دستِ غیب کو بوسہ

0 1,271

پاکستان جیسے ملک میں جہاں کی اکثریتی آبادی  حصول علم کو محض حصول روزگار کے لیے ایک بہتر وسیلہ سمجھتی ہے، معارف کا ایک جہان آباد ہے،ہم لوگ زندگی کے مختلف شعبوں میں دستِ غیب کی کارفرمائی کے اندھا دھند قائل ہیں۔

مثال کے طور پر آپ کے علم میں ہو گا کہ ہماری نوجوان اکثریت زندگی کے میدان میں ثابت قدمی سے محنت و مشقت کرنےسے پرہیز کرتے ہوئے شارٹ کٹ کی تلاش میں سرگرداں رہتی  ہے۔ علم و عمل، جستجو اور تحقیق  کے میدان سے ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل دور یہ پرہیزگار نسل گوگل اور وکی پیڈیا  پر موجود معلومات سے لیس ہو کر  زندگی کے میدان میں خود کو اسمارٹ ثابت کرنے کی کوشش میں جب کسی اپنے سے زیادہ  اسمارٹ سے شکست کھا جاتی ہے تو اپنی ناکامی کے اسباب پر غور کرنے کےبجائے الزام تراشی پر اتر آتی ہے۔ عموماً یہ الزام غیب میں ظہور پذیر کسی  ایسے عمل پر دھردیا جاتا ہے جس کی تصدیق اتنی ہی مشکل ہوتی ہے جس قدر آسان اس پر تائید حاصل کرنا ہوتا ہے۔ شارٹ کٹ کے متلاشی  نوجوان  خودی کو بلند کرنے کی دھن میں دستِ غیب ڈھونڈتے پھرتے ہیں جس کی بیعت کر کے وہ سرفراز ہو سکیں۔

مثال کے طور پر آپ  یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں مفاد عامہ کے بیشتر منصوبوں کی بروقت تعمیل اور تکمیل  ایک ایسا خواب ہے جس کی تعبیر کم کم ہی ملتی ہے۔ کسی چھوٹے سے محلے کی چھوٹی سی گلی کی  نالی کو پکا کرنا ہو یا کسی نسبتاً بڑے علاقے کی سڑک کو بہتری درکار ہو،  کسی شہر میں اوور ہیڈ پل بنانا ہو یا کسی مصروف سڑک پر انڈر پاس نکالنا ہو، اسلام آباد کا ایرپورٹ ہو یا پانی کے شدید بحران میں مبتلا پاکستان کے لیے کسی ڈیم   کی تعمیر،  موٹر وے ہو، کوسٹل ہائی وے ہویا پھر قومی شاہراہ ہو، ان کی بروقت تکمیل کے راستے میں بھی کچھ دستِ غیب مزاحم ہوجاتے ہیں جن کے آگے سر تسلیم خم کیے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔  “روٹی پانی ” بلکہ “بوفے ڈنر ” کے ساتھ ساتھ”غریب غربا”  کا چولہا جب تک مسلسل جلنے کا سامان پیدا نہ ہوجائے، دستِ غیب  سے ان منصوبوں کی تکمیل کی منظوری نہیں ملتی۔ایک واقعہ ضمناًیاد آ گیا۔کراچی کا شیر شاہ پل ستمبر 2007 میں اپنے افتتاح کے معاً بعد زمین بوس ہو گیا تھا۔غالباً اس میں بھی کسی دستِ غیب کی کارفرمائی پنہاں تھی۔واللہ اعلم۔

اور مثال کے طور پر ہمارے سرکاری دفاتر جہاں “عوام الستیاناس” ہمہ وقت اپنے جائز حقوق کےحصول کی جنگ میں مصروف دستِ طلب دراز کیے  پیشیاں بھگتتے پائے جاتے ہیں۔ان دفاتر میں جائز کاموں کو جائز طریقے سے سرانجام دینے سے کماحقہ پرہیز کیا جاتا ہے۔فرائض کی انجام دہی سے پرہیزپر سختی سے کاربندسرکاری خدمت گار ہمہ وقت دستِ غیب کا رونا روتے دکھائی دیتے ہیں جن کے دست قدرت میں عوامی مشکلات کے قفل کی کنجی ہوتی ہے اور جن کو نذرانہ عقیدت   پیش کیے بغیر سہل الحصول  حقوق بھی بعید از قیاس تصور کیے جاتے ہیں۔بھولی بھالی عوام اپنی لاعلمی کی بنا پر ان دست درازیوں پر فوری ایمان لے آتی ہے اور اپنی عقیدت کے کاغذی پھول  دستِ غیب کے حاضر متولیوں پر نچھاور کر کے من کی مراد پاتی ہے۔

