وزارت عظمیٰ کی کرسی کپتان سے مزید دور؟

19 10,976

امریکی فلاسفر جم روہن کا ایک قول ہے کہ آپ ایک ہی  رات میں اپنی منزل نہیں بدل سکتے لیکن منزل تک پہنچنے کیلئے ایک ہی رات میں اپنا راستہ ضرور بدل سکتے ہیں۔منیر نیازی نے ایسا وسیع و عریض شعر کہہ دیا ہے جوہر ناکامی پر کہا جا سکتا ہے اور وہ ہے۔

کُج شہر دے لوک وی ظالم سن

کُج سانوں مرن دا شوق وی سی

یہ شعر  ناصرف وطن عزیز میں اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے ہر حکمران پر مصداق آتا ہے۔ بلکہ عمران خان پر بھی پورا پورا فٹ ہوتا دکھائی دیتا ہے ،جنہوں نے اپنی جلد بازی ، سیاسی ناتجربہ کاری اور اسٹیبلشمنٹ کو ناراض کرکے کئی بار قریب آتی وزارت عظمیٰ کی کرسی کو خود سے دور کر دیا۔1996سے 2010تک عمران خان کی جماعت کو کوئی بھی سنجیدگی سے نہ لیتا تھا۔ تاہم بے نظیر بھٹو جیسی قابل اور مقبول لیڈر کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی پھر توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہی۔ چنانچہ اسٹیبلشمنٹ کو  پیپلز پارٹی کا متبادل تلاش کرنا پڑا۔ اور قرعہ فال سیاسی جماعتوں کی لائن میں میلوں پیچھے کھڑے کپتان کے نام کا نکلا۔ اور یکا یک وہ ایک گمنام اور بے ضرر سی پارٹی سے ملک کی دوسری مقبول ترین جماعت کے لیڈر بن گئے۔

2013میں ن لیگ سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بن کر ابھری اور نواز شریف نے تیسری بار وزارت عظمیٰ کا مزہ چکھا۔2014میں ‘کسی’ امپائر نے کپتان کو ایک مشن دیا کہ وہ دھرنا دیں اور جیسے جیسے صورتحال گمبھیر ہوتی جائیگی نواز شریف کے خلاف انگلی کھڑی کر دی جائے گی۔ اور کپتان وزارت عظمیٰ کے کرسی پر براجمان ہو جائیں گے۔ لیکن کپتان پیٹ کے بہت ہلکے ثابت ہوئے۔ دن رات کئی کئی بار کنٹینر پر چڑھ کر دھرنے کے شرکا اور ٹی وی اسکرینوں کے ذریعے کروڑوں لوگوں کو بتاتے کہ مجھے یہاں امپائر نے بھیجا ہے اور اپنا پورا اسکرپٹ پڑھ کر عام لوگوں کو بتاتے کہ منصوبہ کن کن مراحل سے گزرے گا اور نواز شریف وزیراعظم نہیں رہیں گے۔ یہ بات یقیناً ‘امپائر’ کو ضرور ناگوار گزری ہو گی کہ ایک انتہائی خفیہ منصوبے کو عام لوگوں میں پھیلا کر خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری جا رہی ہے۔ شاید امپائر کو عمران خان سے اتنی بڑی نادانی کی توقع نہ تھی۔ لہذا امپائر کو بھی سوچنا پڑا اور اپنے ہلکے پیٹ کی وجہ سے عمران خان نے 2014 میں وزرات عظمیٰ کی کرسی خود سے دور کر لی۔

بھولا خبری نے ایک اور گرما گرم خبر دی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو اگلا وزیراعظم دیکھنا چاہتی ہے۔ لیکن ڈر ہے کہ عمران خان ماضی کی طرح عادت سے مجبور کر سارا پلان جلسے جلسوں میں عیاں نہ کر دیں۔ پاناما گیٹ اسکینڈل  کا سورج ایسا طلوع ہوا  جس کے سامنے  کسی نہ کسی صورت 37 سال سے ملکی سیاسی منظرنامے پر چھائے رہنے والے شریف خاندان کی سیاست کا سورج غروب  ہو کر رہ گیا۔ بھولا خبری کا  کہنا ہے اسٹیبلشمنٹ نے ایک بار پھر قطار میں کھڑی سیاسی جماعتوں پر نظر دوڑائی۔ دوسرے نمبر پر کھڑے کپتان ہی نمبر ایک کی پوزیشن کیلئے مضبوط اور موزوں امیدوار نظر آئے۔ نواز شریف کی نااہلی کے بعد ناصرف مسلم لیگ ن میں اختلافات کا آتش فشاں پھٹنے کو تیار ہے بلکہ شریف خاندان میں بھی  طبل جنگ بج رہا ہے۔آئی جے  آئی کی بات کریں ، مسلم لیگ جونیجو کی بات کریں، مسلم لیگ ق کو دیکھ لیں تو تاریخ یہی بتاتی ہے کہ مسلم لیگ کوئی بھی ہو۔ وہی چہرے اپنے  مفادات کی خاطر اور سیاسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی دوسری چھتری پر جا بیٹھتے ہیں۔

