ہمیں ایک ایسا حکمران چاہئیے جو۔ ۔ ۔

0 2,096

موجودہ حکومت اپنی مدت جلد ہی پوری کرنے والی ہے۔ اُس کے بعد الیکشن آجائیں گے اور الیکشن کا تو اپنا ہی ایک ماحول ہوتا ہے۔ الیکشنز کے آتے ہی ٹی وی چینلز، اخبارات اور انٹرنیٹ پر الیکشن کی ہی خبریں دیکھنے کو ملیں گی۔ جگہ جگہ جلسے ہوں گے اور گھر گھر جا کر ووٹ مانگے جائیں گے۔ وہ لوگ جو اقتدار کے دوران کبھی عوام سے نہیں ملے اِس الیکشن کے موسم میں عوامی جگہوں پر چائے پیتے نظر آئیں گے۔

ووٹ کی اہمیت اچانک ہی بڑھ جائے گی اور طاقتور لوگ پھر سے اپنے وہی وعدے دہرائیں گے جو چار سال پہلے ہر جلسے میں کیے گئے تھے۔ عوام سے بریانی اور قورمے کی دیگوں پر ووٹ دینے کے وعدے لیے جائیں گے۔ لیکن کیا پاکستانی عوام ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی اِن لٹیروں کے ہاتھوں بے وقوف بن جائے گی؟ ایک وقت تھا جب نسلوں کی نسلیں ایک ہی پارٹٰی کو ووٹ دیا کرتی تھیں۔ جب ان سے اس کی وجہ پوچھی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے یہ ہمارے خاندان کی رسم ہے لیکن اب یہ رسم ختم ہو چکی ہے۔ اب لوگ حکمرانوں کی باتوں پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرتے بلکہ ان سے جواب طلبی کرتے ہیں۔

اس بار عوام اپنا ووٹ کسے دے گی؟ یہ ایک نہائیت اہم سوال ہے۔ اس الیکشن میں عوام اپنا ووٹ ایسے ہی کسی کو نہیں دے گی بلک صرف اسے دے گی جو اس ووٹ کا حقدار ہوگا۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ عوام کے ووٹ کا حقدار کون ہے؟ عوام اپنے ووٹ کا حقدار ایسے عام انسان کو سمجھتے ہیں جو کہ کچھ خاص کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ہمیں اس بار ایک ایسا عام حکمران چاہئے جو۔ ۔ ۔

  1. پاکستانی شہریت رکھتا ہو
  2.  اس کی عمر پینسٹھ برس سے کم ہو
  3.  اپنے اثاثے ملک میں رکھتا ہو
  4. زندگی کا ستر فیصد حصہ ایک عام آدمی کے طور پر ملک میں گزارا ہو
  5. اس کے بیوی اور بچے اور دیگر خاندان والے پاکستان میں ہی رہائش پذیر ہوں اور غیر ملکی شہریت نہ رکھتے ہو
  6. اس کا گھر ایک کنال یا اس سے کم رقبے کا ہو
  7. اس کے دو سے زیادہ بنک اکائونٹ نہ ہو
  8. اس کے بچے ملک میں ہی تعلیم حاصل کر رہے ہوں
  9. دل یا کسی اور سنگین بیماری میں مبتلا نہ ہو، اگر کوئی بیماری ہو تو اس کا علاج پاکستان سے کروانے کا عہد رکھتا ہو
  10. حکمران منتخب ہونے کے بعد عام آدمی کی طرح دفتر آئے جائے
  11. وی ائی پی پروٹوکول کی نفی کرتا ہو
  12. سفر کے لیے ذاتی گاڑی یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال کرے
  13. اپنی حکومت میں مخلاف پارٹی کی لعن طعن کرنے کی بجائے اپنے کام پر توجہ دے
  14. حکومت کی معیاد مکمل ہونے پر ریٹائر ہو جائے اور دوبارہ اقتدار کا خواہاں نہ ہو
  15. کسی بھی وقت کسی بھی قسم کے احتساب کے لیے تیار ہو

ہے کوئی ایسا حکمران؟

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں۔ انہوں نے انٹرنیشنل جرنلزم میں ایم فِل کیا ہوا ہے اور دنیا نیوز کے ساتھ منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.