طالبان گاڈ فادر اور عمران خان کا اتحاد

14,609

ہماری سیاست میں ملکی مفادات اور نظریہ کی جگہ پارٹی و ذاتی مفادات نے لے لی ہے۔ جماعتوں و سیاستدانوں کی اکثریت کی تگ و دو صرف اقتدار کےحصول اور اسمبلی میں پہنچ کر الیکشن میں کی جانے والی انویسمنٹ سے منافع کے حصول پر رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت اس نظام اور نام نہاد جمہوریت سے بیزار اور الیکشن کے عمل سے دور رہتی ہے۔

عمران خان  اور انکی جماعت تحریک انصاف کا پاکستانی سیاست میں ظہور ایک نیک شگون تھا۔ نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد جو کہ پاکستانی سیاست سے دور اور عدم دلچسپی کا اظہار کرتی تھی، اُس نے بھی جلسے و جلوسوں اور سوشل میڈیا کی حد تک سیاست میں شرکت کردی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ جماعت بھی دوسری جماعتوں کی طرح ایک روائیتی سیاسی جماعت میں ڈھل رہی ہے۔ اس کا  مطمع نظر بھی صرف اور صرف اقتدار کا حصول رہ گیا ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف میں نظریے اور اصول کی سیاست اور صحیح و غلط کی تمیز اب ختم ہوچکی ہے۔ مفاد پرست اور کرپٹ سیاستدانوں کی بھر مار تحریک انصاف کا رخ کر چکی ہے اور اقتدار کی امید میں انہوں نے اپنا مفاد اس جماعت سے وابسطہ کرلیا ہے.

smiul-haq-759

سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ تحریک انصاف کی قیادت نے حال ہی میں مولانا سمیع الحق سے ملاقات کی اور خیبر پختونخوا میں مل کر الیکشن لڑنے کی نوید سنائی. عمران خان صاحب کا کہنا ہے کہ ہم فطری اتحادی ہیں اور ہماری سوچ عوام کے مسائل پر یکساں ہے. یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان ایم ایم اے کو دوبارہ فعال کرنے پر کمر بستہ ہیں اور جماعت اسلامی اور دیگر سابقہ ایم ایم اے کی جماعتوں کی حالیہ میٹنگ میں آنے والے الیکشن ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے لڑنے کا عندیہ سنایا ہے. اس کا زیادہ اثر تحریک انصاف کو خیبر پختونخوا میں پڑے گا۔ اس آنے والے مسئلے کے توڑ کے لیے عمران خان نے ایک ایسی شخصیت سے ہاتھ ملایا ہے جو کہ طالبان کے حامی اور گاڈ فادر Father of Taliban  کے نام سے مشہور ہیں۔ مولانا سمیع الحق کے طالبان سے روابط کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ طالبان کے شدت پسندانہ نظریات اور دہشتگردانہ کارروائیوں کی بناء پر پاکستان نے 70 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔

پی ٹی آئی کی پالیسی خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں ایک لبرل جماعت کی ہے جس کے جلسوں میں متوسط اور اپر کلاس کی تعداد زیادہ ہوتی ہے لیکن دوسری جانب عمران خان صاحب نے ماضی میں پختونخوا میں سیاسی فوائد کے حصول کے لیے طالبان کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی اور انکے لیے دفتر کھلوانے کی آواز بلند کی. آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردی کے واقعے کے بعد عوامی ردعمل اور پاک فوج کے ہر صورت آپریشن کا ارادہ دیکھتے ہوئے خان صاحب نے چپ سادہ لی. یہی وجہ ہے کہ انکے ناقدین انہیں طالبان خان کا نام دیتے ہیں.

311042_72932230

Remembering The Martyrs of Army Public School Peshawar

خیبر پختونخوا کی حکومت نے اس سے قبل بھی حکومتی فنڈز سے 300 ملین کی کثیر رقم مولانا سمیع الحق کے دار العلوم حقانیہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کو گرانٹ کے طور پر دی اور اسی ماہ مولانا سمیع الحق کی زیر قیادت اسلامی ریفارمز کا شوشہ چھوڑا. آخر تحریک انصاف کس قسم کی ریفارمز چاہتی ہے۔ کیا وہ پاکستان میں ایک بار پھر طالبان اور دہشتگردی کا راج دیکھنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کیا وہ چاہتی ہے کہ ایک بار پھر پاکستان کو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دیا جائے اور دہشتگردی کا سویا ہوا جن ایک بار پھر جاگ جائے۔

عوام یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگئی ہے کہ پاکستانی نظام میں رہنے اور الیکشن کے کھیل میں شریک رہنے والی کوئی بھی جماعت اسکی خرابیوں سے بچ نہیں سکتی۔ تبدیلی کے نعرہ والی عمران خان کی سیاسی جماعت بھی ایک روائیتی جماعت میں تبدیل ہوگئی ہے.

