قوت نصف ایمانی کی اجتماعی کمزوری

0 516

صفائی نصف ایمان ہے۔ یہ حدیث ہم بچپن سے پڑھتے اور سنتے آئے ہیں۔  اساتذہ اور والدین نے یہی سکھایا اور بتایا کہ اپنا آپ اور اپنے ارد گرد کو صاف ستھرا رکھنا ایک مومن کی ذمہ داری ہے۔ اگر صفائی ستھرائی کی عادت اپنا  لی جائے تو آدھا ایمان مکمل ہو جاتا ہے۔   بچپن میں سیکھی ہوئی باتیں ذہن کے کسی کونے میں جم کر بیٹھ جاتی ہیں  اور بچہ غیر شعوری طور پر ان باتوں کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بناتا چلا جاتا ہے۔ ابتدا میں ہم  بھی صفائی کی افادیت سے بے بہرہ محض کم از کم  ممکن الحصول نصف ایمان کی خاطر صفائی کے خوگر ہوئے۔

جب ایمان کا ارادہ کیا جائے ،  چاہے نصف ہی کیوں نہ ہو تو پھر شیطان بھی اس ارادے کی ناکامی کے لیےکمر کس کر میدان میں اتر آتا ہے ۔   زبانی طور پر چاہے کچھ کہتے رہیں مگر ہم میں سے اکثر  لوگ عملی طور پرابلیس کی دوستی کا دم بھرنے کو  ہر دم تیار ہوتے ہیں۔  چناچہ بی بے بچے گھر سے قدم باہر نکالتے ہیں تو بقول چاچا جی ،  باں باں بچے بننا شروع ہو جاتے ہیں۔  جوں جوں عمر عزیز کی منازل طے کرتے جاتے ہیں توں توں نصف ایمان پر شدید ضربات لگتی چلی جاتی ہیں۔  پرانی جینز اور گٹار ایسے مسحور کن نغمے  سن سن کر صاف ستھرے کپڑے پہننا  پرانے زمانے کی باتیں محسوس ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ بے بی کٹ بال رفتہ رفتہ الہڑ دوشیزاؤں کی زلفوں کی مانند نشوونما پانے لگتے ہیں۔  غسل  کرنا  تضیع اوقات لگتا ہے یوں جوئیں  رفتہ رفتہ ہستی کا ساماں ہوتی جاتی اور اکثر و بیشتر کانوں پر رینگتی پائی جاتی ہیں۔

اس عمر سے ہم بھی گذر چکے ہیں اور ان تمام تغیرات سے بخوبی آگاہ ہیں۔  شعور کی منازل میں قدم رکھنے کے بعد نقصِ نصف ایمانی کے اسباب کی  فاتحانہ سرکوبی بھی کر چکے ہیں اور قوتِ نصف ایمانی سے ذاتی طور پر مالامال ہیں چناچہ اب ہماری ناقدانہ اور متعصبانہ نگاہیں  اس قوم کی مجموعی حالتِ نصف ایمانی کی طرف زقند بھرتی ہیں اور ہم جا بجا پھیلے گندپر ناک بھوں چڑھائےپھرتے ہیں۔

گذشتہ دنوں لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔   لاہور اور گرد و نواح کے علاقے سموگ نامی آفت کی لپیٹ میں تھے لہٰذا  وسیلہ سفر ریل گاڑی ٹھہرا تاکہ  کسی قسم کی پریشانی کے بغیر راولپنڈی سے لاہور پہنچ سکیں۔  صبح سات بجے سبک خرام نامی ریل کار نے راولپنڈی ریلوے اسٹیشن سے سفر کا آغاز کیا۔  ایک طویل عرصہ کے بعد پاکستان ریلوے سے تجدیدِ تعلقات ہوئی تھی لہٰذا  تصویرِ شوق بنے کھڑکی سے ناک ٹکائے بیٹھے تھے کہ راستے کے دلفریب مناظر سے بھرپور لطف اندوز ہو سکیں۔  سفر کی ابتدا خاصی خوشگوار تھی۔  موسم سرما کی آمد آمد تھی۔   آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے  اور دھوپ ندارد۔  ریل کار خراماں خراماں آہنی سڑک پر رواں تھی۔  ارد گرد کے مناظر اپنا بھرپور تاثر چھوڑ رہے تھے اور ہم اس یادگار  بچپن کی یادیں تازہ کیے جا رہے جب کراچی سے لاہور یا فیصل آباد بذریعہ ریل گاڑی طویل سفر خوشی خوشی طےکیا کرتے تھے۔ ریل گاڑی شہر اقتدار و تلوار کی حدود سے پار لگی تو پہاڑی علاقے کے دل خوش کن مناظر پُر شوق نظروں  کے لیے روح افزا کا کام دینے لگے۔  خوبصورتی کے اعتبار سے راولپنڈی سے سوہاوہ تک کا ریل گاڑی کا سفر اپنی مثال آپ ہے۔