اور بھولا خبری کی اہم مخبری یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے موجودہ ارکان اسمبلی کی بڑی تعداد اپنے مستقبل  کے ‘لیڈر ‘ کی تلاش میں ہے۔ پرواز جاری ہے جونہی محفوظ چھتری ملے گی  وہ لوگ نواز شریف کی چھتری سے منتقل ہو جائیں گے۔ جہاں تک بات رہی شریف خاندان کی۔ تو چاہے جتنی مرضی وضاحتیں دیں لیکن اب یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دونوں بھائیوں کی اولاد ان میں فاصلے کا سبب بن چکی ہے۔ بھولے خبری کا کہنا ہے شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ایک پیج پر نہیں۔ لندن میں بھی ملاقات میں خوب گلے شکوے ہوئے۔ دو تین اہم دوستوں کی وجہ سے معاملات وقتی طور پر بہتر ہو گئے ہیں لیکن ابھی بھی سب اچھا نہیں۔

بھولا خبری کہتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا خدشہ پھر درست ثابت ہو رہا ہے۔ عمران خان پھر اپنی عادت سے مجبور ہو کر جلسے جلوسوں میں نواز شریف ،شہباز شریف اور مسلم لیگ ن کے مستقبل کا پڑھا لکھا حال بتا رہے ہیں۔ ایک نجومی کی طرح مخالفین کا مستقبل بتا رہے ہیں۔ جس سے اسٹیبلشمنٹ میں تشویش کی لہر پائی جا رہی ہے۔ سب سے اہم مخبری جو بھولا خبری نے دی ہے وہ یہ کہ عمران خان  اس وقت بہترین چوائس تو ہو سکتے ہیں لیکن آخری چوائس نہیں۔ اگر عمران خان نے اسی طرح عوام کے سامنے اسکرپٹ پڑھنے کی روش نہ بدلی تو وزارت عظمیٰ کی کرسی مزید ان سے دور کر دی جائے گی۔ اگر عمران خان صرف اپنی توجہ تحریک انصاف اور اگلے الیکشن پر مرکوز رکھیں گے تو ہی وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ سکیں گے۔ لیکن جیسا چل رہا ہے  تو پھر پلان بی پر عمل کیا جائے گا۔ بھولا خبری کے مطابق  پلان بی ٹیکنو کریٹ حکومت ہوگی۔

بھولا خبری کا کہنا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نواز شریف کی ‘دسترس ‘ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ نواز شریف  جو چاہتے ہیں اس پر شاہد خاقان بالکل رضامند نہیں۔ ن لیگ کی کم ہوتی مقبولیت کے پیش نظر یہ بھی ایک ممکنہ صورتحال ہے کہ وزیراعظم اسمبلیاں توڑ کر تین ماہ میں الیکشن کا اعلان کریں۔ لیکن وہی نگران حکومت کرپشن کا موجودہ گند صاف کرنے کیلئے طویل ہو جائے۔ اور دو سال تک اقتدار میں رہے۔ ایسی صورتحال میں ن لیگ کو صرف ایک فائدہ ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے عمران خان کا راستہ مزید دو سال کیلئے رک جائے گا۔ تاہم صرف یہ ایک پلان بی ہے۔ اس کا دارومدار اب صرف کپتان پر ہے وہ کس طرح کھیلتے ہیں۔ اگر وہ محتاط ہو کر کھیلیں گے تو یقینی  طور پر ملک کے اگلے وزیراعظم ہونگے۔ لیکن اگر وائیڈ بال پر کریز سے باہر نکلے تو اسٹمپ آؤٹ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ امریکی فلاسفر کامندرجہ بالا قول ہی ذہن نشین کر لیں تو اپنا راستہ بدل کر کپتان جلد منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن ماضی یہی بتاتا ہے کہ عمران خان کسی طر  اپنی عادت بدلتے نہیں۔ شاید منیر نیازی نے اپنا کلام عمران خان کیلئے ہی لکھا تھا جس کے مصرے شاید  کپتان کیلئے ہی ہیں

کس دا دوش سی، کس دا نئیں سی
اے گلاں ہن کرن دیاں نئیں

(کس کی غلطی تھی اور کس کی نہیں ، یہ باتیں اب دہرانے والی نہیں)

جوہویا اوتے ہونا ای سی
تے ہونیاں روکے رکدیاں نئیں

(جو ہو چکا وہ ہونا ہی تھا ، جو ہونا ہوتا ہے وہ روکے بھی نہیں رکتا)

کُج شہر دے لوک وی ظالم سن
کُج سانوں مرن دا شوق وی سی

(کچھ تو شہر کے لوگ بھی ظالم تھے اور کچھ ہمیں بھی مرنے کا شوق تھا)

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

19 تبصرے

  1. Khalover کہتے ہیں

    Cheap writer. Imran is not for sale.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Khalover , Please read the Column again ,and also mention ,where i written that Imran Khan is sold.

