہے جس سے 1.57 بلین ٹن کوئلہ برآمد کیا جائے۔ اس بلاک میں کوئلہ 160 میٹر زیر زمین ہے جبکہ اب تک تقریباً   134 میٹر تک کھدائی کردی گئی ہے۔  کوئلہ کی سطح سے اوپر قریب 30 سے 34 فٹ موٹی پانی کی لئیر بھی موجود ہے، اس لئیر سے 25 فیصد پانی نکال لیا گیا ہے۔

تھر میں دریافت ہونے والا کوئلہ لگنائٹ کہلاتا ہے۔ اس کوئلے میں سلفر کی مقدار 1.07 فیصد، راکھ 7.8 فیصد اور نمی کی مقدار 49 فیصد ہے۔ ایس ای سی ایم سی کے مطابق کسی بھی کول پاور پلانٹ کو چلانے کے لیے پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے اور یہاں پائے جانے والے کوئلے کے ذخائر کے اوپر ہی پانی موجود ہے۔ پس اللہ نے ہمیں کول پلانٹ شروع کرنے کے تمام قدرتی ذرائع بھی فراہم کردئیے۔ ہم اسی کول مائن سے نکلے ہوئے پانی کا ذخیرہ کررہے ہیں جو پلانٹ کو چلانے میں استمال کیا جائے گا۔ منصوبے سے حاصل ہونے والے پانی کے ذخیرے کو گورانو کے علاقے میں گورانو ڈیم میں دوسال کے لیے محفوظ کیا جائے گا۔

1200px-Lignite-coal

اس شعبے میں کام کرنے والی جرمنی کی مشہور کمپنی آر ڈبلیو او کا ماننا ہے کہ کوئلہ کی کانوں کے اوپر سے حاصل ہونے والا پانی قدرتی ہوتا ہے۔ اس میں کوئی کیمیکل شامل نہیں ہوتا۔ یہ پانی نمکین ہوتا ہے زہریلا نہیں۔ اینگرو کی جانب سے اس علاقے میں کئی پانی کے کنویں کھودے گئے ہیں جن سے حاصل پانی سے تجرباتی طور پر اس سال پہلی مرتبہ تھر کے علاقے میں کپاس کاشت کی گئی جس کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔  جبکہ مختلف فلاحی تنظیموں اور ایس ای سی ایم سی کی جانب سے تھر میں سینکڑوں پانی کے کنویں دوسرے علاقوں میں بھی کھودے گئے ہیں۔

پلانٹ میں کوئلے کو جلانے سے جو راکھ پیدا ہوگی اس کے لیے بھی دنیا کے بڑے بڑے سرمایہ کاروں نے رابطہ کیا ہے جس سے ملک میں ذرِمبادلہ میں اضافہ ہوگا۔ اس کوئلے کی راکھ سے دنیا کی بہترین ٹائلز اور اینٹیں بنائی جاتی ہیں۔ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک بھی کوئلے سے ہی بجلی پیدا کررہے ہیں۔ وہاں بھی ان پلانٹس کی وجہ سے آلودگی میں اضافہ نہیں ہوا کیوں کہ اس سے پیدا ہونی والی آلودگی کو زیرو فیصد کرنے کے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

اسی سلسلے میں گذشتہ دنوں صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ  ایک مطالعاتی دورے پر تھر کول جانے کا اتفاق ہوا جس کے دوران کئی حقائق سامنے آئے اور تھرکول بلاک ٹو میں جاری کام کو دیکھنے کا بھی موقع ملا۔  ذہن میں اس منصوبے کے حوالے سے کئی سوالات تھے جن کے جوابات وہاں جاکر ملے۔ افسوس اس امر پر ہوا کہ اگر تھرکول میں کوئلے کی دریافت کے فوری بعد توانائی کی کمی اور بحران کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کردیا جاتا تو اب تک نا صرف وطن عزیز بجلی کی پیداوار میں ترقی یافتہ ممالک کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا بلکہ عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے چھٹکارا مل چکا ہوتا اور سستی بجلی بھی میسرہوتی،  تھر کا علاقہ ایک سیاحتی مرکز بن چکا ہوتا، مقامی لوگوں کو مزید روزگار میسر آتا اور ملک خوشحالی کی راہوں پر چل نکلتا۔

