وزارت عظمیٰ کی کرسی کپتان سے مزید دور؟

16,145

امریکی فلاسفر جم روہن کا ایک قول ہے کہ آپ ایک ہی  رات میں اپنی منزل نہیں بدل سکتے لیکن منزل تک پہنچنے کیلئے ایک ہی رات میں اپنا راستہ ضرور بدل سکتے ہیں۔منیر نیازی نے ایسا وسیع و عریض شعر کہہ دیا ہے جوہر ناکامی پر کہا جا سکتا ہے اور وہ ہے۔

کُج شہر دے لوک وی ظالم سن

کُج سانوں مرن دا شوق وی سی

یہ شعر  ناصرف وطن عزیز میں اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ہر حکمران پر مصداق آتا ہے۔ بلکہ عمران خان پر بھی پورا پورا فٹ ہوتا دکھائی دیتا ہے ،جنہوں نے اپنی جلد بازی ، سیاسی ناتجربہ کاری اور اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرکے کئی بار قریب آتی وزارت عظمیٰ کی کرسی کو خود سے دور کر دیا۔1996سے 2010تک عمران خان کی جماعت کو کوئی بھی سنجیدگی سے نہ لیتا تھا۔ تاہم بے نظیر بھٹو جیسی قابل اور مقبول لیڈر کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی پھر توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی۔ چنانچہ اسٹیبلشمنٹ کو  پیپلز پارٹی کا متبادل تلاش کرنا پڑا۔ اور قرعہ فال سیاسی جماعتوں کی لائن میں میلوں پیچھے کھڑے کپتان کے نام کا نکلا۔ اور یکا یک وہ ایک گمنام اور بے ضرر سی پارٹی سے ملک کی دوسری مقبول ترین جماعت کے لیڈر بن گئے۔

2013میں ن لیگ سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بن کر ابھری اور نواز شریف نے تیسری بار وزارت عظمیٰ کا مزہ چکھا۔2014میں ‘کسی’ امپائر نے کپتان کو ایک مشن دیا کہ وہ دھرنا دیں اور جیسے جیسے صورتحال گمبھیر ہوتی جائیگی نواز شریف کے خلاف انگلی کھڑی کر دی جائے گی۔ اور کپتان وزارت عظمیٰ کے کرسی پر براجمان ہو جائیں گے۔ لیکن کپتان پیٹ کے بہت ہلکے ثابت ہوئے۔ دن رات کئی کئی بار کنٹینر پر چڑھ کر دھرنے کے شرکا اور ٹی وی اسکرینوں کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو بتاتے کہ مجھے یہاں امپائر نے بھیجا ہے اور اپنا پورا اسکرپٹ پڑھ کر عام لوگوں کو بتاتے کہ منصوبہ کن کن مراحل سے گزرے گا اور نواز شریف وزیراعظم نہیں رہیں گے۔ یہ بات یقیناً ‘امپائر’ کو ضرور ناگوار گزری ہو گی کہ ایک انتہائی خفیہ منصوبے کو عام لوگوں میں پھیلا کر خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری جا رہی ہے۔ شاید امپائر کو عمران خان سے اتنی بڑی نادانی کی توقع نہ تھی۔ لہذا امپائر کو بھی سوچنا پڑا اور اپنے ہلکے پیٹ کی وجہ سے عمران خان نے 2014 میں وزرات عظمیٰ کی کرسی خود سے دور کر لی۔