تحریک انصاف جس کے کارکنان دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان کی طرح نظریاتی نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی تربیت کے عمل سے گزرے ہیں۔ان کی اپنی جماعت اور قیادت سے وابستگی اتنی گہری نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ ایسی صورتحال سے مایوس اور متنفر ہو رہے ہیں. اگر تحریک انصاف کی روش ایسی ہی رہی اور پالیسیاں کسی اصول اور نظریہ کے بجائے مفاد اور فائدے کے تحت بنتی رہیں تو اس کے کارکن کسی اور مسیحا کی جانب دیکھنے پر مجبور ہو جائیں گے جیسا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہوا.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

45 تبصرے

  1. Muhammad Naveed کہتے ہیں

    You are destined to think the way you are thinking now until you liberate your mind and start thinking positively. We should abolish this notion of separating the “deen” from “dunya” and work towards inclusion rather than exclusion. And that’s what Imran has been trying to say and do.

  2. عدنان اکبر گوندل کہتے ہیں

    بالکل درست کہا عتیق الرحمن صاحب آپ نے
    نہایت اہم موضع پر بات کی

  3. Hafiz Muhammad Asif کہتے ہیں

    واہ رے نیازی تم کرسی کے لیئے اتنا گر گئے کہ جو دہشتگردی کے نظریہ کو پروان چڑھانے اور دہشتگردوں کے سپورٹر کے ساتھ اتحاد کر لیا۔کیا آپ اس طرح کا نیو پاکستان چاھتے۔تھے

  4. امتیاز احمد کہتے ہیں

    بہت درست تجزیہ کیا ہے آپ نے تحریک انصاف بھی اب اقتدار کی خاطر ایسے غلط اقدامات کررہی ہے

  5. دانش عباسی کہتے ہیں

    عتیق صاحب جب یہی سمع الحق نواز شریف سے ملکات کرتا تھا زرداری سے بینظیر سے ولی خان سےتب اپکو یاد نہیں آی۔اگر یہی سمع الحق ایم ایم اے کا حصہ بن جاتا اپ کے لیے قبول تھا ۔عمران خان سے اپ لوگوں کو مسلہ ہے، کیوں کہ دال روٹی جو نون کی طرف سے اپ کی بند کروا دی ہے اس نے، صافی لفافہ اپ جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں

    1. Sajjad Ali کہتے ہیں

      عمران خان بلا شبعہ ایک نئی سوچ کا نام اور تبدیلی کا نام ہے ان کی کوشششین بھی بے مثال ہیں ..
      مگر گٹر گندا کرنے والون کو پھر سے آپ گندگی صاف کرنے کے
      لیئے ڈیوٹی دین گے تو پچا ہوا صاف حصا بھی بھی گندا ہو جائے گا.؟

  6. ملک امجد اعوان کہتے ہیں

    ہمارا سب سے بڑا المیہ ہمیشہ مفادات کی سیاست ہی رہا ہے، خیال تھا کے تحریکِ انصاف روائیتی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے ستھری پڑھی لکھی شفاف قیادت کو متعارف کروائے گی اور کرپشن کے بتوں کو پاش پاش کر دے گی یہی وجہ تھی لوگوں کی اور بلخصوص یوتھ کی ایک بڑی تعداد نے جوک در جوک شمولیت اختیار کی مگر پٹے ہوئے کرپٹ گھوڑوں کو پاڑٹی قیادت سونپ کے عمران نے عوام کی امیدوں پہ پانی پھیر دیا اب رہی سہی کسر طالبان کی پنیری تیار کرنے والے مولانا سمیع الحق کی طرف اتحاد کا ہاتھ بڑھا کر نکال دی برادر عتیق نے بڑے ہی احسن انداز میں مضمون کا احاطہ کر کے ہم جیسے بے شمار انصافین جو کے گھر بیٹھے مایوسی کی دلدل میں دھنستے جا رہے ہیں کی ترجمانی کر کے حق ادا کر دیا ہے اب دیکھنا ہے خان صاحب کیا کرتے ہیں،

