سموگ کیا ہے؟ کیوں ہے؟ اور کیسے اس سے بچا جاسکتا ہے؟

4,223

سموگ کیا ہے؟

سموگ ایک ہوائی آلودگی ہے جو انسان کی دیکھنے کی صلاحیت کم کردیتی ہے۔ یہ لفظ پہلی دفعہ 1900ء میں دھواں اور دھند کے ملاپ کے لیے سننے میں آیا تھا۔ یہ دھواں کوئلہ جلنے سے بنتا ہے۔ صنعتی علاقوں میں سموگ واضح کثرت سے دیکھی جا سکتی ہے اور یہ شہروں میں اکثر دیکھنے کو ملتی ہے۔

FB_IMG_1509895647065

امریکہ اور بہت سے ممالک نے سموگ میں کمی کے قوانین ترتیب دیے۔ کچھ قوانین فیکٹریوں میں خطرناک اور بے وقت دھواں کے اخراج پر پابندی لگاتا ہے۔ کچھ جگہوں پر فاضل مواد جیسا کہ پتے ضائع کرنے کے لیے مخصوص جگہیں بنائی گئی ہیں جہاں دھواں کم خطرناک ہو کر ہوا میں خارج ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں سموگ کی وجہ کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق انڈیا میں کثرتاً آلودگی پنجاب میں سموگ کی وجہ ہے۔ پاکستان کےمیٹرولوجیکل تحقیقی ادارے کے کرتاؤں دھرتوں کے نزدیک سموگ حدود سے ماورا ہونے والا ایک عمل ہے۔ حال ہی میں انڈیا میں  ہزاروں کسانوں نے اپنی چاول کی فصل کو آگ لگا دی ہے جس کے اثرات دونوں ممالک کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اگر ناسا کی جاری کردہ رپورٹ دیکھی جائے تو  انڈیا اور پاکستان کے حدبندی کے علاقوں پر سرخ نشانات واضح دیکھے جا سکتے ہیں

پچھلے سال کی طرح اس بار بھی دھند نے پنجاب کے بیشتر شہروں کواپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور اہلِ پنجاب دکھائی نہ دینے کےساتھ ساتھ صحت کی پریشانیوں میں بھی مبتلا ہیں۔ پچھلے سال بھی شہری اسی قسم کی دھند کا شکار رہے اور پچھلے سال کی طرح اس سال بھی واضح صحت کے مسائل دیکھنے میں آئے ہیں۔

FB_IMG_1509821021027

سموگ کو زمینی اوزون بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک وزنی پیلی سرمئی دھند کی مانند ہے جو ہوا میں جم جاتی ہے۔ فضا میں پنپنے والی ہوائی آلودگی اور بخارات کا سورج کی روشنی میں دھند کے ساتھ ملنا سموگ کی وجہ ہے۔ ماہرین کے مطابق فیکٹریوں کا اور گاڑیوں کادھواں ، درختوں کا کاٹا جانا صورتحال کو مزید پریشان کن کردیتا ہے۔

20171104_080807

چیف میٹیرولوجسٹ محمد ریاض نے بارشوں میں کمی ، آلودگی ، گاڑیوں ، فیکٹریوں کا دھواں اور فصلوں کے جلائے جانے کو سموگ کی اہم وجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق سموگ محض تیز ہواؤں اور بارشوں سے ہی ختم ہوسکتی ہے۔

ہم سموگ کو کیسے کم کر سکتے ہیں؟

بہت سی جگہوں پر سموگ باعثِ پریشانی ہے ۔ ہر کوئی محض چند عادات اپنا کر سموگ کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔جیسا کہ گیسی آلات کی بجائے بجلی کے آلات کا استعمال کرنا، گاڑی کم چلانا ، زیادہ پیدل چلنا، اپنی گاڑی کا خیال رکھنا، وقتاًفوقتاً گاڑی کا تیل بدلنا اور ٹائروں کی سطح متواتر رکھنا۔ مندرجہ بالا احتیاط دھواں کے اخراج میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔

سموگ سے بچائو کے طریقے

مندرجہ ذیل احتیاط سے آپ خود کو اور اپنے خاندان کو سموگ سے بچا سکتے ہیں۔

سرجیکل یا چہرے کا کوئی بھی ماسک استعمال کریں۔ کونٹیکٹ لینسز کی بجائے نظر کی عینک کو ترجیح دیں۔ تمباکو نوشی کو ترک کریں اگر ممکن نہیں تو کم کردیں۔ زیادہ پانی اور گرم چائے کا استعمال کریں باہر سے گھر آنے کے بعد اپنےہاتھ ، چہرے اور جسم کے کھلے حصوں کو صابن سے دھوئیں۔ غیر ضروری باہر جانے سےپرہیز کریں۔ کھڑکیوں اور دروازوں کے کھلے حصوں پر گیلا کپڑا یا تولیہ رکھیں۔ فضا صاف کرنے کے آلات کا استعمال کریں۔ گاڑی چلاتے ہوئے گاڑی کی رفتار دھیمی رکھیں اور فوگ لائٹس کا استعمال کریں۔ زیادہ ہجوم والی جگہیں خصوصاً ٹریفک جام سے پرہیز کریں۔

 

 

 

 

روحیل ورنڈ بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن اور سوشل انٹرپرینیئر ہیں۔ ٹائمز آف یوتھ میگزین کے سی ای او ہیں- ورلڈ سمٹ ایوارڈ کے جیوری ممبر اور سفیر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.