بھولا خبری نے ایک اور گرما گرم خبر دی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اگلا وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن ڈر ہے کہ عمران خان ماضی کی طرح عادت سے مجبور کر سارا پلان جلسے جلسوں میں عیاں نہ کر دیں۔ پاناما گیٹ اسکینڈل  کا سورج ایسا طلوع ہوا  جس کے سامنے  کسی نہ کسی صورت 37 سال سے ملکی سیاسی منظرنامے پر چھائے رہنے والے شریف خاندان کی سیاست کا سورج غروب  ہو کر رہ گیا۔ بھولا خبری کا  کہنا ہے اسٹیبلشمنٹ نے ایک بار پھر قطار میں کھڑی سیاسی جماعتوں پر نظر دوڑائی۔ دوسرے نمبر پر کھڑے کپتان ہی نمبر ایک کی پوزیشن کیلئے مضبوط اور موزوں امیدوار نظر آئے۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد ناصرف مسلم لیگ ن میں اختلافات کا آتش فشاں پھٹنے کو تیار ہے بلکہ شریف خاندان میں بھی  طبل جنگ بج رہا ہے۔آئی جے  آئی کی بات کریں ، مسلم لیگ جونیجو کی بات کریں، مسلم لیگ ق کو دیکھ لیں تو تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مسلم لیگ کوئی بھی ہو۔ وہی چہرے اپنے  مفادات کی خاطر اور سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی دوسری چھتری پر جا بیٹھتے ہیں۔

اور بھولا خبری کی اہم مخبری یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے موجودہ ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد اپنے مستقبل  کے ‘لیڈر ‘ کی تلاش میں ہے۔ پرواز جاری ہے جونہی محفوظ چھتری ملے گی  وہ لوگ نواز شریف کی چھتری سے منتقل ہو جائیں گے۔ جہاں تک بات رہی شریف خاندان کی۔ تو چاہے جتنی مرضی وضاحتیں دیں لیکن اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دونوں بھائیوں کی اولاد ان میں فاصلے کا سبب بن چکی ہے۔ بھولے خبری کا کہنا ہے شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ایک پیج پر نہیں۔ لندن میں بھی ملاقات میں خوب گلے شکوے ہوئے۔ دو تین اہم دوستوں کی وجہ سے معاملات وقتی طور پر بہتر ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی سب اچھا نہیں۔

بھولا خبری کہتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا خدشہ پھر درست ثابت ہو رہا ہے۔ عمران خان پھر اپنی عادت سے مجبور ہو کر جلسے جلوسوں میں نواز شریف ،شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے مستقبل کا پڑھا لکھا حال بتا رہے ہیں۔ ایک نجومی کی طرح مخالفین کا مستقبل بتا رہے ہیں۔ جس سے اسٹیبلشمنٹ میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔ سب سے اہم مخبری جو بھولا خبری نے دی ہے وہ یہ کہ عمران خان  اس وقت بہترین چوائس تو ہو سکتے ہیں لیکن آخری چوائس نہیں۔ اگر عمران خان نے اسی طرح عوام کے سامنے اسکرپٹ پڑھنے کی روش نہ بدلی تو وزارت عظمیٰ کی کرسی مزید ان سے دور کر دی جائے گی۔ اگر عمران خان صرف اپنی توجہ تحریک انصاف اور اگلے الیکشن پر مرکوز رکھیں گے تو ہی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ سکیں گے۔ لیکن جیسا چل رہا ہے  تو پھر پلان بی پر عمل کیا جائے گا۔ بھولا خبری کے مطابق  پلان بی ٹیکنو کریٹ حکومت ہوگی۔

بھولا خبری کا کہنا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نواز شریف کی ‘دسترس ‘ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ نواز شریف  جو چاہتے ہیں اس پر شاہد خاقان بالکل رضامند نہیں۔ ن لیگ کی کم ہوتی مقبولیت کے پیش نظر یہ بھی ایک ممکنہ صورتحال ہے کہ وزیراعظم اسمبلیاں توڑ کر تین ماہ میں الیکشن کا اعلان کریں۔ لیکن وہی نگران حکومت کرپشن کا موجودہ گند صاف کرنے کیلئے طویل ہو جائے۔ اور دو سال تک اقتدار میں رہے۔ ایسی صورتحال میں ن لیگ کو صرف ایک فائدہ ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے عمران خان کا راستہ مزید دو سال کیلئے رک جائے گا۔ تاہم صرف یہ ایک پلان بی ہے۔ اس کا دارومدار اب صرف کپتان پر ہے وہ کس طرح کھیلتے ہیں۔ اگر وہ محتاط ہو کر کھیلیں گے تو یقینی  طور پر ملک کے اگلے وزیراعظم ہونگے۔ لیکن اگر وائیڈ بال پر کریز سے باہر نکلے تو اسٹمپ آؤٹ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ امریکی فلاسفر کامندرجہ بالا قول ہی ذہن نشین کر لیں تو اپنا راستہ بدل کر کپتان جلد منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن ماضی یہی بتاتا ہے کہ عمران خان کسی طر  اپنی عادت بدلتے نہیں۔ شاید منیر نیازی نے اپنا کلام عمران خان کیلئے ہی لکھا تھا جس کے مصرے شاید  کپتان کیلئے ہی ہیں