  2. Zakirya Shah کہتے ہیں

    Totally agree with Mr. Ali Mayo…. Imran Khan has to consentrate on his future Govt……. blame game is not the only way of political fame….. IK had to take decisions by own

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Thank You Zakirya for appreciation

  3. طاهر رشید کہتے ہیں

    عمده تحریر محمد علی میو. كوشش جاری ركھیں الله مزید كامیابیاں عطا كرے آمین

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      طاہر رشید صاحب ! بہت بہت شکریہ ۔آپ کی مزید دعائیں درکار ہیں ۔

  4. Khan کہتے ہیں

    Imran Khan has no any plan for progressing pakistan but destruction one.

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Khan sab ! you are free to tell your opinion .

  5. Mohammad hamza کہتے ہیں

    آپ کے ہوائی تبصرےکا کیا کہنا جناب مگر ذرا بتاتے جائیے کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ سے کیا ملا اور کیا نفع ملا کرپٹ تو وہ۔ہے نہیں اور وزارت عظمی ہی اگر مقصد ہے تو وہ تو مشرف بھی انکو افر کر چکے ہیں کیا عمران خان نے آج تک کسی عہدے یہ پیسے کا لالچ بھی ایمپائر کے کہنےنہیں کیا? کیا سپریم کورٹ کآ فیصلہ بھی اسکرپٹ ہے ؟ آپ کے مطابق تو سب کچھ سکرپٹ کے مطابق ہو رہا ہے تبھی تو عمران خان اگلا صفحہ سنا رہے ہیں تو اس کامطلب سپریم کورٹ کے فیصلے بھی لکھے لکھآئے تھے ؟

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      حمزہ صاحب ! ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے رہنماؤں کی پریس کانفرنسز کے بعد میرے خیال میں آپ کو اپنے سوالات کا جواب مل چکا ہوگا ۔اس کا اطلاق صرف کراچی پر ہی نہیں بلکہ پورے ملک پر ہوتا ہے

  6. محمد علی میو کہتے ہیں

    حمزہ صاحب ! اسٹیبلشمنٹ کے بغیر کسی کا اقتدار ممکن نہیں ۔اور اگر عمران خان اتنی ہی جادوئی شخصیت ہیں تو 2010سے پہلے ان کا جادو عوام پر کیوں نہیں سر چڑھ کر بولا ۔ایک لاہور کے جلسے کے بعد کس طرح یکایک پی ٹی آئی پاکستان کی دوسری مقبول ترین جماعت بن گئی ۔ اور عدلیہ سے متعلق میں کوئی رائے نہیں دے سکتا ۔ البتہ آپ عدلیہ سے متعلق جاوید ہاشمی کا بیان یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں جس کے بعد آپ کو دوبارہ سوال کی زحمت نہیں اٹھانا پڑیگی ۔

  7. Shahid Qamar کہتے ہیں

    Good analysis

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Shahid Qamar Sab , Thank You for appreciation

  8. zakirya کہتے ہیں

    Imran Khan k himaition ko shayd ye tajzeeya bura lgay lekin baat tuuu sach hy… me khud PTI ka supporter hon lekin Imran Khan ko abbb samjhdari sy apny faisalay khud lyna hon gy wrna nuqsan ka zima unky srr hi ho gaa

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Zakirya thanks to indirectly Praise of the Column. yes he must take right decisions at right time.timing is everything in politics

  9. Athar کہتے ہیں

    Imran k supporter jo bashaoor han unko bhi abbb yehi lgny lga hy k Imran Khan sbb suni sunai baataon py react krty han or khud ko mazeed pareshani me mubtala kr lyty hn…. abbb bhi waqt nhi guzra IK ko strong decisions lyna hon gy….

  10. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Athar Sab ! ji Han anay wale 3 se 4 month mulki siyast me IK k kirdar ka tayun krn ge . he must take decisions carefuly

  11. Sarosh Mayo کہتے ہیں

    İt seems that the writer is really futuristic and I have been reading his columns and have been following him.

    101% true

    Good work Ali sb !

    1. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

      Sarosh Mayo Thank you for appreciation

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.