  7. پرواز کہتے ہیں

    میں دانش عباسی کے تبصرے سے اتفاق کرتا ہوں۔ آ پ کی تحریر اچھی ہے لکھتے رہئیے۔اختلاف اپنی جگہ۔ لیکن بھائ لفظ ‘عوام’ واحد مذکر نہیں جمع مؤنث ہے۔جملہ یوں ہونا چاہیےتھا ‘ عوام یہ بات سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں’.اور خانہ پری والے حصے میں ‘ آ پ ‘ کی ای میل اور ‘ تمھارانام’

  8. عبدالرحمن کہتے ہیں

    عتیق الرحمان صاحب آپ کی تحریر, پی ٹی آئی کی اور موجودہ ملکی سیاست پر بہترین تجزیہ ہے
    میں سو فیصد آپ سے اتفاق کرتا ہوں

  9. Sajjad ali کہتے ہیں

    ہمارا الیکشن نظام بلکہ ہمارا سارا سیاسی نظام ایک گندگی سے بھرا ہوا گٹر ہے جس کی مکمل صفائی کیئے بغیر کوئی بھی عوام دوست کہلوانے والا کوئی عوامی لیڈر کوئی بھی تبدیلی کا نعرہ لگانے والا لیڈر اس سیاسی گندگی سے محفوظ نہیں رہ سکتا.. یہ موجودہ گلا سڑا نظام اس دور میں لیڈر پیدا ہے نہیں کر سکتا… اگر مشکل سے کوئی حقیقی لیڈر پیدا بھی ہوجائے تو یہ نظام اس اپنی گندگی میں رنگ دیتا ہے یا پر اس لیڈر کو پشت پیچھے ڈال دیتا ہے, یا اسے عوام کے سامنے برا بدنام بنا کہ پیش کرتا ہے..
    اس ملک میں اس نظام کو بدلے بغیر کوئی بھی تبدیلی ممکن نہیں…

  10. Sajjad Ali کہتے ہیں

    عمران خان بلا شبعہ ایک نئی سوچ کا نام اور تبدیلی کا نام ہے ان کی کوشششین بھی بے مثال ہیں ..
    مگر گٹر گندا کرنے والون کو پھر سے آپ گندگی صاف کرنے کے
    لیئے ڈیوٹی دین گے تو پچا ہوا صاف حصا بھی بھی گندا ہو جائے گا.؟

  11. Kishwar mukarram کہتے ہیں

    پاکستانی قوم کی بدقسمتی حکمران همیشه بدنیت اور اپنه مفادات که غلام .

  12. SOHAIL FARUKH کہتے ہیں

    صحیح فرمایا آپ نے، میں آپکی بات سے متفق ہوں

  13. MOHAMMAD SALEEM کہتے ہیں

    عمران خان اسی وجہ سے تو یو ٹرن کے نام سے مشہور ہے

  14. AINY ALI کہتے ہیں

    دھشتگردوں اور انکے سپوٹروں کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہے

  15. Menahil کہتے ہیں

    مولانا سمیع الحق اور عمران خان دونوں طالبان کے حمایتی ہیں یہی وجہ ہے کہ انکو 2013 کے الیکشن میں آزادانہ الیکشن مہم چلانے دی گئی

  16. NEELAM YOUSAF کہتے ہیں

    واہ کیا بات ہے آپ کی، کیا عنوان دیا ہے طالبان گاڈ فادر اور عمران خان کا اتحاد

  17. FAROOQ AHMED کہتے ہیں

    پاکستانی نظام میں رہنے اور الیکشن کے کھیل میں شریک رہنے والی کوئی بھی جماعت اسکی خرابیوں سے بچ نہیں سکتی

  18. الطاف بیگ کہتے ہیں

    افسوس کہ ہماری سیاست میں ملکی مفادات اور نظریہ کی جگہ پارٹی و ذاتی مفادات نے لے لی ہے

  19. Rana Mubashar کہتے ہیں

    آخر تحریک انصافمولانا سمیع الحق کی زیر قیادت کس قسم کی ریفارمز چاہتی ہے

  20. Aamir Khan کہتے ہیں

    عمران خان اور مولانا سمیع الحق فطری اتحادی ہیں کیوںکہ یہ دونوں طالبان کے سپوٹر ہیں