کس دا دوش سی، کس دا نئیں سی
اے گلاں ہن کرن دیاں نئیں

(کس کی غلطی تھی اور کس کی نہیں ، یہ باتیں اب دہرانے والی نہیں)

جوہویا اوتے ہونا ای سی
تے ہونیاں روکے رکدیاں نئیں

(جو ہو چکا وہ ہونا ہی تھا ، جو ہونا ہوتا ہے وہ روکے بھی نہیں رکتا)

کُج شہر دے لوک وی ظالم سن
کُج سانوں مرن دا شوق وی سی

(کچھ تو شہر کے لوگ بھی ظالم تھے اور کچھ ہمیں بھی مرنے کا شوق تھا)

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

32 تبصرے

  1. Khalover کہتے ہیں

    Cheap writer. Imran is not for sale.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Khalover , Please read the Column again ,and also mention ,where i written that Imran Khan is sold.

  2. Zakirya Shah کہتے ہیں

    Totally agree with Mr. Ali Mayo…. Imran Khan has to consentrate on his future Govt……. blame game is not the only way of political fame….. IK had to take decisions by own

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Thank You Zakirya for appreciation

  3. طاهر رشید کہتے ہیں

    عمده تحریر محمد علی میو. كوشش جاری ركھیں الله مزید كامیابیاں عطا كرے آمین

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      طاہر رشید صاحب ! بہت بہت شکریہ ۔آپ کی مزید دعائیں درکار ہیں ۔

  4. Khan کہتے ہیں

    Imran Khan has no any plan for progressing pakistan but destruction one.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Khan sab ! you are free to tell your opinion .

  5. Mohammad hamza کہتے ہیں

    آپ کے ہوائی تبصرےکا کیا کہنا جناب مگر ذرا بتاتے جائیے کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ سے کیا ملا اور کیا نفع ملا کرپٹ تو وہ۔ہے نہیں اور وزارت عظمی ہی اگر مقصد ہے تو وہ تو مشرف بھی انکو افر کر چکے ہیں کیا عمران خان نے آج تک کسی عہدے یہ پیسے کا لالچ بھی ایمپائر کے کہنےنہیں کیا? کیا سپریم کورٹ کآ فیصلہ بھی اسکرپٹ ہے ؟ آپ کے مطابق تو سب کچھ سکرپٹ کے مطابق ہو رہا ہے تبھی تو عمران خان اگلا صفحہ سنا رہے ہیں تو اس کامطلب سپریم کورٹ کے فیصلے بھی لکھے لکھآئے تھے ؟

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      حمزہ صاحب ! ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے رہنماؤں کی پریس کانفرنسز کے بعد میرے خیال میں آپ کو اپنے سوالات کا جواب مل چکا ہوگا ۔اس کا اطلاق صرف کراچی پر ہی نہیں بلکہ پورے ملک پر ہوتا ہے