546ca2241f623

ان منصوبے کے شروع ہونے میں سب سے اہم سوالات یہ بھی تھے کہ اللہ نے جن تھر کے باسیوں کے قدموں کے نیچے سے کالا سونا نکالا، اس معدنی ذخیرہ سے ان کی حالاتِ زندگی میں بھی کوئی تبدیلی آئی گی کہ نہیں؟اس حوالے سے تھرپارکر میں کئی اقدامات قابل اطمینان نظر آئے ۔اس منصوبے کے تحت تھر کول کے مقام پر جو گاؤں آباد تھے انہیں متبادل گھر دینے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے لیے ایک ماڈل ولیج بنایا جارہا  ہے جب کہ ماڈل ہوم تیار ہوچکا ہے جس کا ڈیزائن مقامی لوگوں کی منشاء کے مطابق بنایا گیا ہے۔ اس ماڈل ہوم میں تھر کا ثقافتی چونرا بھی بنایا گیا ہے۔ ہر گھر کا کل رقبہ 1000 مربع فٹ ہے جو متاثرہ 174 خاندانوں کو دئیے جائینگے۔ یہ گھر خاندان کے ہر شادی شدہ مرد کو دیا جائےگا یعنی اگر پہلے ایک گھر میں چار شادی شدہ افراد رہتے تھے، اب چاروں افراد کو نئے گھر ملیں گے۔  اس کے علاوہ متاثرہ خاندانوں کو 130،000 روپے کے شئیر بھی دئیے جائیں گے جس کی قیمت میں ہرسال اضافہ بھی ہوگا۔ اس وقت جاری منصوبے میں 576 مقامی افراد کو مختلف شعبوں میں روزگار دئیے گئے ہیں جب کہ 742 افراد کو روزگار کی لیے ٹریننگ دی جارہی ہے جن میں پندرہ خواتین ڈرائیور بھی شامل ہیں۔ منصوبے میں تقریباً 1600 چینی بھی کام کررہے ہیں جن کے تعداد آگے چل کر دو ہزار پانچ سو ہوجائے گی۔

untitled-2839

ایس ای سی ایم سی کی جانب سے تھر میں گرین پارک، تھر ملین ٹری پروجیکٹ،ون ہوم ون ٹری پروجیکٹ اور کراچی یونیورسٹی کے تعاون سے شجرکاری کے منصوبے پر کام جاری ہے۔  اس علاقے میں تین آر او پلانٹ قائم کیے گئے ہیں جن سے 20000 گیلن یومیہ پانی گورانوں کے علاقے میں واقع تین بڑے دیہاتوں کو دیا جارہا ہے۔ چوتھا آر او پلانٹ جو اتنی ہی مقدار میں پانی فراہم کرے گا تیاری کے مراحل میں ہے جبکہ پانچواں آر او پلانٹ ستمبر 2017 سے 5000 گیلن یومیہ پانی فراہم کررہا ہے۔  تھر کول کان سے متاثرہ تین گاؤں کے کل 5200 لوگ ہیں۔ حکومت سندھ کی جانب سے ننگر پارکر میں محکمہ سندھ ٹورزم ڈویلپمنٹ کی جانب سے اگست 2017 میں ایک خوبصورت گیسٹ ہاوس تعمیر کیا گیا ہے جس میں تمام سہولیات موجود ہیں اس گیسٹ ہاوس کو بھی تھر کے روایتی گھروں “چونرا” کی طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔

تھر کی خوشحالی کے لیے تھر فائونڈیشن کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جو تھر کی خوشحالی کے لیے مصروفِ عمل ہے۔  تھر فاؤنڈیشن کے تحت کئی اسکول شروع کیے گئے ہیں۔ 2018 سے مزید اسکولوں میں تعلیم کا سلسلہ شروع ہوجائے گا جس میں 12000 تھر کے بچوں کو داخلہ دیا جائے گا۔ تھر میں بہت سے گاؤں میں کئی ایسے سرکاری اسکول تعمیر ہیں جہاں اسکول کی عمارتیں تو موجود ہیں مگر فنڈز کے نہ ہونے سے تعلیمی سلسلہ شروع نہیں کیا جاسکا۔  ایس ای سی ایم سی کی جانب سے حکومتِ سندھ کو درخواست کی گئی ہے کہ ایسے تمام اسکولوں کو تھر فاؤنڈیشن گود لینے کو تیار ہے تاکہ علاقے کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

اسی طرح دی سیٹیزنز فاؤنڈیشن ( ٹی سی ایف ) کے تحت اینگرو کے اشتراک سے اسلام کوٹ میں  05 ٹی سی ایف یونٹ زیر تعمیر ہیں اور ایک پرائمری اسکول  اگست 2017 سے شروع کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ضلع عمر کوٹ میں واقع مشہور قلعہ جو خستہ حالی کا شکارہے اسے بھی ایس ای سی ایم سی کی جانب سے دوبارہ اس کی اصل شکل میں لانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ ایس ای سی ایم سی کی جانب سے تھر کے مقامی فنکاروں کو بھی پروموٹ کیا جارہا ہے جس کی تازہ مثال مائی دھائی کی ہے جو کوک اسٹوڈیو تک پہنچی ہیں۔

56caf17e66347

تھر فاؤنڈیشن کے تحت تھاریو ہا لیپوٹو گاؤں میں ماروی جو کہ تھر کی ایک مشہور لوک داستان عمر و ماروی کا کردار ہے، ان کے نام سے ماروی کلینک سن 2015 سے دو شفٹوں میں کام کررہا ہے جس میں 50 او پی ڈی کام کررہے ہیں۔ مریضوں کو یومیہ علاج معالجے کی سہولیات کے ساتھ مفت ادویہ بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ فروری 2017 سے ماروی کلینک کو انڈس اسپتال کے تعاون سے مزید بہتر کیا گیا ہے۔ اب اس اسپتال مین 1300 مریضوں کا ماہانہ علاج کیاجاتا ہے جس میں زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔  تھر فاؤنڈیشن کے تحت انڈس اسپتال کے تعاون سے ایک جدید سہولتوں سے آراستہ اسپتال بھی بنایا جارہا ہے۔2814

تھرپارکر میں ان تمام سہولیات کے علاوہ حکومتِ سندھ نےبھی مقامی لوگوں کے لیے بہت سی سہولیات فراہم کی ہیں جن میں گذشتہ نو سالوں میں 1.5 بلین روپے کے ترقیاتی کام کرائے گئے ہیں۔ 5000 لوگوں کو میرٹ پر روزگار فراہم کیا گیا، 150 میڈیکل ڈاکٹروں اور 25 ویٹرنری ڈاکٹروں کو کنٹریٹ پر بھرتی کیا گیا اور مٹھی جو تھر پار کر کا صد رمقام ہے اس میں واقع مٹھی اسپتال کو مزید فعال کیا گیا۔  تھرپارکر میں 1300 کلو میٹر کی پختہ سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ مٹھی میں ایگریکلچر یونیورسٹی کے کیمپس کی منظوری لی جاچکی ہے جس پر جلد کام شروع ہونے والا ہے۔ ایک طویل سڑک کراچی سے تھر کول تک بنائی گئی ہے۔ اسلام کوٹ، چھاچھرو،چیلھار،ننگرپارکر، کالوئی اور ڈپلو میں سولر اسٹریٹ لائٹ تنصیب کی گئی ہیں۔

اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ کسی بھی علاقے کی ترقی میں مقامی لوگوں کا نہایت اہم کردار ہوتا ہے۔ اگر انہیں بنیادی سہولیات میسر ہوں گی تو وہ ملکی ترقی میں اپنا بہتر سے بہتر کردار ادا کرسکیں گے۔ بلاشبہ آج کا تھرپارکر گذرے ہوئے کل کے تھرپارکر سے مختلف اور بہتر نظر آتا ہے۔  آج تھر پارکر میں کئی جگہ پانی کا ذخیرہ بھی نظر آتا ہے تو تھر کے جانور بھی صحت مند نظر آتے ہیں تھر میں جگہ جگہ ہریالی بھی دکھائی دیتی ہے۔