بخدا ہماری بات کو کسی قسم کےعلاقائی تعصب پر مبنی نہ سمجھا جائے مگر خدا لگتی  کہتے ہیں کہ جوں ہی ریل کار  کوہ گراں سے زمینی حقائق کی جانب آئی،  مذکورہ مناظر کی درجہ بندی لمحہ بہ لمحہ دل فریب سے دل خراش ہونے لگی۔  دلخراشی کا نقطہ آغاز دینہ ثابت ہوا۔ سب سے پہلے کھڑکی سے ٹکی ہوئی ناک نے اپنا فاصلہ کھڑکی کے سرد شیشہ سے دراز کیا اور ہم نے دیکھا کہ ریل کی پٹری کے اطراف جا بجا رنگ برنگے پلاسٹک کے شاپنگ بیگز  ڈھیر ہوئے پڑے تھے۔  گماں ہوا کہ غالباً اس شہر نا پرساں کا کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کا علاقہ ریل کی پٹری کے آس پاس بنایا گیا ہے۔ قوت نصف ایمانی کی کمزوری پر افسوس کرتے ہوئے ان مناظر کو گوارا کیا مگر پھر تو گویا تانتا بندھ گیا۔  جہلم ہو یا لالہ موسیٰ ، قوت نصف ایمانی کی اجتماعی کمزوری نے ہوش اڑا کر دکھ دیئے۔  رہی سہی کسر گجرات،  وزیر آباد اور گجرانوالہ نے پوری کر دی۔  ایک تسلسل کے ساتھ پٹری کے اطراف اہالیانِ شہر (مذکورہ تمام شہر) نے گویا پورے شہر کا گند لا کر وہاں اکٹھا کیا ہوا تھا۔   لاہور شہر بھی ایسی ہی صورت حال سے دوچار تھا۔   جب تک ہم نے لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر قدم دھرے،  دلخراشی اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی تھی اور   ریل گاڑی کے سفر کے مناظر سے ہمارا تمام رومان دم توڑ چکا تھا۔

کسی بھی شہر کا ابتدائی تعارف اس کے مضافات اور اس کے بعد اس کے دخول و خروج ہوتے ہیں۔  کسی بھی مسافر کی نظر سب سے پہلے انہی مقامات سے متعارف ہوتی ہے۔  ہمارے ملک میں مسافروں کی اکثریت ریل گاڑی یا پھر بسوں ویگنوں کے ذریعے سفر کرتی ہے۔  چناچہ کسی بھی شہر سے گذرتے ہوئے مسافر کے ذہن میں اس شہر یا علاقے اور اس میں بسنے والے لوگوں کی تصویر اس کی نگاہوں سے گذرتے مناظر کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے۔ تاسف کن امر یہ ہے کہ اس معاملے میں  ہم اپنا اچھا تعارف پیش کرنے میں قطعاً نا کامیاب ہیں۔  کم ازکم راولپنڈی سے لاہور تک کے سفر نے جو تاثر ذہن پر چھوڑا وہ ہرگز ہرگز خوشگوار نہ تھا۔   ریل کی پٹری کے اطراف غالباً تین سو فٹ تک یا اس سے بھی زیادہ کی زمین پاکستان ریلوے کی ملکیت ہوتی ہے۔  اس زمین کی صفائی ستھرائی کا فریضہ مقامی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پاکستان ریلوے کے ذمہ بھی ہے۔  افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ  انتظامیہ کے ساتھ ساتھ پاکستان ریلوے  بھی اپنی اس ذمہ داری کو اٹھانے میں یکسر ناکام دکھائی دیتی ہے۔

پاکستانی قوم ایمان کے معاملے میں بیک وقت  پسماندگی اور خود کفالت کا شاہکار ہے۔  گجرات سے لاہور تک جابجا مذہبی نعروں پر مشتمل بینرز لگے ہوئے دیکھےجن میں مختلف عروس  سے لے کر ختم نبوت پر جان قربان کرنے کے عزائم بیان کیے گئے تھے۔  ہماری قوم  ابتدائی قوت نصف ایمانی میں بھلے ناکام سہی،  مگر انتہائی قوت نصف ایمانی کے عزائم ظاہر کرنے میں بہرحال کامیاب ہے۔

 

اویس احمد اسلام آباد میں رہتے ہیں اور ایک نجی بنک کے ساتھ منسلک ہیں۔ یہ پانچ سال کی عمر سے کتاب بینی کر رہے ہیں۔ پڑھنے کے علاوہ لکھنے کا بھی شوق رکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.