  6. محمد علی میو کہتے ہیں

    حمزہ صاحب ! اسٹیبلشمنٹ کے بغیر کسی کا اقتدار ممکن نہیں ۔اور اگر عمران خان اتنی ہی جادوئی شخصیت ہیں تو 2010سے پہلے ان کا جادو عوام پر کیوں نہیں سر چڑھ کر بولا ۔ایک لاہور کے جلسے کے بعد کس طرح یکایک پی ٹی آئی پاکستان کی دوسری مقبول ترین جماعت بن گئی ۔ اور عدلیہ سے متعلق میں کوئی رائے نہیں دے سکتا ۔ البتہ آپ عدلیہ سے متعلق جاوید ہاشمی کا بیان یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں جس کے بعد آپ کو دوبارہ سوال کی زحمت نہیں اٹھانا پڑیگی ۔

  7. Shahid Qamar کہتے ہیں

    Good analysis

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Shahid Qamar Sab , Thank You for appreciation

    2. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Shahid sab i hope you will make a comprehensive comment, because the readers are everything for a writer .

  8. zakirya کہتے ہیں

    Imran Khan k himaition ko shayd ye tajzeeya bura lgay lekin baat tuuu sach hy… me khud PTI ka supporter hon lekin Imran Khan ko abbb samjhdari sy apny faisalay khud lyna hon gy wrna nuqsan ka zima unky srr hi ho gaa

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Zakirya thanks to indirectly Praise of the Column. yes he must take right decisions at right time.timing is everything in politics

  9. Athar کہتے ہیں

    Imran k supporter jo bashaoor han unko bhi abbb yehi lgny lga hy k Imran Khan sbb suni sunai baataon py react krty han or khud ko mazeed pareshani me mubtala kr lyty hn…. abbb bhi waqt nhi guzra IK ko strong decisions lyna hon gy….

    1. Muahmmad Ali Mayo کہتے ہیں

      waqt k sath imran khan k gird b ab gharia sakht kiya jaye ga ta k wo b khulam khula faisalay na kr sakain r IK ko b pta ho k he is the niot final authority

  10. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Athar Sab ! ji Han anay wale 3 se 4 month mulki siyast me IK k kirdar ka tayun krn ge . he must take decisions carefuly

  11. Sarosh Mayo کہتے ہیں

    İt seems that the writer is really futuristic and I have been reading his columns and have been following him.

    101% true

    Good work Ali sb !

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Sarosh Mayo Thank you for appreciation

  12. Iftikhar Khan کہتے ہیں

    Mohammad Ali sahib aap ny Pakistan torrnain kay sab say barray Mujrram ki Baiti jiska larrakpann aur awaail ejawani London ki galion main rangrallian manatay guzzi aur Pakistan main akar uss nay ZARDAARI jaissay shakhs ki Zaojiat qabul ki eissi Aorat ko “QAABIL” keh kar apni qabliat aur zahaanat ka khulla sabut dydya hai!!!
    Aap jaissay namnehaad Nalaaiq musannfon ka watan e Aziz main sailaab aya hua hai Allah Watan e Aziz ki hifaazat aur rahnumaai fermaain! Ameen!

  13. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Ifikhar khan sab . Ap ka ishara Benazir Bhuto ki janib hai , mere ap se 2 sawal hain .phla ye k is Column ka PPP se se kia taluq bnta hai. benazir bhuto ki qabilyat pe dunya ka koi siysasi shaks se inkar ni kr skta.jahan tk ap bhuto ki bat kr rhe hain to uski qabilyat pe b kisi ko shak ni. mulk tootna aik alag mamla hai . benazir london me kia krti thi ya pak me kia krti thi is bat ka us ki qabliayt se kia taluq bnta hai .
    or dosra swal ye hai k me to 17 sal se sahaft kr rha hun r abi b sekhne k amal me hun . or Pakistan se mohbat ka certificate ap ne thora hi issue krna hai . jis ko ap sanad de dain wo laiq r jis ki bat apko hazam no ho wo nalaiq. ap se choti si guzarish hi.k mera aik or column hai jo taza tareen hai “میڈیا کا فیض عام اور ہر چوراہے ہر تجزیہ کار “. ap se guzarish hai wo zaror parhain . shujriya