تھر کول پاور پلانٹ سے 03 جون 2019 کو بجلی کی فراہمی شروع ہوجائے گی۔ اسی کے ساتھ پاور پلانٹ میں لگی دیو ہیکل چمنی دھواں اگلنا شروع کردے گی۔ تھر کے لوگ اس حوالے سے ابھی بھی خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں آلودگی مزید تو بڑھ نہیں جائے گی؟ تھرکول سے جو پانی نکال کر ذخیرہ کیا جارہا ہے اس سے ہمارے پانی کے کنویں زہریلے تو نہیں ہوں گے؟ تھر میں پائے جانے والے نایاب نسل کے پرندے جن میں موروں کو نہایت اہمیت حاصل ہے ان کی ہلاکتیں تو شروع نہیں ہوجائیں گی؟ تھر کے لوگوں کے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے ان میں مزید شعور کی بیداری نہایت ضروری ہے۔

5000-peacocks-died-in-Thar-Soharwardy-laments-ignorance-of-CM-Sindh

دنیا بھر میں کو ل پاور پلانٹ کی چمنی 110 میٹر تک کی اونچائی کی ہوتی ہے جب کہ تھرکول پاور پلانٹ کی چمنی دنیا کی سب سے اونچی چمنی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی اونچائی اس لیے بڑھائی گئی ہے تاکہ آلودگی زمین کے قریب نہ ہو۔  لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چمنی چاہے جتنی بلند ہو اس سے نکلنے والے دھوئیں کے اثرات زمین پر ضرور ہوں گے۔ اس لیے پلانٹ کی چمنی سے نکلنے والے دھوئیں کو زیرو آلودگی پر لانے کی ضرورت ہے۔ جس طرح چین نے تجرباتی طور پر بیجنگ اور دوسرے شہروں میں فضائی آلودگی کھانے والے ٹاور نصب کیے ہیں جو نہ صرف ماحول کو گرد و غبار کو صاف کرتے ہیں بلکہ ان کے فلٹر سے کاربن بھی حاصل کیا جاتا ہے جس سے زیورات بنائے جاتے ہیں۔ اگر تھر میں اس طرح چینی طرز کے فلٹر نصب کردئیے جائیں تو نہ صرف ممکنہ فضائی آلودگی کو ختم کیا جاسکے گا بلکہ تھر کی خواتین کو حاصل کردہ کاربن سے زیورات بنانے کا ہنر سکھا کر روزگار فراہم کیا جاسکے گا۔

تھر میں مصنوعی طریقے سے بارش کے انتظامات بھی مکمل رکھنے ہوں گے تاکہ بوقتِ ضرورت اس طریقے کو بھی استمال کیا جاسکے۔ میں نے تھر جا کر ماحولیات، صحت اور تعلیم کے حوالے سے جو ترقیاتی کام دیکھے اور اس حوالے سے جو منصوبے جاری ہیں اگر وہ جاری رہتے ہیں تو یقین جانیں تھر کے باسیوں کی قسمت بدل جائے گی۔

اس دورے کے دوران جہاں بہت سے سوالات کے جواب مجھے ملے وہیں کئی سوالات کے جوابات ابھی بھی باقی ہیں جنہیں صرف آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔  میں خوش امیدی کا قائل ایک پر امید انسان ہوں۔  دیر آید درست آید۔۔۔اگر کوئی ملک کو خوشحالی کی راہ پر لے کر جاتا ہے تو ہمیں اس کے کام کی تعریف کرنی چاہیئے۔ دوسری صورت میں قلم کی طاقت ہمارے پاس ہے۔ جس طرح آج اچھے کاموں کو یہ قلم سراہ رہا ہے خدانخواستہ کل وعدہ خلافی یاکسی بھی غلط کام پر یہی قلم ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Munir Bin Bashir کہتے ہیں

    Good article — giving all necessary information and covering intricate technical aspects in simple way

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.