اور مثال کے طور پر آپ یہ بھی جانتے ہیں  کہ پاکستان میں اکثر و بیشتر جوان لڑکیوں پر جن  “چڑھ”  جاتا ہے۔ ایسے زیادہ تر واقعات کے پس منظر میں لڑکی کی مناسب وقت پر  یا پھر پسند کے مطابق شادی کر دینے سے پرہیز کا عنصر  شامل ہوتا ہے۔ بعض اوقات لڑکیاں اس صورت حال سے پیدا شدہ ذہنی دباؤ کا مقابلہ نہیں کر پاتیں اور مختلف نفسیاتی عوارض کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہماری ناخواندہ اکثریت اس کیفیت کی خودساختہ طبی تشریح کرکے اپنی لخت جگر پر غیبی مخلوق کے نزول کا ایمان لے آتی ہے۔ اگلے مراحل میں ان جعلی پیروں کی چاندی ہو جاتی ہے جو لڑکیوں کے جن “اتارنے”کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ والدین اپنی بیٹی کی پسند کے مطابق شادی کر دینے پر تو آمادہ نہیں ہوتے مگر جن نکلوانے کی خاطر اس کو کسی ہوس کے پجاری کے حوالے کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں۔ انجام اظہر من الشمس ہوتا ہے۔

عوام کے ساتھ ساتھ اہلِ سیاست بھی  دستِ غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ سیاست میں اخلاق،شائستگی، صداقت،امانت،دیانت بلکہ سیاست سے بھی سختی سے پرہیز کرتے ہوئے ہمارے عوامی نمائندے جب اپنی ناکامیوں کے باعث اپنا حشر سامنے دیکھتےہیں  تو دستِ غیب کی اثر پذیری کی دہائی مچاتے پھرتے ہیں۔ عمران خان   عین پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے 126 دن کا دھرنا دیتے ہیں۔ حکومت کو بے نقط سناتے ہوئے امپائر کی انگلی کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں۔ انگلی تونہیں اٹھتی البتہ ان پر دستِ غیب کا آلہ کار ہونے کا نام چسپاں ہو جاتا ہے۔ نواز شریف  پانامہ کیس میں عدالت کے ہاتھوں  نااہل قرار پاتے ہیں  تو انہیں اس فیصلے میں  وہی دستِ غیب کارفرما دکھائی دیتا ہے۔بلاول بھٹو زرداری  اپنی جماعت کے تاسیسی جشن کے آغاز پر دستِ غیب سے “اب بس کر دو”  کہتے نظر آتے ہیں۔دستِ غیب  کے اعجاز ان لوگوں کو  تب نظر نہیں آتےجب ان کی “گڈی” چڑھی ہوئی ہوتی ہے۔

ختم نبوت کے معاملے پر پارلیمنٹ احتیاط سے پرہیز کرتی ہے تو بلائے ناگہانی کی طرح  آصف اشرف جلالی اور خادم حسین رضوی یکے بعد دیگرے  اسلام آباد پر نازل ہو جاتے ہیں۔حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور وفاقی وزیر داخلہ ریاستی رٹ بحال کرنے سے پرہیز کرتا دکھائی دیتاہے۔ریاست کے قلب پر حملہ آور دھرنا کشوں کے سامنے بےبس دکھتی حکومت ایک ذلت آمیز معاہدہ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے تو حکومتی نابغوں کو معاہدے کے کاغذ پر کسی خاص نام اور کسی ثالثی دستخط کی موجودگی میں ان دھرنوں میں مستور دستِ غیب دکھائی دینے لگتا ہے۔

یہ سب مثالیں اور یہ واقعات کیا بتاتے ہیں؟ یہ بتاتے ہیں کہ ہم ناکام لوگ ہیں۔ ہم اپنی نالائقیوں کا ملبہ ڈالنے کے لیے دستِ غیب پر ایمان لاتےہیں۔ ہم صداقت سے، دیانت سے، اہلیت سے، انفرادی اور اجتماعی شعور سے مکمل پرہیز کی روش پر سرپٹ دوڑے چلے جا رہے ہیں۔ہم دوڑتے دوڑتے ٹھوکر کھاتے ہیں۔ٹھوکر کھا کر گرتے ہیں۔اپنا خاک آلودہ منہ لے کر اٹھتے ہیں اور دستِ غیب کو بوسہ دے کر ایک بار پھر دوڑ لگا دیتے ہیں۔

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.