  21. عامر کیانی کہتے ہیں

    آج خیبر بختونخوا میں ہونے والا دھماکہ طالبان کی جانب سے دیا جانے والا وہ تحفہ ہے جہ کہ 30 کڑوڑ کے بدلے دیا گیا ہے

  22. حرا قادری کہتے ہیں

    آج کا دھماکہ طالبان گارڈ فادر کا طالبان خان کے لیے ایک تحفہ ہے

  23. ثاقب حسن کہتے ہیں

    بہت اچھا تجزیہ کیا ہے آپ نے، عمران خان کوئی لیڈر نہیں وہ بس ایک اتفاقی سیاستدان ہے

  24. احمد یار کہتے ہیں

    عمران خان کو طالبان گارڈ فادر سے اتحاد نہیں کرنا چاہئے تھا، میں پہلے تو عمران خان کو اچھا سمجھتا تھا لیکن اب میں اسے ووٹ نہیں دوں گا

  25. Samera Majeed کہتے ہیں

    عمران خان اچھا نہیں کیا آپ نے

  26. نعمان انجم کہتے ہیں

    یہ عمل انکی اقتدار کی بھوک کو ظاہر کررہا ہے

  27. Sibtain Ishtiaq کہتے ہیں

    یہ کس قسم کی تبدیلی ہے جو کہ طالبان کی حمایت سے آئے

  28. Uzair Ishtiaq کہتے ہیں

    پاک فوج زندہ باد جس نے طالبان کے خلاف ایکشن لیا ورنہ سیاستدان تو اس کے حق میں نہیں تھے

  29. احمد منصور کہتے ہیں

    تحریک انصاف کوئی نظریاتی جماعت نہیں اور عمران خان جس طرح یوٹرن لیتے ہیں وہ تبدیلی کو ہی تبدیل کرنے کا باعس بن رہا ہے

  30. شاہد زمان کہتے ہیں

    خان صاحب اچھے انسان ہیں لیکن وہ ایک علقمند لیڈر نہیں اسی لیے انہیں بہت سے یوٹرن لینے پڑتے ہیں یہ فیصلہ بہت غلط ہے انکا

  31. رانا اکرم کہتے ہیں

    حکومت کے لیے ہمارے سیاست دان کچھ بھی کر لیتے ہیں اور اسے ہی سیاست سمجھتے ہیں

  32. ماریہ کہتے ہیں

    بہت اچھا تجزیہ کیا ہے آپ نے

  33. عمران سہگل کہتے ہیں

    طالبان خان اور طالبان گارڈ فادر کا اتحاد اور مولانا ڈیزل کو چالاکیاں

  34. Yasir Shareef کہتے ہیں

    اچمبے کی بات ہے کہ پی ٹی آئی کی پالیسی خیبر پختونخوا کے علاوہ دیگر صوبوں میں ایک لبرل جماعت کی ہے

  35. Uneezah کہتے ہیں

    I think this time also IK will not be PM

  36. Uzair Niazi کہتے ہیں

    Aap ko Imran Khan sa koi masla ha kia. Imran Khan is waqt corruption ka khalaf lar raha ha

    1. Shabbir کہتے ہیں

      Good

  37. sabir tanoli کہتے ہیں

    حکومت کو بلاتفریق ان تمام افراد کے خلاف ایکشن لینا چاہئے جو دہشتگردی میں ملوث ہیں یا انکی سپورٹ کررہے ہیں

  38. bali کہتے ہیں

    yeh aik namokammal sa tajzea hay, un 24 lakh KPK kay bachoon ka koi zikar naheen jin ki khatir yeh haath milaya, polio workers ki himaiat main fatwa dia

  39. Muhammad imran کہتے ہیں

    Bilkul theek
    imran khan wese e Taliban khan k naam se Mash,hoor he

    Taliban Murda Abad

  40. Yout کہتے ہیں

    تبصرہ

  41. Shabbir Ahsan کہتے ہیں

    Madais k Talaba koi achoot nahi hain Imran Khan ne Madarsa reforms k liye paise diye hain. In ghareeb talaba ko mainstream me lane k liye.
    Kia madaris ko computer aur Science ki taleem dene se dahshat gardi barhe gi ya kam hogi ?

  42. Shirazi کہتے ہیں

    Sickening and misleading article! A writer should be more constructive and positive. PTI is a huge relief in Pakistani politics….Change never had and never will come unopposed…

تبصرے بند ہیں.