قومی کرکٹ میں بحران

0 177

بات صرف پاکستان اور بھارت کے میچ کی نہیں بلکہ ملکی کرکٹ کی ہے۔مسلسل شکست کا سلسلہ پاکستان کی مجموعی رینکنگ کو زوال پذیر کر گیا ہے۔بھارت کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کا ذمہ دار کھلاڑیوں کو ٹھہرایا جائے یا ٹیم مینیجمنٹ کو ؟یہ بات تو طے شدہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے میچ میں سیاست بری طرح مداخلت کرتی ہے جس کے سبب ٹیم پر ایساجمود طاری ہوتا ہے کہ وہ روایتی حریف کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہونے لگتی ہے۔جو پرفارمنس پاکستان ٹیم کی جانب سے حالیہ دنوں میں دیکھنے میں آئی اس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ٹیم کے اندر کچھ ایسے معاملات چل رہے ہیں جو اتفاق کو جنم دینے کی بجائے ٹیم کو حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اگر پچزکی بات کی جائے تو ہم نے شروع وقت سے ہی کبھی بھی اس جانب توجہ نہیں دی کہ تیز رفتار پچز پر کس طرح سے بیٹنگ کرنی ہے ۔کیونکہ ہم نے کبھی اس پر غور کرنا مناسب ہی نہیں سمجھا۔اگر اس قسم کی وکٹوں پر کھلاڑیوں کو مشقیں کروائی جاتیں تو نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسی وکٹوں پر بیٹینگ کرنا ہمارے کھلاڑیوں کے لئے مشکل نہ ہوتا۔

جہاں تک بات ہے ٹیم منیجمنٹ کی تو وقار یونس پر بے پناہ تنقید ہوتی رہی ہے ۔اور ان کا رویہ بھی مشکوک انداز میں ہی دیکھا گیا۔کہا جاتا ہے کہ کھلاڑیوں اور ہیڈ کوچ کے درمیان وسیع خلیج پائی جاتی ہے۔اگر ایسا ہے تو یہ عنصر ڈریسنگ روم پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہوگا۔ ایسے میں ٹیم اسپرٹ اور مورال کے گراف کا نیچے آنا کوئی حیران کن بات نہیں۔ ماضی میں شاہد آفریدی اور وقار یونس میں بھی کئی دفعہ تکرار ہوئی۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ وقار یونس بہت زیادہ میڈیا فرینڈلی نہیں ہیں ۔جس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کا رویہ انسانی مزاج کو سمجھنے سے بالاتر ہے۔وقار یونس کاشمار اچھے بولروں میں ضرورہوتا ہے لیکن وہ ایک اچھے ہیڈ کوچ ثابت نہیں ہوسکے۔اس کے باوجود وہ مسلسل اس عہدے پر تعینات ہیں۔

سوال صرف اتنا سا ہے کہ کیا ٹیم مینیجمنٹ کو ان پر لگے سوالیہ نشان نظر نہیں آتے؟ ان کا متنازع ہونا پاکستان کی کرکٹ کو متنازع کرنے کے برابر ہے۔لیکن شاید اعلیٰ حکام کو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا۔جب تک کھلاڑی اپنے ہیڈ کوچ سے مطمئن نہیں ہونگے وہ کبھی بھی اس کے تجربے سے کچھ نہیں سیکھ سکیں گے۔ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ سکھانے والے کی توجہ سکھانے پر نہ ہو۔ جس مقصد کے لئے اس کو اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے اس کی توجہ اس کو نبھانے کی بجائے کہیں اور ہو۔

پاکستان بھارت کا میچ ایک ایسا میچ ہوتا ہے جس میں عوام کا جذبہ اور حب الوطنی سر چڑھ کر بول رہی ہوتی ہے۔لیکن جب ناقص پرفارمنس اور کھلاڑیوں کو یکے بعد دیگرے پویلین کی جانب جاتا دیکھ کر اور زیادہ دکھ ہوتا ہے ۔ اچھا کھیل کر ہارنے میں شاید اتنا دکھ نہ ہو لیکن ہار سے پہلے ہار مان لیناکرکٹ کے شائقین کو ہر گز گوارہ نہیں ہوسکتا۔

حفیظ اور اجمل کے معاملے پر بورڈ ان کو مکمل طور پر تنہا چھوڑے ہوئے ہے۔یہی نہیں، اور بھی ا یسے کھلاڑی ہیں جن کے ساتھ ماضی میں بے پناہ زیادتیاں اور نا انصافیاں ہوئیں۔عبدالرزاق کا شمار بھی ان میں سے ہوتا ہے ۔میچ کا پاسا پلٹنا اور ٹیم کو جیت سے سرفراز کروانے کی صلاحیت اس عظیم پلئیر میں تھی جس کو سیاست کے بھینٹ چڑھا کر فارغ کیا گیا۔