    1. Iftikhar Khan کہتے ہیں

      Mohammad Ali sahib,
      Aapki yeh MAZHIKAKHAIZ manntaq aur eissa hi sawaal keh jo kaam aur faislay jo koi SHAKHS kar raha ho uss say uski Zahaanat aur Qabilyat ka kia taluq hota hai, eik dobara aapki apni hi zahaanat ky mayaar ki khuli dalil aur sabuut hai!
      Barkhurrdaar aap khudd say hi apnay jawaab main kiay huay inn sawalaat ka jawaab dy rahay hain! Sirf zara ghaor say apna jawaab parrhain.
      Aur eik lammbi muddat kehien pasmaanda aur kamaqal logon main rehnain say insaan qabliat ki mohar hasal nahi kar sakta!
      Aur aap zara mujhay iss ” koi siysasi shaks ” ki tashreeh likh dain. Shaid aapki nazar main Abid Ali sher, Khoajah Saad Rafique, Khoajah Asif, Talaal Ch. aur Daniyal Aziz siyassi shakhsiaat hain???
      Behtar hai taleem kisi aala eiddaray ya ustaad say hasil ki jaiy aur Sahafat ka suneharri asuul “GHAIRJANABDAARI” kabhi majruh na ho.
      Apna khial rakhain. Allah Hafiz.

      1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

        Iftikhar sab , humaray muashray ka almiya hai k jo jis shaks ki zima dari hai us pe tawajo no de rha r dosray ki domain me zabrdasti ghus k us me apni hakmiyat jama rha hai . r us se bara aliya ye hai k ” JO ME NE SOCH LIYA JO ME NE KEH DIYA WOHI HAQEQAT OR SACH HAI” is formula per pori qoam lagi hui hai . ap ka shumar b un me se hi hai .
        agar ap column pe tanqeed krte us me se koi ghalti poimt out krte to mujhe khushi hoti .mujhe ap ki tanqeed ki simt samjh ni a rhi .ap ki soch muntashir hai .phle ap is chez ko tay kr lain k ap kehna kia cha rhain hain . phir me apki ki musbat tanqeed ka jawab bhi dun ga r mujhe khushi b ho gi .
        Apna khyal rkhye . shukriya

      2. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

        اور میری آپ سے گزارش ہے کہ میرا کالم “میڈیا کا فیض عام اور ہر چوراہے پر تجزیہ کار” ضرور پڑھیے گا۔ مجھے آپ کی آرا کا انتظار رہے گا۔ شکریہ

  14. حافظ ثاقب کہتے ہیں

    آپ کا یہ کالم بھی بہت اچھا لگا ،، پڑھ کر خوشی ہوئی کہ آپکی سوچ متزلزل نہیں ۔۔۔

  15. محمد عللی میو کہتے ہیں

    حافظ ثاقب بہت شکریہ

  16. zeesh کہتے ہیں

    not convincing

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Zeesh , You are Free to express Your views . anyways thanks to read .

  17. Seyd Shabbir Ahsan کہتے ہیں

    IK ne 4 saloo me sirf NS ki mukhalfat hi nahi ki balkay KPK me bohat kaam bhi kia hai. Police, education, and health reforms se leker billion tree program and infrastructure har shobay me behtreen kam howa hain KPK me.
    I pray Allah give him chance to server Pakistan and let give the wisdom and understandings to the people of Pakistan to choose him as a new Prime Minister.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Seyd Shabbir Ashan Sab , Ji han IK phli bar govt me aya hai KPK me . pehli bar me insan sekhta hai. dosri bar zada behter karkerdgi dikhata hai. baqi me aik sahafi hun mera PMLN , PPP ya PTI se koi taluq ni . me to sirf halat w waqiyat ko madnzar rkhte hue tajziya likhta hun .rai dena awam ka kam hai.
      or IK sammait koi b Agla PM bne wo Allah Pak ki marzi hai . meri bus yahi dua hai k Agla Hukmran Pakistan k liye acha sabit ho

تبصرے بند ہیں.