انضمام الحق کی بات کی جائے تو وہ آج کل افغانستان کے کوچ ہیں اور ان کے آنے سے افغانستان کی ٹیم کے میچ جیتنے کا سلسلہ شروع ہوا۔غیروں کو ہمارے اپنوں کی صلاحیتیں نظر آتی ہے تو کیا ہمارے بورڈ کی آنکھیں نہیں؟ انضمام اگر پاکستان کے بیٹینگ کوچ بنا دئیے جائیں تو قوی امید ہے کہ پاکستان کی بیٹینگ پہلے سے بہت زیادہ مضبوط ہوجائے گی۔لیکن شاید ٹیم پر بد دعا کے طور پر ایسے عہدیداران تعینات کر دئیے گئے ہیں جو ٹیم کو آگے لے جانا تو دور بلکہ پستیوں کی طرف دھکیلنے میں سرگرم ہیں۔صاف لگ رہا ہے کہ ٹیم کو ناکام کرنے کی پوری منصوبہ بندی کی گئی ہے ۔

شہریار خان کے بار ے میں بھی کئی دفع کہا جا چکا ہے کہ اب ان کی گھر آرام کرنے کی عمر ہے لیکن ان کو پھر سے پی سی بی کا چئیرمین بنا دیا گیا ۔ایمانداری سے بتایا جائے کہ اب تک جتنی بھی ان کی ملازمت ہے اس سے پاکستان کی قومی ٹیم کو کیا فائدہ پہنچا؟سلیکشن کمیٹی کی بات کریں تو سکندر بخت کے مطابق وہی چلے ہوئے کارتوس پستول میں دوبارہ بھر کے چلائے گئے ۔اور وہ بھی نشانے پر نہیں لگ سکے۔سلیکشن کے معیار پر بھی بے پناہ سوال اٹھ رہے ہیں۔ایک سنچری کے عوض کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنے کا پیمانہ بالکل سمجھ سے بالاتر ہے ۔ایسا بھی تو ممکن ہے کہ ایک کھلاڑی مسلسل میچز میں بری کارگردگی دکھا رہا ہو اور باقی کے میچز میں وہ پرفارمنس دینا شروع کر دے ۔چیف سلیکٹر کا یہ بیان جلتی پر تیل چھڑکنے کے لئے کافی ہے کہ جو پرفارم نہیں کرے گا اْس کو گھر جانا ہوگا۔گو کہ کھلاڑیوں میں جاب ان سکیورٹی بھی بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے ان کا مورال مزید کم ہوجائے۔

پی ایس ایل کو لے کر بھی دو دھڑے منظر عام پر  آئے۔ایک کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کی جانب ایک اقدام ہے اور دوسرے کاکہنا تھا کہ یہ محض انٹرٹینمنٹ کے سوا کچھ بھی نہیں۔جہاں تک پاکستان میں کرکٹ کی بحالی کا تعلق ہے تو یہ اقدام اسی صورت میں معاون ثابت ہوتا اگر پی ایس ایل پاکستان میں ہوتی۔اس ٹورنامنٹ کے ناقدین کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ ٹورنامنٹ کا انعقاد ایک تو پاکستان میں نہیں ہوا،  دوسرا یہ کہ اس سے آپ نیا ٹیلنٹ سامنے نہیں لاسکے۔ پی ایس ایل کو صرف پیسہ کمانے کا ذریعہ بنایا گیا ۔ اس طرح کی باتیں ایک ایسے ٹورنامنٹ کو مشکوک کر سکتی ہیں جو ابھی ابھی پروان چڑھنا شروع ہوا ہے۔

عہدیداران کو تعینات کرنا حکومت کا کام ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ  آج بورڈ اور ہماری کرکٹ کا جو حال ہے اس کی پوری ذمہ دار حکومت ہے۔کرکٹ گورننگ باڈی کے سربراہ کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے اور اب بھی بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی شکست پر ان پر الزام لگا ہے کہ ان کی موجودگی میں پاکستان کا بھارت کو ہرانا ممکن نہیں۔جیسا کہ میں نے ابتدا میں اس بات کا ذکر کیا تھا کہ روایتی حریف کے ساتھ میچ میں سیاست پاکستان ٹیم کی شکست کا سبب بنتی ہے ۔شائقین کرکٹ کا مایوس ہونا اور اپنی ٹیم پر تنقید کرنا سمجھ میں آتا ہے لیکن دوسری جانب یہ بھی سمجھنا چاہئیے کہ یہ ہماری ٹیم ہے جس کو ہماری سپورٹ کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ ہمارے کرکٹ کے معیار کو بہتر بنانا ذرا بھی مشکل نہیں ۔ لیکن بد انتظامی اوربد نیتی کے سبب ایسا ہونا ممکن نہیں۔

Muhammad Tayyab Zahir is a writer who pours his heart out. He tries to portray the truth. He writes about politics, cricket, media and religion. He is very crazed about current affairs.

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.